جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو)، کشمیر نے تقریباً ایک دہائی قبل معاملہ درج کیے جانے کے بعد مبینہ زمین افسران نے آج یہ اطلاع دی۔
ای او ڈبلیو نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت سے شروع ہوا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے آپس میں ساز باز کرکے زمین پر قبضہ کرنے اور جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایم ایم سی) سے عمارت تعمیر کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ای او ڈبلیو نے کہا کہ ’’جانچ میں جعلی دستاویزات تیار کیے جانے، اہم حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے اور سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کا انکشاف ہوا۔‘‘
ای او ڈبلیو نے عدالتی فیصلے کے لیے مجاز عدالت کے سامنے فردِ جرم داخل کردی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
سری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
سری نگر،جموں و کشمیر کیژول ڈیلی ویجرز فورم نے یومیہ اجرت ملازمین کو مستقل کرنے کے عمل میں تاخیر کے خلاف منگل کو سری نگر میں احتجاج کیا اور حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کے مستقل حل کے لیے واضح اور ٹھوس روڈ میپ نافذ کرے۔
فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کہا کہ انتخابات کے دوران حکومت نے یومیہ اجرت ملازمین کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے اب ان کی مستقلی اور پنشن کی بحالی سمیت دیگر مطالبات پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے لیے چھ ماہ کے اندر روڈ میپ تیار کرنے کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن 18 ماہ گزرنے کے باوجود اس کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔
پرے نے الزام لگایا کہ ملازمین کے بقایاجات ادا نہیں کیے گئے، ملازمتوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی مستقل پالیسی سامنے لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور ترجیحات کو بھول گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً چار لاکھ یومیہ اجرت اور کیژول ملازمین سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں نے انتخابی وعدوں کی بنیاد پر حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن آج حکومت نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔
فورم کے صدر نے یومیہ اجرت ملازمین، کیژول لیبرز، ایس پی اوز اور آنگن واڑی کارکنوں کے مسائل حل نہ ہونے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کارکن مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز نہیں سنی جا رہی۔
انہوں نے منتخب نمائندوں سے بھی سوال کیا کہ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے وعدے کرنے والے اراکین اسمبلی اب اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ناانصافی جاری رہی تو عوام آئندہ اسمبلی، پنچایت، بلدیاتی اور پارلیمانی انتخابات میں اس کا جواب دیں گے۔
فورم نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے 10 ستمبر تک مطالبات حل نہ کیے تو احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔ سجاد احمد پرے نے کہا کہ 10 ستمبر کو وفد آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گا اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر بینک کی توجہ کا رخ بدل گیا ہے، کشمیر میں بینک کی کریڈٹ گروتھ صرف 9 فیصد، باہر 30 فیصد: الطاف بخاری
سری نگر، اپنی پارٹی کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ الطاف بخاری نے پیر کے روز جموں و کشمیر بینک کی انتظامیہ کی توجہ کے رخ میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بینک کی کریڈٹ گروتھ کشمیر میں صرف 9 فیصد ہے، جبکہ جموں و کشمیر سے باہر یہ 30 فیصد ہے۔
بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک ’’تاج کا نگینہ‘‘ ہے اور خطے کی اقتصادی ترقی میں اس کا اہم کردار ہے۔
سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’سابق وزیر خزانہ کی حیثیت سے مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر بینک کی کریڈٹ گروتھ کشمیر میں 9 فیصد جبکہ ملک کے باقی حصوں میں 30 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں بینک نے یہاں اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قرض دینے کی سرگرمی محدود کی جارہی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں کریڈٹ گروتھ میں اضافہ ہورہا ہے۔
بخاری نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے تشویش کا معاملہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب یہ بینک جموں و کشمیر حکومت کی اکثریتی ملکیت والا مالیاتی ادارہ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر دیے جانے والے قرضوں میں نان پرفارمنگ اثاثے (این پی اے) خطے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دوسری جگہوں پر قرضوں میں توسیع ہورہی ہے تو جموں و کشمیر میں قرض دینے کا عمل کیوں کم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’کشمیر میں قرض دینے کو کم اور باہر قرض دینے کو زیادہ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ ہمارے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔‘‘
بخاری نے بینک میں بھرتی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی مبینہ تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے ادارے میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جس کی اکثریتی ملکیت جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینک نے تاریخی طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہے اور مقامی ملازمین کا اس ادارے کے ساتھ جذباتی تعلق بھی ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کا احتجاج، وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر کام معطل
سری نگر، کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے پیر کے روز احتجاج کیا اور کام معطل کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے ماہانہ وظیفے میں اضافہ کیا جائے، جو ان کے مطابق گزشتہ سات برس سے تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز نے بتایا کہ انہیں فی الحال تقریباً 12,300 روپے ماہانہ وظیفہ مل رہا ہے اور وہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ایک احتجاجی انٹرن نے کہاکہ ’’آج ہم اس لیے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ سات برس سے ہمارے وظیفے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یہ تقریباً 12,300 روپے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کیا جائے۔‘‘
انٹرنز نے کہا کہ وہ اسپتالوں میں طویل اوقات تک، اکثر دن رات، کام کرتے ہیں اور کم وظیفے کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک اور انٹرن نے کہاکہ ’’ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں وظیفہ بڑھا کر تقریباً 25,000 روپے یا اس سے زیادہ کردیا گیا ہے۔ اڈیشہ میں یہ 44,000 روپے جبکہ مغربی بنگال میں 43,000 روپے ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش میں احتجاج کے بعد وظیفہ بڑھا کر تقریباً 26,000 روپے کردیا گیا۔ تو یہاں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟‘‘
ایک اور احتجاجی ڈاکٹر نے کہا کہ انٹرنز ’’اسپتال کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ ہیں اور سوال اٹھایا کہ ان کی خدمات کو یکساں اہمیت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔
انٹرن نے کہاکہ ’’ہم دن رات اسپتال میں گزارتے ہیں اور مریضوں کی جان بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
ہم نے کئی مرتبہ حکومت سے رجوع کیا اور لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے ملاقات سمیت ہر ممکن کوشش کی، لیکن ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘‘
جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی وظیفے میں اضافے کا عمل شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے فائل پر کارروائی مکمل کرلی ہے۔ مالی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے فائل محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔ اس پر کارروائی جاری ہے۔‘‘
ایتو نے انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے پیش نظر وظیفے میں اضافہ ضروری ہے، تاہم انہوں نے ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوسکتی ہے۔
یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
-
ہندوستان7 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
دنیا6 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا7 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
