ہندوستان
مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے پر بڑھ رہا ہے شدید اقتصادی بوجھ: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت ہر ہفتے مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور اس کا اثر اب صرف رسوئی تک محدود نہیں رہا، بلکہ گھر بنانے سے لے کر بجلی کے سامان تک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر لکھا، “جعلی ہیڈ لائنز میں مصروف وزیرِ اعظم نریندر مودی نے عام آدمی کے گھر بنانے کا خواب بھی چھین لیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تانبے کا تار 850 روپے سے بڑھ کر 1,700 روپے فی کلوگرام اور ایلومینیم 350 روپے سے بڑھ کر 650 روپے فی کلوگرام ہو گیا ہے۔ اس کے باعث 1,000 مربع فٹ کے مکان کی وائرنگ کا خرچ 50,000 روپے سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ روپے ہو گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ سولر پینل 10 سے 15 فیصد مہنگے ہو گئے ہیں۔ پنکھے اور فالس سیلنگ کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پریس جیسے گھریلو سامان کی قیمتوں میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایل ای ڈی اور ہیلوجن کی قیمتوں میں بھی تقریباً 20 فیصد کا اچھال آیا ہے۔ سوئچ ساکیٹ، مین لائن کیبل، ٹائلز، وائرنگ اور مزدوری سمیت گھر بنانے سے جڑا ہر خرچ بڑھ رہا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے الزام لگایا کہ مہنگائی ہر طرف سے عوام کی جیب پر اثر ڈال رہی ہے لیکن مودی حکومت مہنگائی کی اس حقیقت پر پردہ ڈالنے اور اعداد و شمار کی شعبدہ بازی سے عوام کو گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جھوٹ بولنے کے علاوہ مودی حکومت میں کچھ نہیں بدلا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے معیشت کے سلسلے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا جشن منا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتے ہوئےعدم مساوات جیسے مسائل سے پریشان ہے اور اس کے لیے اس حکومت میں کچھ نہیں بدلا ہے۔
مسٹر کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھی ایک پوسٹ میں کہا کہ تبدیلی کی بات کرنے والی مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام سے جھوٹ بولنے کے علاوہ بی جے پی کے اقتدار میں کچھ نہیں بدلا ہے۔ عام لوگ غیرمعمولی بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔
کانگریسی صدر نے کہا کہ مسٹر مودی ملک میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کا جشن منانے کی بات کہہ رہے ہیں، لیکن عام آدمی کے پاس ایسی خوشی منانے کی سہولت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر تین ‘یو’—غیرمعمولی بے روزگاری، ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات کا بوجھ ہے اور اس کے لیے وزیرِ اعظم ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری 50 سال کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے اور 40 فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ جولائی 2026 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان بے روزگار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ اب ٹوٹ چکا ہے۔
کانگریسی صدر نے کہا کہ خردہ مہنگائی 19 مہینے کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے۔ چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول اور دودھ جیسی روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ پیٹرول، ڈیزل، رسوئی گیس اور سی این جی بھی عام لوگوں کے لیے مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کے خاندان کسی طرح گزارا کر رہے ہیں، جبکہ غریبوں نے امید چھوڑ دی ہے۔
مسٹر کھرگے نے الزام لگایا کہ ملک میں اقتصادی نابرابری برطانوی حکومت کے دور سے بھی بدتر صورتحال میں پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سب سے اوپر کے ایک فیصد لوگوں کے پاس ہندوستان کی کل جائداد کا 40 فیصد حصہ ہے، جبکہ نیچے کے 50 فیصد لوگ صرف 15 فیصد جائداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں غریبوں سے امیروں کی طرف جائداد کی سب سے بڑی منتقلی کو فروغ دیا ہے۔
انہوں نے حکومت پر ‘کرونی کیپٹلزم’ کو اپنی واحد اقتصادی پالیسی بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے کمپنیوں کے 16 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے قرضے رائٹ آف (بٹے کھاتے) کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 22,006 کروڑ روپے کے منظور شدہ مطالبات کے مقابلے قرض دہندگان کو صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، یعنی 99.97 فیصد کی ‘ہیئر کٹ’ یعنی قرض کی قدرمیں کمی ہوئی۔
کانگریسی صدر نے وزیرِ اعظم پر ایک قریبی کاروباری دوست کے مفادات کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک نے وزیرِ اعظم کو اپنے کاروباری دوست کے لیے ‘ذاتی ٹریول ایجنٹ’ کی طرح کام کرتے دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کا ہندوستانیوں سے سونا نہ خریدنے اور بیرونِ ملک سفر نہ کرنے کا بار بار اصرار بھی زمینی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مودی کے اقتدار میں لوگوں سے جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرحِ نمو پر جے رام رمیش اٹھائے سوال ، کہا مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے پر بڑھ رہا ہے شدید اقتصادی بوجھ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان کی 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ اہم اعداد و شمار معیشت میں موجود کئی بنیادی کمزوریوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر “وقت سے پہلے جشن منانے” کا الزام لگایا ہے۔
پیر کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون کے دوران ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی سال بہ سال 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی، جس میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 81.36 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 75.46 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ نامینل جی ڈی پی 10.3 فیصد بڑھ کر 88.27 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔
پہلی سہ ماہی کی یہ نمو ریزرو بینک آف انڈیا کے پہلے کے 7 فیصد کے تخمینے سے زیادہ تھی، اگرچہ یہ مالیاتی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں درج کی گئی 8.6 فیصد کی ترمیم شدہ نمو سے کم تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعداد و شمار پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار معیشت کی صورتحال کی گمراہ کن تصویر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار، جیسے کہ وہ رپورٹ کیے گئے ہیں، معیشت کی ایک شدید تحریف شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔”
جے رام رمیش نے دلیل دی کہ نمو کے یہ اعداد و شمار ملکی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے درمیان “شدید طور پر افسردہ نجی سرمایہ کاری کے جذبات” کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے صارفین کے کمزور اعتماد، گھریلو ضروریات کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری، چین کے ساتھ تجارتی خسارے اور گھریلو مالیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا، “صارفین کا اعتماد کمزورہوا ہے، جو کووڈ کے بعد کے اپنے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گیا ہے اور نومبر 2025 سے مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں “تیزی سے بڑھ رہی ہیں” اور تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری “تشویشناک سطح” پر ہے۔
کانگریسی رہنما نے چین کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ “چین کے ساتھ مسلسل تجارتی خسارہ تباہی مچا رہا ہے”۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اہم شعبوں کو “چند بڑے صنعتی گھرانوں” کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر “نقصان دہ اثرات” مرتب ہو رہے ہیں۔
جے رام رمیش نے نابرابری اور گھریلو مالیات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “ہندوستان کے 5 سب سے امیر خاندانوں کی دولت میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہ دار ملازمین کی حقیقی اجرتوں میں کمی آئی ہے،” جبکہ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ گھریلو بچت کی شرح میں کمی آئی ہے اور گھریلو قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ان کی یہ تنقید پہلی سہ ماہی کی نمو کے اعداد و شمار کی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے زبردست تائید کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے 7.8 فیصد کے اس اضافے کو ایک “مثالی” اور “عظیم کارنامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود یہ کارکردگی حاصل کی ہے۔
حکومت نے توقع سے زیادہ مضبوط جی ڈی پی کارکردگی کو ہندوستانی معیشت کے استحکام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے ساتھ، سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی گراس ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن میں 11.9 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔
کانگریس نے تاہم یہ دلیل دی ہے کہ اقتصادی نمو کا معیار اور شمولیت کا اندازہ روزگار، حقیقی اجرت، گھریلو استعمال، بچت، نجی سرمایہ کاری اور مالیاتی تحفظ سمیت وسیع تر اشاریوں کے ذریعے لگایا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعظم پر براہِ راست تنز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: “یہ وزیرِ اعظم کی طرف سے وقت سے پہلے جشن منانے کا معاملہ ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
الموڑا میں مکان گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک
الموڑا، اتراکھنڈ کے ضلع الموڑا کے سومیشور میں شدید بارش کے باعث منگل کے روز ایک مکان گرنے سے اس میں سوئے ہوئے تین افراد کی دردناک موت ہو گئی۔
الموڑا ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ سومیشور تحصیل کے گرام سبھا وڈیوڑا میں آج تڑکے 3:30 بجے پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ علاقے میں کل سے مسلسل تیز بارش ہو رہی ہے۔ جب گاؤں میں تمام لوگ سو رہے تھے، اسی دوران راجیندر رام کا مکان اچانک گر گیا اور راجیندر رام کی بیوی پریما دیوی (42)، بیٹی کلپنا آریا (19) اور بیٹا منیش کمار (18) ملبے تلے دب گئے۔
اطلاع ملتے ہی ایس ڈی آر ایف، پولیس، فائر بریگیڈ، محکمہ مال، سومیشور تھانہ پولیس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تمام ٹیموں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ملبے میں دبے لوگوں کو باہر نکالا۔ تینوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ ریونیو سب انسپکٹر پاتلی بگڑ کی رپورٹ میں تین افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
-
ہندوستان7 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
دنیا6 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا7 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
