دنیا
اسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
تل ابیب، اسرائیل کے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بنجامن نیتن یاہو کو ملک کے اہم ترین انتخابات میں سیاسی دھچکا لگا ہے۔ ان کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد رائے دہندگان نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اندازہ ہے کہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی اتحادیوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملیں گی۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آسکتی ہیں۔ اس طرح حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
حکومت بنانے اور اسے چلانے کے لیے درکار 61 نشستیں کسی بھی بڑے اتحاد کو حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج متوقع ہیں۔ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں نے نئی حکومت بنانے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں سے ایک اور انتخاب سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ توقع ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کرنے سے پہلے جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ منتخب امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے۔
نیتن یاہو اپوزیشن کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم کئی جماعتوں نے ان کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب آئزن کوٹ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ عرب اسرائیلی جماعتوں کی حمایت حاصل کریں گے، جس سے حکومت سازی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن ان کے اپنے اتحاد کے بعض رہنما اس انتظام کے مخالف ہیں۔ اپوزیشن رہنما یائر گولان نے حریف جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں۔
عرب اسرائیلی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹروں نے نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی روکنے کے لیے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ ان کے مطابق، انہیں حاصل ہونے والی حمایت اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ مشترکہ عرب فہرست کے رہنما یوسف جبارین نے کہا کہ ان کا اتحاد حکومت کو ہٹانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور انہوں نے یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعاون کو متبادل راستہ قرار دیا۔
جبارین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”خونریزی کی حکومت اور بالادستی، نسل پرستی اور اخراج کی سیاست کے مقابلے میں ہم ایک بالکل مختلف متبادل پیش کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”تبدیلی یہودیوں اور عربوں کی شراکت داری سے آئے گی، جو حقیقی اور مساوی ہو۔ اس سے کم کچھ نہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت پر منحصر اپوزیشن حکومت کے امکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بعض جماعتیں اسرائیل کی یہودی اور صہیونی شناخت کو تسلیم نہیں کرتیں۔
انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی ووٹر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک طبقہ نیتن یاہو کے سخت گیر اور تقسیم پیدا کرنے والے سیاسی تصور سے تبدیلی چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس بارے میں غیر یقینی کا
شکار ہے کہ ان کی جگہ کون سا سیاسی متبادل ہونا چاہیے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل: 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ آگے، واضح اکثریت کسی کو نہیں
یروشلم، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ بدھ کو تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔
اس صورت حال میں اسرائیل کو حکومت سازی کے لیے مشکل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے۔
عرب قیادت والی دو اہم جماعتوں، جوائنٹ لسٹ اور رعام (Ra’am) کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو ان کی موجودہ 10 نشستوں کے مقابلے میں تاریخی اضافہ ہوگا۔ اس سے انہیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم اپوزیشن کی کئی جماعتیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔
یہ نتائج انتخاب سے قبل کے بیشتر رائے عامہ کے جائزوں اور منگل کی رات 10 بجے ووٹنگ ختم ہونے کے بعد جاری کیے گئے ایگزٹ پولز سے مختلف ہیں۔ ان جائزوں میں آئزن کوٹ کے اتحاد کو برتری حاصل دکھائی گئی تھی، جبکہ ایگزٹ پولز نے اپوزیشن کو دو سے تین نشستوں کی سبقت دی تھی۔تاہم، رات بھر اور بدھ کو ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے ساتھ ہی نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے اتحادی آگے نکل گئے۔
مرکزی انتخابی کمیٹی نے بدھ کی رات 9 بجے کے کچھ دیر بعد جاری تازہ اطلاع میں بتایا کہ 89.8 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے، جس میں تقریباً تمام معمول کے پولنگ مراکز کے ووٹ شامل ہیں۔ نتائج ابھی عارضی ہیں، لیکن حکام کو توقع نہیں ہے کہ اعداد و شمار میں کوئی بڑا فرق آئے گا۔
کمیٹی کے مطابق باقی ماندہ معمول کے ووٹوں کی جانچ کے لیے اضافی نگرانی درکار ہے۔ اس کے علاوہ دو لفافوں میں ڈالے گئے تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ 80 ہزار ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جو جمعرات کی رات ایک بجے شروع ہونے اور شام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ ووٹ زیادہ تر فوجیوں، قیدیوں، بیرون ملک تعینات سفارت کاروں اور ایسے افراد کے ہوتے ہیں جو اپنے مقررہ پولنگ مراکز پر ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ حکام کو تصدیق کرنا ہوتی ہے کہ ووٹر نے کسی دوسرے مقام پر پہلے ہی ووٹ نہ ڈالا ہو۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ ووٹوں کی آمد اور ان کی جانچ جاری رہنے کے باعث موجودہ تخمینہ عارضی ہے۔ مکمل گنتی جمعرات کی دوپہر تک متوقع ہے، جبکہ حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔
کنیسٹ کی ہر نشست کے لیے تقریباً 40 ہزار ووٹوں کا تخمینہ ہے۔ اس لیے باقی ووٹ نشستوں کی حتمی تقسیم پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، تاہم مجموعی سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔
بدھ کی دوپہر تک لیکوڈ 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت تھی، جبکہ یاشر کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد اور یوسف جبارین کی جوائنٹ لسٹ کو 12، 12 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس آٹھ نشستوں پر آگے تھی۔
اوتزما یہودیت، شاس، یونائیٹڈ توراتھ یہودیت، رام اور اویگدور لائبرمین کی اسرائیل بیتینو کو سات، سات نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ بیزلیل اسموترچ کی جماعت ریلیجس صہیونزم چھ نشستوں پر تھی۔
تین چھوٹی جماعتیں 3.25 فیصد کی انتخابی حد سے نیچے رہیں۔ یوعاز ہینڈل کی ریزروِسٹس اکنامک پارٹی کو 2.63 فیصد، اوفر ونٹر کی پیپل آف اسرائیل کو 1.61 فیصد اور حریدی پبلک کو 0.19 فیصد ووٹ ملے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد میں شامل لیکوڈ، شاس، یونائیٹڈ توراتھ یہودیت، اوتزما یہودیت اور ریلیجس صہیونزم کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جو اکثریت سے آٹھ کم ہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ میں اس اتحاد کے پاس 68 نشستیں ہیں، اس لیے اسے نمایاں نقصان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب آئزن کوٹ کے اتحاد، جس میں یاشر، بی یاخاد، ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتینو شامل ہیں، کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو اکثریت سے 13 کم ہیں۔
عرب قیادت والی جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں نیتن یاہو مخالف حکومت کو اکثریت کے ہندسے سے آگے پہنچانے کے لیے کافی ہوسکتی ہیں۔ تاہم، ڈیموکریٹس کے علاوہ آئزن کوٹ کے اتحاد کی بیشتر جماعتیں رام یا جوائنٹ لسٹ کے ساتھ تعاون سے انکار کر چکی ہیں، جس سے متبادل حکومت کی تشکیل مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے پیش نظر پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
سی این این نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے شعبے (جے 5) کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔
ہیگسیتھ کے دور میں اب تک کم از کم 20 سے 25 اعلیٰ جنرلوں، ایڈمرلوں اور سینئر سویلین عہدیداروں کو برطرف کیا جا چکا ہے، استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے یا انہیں پینٹاگون سے باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔
سلویا کی رخصتی ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہیگسیتھ پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔
سلویا کو ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ پینٹاگون نے ان کی رخصتی کے حالات کے بارے میں بھی عوامی طور پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔
ہیگسیتھ نے جنرلوں اور ایڈمرلوں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد کمی کرنے کا ایک وسیع منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کے تحت برطرفیوں اور منظور شدہ عہدوں میں کمی کے ذریعے جنرل افسران اور ایڈمرلوں کے تقریباً 170 عہدے ختم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد محکمہ دفاع کو اس سوچ کے مطابق نئی شکل دینا ہے جسے ہیگسیتھ نے ”جنگجو فوجی مزاج” قرار دیا ہے۔
جوائنٹ اسٹاف کے جے 5 شعبے کا کام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لیے فوجی حکمت عملی، آپریشنل منصوبے اور پالیسی سے متعلق سفارشات تیار کرنا ہے۔ یہ شعبہ فوجی منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیداروں کو ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔
امریکی فوج کی 101 ویں ایئربورن ڈویژن کے سابق کمانڈر سلویا کو صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے آخری دور میں سابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔
جوائنٹ اسٹاف نے سلویا اور ان کے اہل خانہ کی 32 سالہ فوجی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور زندگی کے نئے مرحلے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بدھ کی شام تک جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ویب سائٹ سے ان کا سوانحی خاکہ بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
سلویا کی رخصتی ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے حوالے سے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں اپنی حکمت عملی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے اہم غیر ملکی پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے بدھ کے روز کہا کہ روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی۔ تاہم سہ فریقی بات چیت کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔
مسٹر اوشاکوف کے مطابق تینوں ملکوں کے درمیان حالانکہ بات چیت دوبارہ شروع ہونے کا وقت کافی حد تک زمین پر بدلتی صورتحال اور جنگ کے محاذ پر ہونے والی پیش رفت پر منحصر کرے گا۔
انہوں نے روسی وفد کے بارے میں کہا کہ اس کے ارکان کی حتمی فہرست جلد ہی طے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت ٹیم کے اہم ارکان پہلے سے ہی طے ہیں لیکن روس کی جانب سے بات چیت شروع ہونے کی تاریخ کو لے کر ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔
مسٹر اوشاکوف نے امن کے عمل میں یورپی ممالک کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اس بات پر کوئی بحث نہیں ہو رہی ہے کہ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب یا ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور پورے یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے بات چیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس کے علاوہ، مسٹر اوشاکوف نے بتایا کہ روس اور امریکہ کے درمیان روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (آرڈی آئی ایف) پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کے امکان کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
دنیا1 week agoایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
-
دنیا1 week agoایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
