جموں و کشمیر
جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیا
سری نگر، جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے بدھ کو یہاں منعقدہ ایک تقریب میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیا۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے جسٹس بھاٹی کو عہدے کا حلف دلایا۔ مسٹر سکسینہ اس وقت جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا اضافی چارج بھی سنبھال رہے ہیں۔
عہدیداروں نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے شالیمار آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، کئی کابینی وزرا، ہائی کورٹ کے جج اور سینئر سول و پولیس افسران شریک ہوئے۔
مرکزی حکومت نے 05 ستمبر کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس بھاٹی کی تقرری کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
وندے ماترم تنازع نے جموں و کشمیر میں انڈیا اتحاد کے اختلافات کو بے نقاب کر دیا
سری نگر، جموں و کشمیر میں وندے ماترم کے مکمل ورژن پر کانگریس اور اس کی اتحادی جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ سری نگر میں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں وندے ماترم کا مکمل ورژن گائے جانے پر کانگریس نے اعتراض کیا تھا۔ تقریب میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور تنظیمی امور کے انچارج کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے اس موقف کی حمایت کرے جس میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وندے ماترم کا مکمل ورژن اس ہم آہنگی اور کثرت پسندی کی روح کے مطابق نہیں ہے، جس کا تصور آزادی کے مجاہدین نے ہندستان کے لیے کیا تھا اور اسے فروغ دیا تھا۔‘‘
مسٹر وینوگوپال نے مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، آچاریہ نریندر دیو، مولانا ابوالکلام آزاد، سروجنی نائیڈو اور جے بی کرپلانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس گیت کے حوالے سے آزادی کے مجاہدین کا اجتماعی فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے نے بھی گیت کی موجودہ شکل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی اتحادی جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آزادی کے مجاہدین کے فیصلے کا احترام کریں اور اسی ورژن کو گائیں جسے انہوں نے اختیار کیا تھا۔ ان کے مطابق اس ورژن کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا تاکہ گیت کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے اور جمہوریہ کے سیکولر اور جامع کردار کو برقرار رکھا جا سکے۔ جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے بھی وندے ماترم کا مکمل ورژن گائے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی علامات، قومی گیت اور روایات ہر ہندستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی اصل طاقت ملک کے تنوع کو متحد کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے وندے ماترم کا مکمل ورژن گانا تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ آزادی کی تحریک سے لے کر جمہوریہ کے آئینی سفر تک اس گیت کے کردار میں آنے والی بتدریج تبدیلی کو نظرانداز کرتا ہے۔
مسٹر وینوگوپال کے بیان پر بی جے پی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے اسے کانگریس کے لیے ایک نئی نچلی سطح قرار دیا۔ بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے ’ایکس‘ پر کہا، ’’…ان کی اپنی اتحادی جماعتوں کے مسلم رہنما فخر اور پورے اعتماد کے ساتھ وندے ماترم گا رہے ہیں اور کانگریس، جو خود کو مسلمانوں کی خود ساختہ ٹھیکیدار سمجھتی ہے، انہی رہنماؤں کو برا بھلا کہہ رہی ہے اور وندے ماترم کو مسلم مخالف قرار دے رہی ہے۔ آپ ہوتے کون ہیں؟ چاول کے بدلے مذہب تبدیل کرنے والے لوگ اب حقیقی مسلمانوں کو اسلام اور مسلم مخالف ہونے کا سبق دیں گے؟ آپ دو تین انتہا پسند ملاؤں کے تلوے چاٹنے کے لیے پوری برادری اور پورے ملک کو بیچ دیں گے؟ کانگریس سے زیادہ مسلم مخالف اور ملک دشمن کوئی پارٹی نہیں ہے۔ آپ کے لیے شرم کی بات ہے۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے گزشتہ ماہ وندے ماترم کے حوالے سے 1937 کی پارٹی قرارداد پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت مستقبل میں کانگریس کے پروگراموں میں گیت کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔
یواین آئی ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن 21 سے 30 ستمبر تک ہوگا
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس 21 تا 30 ستمبر منعقد ہوگا۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے منگل کو اجلاس کا عارضی کاروباری کیلنڈر جاری کردیا۔
اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کیلنڈر کے مطابق اجلاس کا آغاز 21 ستمبر کو تعزیتی قراردادوں سے ہوگا، جس کے بعد سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔ 22 ستمبر کو بھی سرکاری امور ہوں گے، جبکہ 23 ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ کے موقع پر تعطیل رہے گی۔
24 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز بل اور 25 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ 26 ستمبر کو ایوان کی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ 27 ستمبر کو بھی تعطیل رہے گی۔ 28 ستمبر کو دوبارہ پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیے جائیں گے، جبکہ 29 اور 30 ستمبر کو سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔
یہ اجلاس 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد منتخب حکومت کی بحالی کے بعد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس ہوگا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز 30 روز میں وظیفہ بڑھانے کی حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے پر راضی
سری نگر، جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز نے حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے اور ڈیوٹی پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ ان کے وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو 30 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
یہ فیصلہ حکومت اور احتجاج کرنے والے انٹرنز کے نمائندوں کے درمیان تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا۔ انٹرنز گزشتہ آٹھ روز سے ماہانہ وظیفہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔
انٹرنز نے پیر کو اپنے احتجاج کو مزید تیز کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ وہ موجودہ 12,300 روپے ماہانہ وظیفے کو بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
وزیر صحت و طبی تعلیم کے ذاتی شعبے کی جانب سے درج کارروائی کے مطابق حکومت نے کہا کہ معاملے کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ انٹرنز کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں اور اسپتالوں میں طبی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال بلا تعطل جاری رہے۔
فیصلہ کیا گیا کہ 27 جون 2023 کے سرکاری حکم نامہ نمبر 538-جے کے (ایچ ایم ای) کے تحت تشکیل دی گئی وظیفہ اضافے کی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر معاملے کو 30 روز کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق فیصلے میں میڈیکل انٹرنز کے جائز مفادات اور خدشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والے انٹرنز نے مریضوں کی دیکھ بھال کے وسیع تر مفاد اور اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ مفادات کے تحفظ کے پیش نظر ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ موجودہ وظیفہ تقریباً سات برس سے تبدیل نہیں ہوا ہے، جبکہ اس دوران رہن سہن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور کام کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔
حکومت کی یہ یقین دہانی جموں و کشمیر کے کئی سرکاری میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں جاری طویل احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ م ع
-
جموں و کشمیر4 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا7 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر4 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر4 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو خارج کیا
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
