دنیا
امریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
واشنگٹن، امریکہ کی جانب سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے منسلک ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ایران نے بدھ کو مغربی ایشیا میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سات ماہ سے جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے 10 بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا، جبکہ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی ہے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ حالیہ حملوں میں ایرانی انقلابی گارڈ سے منسلک مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی جاری رکھی تو اس پر ’’بہت زوردار حملہ‘‘ کیا جائے گا۔ کشیدگی میں اضافے کے ساتھ یہ تنازع امریکہ اور ایران کے براہ راست تصادم سے آگے بڑھ گیا ہے اور پورے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کی آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کی افواج نے کویت، اردن، بحرین اور اربیل میں امریکی اڈوں پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کویت کے علی السالم ایئر بیس پر امریکی کمانڈر کے کمانڈ کمپلیکس اور رہائشی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ڈرون ہینگرز اور تعیناتی کے ریمپ میں آگ لگ گئی اور کئی ڈرون تباہ ہو گئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
آئی آر جی سی نے کہا کہ یہ حملے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں ہرمزگان صوبے کے سیریک میں ایک رہائشی مکان پر فضائی حملہ بھی شامل تھا، جہاں ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر حملے میں 50 سے زائد افراد کو ہلاک یا زخمی کرنے کا الزام عائد کیا۔
مسٹر بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’آج رات ایک گھر پر اس وقت بے رحمی سے حملہ کیا گیا جب ایک خاندان شادی کی خوشیاں منا رہا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 50 سے زیادہ مرد، خواتین اور بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں ایرانی حکام نے بتایا کہ تقریباً 70 عام شہری متاثر ہوئے اور ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ اس الزام پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
مسٹر بقائی نے اس واقعے کو مبینہ مظالم کے ایک سلسلے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس کا جواب دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اس سے بھی زیادہ خطرناک بمباری کی جائے گی۔‘‘
آئی آر جی سی نے الگ سے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار ٹینکر بارودی سرنگوں کی زد میں آ گئے۔
آئی آر جی سی کے مطابق یہ ٹینکر ایک غیر مجاز راستہ استعمال کررہے تھے۔ اس نے بتایا کہ جہازوں میں دھماکے ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آئی آر جی سی نے جہازوں کی شناخت، ان کی ملکیت رکھنے والے گروپوں یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
آئی آر جی سی نے کہا کہ ایرانی فورسز نے پہلے ہی جہازوں کو بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزرنے کے خطرات سے آگاہ کر دیا تھا اور ان شپنگ کمپنیوں کے خلاف مزید تعزیری کارروائی کی دھمکی دی تھی جو ایران کی جانب سے منظور شدہ راستوں کے بجائے غیر مجاز راستے استعمال کرتی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور یہ تنازع کے اہم مراکز میں شامل ہو چکا ہے۔
دریں اثنا، مسٹر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپنی حکومت کو چیلنج کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے ایک بار پھر لوگوں کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر اکسایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ایران کے عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کا نظامِ حکومت ناگزیر انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی عوام سے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کو کہا تھا، تاہم بعد میں کہا تھا کہ امریکہ اقتدار کی تبدیلی نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی حکومت کی تبدیلی کی کوئی پروا نہیں رہی۔ حملوں کا یہ تازہ سلسلہ امریکی فوج کی جانب سے چند روز قبل آبنائے ہرمز میں ایران کے لارک جزیرے پر حملہ کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔
امریکہ نے کہا تھا کہ اس حملے کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔ اس کے بعد ایران نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اہلکاروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اس کے بعد سے ایرانی رہنماؤں نے امریکہ اور ان ممالک کے خلاف مزید جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں جو امریکہ کو اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے کہا کہ امریکی حملوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو ان کی شمولیت کے تناسب سے سزا دی جائے گی۔ مسٹر نیک زاد نے کہا، ’’جس کسی نے بھی امریکہ کے جرائم میں تعاون اور حصہ لیا ہے اور اسے اپنی سرزمین، علاقے یا تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، اسے اس کی شمولیت کی سطح کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کو ’’احمقانہ سوال‘‘ قرار دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختصر وقفے کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران کے خلاف جوہری حملے کے امکان کو خارج کردیا ہے تو انہوں نے کہا، ’’میں کبھی ایسا نہیں کہوں گا، لیکن جواب ہاں ہے۔ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔۔۔ کیا احمقانہ سوال ہے۔‘‘
اپنے سابقہ دعوے کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران ’’مکمل طور پر فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے، تو کیا اب مجھے ان پر جوہری ہتھیار استعمال کرنا چاہیے؟ کیا احمقانہ سوال ہے۔‘‘
ٹرمپ اس سے قبل ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے تہران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی کبھی علانیہ دھمکی نہیں دی۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب واشنگٹن ایران کے خلاف محدود حملوں کی مہم دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد حالیہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد کارروائی کرنا ہے۔
تین امریکی عہدیداروں نے ’ایکسیوس‘ کو بتایا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کے قریب میزائل اور ریڈار تنصیبات پر حملوں پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کو آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر میزائل داغنے سے روکا جا سکے۔
یہ منصوبہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تیار کیا ہے اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی حمایت حاصل ہے۔
اس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور دیگر بحری جہازوں کو لاحق خطرے کو کم کرنا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے اس حکمت عملی کو ’’لان کاٹنے‘‘ کی کوشش قرار دیا۔
سینٹ کام کو اس بات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ آبنائے ہرمز کے قریب اپنی رڈار اور میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کی حفاظت پر مامور امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے کی جانب میزائل داغا تھا، جس سے یہ تشویش مزید بڑھ گئی، تاہم میزائل طیارے کے لیے براہ راست خطرہ بننے کے لیے کافی قریب نہیں پہنچا۔
حملے کا یہ منصوبہ حالیہ فائرنگ کے تبادلے سے پہلے ہی تیار کرلیا گیا تھا اور اب کشیدگی میں اضافے کے بعد ٹرمپ اس کارروائی کی منظوری دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کے حملوں کا جواب دیا جائے گا اور خبردار کیا، ’’ہم ان پر سخت حملہ کریں گے۔‘‘
حالیہ کشیدگی آبنائے ہرمز کے اوپر آئی آر جی سی کی جانب سے ایک امریکی ڈرون گرائے جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی۔ ایران کی فوجی قیادت نے پڑوسی ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین سے حملے کرنے کی اجازت نہ دیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا کویت، بحرین، اردن اور عراق میں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ
تہران، ایران کی مسلح افواج نے ملک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے مہلک امریکی حملے کے جواب میں کویت، بحرین، اردن اور عراق میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ آئی آر جی سی کے مطابق اس کی مسلح افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کویت کے علی السالم ایئر بیس میں امریکی کمان کے ہیڈکوارٹر اور دیگر ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ اردن، عراق کے اربیل اور بحرین میں موجود امریکی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
قبل ازیں منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے سیریک کاؤنٹی کے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت اور 60 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
قاہرہ، مصر کے جزیرہ نما علاقے سینا میں صبح کے وقت پیش آنے والے بس حادثے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے۔
سیاحتی قصبوں دہب اور نوئیبہ کے درمیان سفر کرنے والی ایک مسافر بس کے بے قابو ہو کر الٹنے کے نتیجے میں اس حادثے میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے۔
وزارتِ صحت نے بتایا کہ زخمیوں کو منتقل کرنے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جائے وقوعہ پر 20 ایمبولینس بھیجی گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoکانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے
-
دنیا1 week agoاسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا
-
پاکستان1 week agoکیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
