دنیا
یوکرینی حملوں اور پابندیوں سے روسی معیشت پر دباؤ، پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری کے لیے مذاکرات میں تیزی: روبیو
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں اور مغربی پابندیوں کے امتزاج سے روسی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ادھر واشنگٹن اور کیف کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے تحت مستقبل میں یوکرین کو امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل تیار کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
روبیو نے کہا کہ روس اور صدر ولادیمیر پوتن کو یوکرین جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کے باعث بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’روس کے پاس، اور پوتن کے پاس، اپنے مسائل کا ایک الگ مجموعہ ہے، جو میرے خیال میں ان کے زیادہ تر وقت اور توجہ کا مرکز ہیں۔ ان میں یوکرین کے ساتھ جنگ اور، واضح طور پر، یوکرین کے ان حملوں کے روسی معیشت پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں، جو پابندیوں کے ساتھ مل کر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔‘‘
روبیو نے روسی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے اور نہ ہی یوکرین کے کسی مخصوص حملے کی نشاندہی کی۔ یوکرین نے حالیہ عرصے میں روس کے اندر گہرائی تک فوجی، توانائی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
روبیو نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ اور یوکرین ایک ایسے لائسنس پر مذاکرات کر رہے ہیں جس کے ذریعے کیف کو ملک کے اندر پیٹریاٹ میزائلوں کے انٹرسیپٹرز تیار کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن یوکرین کو ایسے لائسنس دینے کی مخالفت کرتا ہے تو روبیو نے کہا، ’’اس وقت جب ہم بات کر رہے ہیں، اس پر مذاکرات جاری ہیں۔‘‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین میں مقامی پیداوار شروع ہونے سے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی فوری قلت دور نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’لیکن یہ فوری حل نہیں ہے۔‘‘
روبیو نے کہا کہ ان انتہائی جدید ہتھیاروں کی تیاری کے لیے پیداواری مراکز قائم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’پیداوار میں اضافہ کرنا، چاہے آپ کے پاس لائسنس موجود ہو، ایسی چیز ہے جس کے لیے ان فیکٹریوں کی تعمیر میں کئی سال لگتے ہیں۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روسی میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک اور سردی سے قبل مزید پیٹریاٹ نظام اور انٹرسیپٹرز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روبیو نے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کو دنیا بھر میں ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں دفاع کی نمبر ایک ضرورت بن چکی ہے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کو اتحادیوں کو مزید ہتھیار فراہم کرنے سے پہلے اپنی دفاعی ضروریات اور ذخائر کو برقرار رکھنا ہوگا۔
مجوزہ پیٹریاٹ میزائل کی تیاری کے انتظام سے مستقبل میں یوکرین کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اس کا میدان جنگ پر بہت کم اثر پڑے گا۔
امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری نے کہا کہ یوکرین میں پیداوار شروع کرنے میں کم از کم 18 ماہ اور ممکنہ طور پر دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ خیال کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ مل کر اسے مستقبل میں پیٹریاٹ میزائلوں کا لائسنس دے کر ان کی تیاری کی اجازت دے گا، قابلِ تحسین ہے، لیکن اس میں ابھی کئی سال لگیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی پیداوار مستقبل قریب میں جنگ کی صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل نہیں کرے گی۔
یہ چیلنج اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ روس یوکرین کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ جدید فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی عالمی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔
روبیو نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ واشنگٹن یوکرین کے ساتھ جنگ کے میدان میں تیار اور بہتر کی گئی ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ایسا کوئی معاہدہ ہے جو امریکہ کے لیے موزوں ہو تو میرے خیال میں ہم ان امکانات کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ان پر مذاکرات کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے ان مذاکرات کو ’’ابھی جاری عمل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسے منصوبے بڑی حد تک طویل مدتی کوششیں ہوں گے۔
یہ مذاکرات امریکہ اور یوکرین کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک وسیع تر تبدیلی کا آغاز ہو سکتے ہیں، جس کے تحت یوکرین محض مغربی ہتھیاروں کا وصول کنندہ رہنے کے بجائے جنگ کے میدان میں آزمائی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ملک بھی بن سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیپال اور چین میں سیلاب سے ہلاکتیں 1270 سے متجاوز، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال میں امدادی ٹیمیں ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی پن بجلی کے ان مراکز میں پھنسے کارکنوں تک پہنچنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہیں، جہاں ہمالیہ میں آنے والے اچانک سیلاب نے پوری پوری آبادیوں کو تباہ کر دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے چٹانوں، کیچڑ اور پانی کے ایک بڑے ریلے نے، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ لنگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ کی چوٹی کے قریب گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آیا، نیپال اور تبت میں دیہات، سڑکیں اور پل بہا دیے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اس تباہی میں 1270 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 4700 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق ملک میں اب تک 1252 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 4216 ہے۔
چین کی سرحد کے قریب واقع ملک کے مختلف پن بجلی گھروں میں سیکڑوں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جن میں بعض زیر زمین سرنگوں میں بھی موجود ہیں۔
پڑوسی علاقے تبت میں چینی حکام نے 21 افراد کی ہلاکت اور 541 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔
نیپالی فوج کے انجینئرنگ شعبے کے افسر سنجے کے سی نے راسووا ضلع میں ایک سرنگ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر کہا، ’’ہمیں اب بھی امید ہے کہ اندر کچھ لوگ زندہ ہوں گے۔‘‘
راسوا ان علاقوں میں شامل ہے جو نیپال میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی مٹی کے تہوں کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر کام کر رہے ہیں۔
سنجے کے سی نے الجزیرہ کو بتایا، ’’چونکہ اندر ایک بڑا پاور ہاؤس ہے، اس لیے وہ ایک بڑا کمرہ ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ پورا پاور ہاؤس سیلاب میں نہیں ڈوبا ہوگا۔‘‘
لاپتہ افراد کے اہل خانہ ہر صبح اپنے پیاروں کی خبر ملنے کی امید میں جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ انتظار انتہائی اذیت ناک بن چکا ہے۔
لاپتہ انجینئر کے بیٹے پرتیک رانا نے کہا، ’’میں ہر روز یہاں اپنے والد کو تلاش کرنے کی امید میں آتا ہوں۔ لیکن ہر روز سورج غروب ہونے کے وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری امید ختم ہو رہی ہے۔۔۔ باپ ہر شخص کے لیے یکساں اہم ہوتا ہے، لیکن میرے لیے وہ میری زندگی کا ایک قیمتی حصہ تھے۔‘‘
دیگر متاثرہ علاقوں میں حکام دور دراز دیہات میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہے ہیں، جن میں زیپ لائنز اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق سیلاب اور کیچڑ کے تودوں نے کم از کم 22 لاکھ ٹن ملبہ چھوڑا ہے۔
دارالحکومت کھٹمنڈو میں فرانزک ٹیمیں لاشوں کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہیں۔
الجزیرہ کی صحافی جیسیکا واشنگٹن نے شہر میں قائم ڈی این اے ٹیسٹنگ مرکز سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ملنے والی بہت سی لاشیں گلنے سڑنے کی حالت میں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’فرانزک ٹیموں نے ہمیں بتایا کہ کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جو شناخت کے عمل میں مدد دے سکتی ہیں، جیسے ٹیٹو اور زیورات، لیکن بہت سی لاشیں ایسی حالت میں ملی ہیں کہ ان کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ہے۔‘‘
بدھ کے روز نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھیں گے، جبکہ بحالی اور تعمیر نو کی کوششیں بھی شروع کی جا رہی ہیں۔
این ڈی آر آر ایم اے کے سربراہ دھرم راج اپریتی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تقریباً 20 ہزار مکانات دوبارہ تعمیر کرنا ہوں گے، جن میں 7500 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
اپریتی نے کہا، ’’انہی مقامات پر دوبارہ مکانات تعمیر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کو دوبارہ انہی خطرات کا سامنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ حکام آبادیوں کو منتقل کرنے اور نئی بستیاں قائم کرنے کے لیے زیادہ محفوظ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پیر تک نواکوٹ اور راسووا میں 27 عارضی پناہ گاہوں میں 3400 سے زیادہ بے گھر افراد رہ رہے تھے، جن میں زیادہ تر اسکولوں میں مقیم تھے۔
نیپالی حکام نے بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے ممالک کے کردار کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے کہا کہ ایسے ممالک کی ’’تاریخی ذمہ داری‘‘ ہے کہ وہ نیپال جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار کمزور ممالک کو معاوضہ فراہم کریں۔
انہوں نے بتایا کہ نیپالی حکومت نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کو باضابطہ طور پر ’’موسمیاتی معاوضے کے مطالبے کا رسمی خط‘‘ بھیج دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد ایشیا میں تیل و گیس کے ذخائر اپنے قریب رکھنے کی دوڑ
دبئی، ایشیا کو چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد شدید ترین معاشی نقصانات میں سے بعض کا سامنا کرنا پڑا۔
خطہ خلیج فارس سے آنے والے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، تاہم ایرانی حملوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
ایشیا کے ممالک نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فوری طور پر ایندھن کے تحفظ کے اقدامات نافذ کیے، جن میں قیمتوں کی حد مقرر کرنے سے لے کر متبادل دنوں میں گاڑی چلانے اور سرکاری ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے احکامات تک شامل تھے۔
اس بحران کے بعد کے مہینوں میں ایشیا نے تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ مستقل حل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد اپنی ضرورت کا تیل اور گیس اپنے ملکوں کے زیادہ قریب ذخیرہ کرنا ہے۔
آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کی وزٹنگ ریسرچ فیلو پارول بخشی نے کہا، ’’اس بحران سے دو بالکل مختلف نوعیت کی سرمایہ کاری سامنے آ رہی ہے: ایک ایسی بنیادی ڈھانچے میں جو جغرافیائی سیاسی خطرات کو نظرانداز کر سکے اور دوسری ایسے بنیادی ڈھانچے میں جو درآمدی ایندھن پر انحصار ہی ختم کر دے۔‘‘
اس بحران کے نتیجے میں سامنے آنے والی سب سے اہم تجاویز میں سے ایک جاپان کی ہے۔
مشرق وسطیٰ سے حاصل ہونے والی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کے باوجود جاپان نے کئی دوسری معیشتوں کے مقابلے میں اس بحران کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا، کیونکہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تزویراتی تیل کے ذخائر میں سے ایک موجود ہے۔ٹوکیو چاہتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے اس کے پڑوسی ممالک بھی اسی راستے پر چلیں۔
اپریل میں جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے 10 ارب ڈالر کے پاور ایشیا اقدام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کو تیل اور پٹرولیم مصنوعات حاصل کرنے میں مدد دینا اور طویل مدت میں تزویراتی ذخائر میں اضافہ کرنا ہے۔
فروری کے اواخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے وقت ویتنام کے قومی ذخائر میں ملک کی صرف پانچ سے سات دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تیل موجود تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تجارتی ذخائر اور دیگر ذرائع نے مزید 65 دن تک رسد برقرار رکھنے میں مدد دی۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف ٹرمپ کی معاشی جنگ کے بعد امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی اماراتی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات
واشنگٹن/ابوظہبی، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات کی، جس میں ایران بحران کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات ملاقات سے واقف دو افراد نے بتائی۔
ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات کے بارے میں پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ مذاکرات بحیرۂ روم کے جزیرے سارڈینیا میں ایسے وقت ہوئے جب ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی تہران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی مہم بھی چلا رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی محفوظ رہنمائی کی امریکی قیادت میں جاری کوششوں میں ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی واشنگٹن کی مہم میں بھی امارات کا مرکزی کردار ہے۔
شیخ طحنون، جنہیں ٹی بی زیڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، متحدہ عرب امارات کی بااثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ صدر محمد بن زاید کے بھائی شیخ طحنون امارات کے قومی سلامتی کے مشیر، ابوظہبی کے نائب حکمران اور دنیا بھر میں متحدہ عرب امارات کے وسیع سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق مفادات کے نگران ہیں۔
ذرائع کے مطابق وٹکوف اور ٹی بی زیڈ نے ایران بحران کے ممکنہ آئندہ اقدامات سمیت دیگر امور پر بھی بات چیت کی۔ وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ ملاقات امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے اعلان کے چند روز بعد ہوئی۔ اس مہم کا مقصد ان ممالک اور اداروں پر وسیع پابندیاں عائد کرنا ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ بیسنٹ نے اعلان سے قبل ٹی بی زیڈ سے بات چیت کی تھی۔
جس روز وٹکوف نے اماراتی عہدیدار سے ملاقات کی، اسی روز امریکی محکمۂ خزانہ نے ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات کی وجہ سے مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ مجوزہ اقدام کے تحت ان شاخوں کو ڈالر میں لین دین کرنے سے روک دیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے کہا کہ وہ مصری بینک کی شاخوں اور ایران کے درمیان ہونے والے لین دین کی ’’فوری جانچ‘‘ کرے گا۔
ابوظہبی نے خود بھی امریکی پابندیوں کے اعلان سے چند روز قبل ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ اقدام اہم تھا کیونکہ امارات، خصوصاً دبئی، طویل عرصے سے ایران کے لیے ایک بڑے تجارتی اور دوبارہ برآمدی مرکز کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2024 میں دوطرفہ تجارت 28 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
پاکستان1 week agoکیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم
-
دنیا1 week agoایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ
-
دنیا1 week agoامیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں
-
دنیا1 week agoامریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
-
دنیا1 week agoنیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
-
دنیا1 week agoقطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی
