جموں و کشمیر
اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ میں او پی ڈی خدمات دسمبر 2026 سے قبل شروع ہوں گی، داخل مریضوں کی خدمات جولائی 2027 سے متوقع
سرینگر، کشمیر کے اونتی پورہ میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) میں بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی) کی خدمات دسمبر 2026 سے قبل شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ داخل مریضوں کے شعبے (آئی پی ڈی) کی خدمات جولائی 2027 میں شروع کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم، اس کا انحصار ضروری بنیادی ڈھانچے اور انتظامی تیاریوں کی تکمیل پر ہوگا۔
مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے جمعرات کو اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کی تعمیر اور اسے فعال بنانے کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، طبی آلات اور فرنیچر کی خریداری، فیکلٹی اور دیگر عملے کی بھرتی کے علاوہ ادارے میں طبی خدمات اور تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
وزیر کو بتایا گیا کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور تمام اہم عمارتیں تعمیر کی جاچکی ہیں۔
نڈا نے مقام کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور دیگر رکاوٹوں کے باوجود منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مرکزی محکمہ تعمیرات عامہ (سی پی ڈبلیو ڈی) اور تمام متعلقہ اداروں اور فریقین کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ حکومت کا ایک ترجیحی منصوبہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کام کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے باقی ماندہ تعمیراتی کام مارچ 2027 تک مکمل کیے جائیں۔
وزیر نے تعمیرات اور عمارتوں کو مرحلہ وار حوالے کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔
انہیں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے کی عمارتیں، جن میں او پی ڈی رجسٹریشن بلاک، او پی ڈی بلاک، رہائشی عمارتیں اور مخصوص ہاسٹل شامل ہیں، مکمل ہوچکی ہیں۔ ان عمارتوں کی فہرست اور سامان کی تصدیق کے ساتھ باضابطہ حوالگی کا عمل جاری ہے۔ تعلیمی، انتظامی، اسپتال، رہائشی اور ہاسٹل سے متعلق باقی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی مرحلہ وار انجام دی جارہی ہے۔
ادارے کو جلد فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نڈا نے ایچ آئی ٹی ای ایس (HITES) اور اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے اور طبی آلات، او پی ڈی کے سازوسامان، لیبارٹری کے آلات اور طبی و انتظامی فرنیچر کی خریداری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ او پی ڈی خدمات کے آغاز کے لیے درکار تمام ضروری اشیا کی خریداری کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
دہشت گرد نیٹ ورکس، بنیاد پرستی اور امن و قانون کے خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ رابطہ نظام قائم کیا جائے: ایل جی
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو جموں و کشمیر بھر میں جیلوں کی سکیورٹی اور انتظامی طریقہ کار کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے یہاں لوک بھون میں محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ جیلوں کے مضبوط انتظامی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس، محکمہ جیل خانہ جات اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ایک متحدہ رابطہ نظام قائم کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس، بنیاد پرستی اور امن و قانون کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس، محکمہ جیل خانہ جات اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے اور خفیہ معلومات کے تبادلے پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جیلوں کے احاطوں اور ان کے اطراف اچانک معائنے کرنے کے ساتھ ساتھ ضبط کیے گئے الیکٹرانک آلات کا فرانزک تجزیہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں جیلوں کے اندر خصوصی جیل انٹیلی جنس یونٹس کے قیام، تمام جیلوں میں بایومیٹرک نظام متعارف کرانے، قیدیوں کے لیے ٹیلی میڈیسن سہولتوں کو وسعت دینے اور محکمہ جیل خانہ جات میں افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مہان پور میں زیر تعمیر ہائی سکیورٹی جیل کے کام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ باقی ماندہ کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے اس عمل میں تیزی لائی جائے۔
