ہندوستان
مودی گجرات میں 14 ہزار کروڑ کے منصوبوں کا تحفہ دیں گے، کسانوں کے لیے 19 ہزار کروڑ روپے جاری کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ سے گجرات کے دو روزہ دورے پر رہیں گے اور بناس کانٹھا میں 14 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے اور انہیں ملک کے نام وقف کریں گے۔
مسٹر مودی وزیر اعظم کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) کی 24ویں قسط کے طور پر ملک بھر کے کسانوں کے لیے تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے جاری کریں گے۔ اس کے علاوہ احمد آباد میٹرو کی توسیع، سڑک، ریل، زراعت اور مویشی پروری سے متعلق منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم جمعہ کو بناس کانٹھا میں بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر ملک کے نام وقف کریں گے۔ بھیلڑی میں 127 ایکڑ اراضی پر قائم اس مرکز کا مقصد مویشیوں کی نسل میں بہتری اور افزائش نسل کی تکنیکوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ کانکریج نسل کے مویشیوں کے لیے ملک کا پہلا خصوصی مرکز ہوگا۔ اس کے علاوہ تھراد اور رادھن پور میں بناس ڈیری کے دو بایو سی این جی پلانٹس کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
مسٹر مودی احمد آباد میٹرو کے فیز 2 اے کے تحت ہوائی اڈے تک اور فیز 2 بی کے تحت گفٹ سٹی تک توسیع کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ احمد آباد۔مہسانہ ہائی وے کو چار لین سے آٹھ لین میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گجرات میں بچوں کے لیے سازگار 4,030 نئے آنگن واڑی مراکز کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور 361 مراکز کا افتتاح کیا جائے گا۔ زرعی شعبے میں 4,950 کروڑ روپے کی لاگت والے 521 منصوبے بھی ملک کے نام وقف کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم احمد آباد (سابرمتی)۔وارانسی ایکسپریس اور مہسانہ۔بےچراجی۔سابرمتی میمو ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ پی ایم کسان کی 24ویں قسط جاری کرنے کے ساتھ باغبانی سے متعلق 12 منظور شدہ منصوبوں پر زمینی سطح پر کام بھی شروع ہوگا۔ ان منصوبوں سے تقریباً 1.3 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
دورے کے دوسرے دن، ہفتہ کو وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 151ویں یوم پیدائش کے موقع پر قومی یوم اتحاد کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس سے پہلے وہ ‘اسٹیچو آف یونٹی’ پر گلہائے عقیدت پیش کریں گے۔ ایکتا نگر میں 400 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، افتتاح کیا جائے گا اور انہیں ملک کے نام وقف کیا جائے گا۔ ان میں پانی اور سیوریج کی صفائی کے پلانٹس، نرمدا گھاٹ کی تجدید و ترقی، آئی آر سی ٹی سی ہوٹل اور سیاحت سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعظم جمعہ کو بھارت پرو 2026 کا افتتاح کریں گے۔ یہ پروگرام 15 نومبر تک جاری رہے گا۔ اس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ثقافت، لوک فنون، کھان پان، دست کاری اور سیاحتی مقامات کو پیش کیا جائے گا۔ وہ ایکتا پرکاش پرو بھی دیکھیں گے، جس میں روشنیوں کے ذریعے ملک کے تنوع اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس کے تحت 530 میٹر طویل ‘ویلی آف فلاورز روڈ’ اور 180 میٹر طویل ‘گلو ٹنل’ کو سجایا گیا ہے۔ ان مظاہروں میں 1.5 کروڑ سے زیادہ ایل ای ڈی لائٹس استعمال کی گئی ہیں۔
قومی یوم اتحاد کی پریڈ میں اس بار بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں اور اس سے متاثرہ علاقوں میں امن، سلامتی اور ترقی کی سمت میں ہونے والی تبدیلیوں کو خاص طور پر پیش کیا جائے گا۔ نیشنل اسکول آف ڈراما کی جانب سے ‘نکسلیوں سے پاک بھارت’ کے موضوع پر خصوصی پیش کش بھی کی جائے گی، جس میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ 126 اضلاع کے تقریباً 2,000 فنکار حصہ لیں گے۔
اس سال تقریب کا مرکزی موضوع ‘وندے ماترم’ ہوگا۔ اس کے تحت حب الوطنی، قومی فخر اور ثقافتی تنوع پر مبنی جھانکیاں اور ثقافتی پروگرام پیش کیے جائیں گے۔ ملک بھر سے تقریباً 5,000 فنکار ہندوستانی کلاسیکی اور لوک فنون، موسیقی اور رقص کے مظاہرے کریں گے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے ایس آئی آر کے جواز پر سوال اٹھائے، کہا چھ ریاستوں میں صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے مقاصد کے سلسلے میں ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چھ ریاستوں میں اس عمل کے تحت شامل تقریباً 10 کروڑ لوگوں میں سے صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے یاد دلایا کہ شاہ نے ایس آئی آر کو ”تھری ڈی مقصد” والا عمل قرار دیا تھا، جس کا مطلب دراندازوں کا ”پتہ لگانا، نام حذف کرنا اور ملک بدر کرنا” ہے۔ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو ”پاک صاف” کرنا بتایا گیا تھا۔ اس وسیع نظرثانی کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کرناٹک، جھارکھنڈ، میگھالیہ، کیرالہ، گوا اور میزورم کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ اس عمل کے دائرے کے مقابلے میں شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
رمیش نے کہا، ”ان ریاستوں میں تقریباً 10 کروڑ لوگوں کے ایس آئی آر کے عمل سے گزرنے کا مقصد 1600 ‘غیر ملکیوں’ کو تلاش کرنا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ دیگر 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے متعلق اسی طرح کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان سے ایسا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے رمیش نے کہا کہ ریاست کی انتخابی فہرستوں سے 99.7 لاکھ نام حذف کیے گئے، جبکہ صرف 716 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی، جن میں 545 نیپال سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا نظرثانی کا اتنا وسیع عمل غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور نااہل ووٹروں کو ہٹانے کے اپنے اعلان شدہ مقصد کے تناسب سے ہے یا نہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ عمل نااہل ووٹروں کی شناخت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کو ایک ایسی ”سازش” قرار دیا جسے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے تیار کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ای سی آئی نیٹ سمیت مختلف ذرائع سے نافذ کر رہے ہیں۔ ای سی آئی نیٹ پر انتخابات سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
رمیش نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ایس آئی آر کے عمل کو معطل کرنے اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کے کانگریس کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا، ”گیانیش کمار کو جانا ہوگا، ایس آئی آر کو معطل کرنا ہوگا اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کرنی ہوگی۔”
ایس آئی آر سے متعلق تنازعے نے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی کوششوں کے تحت یہ عمل شروع کیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اس کے نفاذ، نام حذف کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے معیار اور ان ووٹروں کے لیے دستیاب حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھائے ہیں جن کے نام فہرستوں سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
رمیش کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار نے اس سیاسی تنازعے میں ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی نسبتاً کم تعداد کی شناخت کی بنیاد پر نہ تو اس وسیع عمل کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر نام حذف کرنے کے عمل کو درست ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے نظرثانی کو معطل کرنے اور انتخابی ادارے اور اس کے ڈیجیٹل نظام کے کام کاج میں زیادہ شفافیت لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اپنا زمینی تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک سرحد پار دہشت گردی کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ تجربہ حاصل کیا ہے۔ آپریشن سندور نے ہندوستان کی فعال اور زمینی تجربے پر مبنی حکمت عملی کو نمایاں کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کو فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان کے وزرائے دفاع کی 13ویں میٹنگ (اے ڈی ڈی ایم پلس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہندوستان مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے ذریعے اپنے معاون ممالک کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان اور ملائیشیا 2024 سے 2027 تک انسداد دہشت گردی سے متعلق ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کے لیے بحری تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستوں پر جہازوں کی آمد و رفت اور طیاروں کی پرواز کی آزادی پر ہندوستان کا زور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد خطے کے تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہندوستان 2008 سے خلیج عدن جیسے حساس سمندری علاقوں میں سرگرم ہے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت میں اپنا تعاون دے رہا ہے۔
وزیر دفاع نے ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی ‘یوتھ برج’ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کے درمیان رابطے بڑھانا، ڈیجیٹل اختراع کی حوصلہ افزائی کرنا اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
راہل کی ‘چلو دہلی’ مارچ میں طلبہ اور عام لوگوں سے شرکت کی اپیل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کی جانب سے یکم نومبر کو قومی راجدھانی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ‘چلو دہلی’ مارچ کو جمہوریت، آئین اور ووٹ چوری کے خلاف ملک کا احتجاج قرار دیتے ہوئے طلبہ سمیت عام لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا مارچ نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح کا مارچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے پریشان ہیں اور جمہوریت و آئین کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس مارچ میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے تمام طلبہ تنظیموں سے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر اس مارچ میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ ملک، ان کی اظہار رائے کی آزادی، ان کے خیالات اور سوچنے کے طریقے پر حملہ ہو رہا ہے، تو انہیں اس مارچ میں شرکت کرنی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے مظاہرین سے پولیس یا لاٹھی چارج کے حوالے سے خوف زدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں اس طرح کی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی لوگ آئین اور ملک کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے ملک کے عوام سے یکم نومبر کو رام لیلا میدان پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی روح کے تحفظ کے لیے مارچ ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
دنیا1 week agoایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا
