دنیا
ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے پیش نظر پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
سی این این نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے شعبے (جے 5) کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔
ہیگسیتھ کے دور میں اب تک کم از کم 20 سے 25 اعلیٰ جنرلوں، ایڈمرلوں اور سینئر سویلین عہدیداروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے یا انہیں پینٹاگون سے باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔
سلویا کی رخصتی ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہیگسیتھ پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔
سلویا کو ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ پینٹاگون نے ان کی رخصتی کے حالات کے بارے میں بھی عوامی طور پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔
ہیگسیتھ نے جنرلوں اور ایڈمرلوں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد کمی کرنے کا ایک وسیع منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کے تحت برطرفیوں اور منظور شدہ عہدوں میں کمی کے ذریعے جنرل افسران اور ایڈمرلوں کے تقریباً 170 عہدے ختم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد محکمہ دفاع کو اس سوچ کے مطابق نئی شکل دینا ہے جسے ہیگسیتھ نے ”جنگجو فوجی مزاج” قرار دیا ہے۔
جوائنٹ اسٹاف کے جے 5 شعبے کا کام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لیے فوجی حکمت عملی، آپریشنل منصوبے اور پالیسی سے متعلق سفارشات تیار کرنا ہے۔ یہ شعبہ فوجی منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیداروں کو ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔
امریکی فوج کی 101 ویں ایئربورن ڈویژن کے سابق کمانڈر سلویا کو صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے آخری دور میں سابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔
جوائنٹ اسٹاف نے سلویا اور ان کے اہل خانہ کی 32 سالہ فوجی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور زندگی کے نئے مرحلے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بدھ کی شام تک جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ویب سائٹ سے ان کا سوانحی خاکہ بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
سلویا کی رخصتی ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے حوالے سے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں اپنی حکمت عملی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
تل ابیب، اسرائیل کے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بنجامن نیتن یاہو کو ملک کے اہم ترین انتخابات میں سیاسی دھچکا لگا ہے۔ ان کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد رائے دہندگان نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اندازہ ہے کہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی اتحادیوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملیں گی۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آسکتی ہیں۔ اس طرح حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
حکومت بنانے اور اسے چلانے کے لیے درکار 61 نشستیں کسی بھی بڑے اتحاد کو حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج متوقع ہیں۔ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں نے نئی حکومت بنانے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں سے ایک اور انتخاب سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ توقع ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کرنے سے پہلے جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ منتخب امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے۔
نیتن یاہو اپوزیشن کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم کئی جماعتوں نے ان کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب آئزن کوٹ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ عرب اسرائیلی جماعتوں کی حمایت حاصل کریں گے، جس سے حکومت سازی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن ان کے اپنے اتحاد کے بعض رہنما اس انتظام کے مخالف ہیں۔ اپوزیشن رہنما یائر گولان نے حریف جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں۔
عرب اسرائیلی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹروں نے نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی روکنے کے لیے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ ان کے مطابق، انہیں حاصل ہونے والی حمایت اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ مشترکہ عرب فہرست کے رہنما یوسف جبارین نے کہا کہ ان کا اتحاد حکومت کو ہٹانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور انہوں نے یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعاون کو متبادل راستہ قرار دیا۔
جبارین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”خونریزی کی حکومت اور بالادستی، نسل پرستی اور اخراج کی سیاست کے مقابلے میں ہم ایک بالکل مختلف متبادل پیش کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”تبدیلی یہودیوں اور عربوں کی شراکت داری سے آئے گی، جو حقیقی اور مساوی ہو۔ اس سے کم کچھ نہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت پر منحصر اپوزیشن حکومت کے امکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بعض جماعتیں اسرائیل کی یہودی اور صہیونی شناخت کو تسلیم نہیں کرتیں۔
انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی ووٹر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک طبقہ نیتن یاہو کے سخت گیر اور تقسیم پیدا کرنے والے سیاسی تصور سے تبدیلی چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس بارے میں غیر یقینی کا
شکار ہے کہ ان کی جگہ کون سا سیاسی متبادل ہونا چاہیے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے اہم غیر ملکی پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے بدھ کے روز کہا کہ روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی۔ تاہم سہ فریقی بات چیت کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔
مسٹر اوشاکوف کے مطابق تینوں ملکوں کے درمیان حالانکہ بات چیت دوبارہ شروع ہونے کا وقت کافی حد تک زمین پر بدلتی صورتحال اور جنگ کے محاذ پر ہونے والی پیش رفت پر منحصر کرے گا۔
انہوں نے روسی وفد کے بارے میں کہا کہ اس کے ارکان کی حتمی فہرست جلد ہی طے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت ٹیم کے اہم ارکان پہلے سے ہی طے ہیں لیکن روس کی جانب سے بات چیت شروع ہونے کی تاریخ کو لے کر ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔
مسٹر اوشاکوف نے امن کے عمل میں یورپی ممالک کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اس بات پر کوئی بحث نہیں ہو رہی ہے کہ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب یا ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور پورے یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے بات چیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس کے علاوہ، مسٹر اوشاکوف نے بتایا کہ روس اور امریکہ کے درمیان روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (آرڈی آئی ایف) پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کے امکان کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے کے خدشے کے حوالے سے مغربی ایشیا کے ممالک کو آگاہ کیا: رپورٹ
واشنگٹن، امریکی حکام مغربی ایشیا کے ممالک کو 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ سے حملے شروع ہونے کے خدشے کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔
دو نامعلوم سفارتکاروں کے حوالے سے “دی وال اسٹریٹ جرنل” نے یہ رپورٹ دی ہے۔ رپورٹ میں مغربی ایشیا کے شراکت دار ممالک کو ایران کی جانب سے جوابی حملے کیے جانے کی ممکنہ کوششوں کے بارے میں بھی تنبیہ کی گئی ہے۔
اس سے پہلے بدھ کے روز نیوز پورٹل ایکسیوس نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اگر سفارتی بات چیت ناکام رہتی ہے، تو یہ آپریشن نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد شروع کیا جا سکتا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
دنیا1 week agoایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
