دنیا
امریکہ نے حملہ کیا تو اس کی تنصیبات بھی نہیں بچیں گی:ایران
تہران، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ان کے ملک پر حملہ کیا، تو ایرانی افواج کسی بھی جغرافیائی حد کی پرواہ کیے بغیر امریکہ کے مادی اور معنوی (اسٹریٹجک) اہداف پر جوابی حملے کریں گی۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے قریبی سمجھے جانے والے نیم سرکاری نیوز ایجنسی “دفاع پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے اکرمینیا نے امریکہ کو سخت وارننگ دی۔
خطے میں امریکی موجودگی کے علاوہ، جنوب مغربی ایشیا سے باہر بھی امریکی اڈوں اور وہاں تعینات افواج کا ذکر کرتے ہوئے اکرمینیا نے کہا، “کسی بھی جارحیت کی صورت میں، ایرانی مسلح افواج بغیر کسی جغرافیائی سرحد کے، امریکہ کے تمام مادی اور معنوی مقامات کو نشانہ بنائیں گی۔”
محمد اکرمینیا نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا صرف اور صرف ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو تسلیم کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی صدر ہرزوگ اتوار کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے امیدوار کا اعلان کریں گے
نئی دہلی، اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ وہ اتوار تک ملک میں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک امیدوار کو نامزد کریں گے۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت کی جانب سے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مقابلے میں اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہرزوگ نے جمعرات کو 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد یہ اعلان کیا۔ ان مشاورتوں کے دوران سابق فوجی سربراہ آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ نے حکومت تشکیل دینے کے لیے اپنی حمایت دی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی۔
مشاورت کے اختتام پر ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ہرزوگ نے کہا کہ اگرچہ مشاورت کے نتائج بظاہر واضح دکھائی دیتے ہیں، لیکن مختلف سیاسی اتحادوں اور خود ان کے اندر ایک دوسرے کے خلاف ویٹو کے باعث یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون سا امیدوار حکومت بنانے کے لیے درکار اتحاد تشکیل دینے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ اور ہفتہ کو بعض سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے انفرادی طور پر بات چیت کریں گے اور اتوار کو کسی امیدوار کو نامزد کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں نہ تو نیتن یاہو اور نہ ہی آئزن کوٹ کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہو سکی، جس کے باعث منقسم سیاسی منظرنامے میں صدر ہرزوگ کے لیے امیدوار کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 120 رکنی کنیسٹ میں 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری، لیکن ان کے وسیع تر مذہبی قوم پرست اتحاد کو مجموعی طور پر صرف 53 نشستیں حاصل ہوئیں۔
دوسری جانب آئزن کوٹ کے چار یہودی اکثریتی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے، جس میں مرکز سے بائیں بازو اور دائیں بازو تک کی جماعتیں شامل ہیں، 48 نشستیں حاصل کیں۔ انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں جانب سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
اسرائیل کی فلسطینی اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
آئزن کوٹ نے بھی نیتن یاہو کی طرح عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیا ہے، تاہم ان دونوں جماعتوں نے اس کے باوجود آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کی، جس سے انہیں ارکان پارلیمنٹ کی واضح اکثریت کی تائید حاصل ہوگئی۔
عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کے سینئر رہنما احمد طیبی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم اس مجرمانہ حکومت کو ہٹانے کے لیے وہ اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو ہم نے ماضی میں نہیں کیے۔”
آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے کہا کہ انہیں 67 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو 2015 کے بعد سے کسی بھی امیدوار کو ملنے والی سب سے زیادہ حمایت ہے۔ جماعت نے صدر ہرزوگ سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد آئزن کوٹ کو حکومت تشکیل دینے کا اختیار دیں تاکہ وہ قومی ہنگامی حکومت قائم کر سکیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے آبنائے ہرمز کی پابندیوں سے ہندوستان، چین، قطر اور عراق کو استثنیٰ کیوں دیا
تہران، ایران نے ہندوستان، چین، عراق اور قطر کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب سربراہ امیر حیات مقدم نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
