دنیا
عالمی بحرانوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا آغاز، ’اعتماد بحال کرنے‘ کا عزم
نیویارک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا آغاز بنگلہ دیش کے خلیل الرحمن کے صدرِ جنرل اسمبلی کا منصب سنبھالنے کے ساتھ ہوگیا۔ انہوں نے اپنی ایک سالہ مدت کے دوران کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی، عالمی تعاون کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کو مرکزی ترجیحات قرار دیا۔
خلیل الرحمن نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اجلاس کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ اپنے نویں عشرے میں ایسے وقت داخل ہورہا ہے جب دنیا جنگوں، جغرافیائی سیاسی تقسیم، ترقی کے حصول میں درپیش مشکلات، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور بین الاقوامی اداروں پر کم ہوتے اعتماد جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
81ویں اجلاس کا موضوع ہے: ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے نتائج فراہم کرے۔‘‘
خلیل الرحمن نے کہا کہ اقوام متحدہ کو درپیش بنیادی چیلنج صرف ادارے کا دفاع کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر بنانا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ کثیرالجہتی تعاون ٹھوس نتائج فراہم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج ہماری ذمہ داری صرف اس ادارے کا دفاع کرنا نہیں — اگرچہ اس کی اچھی وجوہات موجود ہیں — بلکہ اسے مضبوط بنانا ہے؛ صرف اس اعتماد کا حوالہ دینا کافی نہیں جس پر کثیرالجہتی نظام قائم ہے، بلکہ ہمیں ہر روز یہ اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے اقوام متحدہ پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ’’انتھک محنت‘‘ کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اعتماد مکالمے، تعاون اور ٹھوس نتائج کے ذریعے بحال کیا جانا چاہیے۔
خلیل الرحمن نے آئندہ ایک سال کے دوران جنرل اسمبلی کے کام کی رہنمائی کے لیے چھ اہم ترجیحات بیان کیں۔
پہلی ترجیح امن و سلامتی کو مضبوط بنانا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور میں آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے وعدے کے عین مطابق ہے۔
دوسری ترجیح پائیدار ترقی کے عمل کو تیز کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ملک پیچھے نہ رہ جائے۔
تیسری ترجیح موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کو تیز کرنا ہے، بالخصوص موسمیاتی موافقت اور لچک پیدا کرنے کے شعبوں میں۔
چوتھی ترجیح انسانی حقوق کے فروغ اور ان کے تحفظ میں جنرل اسمبلی کے کردار کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنا ہے۔
پانچویں ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت تکنیکی تبدیلی سے دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔
چھٹی ترجیح کثیرالجہتی نظام پر اعتماد بحال کرنا اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے اپنی اس ترجیح کو اپنے وژن ’’ہم، عوام، ازسرنو تصور: ہم، اقوام متحدہ، مستقبل کے لیے تیار، جو سب کے لیے نتائج فراہم کرے‘‘ سے جوڑا۔
امن و سلامتی کے حوالے سے خلیل الرحمن نے کہا کہ وہ رکن ممالک، سلامتی کونسل کی صدارت اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ مل کر تنازعات کے حل، امن قائم رکھنے اور امن کے فروغ کے لیے کام کریں گے، جس میں تنازعات کی روک تھام اور سیاسی حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
بنگلہ دیش کی اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں طویل عرصے سے جاری نمایاں خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ’’عوام پر مرکوز امن‘‘ کے نقطہ نظر کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔
ترقی بھی ان کی صدارت کی ایک اہم ترجیح ہوگی۔ خلیل الرحمن نے خبردار کیا کہ دنیا پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے حصول میں پیچھے رہ رہی ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں اور ان کے مطابق صرف 36 فیصد اہداف مقررہ رفتار کے مطابق یا درمیانی درجے کی پیش رفت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بنگلہ دیش میں خسرہ سے اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی، متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں جاری خسرہ کی وبا اور خسرہ جیسی علامات والی بیماریوں سے ہونے والی سرکاری اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین افراد کی موت کے بعد مجموعی تعداد 1002 ہوگئی ہے۔
مجموعی اموات میں خسرہ سے ہونے والی 100 لیبارٹری سے تصدیق شدہ اموات اور خسرہ جیسی علامات والے مریضوں میں ہونے والی 902 اموات شامل ہیں۔
ڈی جی ایچ ایس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خسرہ یا خسرہ جیسی بیماری کے 1188 نئے کیسز سامنے آئے، جس کے بعد 15 مارچ سے اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد تقریباً ایک لاکھ 87 ہزار ہوگئی ہے۔
اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر 1034 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جس کے بعد اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار 393 ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ 41 ہزار 819 مریضوں کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کیا جاچکا ہے، جبکہ بدھ کی صبح تک 5574 مریض اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔
بنگلہ دیش کو مارچ سے خسرہ کی ایک غیر معمولی وبا کا سامنا ہے۔ وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپریل اور مئی میں ہنگامی ویکسینیشن مہم سمیت بڑے پیمانے پر اقدامات کے باوجود انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ملک کا طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
صحت کے حکام نے مارچ میں خسرہ سے متعلق اموات اور انفیکشن کے اعداد و شمار باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیے تھے اور اس کے بعد سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ڈی جی ایچ ایس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرہ کے 19,904 کیسز کی لیبارٹری کے ذریعے تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ مشتبہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار 580 تک پہنچ گئی ہے۔
وبا کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے اور مجموعی متاثرین میں 82 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نو ماہ سے کم عمر شیر خوار بچوں میں، جو معمول کے مقررہ حفاظتی ٹیکوں کے لیے ابھی کم عمر ہوتے ہیں، تقریباً 33 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں۔
ملک گیر ویکسینیشن مہم کے باوجود یہ وبا بنگلہ دیش میں کئی دہائیوں کی مہلک ترین خسرہ وبا بن چکی ہے اور ملک کے تمام اضلاع تک پھیل چکی ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق کیسز میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ویکسینیشن کوریج میں مسلسل خلا، ان بچوں میں قوت مدافعت میں کمی جنہیں ویکسین کی مکمل خوراکیں نہیں مل سکیں، ویکسین لگوانے والے بچوں میں غذائی قلت اور آبادی میں بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے درکار اجتماعی قوت مدافعت کی سطح حاصل نہ ہونا شامل ہیں۔
خسرہ کھانسی اور چھینک کے ذریعے آسانی سے پھیلتا ہے اور اس انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں۔ دماغ میں سوجن اور سانس لینے میں شدید دشواری سمیت سنگین پیچیدگیاں مریض کی حالت تیزی سے بگاڑ سکتی ہیں۔
اگرچہ کم عمر بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ میں شامل ہیں، تاہم کسی بھی عمر کے افراد خسرہ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مغربی ایشیا میں کشیدگی سے عالمی توانائی منڈی متاثر، برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا
لندن، مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث تیل کی سپلائی اور ترسیلی راستوں میں خلل کے خدشات بڑھنے سے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو پہلی بار 24 جولائی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.15 ڈالر، یعنی 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0721 جی ایم ٹی تک 100.07 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 1.70 ڈالر، یعنی 1.83 فیصد بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اگست کے اوائل سے اب تک برینٹ کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، کیونکہ چھ ماہ سے جاری امریکہ-ایران تنازع کے مستقل حل کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں اور لڑائی پورے خطے میں پھیل گئی ہے۔
تازہ اضافہ اس وقت ہوا جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے کیے۔ حملوں کے نتیجے میں تیل کی بعض تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ تنازع دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطے میں مزید پھیل سکتا ہے۔
ان حملوں نے بحیرہ احمر کے ذریعے خام تیل کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی ہے، جو آبنائے ہرمز کے مقابلے میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔
28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہوئی ہے۔ تازہ پیش رفت نے اس لیے تیل کی پیداوار اور نقل و حمل، دونوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس سے قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی سے خلل کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
30 اگست کو دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے قبل والے ہفتے میں آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 80 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل تیل گزرتا تھا، جو اس سے ایک ہفتہ قبل ریکارڈ کی گئی مقدار سے تقریباً دوگنا تھا۔ تاہم اب یہ بہاؤ اپنی سابقہ سطح کے ایک حصے تک محدود ہوگیا ہے اور روزانہ 20 لاکھ بیرل سے بھی کم رہ گیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل ترسیلی راستوں میں شامل ہے، جو خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو عالمی منڈیوں سے ملاتا ہے۔ اگر تیل کی ترسیل میں یہ کمی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی محدود ہوسکتی ہے، خاص طور پر اگر خلل برقرار رہا۔
تازہ کشیدگی کے باعث کئی بڑے بینکوں نے بھی تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ گولڈمین سیکس، بینک آف امریکہ اور ایچ ایس بی سی نے حالیہ دنوں میں اپنے تخمینے بڑھائے ہیں، کیونکہ تیل کی سپلائی میں طویل عرصے تک خلل پڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اوپیک سے باہر بعض ممالک، جن میں امریکہ، کینیڈا اور گیانا شامل ہیں، تیل کی پیداوار میں اضافہ کررہے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسے توقع ہے کہ رواں سال عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں یومیہ 43 لاکھ بیرل، یعنی تقریباً 4 فیصد کمی آئے گی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ رہنے سے دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور ایندھن، نقل و حمل اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ لاطینی امریکہ میں اقتصادی اور سلامتی کے تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے: روبیو
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امید ہے کہ کولمبیا، پیرو اور ایکواڈور کے ساتھ جلد تجارتی معاہدے طے پاجائیں گے، کیونکہ واشنگٹن لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روبیو نے منگل کو کولمبیا کے شہر بیرنکیلا میں صدر ابیلاردو دے لا اسپریئیا سے ملاقات کی۔ یہ ان کے تین ملکی دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اتحادی حکومتوں کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی شمولیت کو وسعت دینا ہے۔
روبیو نے روانگی سے قبل ان تینوں ممالک کے بارے میں کہا، ”علاقائی سطح پر سرحد پار منظم جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط کے حوالے سے بھی ہمارے مفادات مشترک ہیں۔ یہ مغربی نصف کرہ میں امریکہ اور امریکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگی کے اس رجحان کا حصہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔”
کولمبیا کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ رواں ہفتے ایکواڈور اور پیرو کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ بالترتیب صدر ڈینیئل نوبوا اور صدر کیکو فوجیموری سے ملاقات کریں گے۔
کولمبیا روانگی سے قبل روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن مستقبل قریب میں تینوں ممالک کے ساتھ ”اچھے اور مضبوط” تجارتی معاہدے کرنا چاہتا ہے۔
یہ سفارتی دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ لاطینی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔
مثال کے طور پر چین نے 2009 میں پیرو کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جنوبی امریکی ملک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ”ڈونرو ڈاکٹرائن” کے غیر رسمی نام سے موسوم پالیسی کے تحت پورے مغربی نصف کرہ پر زیادہ کنٹرول کے لیے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔
اس کوشش کا مرکزی نکتہ سلامتی رہا ہے۔ دوسری مرتبہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے وینزویلا، مشرقی بحرالکاہل اور بحیرۂ کیریبین میں مہلک فوجی کارروائیوں کی منظوری دی ہے، جنہیں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔
دے لا اسپریئیا نے اگست میں عہدہ سنبھالا تھا اور جرائم اور مسلح گروہوں کے خلاف فوجی طریقۂ کار دوبارہ اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو ٹرمپ کی ترجیحات سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا بھی عہد کیا ہے، خصوصاً سابق صدر گسٹاوو پیٹرو کے ساتھ ٹرمپ کے تنازعات کے بعد۔ پیٹرو کولمبیا کے پہلے منتخب بائیں بازو کے صدر تھے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر5 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر5 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں اپنی پارٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کا حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
-
دنیا1 week agoنیپال اور چین میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز
