دنیا
روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کم از کم 12 افراد ہلاک
کیف، روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح میں کیے گئے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے۔
کیف کی علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے منگل کو ٹیلی گرام پر بتایا کہ ’’کیف کے علاقے میں رات کے وقت روسی میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا۔‘‘
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ’’روسی دہشت گردی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک سے یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ رات بھر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں میں شہر میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرینی استغاثہ نے بتایا کہ کیف کے علاقے میں مزید چار افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق بوریسپل کے مضافاتی علاقے میں ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ زیلنسکی نے کہا کہ عمارت سے 50 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’روس ہمیشہ اپنے حملوں کی منصوبہ بندی اس انداز میں کرتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے، اور اسے کامیابی صرف اسی وقت ملتی ہے جب فضائی دفاع کی صلاحیتیں ناکافی ہوں۔‘‘
روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ رات کے دوران کیف اور اوڈیسا میں فوجی اور توانائی کے مراکز کے ساتھ ساتھ ان شہروں کے گرد و نواح کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین کی سرحدی سروس نے بھی بتایا کہ روسی افواج نے رومانیہ کی سرحد پر واقع اورلیوکا فیری چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا۔ رومانیہ نیٹو کا رکن ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری ایہنات نے کہا کہ روس ایسے ڈرون استعمال کر رہا ہے جنہیں مار گرانا زیادہ مشکل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ دنوں کے دورانروس نے یوکرین کی جانب 2,800 جیٹ انجن والے ڈرون بھیجے، جن میں سے صرف 60 فیصد کو روکا جا سکا۔
مسلسل ڈرون حملوں کا مقصد شہری زندگی متاثر کرنا ہے
کیف سے الجزیرہ کی نمائندہ آڈری میک الپائن نے بتایا کہ دن کے اوقات میں مسلسل ڈرون لہروں کی صورت میں بھیجنے کی روسی حکمت عملی کا مقصد شہری زندگی کو متاثر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی فضائی حملے کا سائرن بجتا ہے تو لوگوں کو بعض تجارتی عمارتوں سے باہر نکلنا پڑتا ہے جبکہ اسکولوں کو زیرِ زمین منتقل ہونا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے جدید خوراک ذخیرہ کرنے کے نظام کا تقریباً 90 فیصد تباہ ہو چکا ہے، جس کے باعث گروسری اسٹورز میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کم ہو رہی ہے۔
ادھر روس میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں شمال مغربی علاقے کی بڑی برآمدی بندرگاہ اوسٹ-لوگا کے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ماسکو نے ڈرونز کو پسپا کرنے کی کارروائی کی۔
ساما را کے علاقے میں بھی یوکرینی ڈرون حملے نے نووکوئیبیشیوسک شہر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ علاقائی گورنر ویاچسلاو فیڈوریشیف نے ٹیلی گرام پر یہ اطلاع دی۔
وولگا دریا کے کنارے واقع نووکوئیبیشیوسک اور اس کے گرد و نواح میں روس کی متعدد بڑی تیل ریفائنریاں موجود ہیں، جنہیں سرکاری تیل کمپنی روس نیفٹ چلاتی ہے۔
روس کے بیلگورود علاقے کے قائم مقام گورنر نے بتایا کہ یوکرینی حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
روس اور یوکرین دونوں جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔
دریں اثنا، یوکرین کی ڈرون فورسز کے کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ اگست میں روس کے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ سے وابستہ 54 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ تیل کی فروخت سے روس کی جنگی کارروائیوں کی مالی معاونت کو روکا جا سکے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یورپی یونین کے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے آئرلینڈ میں جمع ہوئے ہیں۔
یوکرین کو فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا سامنا ہے، خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی ساختہ پیٹریاٹ نظام کی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران روس اور یوکرین دونوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان حملوں میں گوداموں، کاروباری مراکز، تیل اور بندرگاہوں کی تنصیبات سمیت مختلف بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ، نیوزی لینڈ اور کک آئی لینڈز نے پینرائن بندرگاہ کی اپ گریڈیشن کے لیے ہاتھ ملا لیا
