جموں و کشمیر
التجا مفتی کی جموں و کشمیر کے سراپا احتجاج میڈیکل انٹرنز کی حمایت، وظیفہ بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے لیے جاری احتجاج کے دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے منگل کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سرینگر میں مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور موجودہ 12,300 روپے کے وظیفے کو بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کے ان کے مطالبے کی بھرپور حمایت کی۔
التجا مفتی نے کہا کہ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز کو سخت ڈیوٹی اور کام کے بھاری بوجھ کے باوجود ملک بھر میں سب سے کم وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “انٹرنز کو معمول کے مطابق 12 سے 48 گھنٹے تک کی ڈیوٹیاں انجام دینا پڑتی ہیں اور جموں و کشمیر میں اکثر انہیں بنیادی اور ضروری چھٹیوں سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔”
انہوں نے 30,000 روپے ماہانہ وظیفے کے مطالبے کو معقول اور جائز قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ کئی ریاستیں اپنے انٹرن شپ کے وظیفے میں نمایاں اضافہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اوڈیشہ اور مغربی بنگال تقریباً 45,000 روپے فراہم کرتے ہیں، جب کہ اتر پردیش نے اپنا وظیفہ 12,000 سے بڑھا کر 25,000 روپے کر دیا ہے اور بہار نے بھی اس پر نظر ثانی کی ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ حکومت کو اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ احتجاج کرنے والے انٹرنز کے ساتھ فوری طور پر بامقصد مذاکرات شروع کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور بغیر کسی تاخیر کے وظیفہ بڑھا کر 30,000 روپے کرے۔ ساتھ ہی ان کے کام کے حالات کو بہتر بنانے، مناسب رخصت اور تحفظات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ادھر جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ اِتو نے کہا کہ حکومت نے میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافے کا عمل پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو خط لکھ کر انٹرنز کے مطالبات پر ان کی “فوری توجہ” مبذول کرانے کی درخواست کی۔ طارق قرہ نے کہا کہ میڈیکل انٹرنز نظامِ صحت کا ایک لازمی حصہ ہیں اور وہ معمول کے مطابق 36 گھنٹے طویل شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے بھی عمر عبداللہ کو خط لکھ کر ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے دیرینہ مطالبات پر فوری مداخلت کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ مسلسل انتظامی تاخیر سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں صحت کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر
سرینگر میں اپنی پارٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کا حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سرینگر، اپنی پارٹی کے شعبۂ خواتین (ویمنز ونگ) نے منگل کے روز سرینگر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس احتجاج کی قیادت پارٹی رہنما دلشاد شاہین نے کی۔ اپنی پارٹی کی خواتین رہنما اور کارکنان سرینگر کی پریس کالونی میں جمع ہوئیں اور زبردست نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے حکومت کی ناکامیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور عوام کو درپیش دیگر بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکامی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے دلشاد شاہین نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور حکمران جماعت انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “حکومت نے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور 2024 کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران جھوٹے وعدے کر کے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اپنی پارٹی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے گی اور عوامی مسائل و شکایات کو مسلسل اٹھاتی رہے گی۔”
اس موقع پر بات کرتے ہوئے پارٹی ترجمان عشرت بھٹ نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت نے ووٹ مانگتے وقت بلند بانگ دعوے کر کے عوام کو فریب دیا اور اب وہ اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا، “حکمران این سی نے اقتدار سنبھالنے کے چھ ماہ کے اندر بے روزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ نوکریاں کہاں ہیں؟” انہوں نے مزید کہا، “اس نے ڈیلی ویجرز کو مستقل کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ وہ اس وعدے کو پورا کرنے میں کیوں ناکام رہی؟ آج ان ڈیلی ویجرز کو برائے نام تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ اتنی قلیل اجرت میں وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کیسے کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے؟”
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر
سری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
سری نگر،جموں و کشمیر کیژول ڈیلی ویجرز فورم نے یومیہ اجرت ملازمین کو مستقل کرنے کے عمل میں تاخیر کے خلاف منگل کو سری نگر میں احتجاج کیا اور حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کے مستقل حل کے لیے واضح اور ٹھوس روڈ میپ نافذ کرے۔
فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کہا کہ انتخابات کے دوران حکومت نے یومیہ اجرت ملازمین کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے اب ان کی مستقلی اور پنشن کی بحالی سمیت دیگر مطالبات پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے لیے چھ ماہ کے اندر روڈ میپ تیار کرنے کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن 18 ماہ گزرنے کے باوجود اس کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔
پرے نے الزام لگایا کہ ملازمین کے بقایاجات ادا نہیں کیے گئے، ملازمتوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی مستقل پالیسی سامنے لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور ترجیحات کو بھول گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً چار لاکھ یومیہ اجرت اور کیژول ملازمین سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں نے انتخابی وعدوں کی بنیاد پر حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن آج حکومت نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔
فورم کے صدر نے یومیہ اجرت ملازمین، کیژول لیبرز، ایس پی اوز اور آنگن واڑی کارکنوں کے مسائل حل نہ ہونے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کارکن مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز نہیں سنی جا رہی۔
انہوں نے منتخب نمائندوں سے بھی سوال کیا کہ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے وعدے کرنے والے اراکین اسمبلی اب اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ناانصافی جاری رہی تو عوام آئندہ اسمبلی، پنچایت، بلدیاتی اور پارلیمانی انتخابات میں اس کا جواب دیں گے۔
فورم نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے 10 ستمبر تک مطالبات حل نہ کیے تو احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔ سجاد احمد پرے نے کہا کہ 10 ستمبر کو وفد آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گا اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو)، کشمیر نے تقریباً ایک دہائی قبل معاملہ درج کیے جانے کے بعد مبینہ زمین افسران نے آج یہ اطلاع دی۔
ای او ڈبلیو نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت سے شروع ہوا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے آپس میں ساز باز کرکے زمین پر قبضہ کرنے اور جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایم ایم سی) سے عمارت تعمیر کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ای او ڈبلیو نے کہا کہ ’’جانچ میں جعلی دستاویزات تیار کیے جانے، اہم حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے اور سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کا انکشاف ہوا۔‘‘
ای او ڈبلیو نے عدالتی فیصلے کے لیے مجاز عدالت کے سامنے فردِ جرم داخل کردی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
-
ہندوستان1 week agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
دنیا6 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان6 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا1 week agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
