ہندوستان
دہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اپنا زمینی تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک سرحد پار دہشت گردی کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ تجربہ حاصل کیا ہے۔ آپریشن سندور نے ہندوستان کی فعال اور زمینی تجربے پر مبنی حکمت عملی کو نمایاں کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کو فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان کے وزرائے دفاع کی 13ویں میٹنگ (اے ڈی ڈی ایم پلس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہندوستان مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے ذریعے اپنے معاون ممالک کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان اور ملائیشیا 2024 سے 2027 تک انسداد دہشت گردی سے متعلق ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کے لیے بحری تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستوں پر جہازوں کی آمد و رفت اور طیاروں کی پرواز کی آزادی پر ہندوستان کا زور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد خطے کے تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہندوستان 2008 سے خلیج عدن جیسے حساس سمندری علاقوں میں سرگرم ہے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت میں اپنا تعاون دے رہا ہے۔
وزیر دفاع نے ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی ‘یوتھ برج’ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کے درمیان رابطے بڑھانا، ڈیجیٹل اختراع کی حوصلہ افزائی کرنا اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے ایس آئی آر کے جواز پر سوال اٹھائے، کہا چھ ریاستوں میں صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے مقاصد کے سلسلے میں ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چھ ریاستوں میں اس عمل کے تحت شامل تقریباً 10 کروڑ لوگوں میں سے صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے یاد دلایا کہ شاہ نے ایس آئی آر کو ”تھری ڈی مقصد” والا عمل قرار دیا تھا، جس کا مطلب دراندازوں کا ”پتہ لگانا، نام حذف کرنا اور ملک بدر کرنا” ہے۔ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو ”پاک صاف” کرنا بتایا گیا تھا۔ اس وسیع نظرثانی کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کرناٹک، جھارکھنڈ، میگھالیہ، کیرالہ، گوا اور میزورم کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ اس عمل کے دائرے کے مقابلے میں شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
رمیش نے کہا، ”ان ریاستوں میں تقریباً 10 کروڑ لوگوں کے ایس آئی آر کے عمل سے گزرنے کا مقصد 1600 ‘غیر ملکیوں’ کو تلاش کرنا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ دیگر 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے متعلق اسی طرح کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان سے ایسا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے رمیش نے کہا کہ ریاست کی انتخابی فہرستوں سے 99.7 لاکھ نام حذف کیے گئے، جبکہ صرف 716 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی، جن میں 545 نیپال سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا نظرثانی کا اتنا وسیع عمل غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور نااہل ووٹروں کو ہٹانے کے اپنے اعلان شدہ مقصد کے تناسب سے ہے یا نہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ عمل نااہل ووٹروں کی شناخت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کو ایک ایسی ”سازش” قرار دیا جسے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے تیار کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ای سی آئی نیٹ سمیت مختلف ذرائع سے نافذ کر رہے ہیں۔ ای سی آئی نیٹ پر انتخابات سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
رمیش نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ایس آئی آر کے عمل کو معطل کرنے اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کے کانگریس کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا، ”گیانیش کمار کو جانا ہوگا، ایس آئی آر کو معطل کرنا ہوگا اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کرنی ہوگی۔”
ایس آئی آر سے متعلق تنازعے نے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی کوششوں کے تحت یہ عمل شروع کیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اس کے نفاذ، نام حذف کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے معیار اور ان ووٹروں کے لیے دستیاب حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھائے ہیں جن کے نام فہرستوں سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
رمیش کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار نے اس سیاسی تنازعے میں ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی نسبتاً کم تعداد کی شناخت کی بنیاد پر نہ تو اس وسیع عمل کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر نام حذف کرنے کے عمل کو درست ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے نظرثانی کو معطل کرنے اور انتخابی ادارے اور اس کے ڈیجیٹل نظام کے کام کاج میں زیادہ شفافیت لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
راہل کی ‘چلو دہلی’ مارچ میں طلبہ اور عام لوگوں سے شرکت کی اپیل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کی جانب سے یکم نومبر کو قومی راجدھانی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ‘چلو دہلی’ مارچ کو جمہوریت، آئین اور ووٹ چوری کے خلاف ملک کا احتجاج قرار دیتے ہوئے طلبہ سمیت عام لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا مارچ نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح کا مارچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے پریشان ہیں اور جمہوریت و آئین کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس مارچ میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے تمام طلبہ تنظیموں سے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر اس مارچ میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ ملک، ان کی اظہار رائے کی آزادی، ان کے خیالات اور سوچنے کے طریقے پر حملہ ہو رہا ہے، تو انہیں اس مارچ میں شرکت کرنی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے مظاہرین سے پولیس یا لاٹھی چارج کے حوالے سے خوف زدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں اس طرح کی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی لوگ آئین اور ملک کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے ملک کے عوام سے یکم نومبر کو رام لیلا میدان پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی روح کے تحفظ کے لیے مارچ ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
سال 2030 تک گرین انرجی کے لیے 220 ارب ڈالر کی ضرورت، بھارت آر ای کانفرنس سے سرمایہ کاری میں اضافے کی امید
نئی دہلی، ملک میں گرین انرجی کو مزید فروغ دینے کے لیے آئندہ چار برسوں کے دوران اس شعبے میں 220 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اگلے ہفتے منعقد ہونے والی بھارت ری نیوایبل انرجی (بھارت آر ای) کانفرنس اور نمائش 2026 سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو مزید رفتار ملنے کی امید ہے۔
وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے سکریٹری سنتوش کمار سارنگی نے بدھ کے روز یہاں کانفرنس کے بارے میں میڈیا کو معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں منعقدہ بھارت آر ای کانفرنس کے بعد دو برسوں کے دوران حکومت نے گرین انرجی کے شعبے میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے حوصلہ پاکر نجی شعبے کی جانب سے 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اس میں 6.2 ارب ڈالر کی راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے بھی اسی طرح کی توقع ہے اور امید ہے کہ یہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
مسٹر سارنگی نے کہا کہ 500 گیگاواٹ غیررکازی ایندھن پر مبنی توانائی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سال 2030 تک ملک کے گرین انرجی کے شعبے میں 220 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس میں براہ راست گرین انرجی اور اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ شمسی توانائی کے لیے 70 ارب ڈالر، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے لیے 30 سے 35 ارب ڈالر، گرین ہائیڈروجن کے لیے 20 سے 25 ارب ڈالر، حیاتیاتی توانائی کے لیے تین سے پانچ ارب ڈالر اور آبی بجلی کے لیے 12 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری اسٹوریج کے لیے 20 ارب ڈالر، مینوفیکچرنگ کے لیے 15 ارب ڈالر اور بجلی کی ترسیل کے نظام کے لیے 40 سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں بھارت منڈپم میں 2 سے 5 نومبر تک منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں گرین انرجی سے متعلق تمام امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس میں 130 سے زیادہ ممالک کے 75 ہزار سے زائد نمائندے شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں 14 ریاستوں اور 70 ممالک کے خصوصی اجلاس منعقد ہوں گے۔ بیرونِ ملک سے 40 وزرا سمیت 835 سفارت کاروں نے اب تک اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ کانفرنس اور نمائش کا انعقاد 32 ہزار مربع فٹ کے رقبے میں کیا جا رہا ہے، جہاں 400 نمائش کنندگان اور 500 مقررین شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی 2 نومبر کو بھارت آر ای کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ اسی دن بند کمرے میں چیف ایگزیکٹیو افسران (سی ای اوز) کی گول میز کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔ اگلے روز، یعنی 3 نومبر سے عام لوگوں کے لیے مفت داخلے کی سہولت دستیاب ہوگی۔ نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن 5 نومبر کو اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
مسٹر سارنگی نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ بھارت نے اب تک گرین انرجی کے شعبے میں کتنی پیش رفت کی ہے اور مستقبل کے لیے اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ دوسرے ممالک کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی ہوگا۔ کانفرنس میں حکومتوں کے درمیان، حکومتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان اور کاروباری اداروں کے آپس میں معاہدے ہونے کی امید ہے۔ اس میں کئی ماہرینِ تعلیم، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) اور اسٹارٹ اَپس بھی شرکت کریں گے۔
اس وقت ملک میں توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 550 گیگاواٹ سے زیادہ ہے، جس میں 308 گیگاواٹ غیر رکازی ایندھن پر مبنی توانائی شامل ہے۔ ہندوستان گرین انرجی کا 50 فیصد ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر چکا ہے اور خود مقرر کردہ مدت سے پہلے 500 گیگاواٹ گرین انرجی کا ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا موضوع ”سرمایہ کاری کرو، جدت لاؤ، ترغیب دو” رکھا گیا ہے۔
مسٹر مودی اس موقع پرگرین انرجی کے حوالے سے ریاستوں کی درجہ بندی بھی جاری کریں گے۔ وہ 1947 سے اب تک ملک میں شمسی توانائی کے سفر پر مبنی ایک دستاویز بھی جاری کریں گے۔
کانفرنس کے دوران قابلِ تجدید توانائی پر قومی کوئز مقابلے، بھارت آر ای ہیکاتھون اور اسکول کے بچوں کے درمیان منعقدہ اختراعی مقابلے کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoیوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا
-
دنیا1 week agoایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