پلاؤ، امریکہ، نیوزی لینڈ اور کک آئی لینڈز نے شمالی کک آئی لینڈز میں تزویراتی لحاظ سے اہم پینرائن ایٹول میں واقع بندرگاہ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ایک اہم شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے دور دراز ’’پا انوا‘‘ علاقوں میں نقل و حمل کے رابطوں، بحری سلامتی اور اقتصادی مواقع کو فروغ ملے گا۔ کک آئی لینڈز کے وزیر اعظم مارک براؤن، نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز اور امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے بحرالکاہل جزائر فورم کے رہنماؤں کے اجلاس سے قبل پلاؤ میں اس منصوبے کا اعلان کیا۔
امریکہ اور نیوزی لینڈ اس اپ گریڈیشن منصوبے کی مشترکہ طور پر مالی معاونت کریں گے۔ امریکہ اس کے لیے 5 کروڑ ڈالر جبکہ نیوزی لینڈ تقریباً ایک کروڑ امریکی ڈالر فراہم کرے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد نیوزی لینڈ، کک آئی لینڈز اور امریکہ کے درمیان باہمی تعاون اور رابطے کے ساتھ کیا جائے گا۔ اس اعلان سے کک آئی لینڈز کی انتہائی دور دراز کمیونٹیز میں سے ایک کے لیے اہم نئے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد رکھی گئی ہے اور یہ تینوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی اور ترقیاتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا، ’’یہ ایک مثبت اور انتہائی اہم اقدام ہے جو کک آئی لینڈز اور امریکہ دونوں کے ساتھ نیوزی لینڈ کی شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ بحرالکاہل کے خطے میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کرنے کے اپنے تجربے کو اس منصوبے میں استعمال کرے گا۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے کہا کہ یہ منصوبہ بحرالکاہل کے اپنے شراکت داروں کے لیے واشنگٹن کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 سے زائد برس قبل امریکی اہلکاروں نے پینرائن کی بندرگاہ اور ہوائی پٹی تعمیر کی تھی، جس کے باعث اس منصوبے کو تاریخی اہمیت بھی حاصل ہے۔
کک آئی لینڈز کے وزیر اعظم مارک براؤن نے کہا کہ یہ بندرگاہ ٹونگاریوا (پینرائن کا مقامی نام) کے باشندوں کے لیے ایک ’’زندہ رہنے کا سہارا‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ محفوظ انداز میں آمدورفت، خدمات تک بہتر رسائی اور بیرونی جزائر کو دنیا سے جوڑنے میں مدد دے گی۔ کک آئی لینڈز کے سب سے شمالی جزیرے پینرائن میں اوموکا گاؤں واقع ہے، جہاں یہ بندرگاہ موجود ہے۔ جغرافیائی طور پر اس دور دراز مقام کے باعث لوگوں، سامان اور ضروری خدمات کی آمدورفت کے لیے قابلِ اعتماد بحری بنیادی ڈھانچہ انتہائی اہم ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اپنے وعدے پورے کرے تو ایران ’’فوری جواب دے گا‘‘: پزیشکیان
بشکیک (کرغزستان)، ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو ایران بھی ’’فوری جواب‘‘ دے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معاہدے پر دستخط ہونے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں واشنگٹن پر اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 26ویں سربراہی اجلاس سے بشکیک میں خطاب کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا کہ ایران کا اپنے بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کا ’’شاندار ریکارڈ‘‘ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یک طرفہ اقدامات، فوجی طاقت کا استعمال، غیر قانونی پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی مسابقت علاقائی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پزیشکیان نے ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’13 جون 2025 اور 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں، بین الاقوامی قانون، طاقت کے استعمال کی ممانعت کے اصول اور زندگی کے حق کی واضح خلاف ورزی تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران، لبنان، غزہ اور مغربی کنارے سمیت پورے مغربی ایشیا میں ہونے والے واقعات نے طاقت اور دباؤ پر مبنی طرزِ عمل کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔
پزیشکیان کے مطابق ایران پر ہونے والے حملوں میں مینا ب کے ایک اسکول اور فارس صوبے کے لامِرد میں ایک اسٹیڈیم پر حملے بھی شامل تھے، جن میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ 40 روزہ جنگ کے پہلے دن کے بڑے جرائم کی صرف تین مثالیں تھیں۔ اس بربریت کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی مسلح افواج کی طاقت اور عوام کی حمایت کے بل پر امریکہ اور قابض حکومت کو بھاری اسٹریٹجک شکست دی۔‘‘
یزیشکیان نے کہا کہ یہ حملے ایس سی او کے ایک رکن ملک اور ایک قدیم تہذیب پر حملہ تھے۔ انہوں نے ان رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جارحیت کی مذمت کی اور تہران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 40 روزہ مزاحمت کے بعد بالآخر جنگ بندی عمل میں آئی اور امریکہ اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایرانی صدر کے مطابق اس کے بعد پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تین ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’تاہم، صدر کی جانب سے دستخط کیے گئے اس دستاویز کے حوالے سے امریکی عزم دو ہفتے سے بھی کم عرصے تک قائم رہا اور امریکہ نے اپنے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا، جو اب بھی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ امریکی وعدوں کی خلاف ورزی کا ایران نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ہے۔ لیکن میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر امریکہ مفاہمتی یادداشت میں اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی طرح جواب دے گا۔ امریکہ کے برعکس، بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔‘‘
یزیشکیان نے سلامتی اور اقتصادی معاملات میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر جرائم اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کو خطے کے اہم خطرات قرار دیا۔ ایرانی صدر نے ایس سی او کے اندر متعدد اقتصادی اقدامات کی تجویز بھی پیش کی، جن میں مالیاتی اور بینکاری تعاون کو مزید گہرا کرنا، ’’ایس سی او بینک‘‘ کا قیام، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے انشورنس یونین اور ’’ایس سی او انرجی کنسورشیم‘‘ کا قیام شامل ہے۔
سلامتی کے شعبے میں انہوں نے تنظیم کے اندر ایک ’’اسٹریٹجک سکیورٹی اسٹڈیز سینٹر‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جو ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرنے اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کر سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
تہران، ایران نے یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ تہران کے خلاف پابندیوں کے معاملے میں واشنگٹن کا ساتھ دے کر اپنی قانونی اور سیاسی آزادی سے دستبردار ہو رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ بلاک اپنی خودمختاری، قوانین و ضوابط، اقدار اور اخلاقی اصولوں کو امریکی دباؤ کے سامنے سرنگوں کر رہا ہے۔
ایکس (ایکس) پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ترجمان نے یورپی یونین کے اپنے “بلاگنگ اسٹیٹیوٹ” کی طرف توجہ دلائی، جس کا مقصد یورپی کاروباری اداروں کو بیرونی پابندیوں کے ماورائے سرحد اثرات سے بچانا ہے۔
بروسلز اس قسم کی ماورائے سرحد پابندیوں کو مسترد کرنے والے اپنے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے خلاف ریاستہائے متحدہ امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کی کیسے حمایت کر سکتا ہے، اس پر سوال اٹھاتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یورپی یونین نے 1996 میں امریکی پابندیوں کے جواب میں جب بلاکنگ اسٹیٹیوٹ کو قبول کیا تھا تو اس وقت اس کا مؤقف بالکل مختلف تھا، جبکہ آج وہ واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شراکت دار بن چکی ہے۔
بقائی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ واشنگٹن کی دباؤ کی مہم کی حمایت کرنا اور ساتھ ہی ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کی اپیل کرنا آپس میں متضاد رویے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات کی حمایت کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتوار کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے جزیرہ لارک پر امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، جن کے بارے میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ان حملوں میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
ایران نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال تنصیبات پر جوابی حملے کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک ایسے اقدام کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کا سب سے سخت اقتصادی آپریشن قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس کوشش کا مقصد تہران کے مالیاتی ذرائع کو بند کرنا ہے اور انہوں نے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں یا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ایران کو معاشی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو ان سنگین معاشی نتائج کے بارے میں انتباہ دیا تھا جن کا انہیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
-
ہندوستان1 week agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
دنیا6 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان6 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا1 week agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
