ہندوستان
وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو جنم اشٹمی کے موقع پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے بھگوان کرشن کی لازوال تعلیمات کا حوالہ دیا اور انسانیت کے لیے رہنما اصول کے طور پر بے لوث عمل کے پیغام کو اجاگر کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر مودی نے کہا کہ بھگوان کرشن کی تعلیمات بے لوث عمل کے لیے گہری ترغیب فراہم کرتی ہیں اور نسل در نسل انسانیت کی رہنمائی کرتی رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’جنم اشٹمی کے اس مبارک موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد۔ بھگوان کرشن کی تعلیمات میں بے لوث عمل کے لیے غیر معمولی ترغیب موجود ہے، جس نے مسلسل انسانیت کی رہنمائی کی ہے۔‘‘
وزیراعظم مودی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھگوان کرشن کی عقیدت اور عبادت کے لیے وقف یہ تہوار لوگوں کی زندگیوں میں مثبت توانائی اور قوت پیدا کرے گا۔
جنم اشٹمی پورے ہندستان میں بھگوان کرشن کی پیدائش کی یاد میں منائی جاتی ہے، جنہیں ہندو روایت میں بھگوان وشنو کا اوتار مانا جاتا ہے۔ عقیدت مند روزہ، پوجا، بھکتی گیتوں اور مذہبی رسومات کے ذریعے یہ تہوار مناتے ہیں۔ نصف شب کی تقریبات کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ روایتی طور پر مانا جاتا ہے کہ کرشن کی پیدائش متھرا میں نصف شب کے وقت ہوئی تھی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ، اسرو اور صنعتی شراکت داری خلائی پروگرام کو نئی طاقت دے رہی ہے:وزیراعظم
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) کے جی ایس ایل وی-ایف 17 کے ذریعے ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ کو ’’شاندار کامیابی‘‘ اور ملک کے لیے ’’فخر کا لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری کے کردار کو اجاگر کیا، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’اسرو کی ایک اور شاندار کامیابی اور ہمارے ملک کے لیے فخر کا لمحہ۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ای او ایس-05 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیاب لانچنگ نے ان ’’بہترین کارکردگی، اختراع اور بڑھتی ہوئی صلاحیتوں‘‘ کی عکاسی کی ہے جو ہندوستان کے خلائی شعبے کی شناخت ہیں۔
وزیر اعظم نے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ’’اسرو اور ہندوستانی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری‘‘ ہندوستان کی خلائی کوششوں میں ’’نئی طاقت اور وسعت‘‘ پیدا کر رہی ہے اور پورے خلائی نظام میں صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن جمعہ کو صبح 2.55 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے روانہ ہوا اور اس نے 2,367 کلوگرام وزنی ای او ایس-05 کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچا دیا۔ اسرو نے کہا کہ مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا، جو ہندوستان کے جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی 19ویں پرواز ہے۔
ای او ایس-05 ہندوستان کی زمین کے مشاہدے کی صلاحیتوں میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ یہ ملک کا پہلا امیجنگ سیٹلائٹ ہے جسے جیو سنکرونس مدار سے کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کم مدار میں موجود روایتی زمین مشاہداتی سیٹلائٹ کے برعکس، جو کسی مخصوص علاقے کے اوپر وقفے وقفے سے گزرتے ہیں، اس کی جیو سنکرونس پوزیشننگ وسیع جغرافیائی علاقے کی مسلسل تصویر کشی اور نگرانی کو ممکن بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اس صلاحیت کے زراعت، موسمیاتی مشاہدے، آفات سے نمٹنے اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کی توقع ہے، جبکہ اس سے ہندوستان کو بڑے علاقوں کی مسلسل نگرانی کی بہتر صلاحیت حاصل ہوگی۔
یہ مشن جیو سنکرونس امیجنگ صلاحیتیں تیار کرنے کی اسرو کی کوششوں میں بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ای او ایس-03/جی آئی ایس اے ٹی-1 مشن کے بعد آیا ہے، جو اگست 2021 میں جی ایس ایل وی-ایف 10 کی پرواز کے دوران خرابی پیش آنے کے بعد مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا کہ مدار میں کامیاب طریقے سے پہنچائے جانے کے بعد ای او ایس-05 ’’بالکل درست حالت‘‘ میں ہے۔ مشن کے حکام نے سیٹلائٹ کو جدید ملٹی بینڈ امیجنگ صلاحیتوں سے لیس ایک پیچیدہ خلائی جہاز قرار دیا۔
یہ کامیاب لانچنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان روایتی حکومت کی قیادت والے پروگراموں سے آگے اپنے خلائی نظام کو وسعت دینے اور سیٹلائٹ سازی، لانچ خدمات، خلائی ایپلی کیشنز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں ملکی کمپنیوں کی شمولیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مودی کے تبصرے ای او ایس-05 کی کامیابی کو ہندوستان کے خلائی شعبے میں اس وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، جس میں ملکی تکنیکی صلاحیتیں تیار کرنے اور ملک کے خلائی پروگرام کے پیمانے کو وسعت دینے کے لیے اسرو اور نجی صنعت کے درمیان تعاون پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیابی سے ہندوستان کے تیزی سے پرعزم خلائی پروگرام کو بھی نئی رفتار ملی ہے، جس میں زمین کے مشاہدے، تجارتی خلائی منصوبوں اور نجی شعبے کی شمولیت میں سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ یہ مشن جولائی 2025 میں جی ایس ایل وی-ایف 16/نیسار کی لانچنگ کے بعد انجام دیا گیا ہے۔
ای او ایس-05 کے کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچنے کے ساتھ یہ مشن بڑھتی ہوئی پیچیدگی والے خلائی مشن انجام دینے کی اسرو کی صلاحیت کا ایک اور مظاہرہ ہے، جبکہ خلا کے شعبے میں ہندوستان کے طویل مدتی عزائم کی حمایت کرنے والے تکنیکی اور صنعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
یو این آئی۔
ہندوستان
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں حریف ممالک کے مقابلے بہتر ٹیرف شرحیں چاہتا ہے ہندوستان: گوئل
نئی دہلی، تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) میں بھارت ’’بہتر اور ترجیحی ٹیرف شرحیں‘‘ چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اسے امریکی پیشکش کا انتظار ہے۔
مسٹر گوئل بھارت کی جانب سے مختلف ممالک اور گروپوں کے ساتھ کیے گئے آزاد تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ’’جیسے ہی امریکہ، بھارت کے حریف ممالک کے مقابلے میں بھارت کو بہتر اور ترجیحی ٹیرف شرحیں فراہم کرنے کے قابل ہوگا، اسی وقت دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس کی تفصیلی معلومات کا اعلان کیا جائے گا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ بھارت اور امریکہ نے رواں سال فروری کے پہلے ہفتے میں بی ٹی اے پر اتفاق رائے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے چند ہی دن بعد ایک امریکی اعلیٰ عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سمیت مختلف ممالک پر عائد کیے گئے بھاری محصولات کو ان کے دائرۂ اختیار سے باہر قرار دے دیا تھا۔ اس کے باعث بی ٹی اے کو حتمی شکل دینے کے لیے جاری مذاکرات کا پس منظر تبدیل ہوگیا ہے۔
مسٹر گوئل نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے حالیہ عرصے میں نو آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) میں اچھے مواقع حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں، ماہی گیروں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور مزدوروں سے متعلق حساس شعبوں سمیت ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، تیار شدہ زرعی و غذائی مصنوعات اور زرعی پیداوار جیسے اہم شعبوں کو بھی ایسے معاہدے حاصل ہوئے ہیں جن پر بھارت فخر کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں پر متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال اور مشاورت کے بعد گہرے مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے قائم کیا گیا ہے۔ ان معاہدوں میں حساس شعبوں کو مناسب تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ان شعبوں میں برآمدات کو آسان بنایا گیا ہے جہاں بھارت کی دلچسپی اور صلاحیت موجود ہے۔
یواین آئی۔ظ ا
ہندوستان
ہندوستان – بیلجیئم شراکت داری میں نئی رفتار، آئندہ 5 سال میں دوطرفہ تجارت دگنا کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان اور بیلجیئم کی شراکت داری میں نئی رفتار آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اورصاف ستھری توانائی جیسے اسٹریٹجک شعبوں تک پہنچ گیا ہے جسے آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک نے اگلے پانچ سال میں دوطرفہ تجارت کو دگنا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
مسٹر مودی نے ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے مواقع کھلے ہیں۔ بیلجیئم کی کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری فاسٹ ٹریک نظام بنایا گیا ہے اور ہندوستان-بیلجیئم تجارتی فورم کو باقاعدہ نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسٹر مودی نے ہندوستان کے دورے پر آئے بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور سے جمعرات کو یہاں دوطرفہ بات چیت کی۔
بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں گزشتہ ایک دہائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور آج کی گفتگو سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا باب جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون اب روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اورصاف ستھری توانائی جیسے حکمت اسٹریٹجک شعبوں تک پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران بیلجیئم میں ہزاروں ہندوستانی فوجیوں کی شجاعت اور قربانی دونوں ممالک کی مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ ہے۔ جمہوری اقدار، مارکیٹ معیشت اور گہرے عوامی تعلقات ہندوستان اور بیلجیئم کو فطری شراکت دار بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک زورآور ٹینک جیسے جدید دفاعی سامان پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش کے کاکیناڈا میں دنیا کے سب سے بڑے گرین امونیا پروجیکٹوں میں سے ایک کو تیار کیا جا رہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ چیلنجنگ عالمی ماحول کے باوجود ہندوستانی معیشت نے اپنی رفتار برقرار رکھی ہے اور گزشتہ سہ ماہی میں اس میں 7.8 فیصد کی نمو درج کی گئی ہے۔ ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو انہوں نے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے مواقع کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیئم کی کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری فاسٹ ٹریک نظام بنایا گیا ہے اور ہندوستان-بیلجیئم تجارتی فورم کو باقاعدہ نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مالیاتی، فن ٹیک اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھایا جائے گا۔ ان پہلوں کے ذریعے اگلے 5 سال میں دوطرفہ تجارت کو دگنا کرنے کا ہدف ہے۔ دفاعی اور سلامتی تعاون کو تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تبادلے اور تربیت کے تعاون کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ حکومتوں اور دفاعی صنعتوں کے درمیان ہوئے معاہدوں سے دفاعی شعبے میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع کھلیں گے۔ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور جرائم کے خلاف تعاون کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پر ہوئے مفاہمت نامے سے پائیدار ترقی کے شعبے میں تعاون کو رفتار ملے گی۔ اہم معدنیات کی پروسیسنگ اور ری سائیکلنگ میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں بیلجیئم کی مہارت اور ہندوستان کے پیمانے کو ایک دوسرے کا مددگار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیلجیئم کے آئی ایم ای سی ادارے کو ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم سے جوڑنے کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اسٹارٹ اپس کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور سمندری شعبے میں صلاحیت سازی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یونیورسٹی اور تحقیقاتی تعاون کو مضبوط کیا جائے گا اور صلاحیتوں کی نقل و حمل کے لیے جلد ہی ایمیگریشن شراکت داری کا معاہدہ کیا جائے گا۔ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور بیلجیئم قانون کی حکمرانی، بات چیت اور سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور مغربی ایشیا میں تنازع کوجلد ختم کرنے اور امن کی تمام کوششوں کی دونوں ممالک حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی ہر شکل کو جڑ سے ختم کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا، “یوکرین ہو یا مغربی ایشیا ہم تنازع کی جلد منسوخی اور امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اور دہشت گردی کی ہر شکل کو جڑ سے ختم کرنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔”
وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ بیلجیئم اور نیدرلینڈز کی جانب سے مشترکہ طور پر ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کا ذکر کرتے ہوئے ایونٹ کے لیے مبارکباد دی اور ہندوستانی کھلاڑیوں کی محنت اور کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیرے کے کاروبار نے ہندوستان اور بیلجیئم کو طویل عرصے سے جوڑا ہے اور دونوں ممالک اس تاریخی لگاؤ کو وسیع تر شراکت داری کی نئی شکل دے رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم
-
دنیا1 week agoایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
-
دنیا1 week agoامیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں
-
دنیا1 week agoنیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
-
دنیا1 week agoقطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی
-
پاکستان1 week agoپاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
-
ہندوستان1 week agoعید میلاد النبی پر کاشی میں جوش و خروش، سکیورٹی کے سخت انتظامات
