ہندوستان
نیپال میں آئے سیلاب میں 275 ہندوستانی لاپتہ، 166 کو بچایا گیا، چین کے علاقے میں کوئی ہندوستانی نہیں: وزارت خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں گزشتہ ماہ آئے تباہ کن سیلاب کے بعد ابھی بھی 275 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 166 کو بچا لیا گیا ہے اور چین کے علاقے سے 1907 ہندوستانی شہری نیپال پہنچ چکے ہیں اور اب کوئی ہندوستانی شہری وہاں نہیں پھنسا ہوا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے یہ معلومات دی۔ انہوں نے کہا، “275 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ ہم نیپال حکومت، وزارت خارجہ اور متعلقہ ایجنسیوں نیز اپنی متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہم نے بچائے گئے شہریوں کے نام شیئر کیے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نیپال حکومت کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اب تک 1907 ہندوستانی شہری چین سے نیپال آئے ہیں۔ ابھی چین میں تبت کے خود مختار علاقے میں کوئی ہندوستانی مسافر نہیں پھنسا ہوا ہے۔”
ترجمان نے کہا کہ ہندوستان نیپال کو اس کی ضرورت کے مطابق امداد جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ آگے بھی جاری رہے گی۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان نیپال کو فارنسک کٹ، بیلی برج اور دیگر سامان بھیجے گا۔
ہندوستان کے دو طیارے کل بھی 21 ٹن سامان لے کر نیپال گئے تھے، اب تک ہندوستان نے سات طیاروں کے ذریعے 95 ٹن امدادی سامان بھیجا ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین اور بچاؤ کارکنوں کی 54 رکنی ٹیم بھی وہاں کام میں جٹی ہوئی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مکمل جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے برطانیہ میں برمنگھم کے میئر ذاکر چودھری کے کشمیر سے متعلق بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران میئر چودھری کے بیان پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔
ترجمان نے کہاکہ “کشمیر پر آپ کو ہندوستان کا موقف معلوم ہے۔ پورا جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ برمنگھم کے میئر ذاکر چودھری، جو پاکستانی نژاد ہیں، انہوں نے گزشتہ ماہ پاکستان کے یومِ آزادی کی ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ “کشمیر پاکستان کا ہے”۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اسرو کی کامیابی پر جے رام رمیش نے دی مبارکباد، کہا- ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں میں ہوگا اضافہ
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 17 راکٹ سے ای او ایس-05 سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ اور اسے مدار میں قائم کیے جانے پر انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اسے ملک کے لیے ایک اور تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ 2367 کلوگرام وزنی ای او ایس-05 سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ اسرو کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرو کو کئی اطراف سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایسے میں یہ کامیابی اس کی غیر معمولی استقامت اور مشکلات سے ابھرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو اسرو کی کامیابیوں اور اس کی صلاحیت کو سلام کرنا چاہیے نیز تنظیم کی آنے والی تمام مہمات کی کامیابی کی تمنا کرنی چاہیے۔
مسٹر رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں، جب وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی ہدایت پر اسرو کے کردار میں بنیادی تبدیلی کی جا رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلیاں اس باعث تحریک عوامی ادارے کے بنیادی کردار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرو نے دہائیوں تک تمام تر مشکلات کے باوجود ملک کو فخر کا احساس دلایا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ، اسرو اور صنعتی شراکت داری خلائی پروگرام کو نئی طاقت دے رہی ہے:وزیراعظم
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) کے جی ایس ایل وی-ایف 17 کے ذریعے ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ کو ’’شاندار کامیابی‘‘ اور ملک کے لیے ’’فخر کا لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری کے کردار کو اجاگر کیا، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’اسرو کی ایک اور شاندار کامیابی اور ہمارے ملک کے لیے فخر کا لمحہ۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ای او ایس-05 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیاب لانچنگ نے ان ’’بہترین کارکردگی، اختراع اور بڑھتی ہوئی صلاحیتوں‘‘ کی عکاسی کی ہے جو ہندوستان کے خلائی شعبے کی شناخت ہیں۔
وزیر اعظم نے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ’’اسرو اور ہندوستانی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری‘‘ ہندوستان کی خلائی کوششوں میں ’’نئی طاقت اور وسعت‘‘ پیدا کر رہی ہے اور پورے خلائی نظام میں صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن جمعہ کو صبح 2.55 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے روانہ ہوا اور اس نے 2,367 کلوگرام وزنی ای او ایس-05 کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچا دیا۔ اسرو نے کہا کہ مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا، جو ہندوستان کے جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی 19ویں پرواز ہے۔
ای او ایس-05 ہندوستان کی زمین کے مشاہدے کی صلاحیتوں میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ یہ ملک کا پہلا امیجنگ سیٹلائٹ ہے جسے جیو سنکرونس مدار سے کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کم مدار میں موجود روایتی زمین مشاہداتی سیٹلائٹ کے برعکس، جو کسی مخصوص علاقے کے اوپر وقفے وقفے سے گزرتے ہیں، اس کی جیو سنکرونس پوزیشننگ وسیع جغرافیائی علاقے کی مسلسل تصویر کشی اور نگرانی کو ممکن بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اس صلاحیت کے زراعت، موسمیاتی مشاہدے، آفات سے نمٹنے اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کی توقع ہے، جبکہ اس سے ہندوستان کو بڑے علاقوں کی مسلسل نگرانی کی بہتر صلاحیت حاصل ہوگی۔
یہ مشن جیو سنکرونس امیجنگ صلاحیتیں تیار کرنے کی اسرو کی کوششوں میں بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ای او ایس-03/جی آئی ایس اے ٹی-1 مشن کے بعد آیا ہے، جو اگست 2021 میں جی ایس ایل وی-ایف 10 کی پرواز کے دوران خرابی پیش آنے کے بعد مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا کہ مدار میں کامیاب طریقے سے پہنچائے جانے کے بعد ای او ایس-05 ’’بالکل درست حالت‘‘ میں ہے۔ مشن کے حکام نے سیٹلائٹ کو جدید ملٹی بینڈ امیجنگ صلاحیتوں سے لیس ایک پیچیدہ خلائی جہاز قرار دیا۔
یہ کامیاب لانچنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان روایتی حکومت کی قیادت والے پروگراموں سے آگے اپنے خلائی نظام کو وسعت دینے اور سیٹلائٹ سازی، لانچ خدمات، خلائی ایپلی کیشنز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں ملکی کمپنیوں کی شمولیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مودی کے تبصرے ای او ایس-05 کی کامیابی کو ہندوستان کے خلائی شعبے میں اس وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، جس میں ملکی تکنیکی صلاحیتیں تیار کرنے اور ملک کے خلائی پروگرام کے پیمانے کو وسعت دینے کے لیے اسرو اور نجی صنعت کے درمیان تعاون پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیابی سے ہندوستان کے تیزی سے پرعزم خلائی پروگرام کو بھی نئی رفتار ملی ہے، جس میں زمین کے مشاہدے، تجارتی خلائی منصوبوں اور نجی شعبے کی شمولیت میں سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ یہ مشن جولائی 2025 میں جی ایس ایل وی-ایف 16/نیسار کی لانچنگ کے بعد انجام دیا گیا ہے۔
ای او ایس-05 کے کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچنے کے ساتھ یہ مشن بڑھتی ہوئی پیچیدگی والے خلائی مشن انجام دینے کی اسرو کی صلاحیت کا ایک اور مظاہرہ ہے، جبکہ خلا کے شعبے میں ہندوستان کے طویل مدتی عزائم کی حمایت کرنے والے تکنیکی اور صنعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
یو این آئی۔
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoنیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
-
دنیا1 week agoقطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی
-
پاکستان1 week agoپاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
-
جموں و کشمیر1 week agoحکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
-
جموں و کشمیر2 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
-
دنیا1 week agoنیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