انہوں نے ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی (آئی ایس این اے) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ان ممالک کے جہاز آزادانہ گزر رہے ہیں اور امریکی بھی انہیں نہیں روکتے۔”
ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی دنوں میں آبنائے ہرمز کو عملاً بند کردیا تھا، جب کہ امریکہ نے جولائی میں ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کردی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ان چار ممالک کو اہم بحری گزرگاہ سے آمد و رفت کی اجازت کیوں دی گئی ہے اور کیا امریکی ناکہ بندی برقرار رہنے کے باوجود ان کے جہاز واقعی آزادانہ گزر سکیں گے؟
امیر حیات مقدم کے مطابق ایران کو ہندوستان سے ادویات اور چین سے سیاسی حمایت حاصل ہوگی۔ ایران کو پہلے ہی قطر کی سفارتی حمایت حاصل ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ہندوستانی اور چینی جہازوں سے گزرنے کی فیس بھی وصول کرے گا، جب کہ قطری جہازوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عراقی جہازوں سے بھی کوئی فیس لی جائے گی یا نہیں۔
ایران امور کے ماہر اور لُند یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و انسانی حقوق سے وابستہ محقق روزبہ پارسی نے الجزیرہ سے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایرانی قانون ساز کی بیان کردہ وجوہات کس حد تک عملی طور پر کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق ایران ایک طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، اس لیے تجارت میں اشیا کے تبادلے اور باہمی رعایتوں کا طریقہ اس کے لیے نیا نہیں ہے۔ تاہم موجودہ صورت حال میں فرق یہ ہے کہ ایران پابندیوں میں رخنے ڈال کر ضروری اشیا اور خدمات کی آمد و رفت ممکن بنانا چاہتا ہے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نادر ہاشمی نے کہا کہ غالباً ایران ان جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کی اجازت دینے کے بدلے ٹرانزٹ فیس یا سامان کی مالیت کا ایک مخصوص حصہ وصول کررہا ہے۔
سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور لیبیا میں آسٹریا کے سابق دفاعی اتاشی وولف گینگ پوسٹائی کے مطابق، تہران کا یہ اقدام کئی اعتبار سے حکمت عملی پر مبنی ہے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو ایران کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوسکتی ہے، کیونکہ چین ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد خریدتا ہے۔
ان کے مطابق قطر اور ہندوستان کو بھی اس استثنیٰ میں شامل کرکے ایران واشنگٹن کی جنگی حکمت عملی کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ قطر سے گزرنے کی کوئی فیس نہ لینا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے یورپ کو شامل کرتے ہوئے بڑے امن معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر امن معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین تنازع سے آگے بڑھ کر پورے یورپ کو بھی اس میں شامل کر سکتا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”ایک معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑا معاہدہ ہوگا اور اس میں صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ چیزیں شامل ہوں گی۔ میں یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پورا یورپ شامل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا اور شاندار معاہدہ ہوگا اور ہر کوئی اس سے خوش ہوگا۔”
روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی بات چیت 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ہونے والی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فریق کی جانب سے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔
امریکی ایلچی کشنر نے اگلے ہفتے ابوظہبی میں ہونے والی سہ فریقی بات چیت سے پہلے امریکہ کی امن حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسے عملی اور باہمی رضامندی سے طے کیے گئے اقدامات کی سمت میں کام کرے گا، جن سے مستقبل میں تنازع کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
امریکی منصوبے کے اہم نکات میں یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتیں اور یورپ کے لیے وسیع تر حفاظتی نظام تیار کرنا شامل ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان6 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
دنیا6 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
دنیا4 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان6 days agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
دنیا1 week agoپوتن نے مصر کے صدر السیسی سے ملاقات کی
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
ہندوستان6 days agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