اجلاس میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات، ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات جموں و کشمیر دیپک کمار، محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری چندراکر بھارتی، اسپیشل ڈی جی کوآرڈینیشن پی ایچ کیو ایس جے ایم گیلانی، اے ڈی جی سی آئی ڈی ایم کے سنہا، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سکریٹری گووند جیسوال، جموں و کشمیر اور لداخ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر آئی بی پنکج کمار ٹھاکر اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
شمالی کشمیر میں ایل او سی کے قریب کیرن ہیریٹیج سینٹر کا افتتاح، سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کی تیاری
سرینگر، شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی کیرن وادی، جو کبھی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ایک حساس اور تنازعہ زدہ سرحدی علاقے کے طور پر جانی جاتی تھی، اب رفتہ رفتہ ایک منفرد سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اسی سلسلے میں فارقیان میں قائم کیے گئے کیرن ہیریٹیج سینٹر کا افتتاح جلد عمل میں آنے والا ہے۔ اس مرکز کے قیام سے اس سرحدی خطے میں سیاحوں کے لیے ایک نئی کشش پیدا ہوگی۔ واضح رہے کہ کیرن وادی کو 2023 میں سیاحوں کے لیے کھولا گیا تھا۔
وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے بتایا کہ کیرن ہیریٹیج سینٹر، وادی کشن گنگا کے خوبصورت پس منظر میں قائم کیا گیا ہے، جس کے اطراف میں گھنے چیڑ کے جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ مرکز تاریخی ورثے، مہمان نوازی اور قومی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے کیرن کو ایک نئے سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک کیرن ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی ثابت قدمی، بہادری اور ناقابل تسخیر حوصلے کی علامت رہی ہے۔ نئے ہیریٹیج سینٹر کا مقصد اس تاریخی ورثے کو زندہ کرنا اور سیاحوں کو وادی کے دلکش قدرتی مناظر کے علاوہ یہاں کی قربانیوں، خدمات اور قومی وابستگی کی داستانوں سے بھی روشناس کرانا ہے۔
اس مرکز میں قومی پرچم کی تنصیب کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل برتوال کے مطابق، ایک بلند و بالا قلعہ نما داخلی دروازے کے اوپر شان سے لہراتا ترنگا اس مرکز کا نمایاں حصہ ہے۔ اس داخلی دروازے کے دونوں جانب گنبد نما مینار بھی تعمیر کیے گئے ہیں، جو اس مقام کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
یادگاری دیواروں پر ”قربانی، خدمت اور اتحاد” اور ”بلند مقامات، مضبوط رشتے، عظیم تر ہندوستان” کے کلمات درج کیے گئے ہیں۔ ان تحریروں کے ذریعے حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ملک کے سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کے ساتھ قومی وابستگی کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مرکز میں توپ بھی نصب کی گئی ہے، جبکہ خوبصورت انداز میں تیار کردہ راستے اور اطراف کی تزئین و آرائش اس مقام کو مزید پرکشش بناتے ہیں۔ یہ جگہ سیاحوں کو غور و فکر اور قومی فخر کے احساس سے ہمکنار کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ہیریٹیج سینٹر میں ایک خصوصی ورثہ گیلری بھی قائم کی گئی ہے، جہاں سیاحوں کو کیرن وادی کی تاریخ، قدرتی مناظر اور ثقافتی شناخت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس گیلری میں تصاویر اور دیگر بصری مواد کے ذریعے علاقے کی تاریخی داستانوں کو محفوظ رکھنے اور اس سرحدی خطے کے بارے میں بہتر تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کمپلیکس کے اندر ”کیرن کیفے۔ فارقیان” کے نام سے ایک کیفے بھی قائم کیا گیا ہے۔ یہاں سیاحوں کو کشمیری قہوہ، گرم مشروبات اور دیگر ہلکی پھلکی اشیائے خوردونوش فراہم کی جائیں گی۔ کیفے سے آس پاس کے پہاڑوں اور چیڑ کے گھنے جنگلات کے دلکش مناظر بھی دیکھے جاسکیں گے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد نسبتاً کم دریافت کیے گئے اس سرحدی علاقے کی جانب سیاحوں کو راغب کرنا، سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بیان کے مطابق، کیرن ہیریٹیج سینٹر کا قیام سرحدی علاقوں کو سیاحت، ثقافتی تبادلے اور معاشی ترقی کے مراکز میں تبدیل کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کیرن وادی کو سیاحتی نقشے پر نمایاں شناخت ملنے کی توقع ہے بلکہ مقامی آبادی کی معاشی ترقی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی مبارک گل نے پریس کانفرنس ملتوی کردی، کہا ”میں ایک لڑاکا ہوں، اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا”
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے چھ بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے مبارک گل نے بدھ کے روز اپنی پریس کانفرنس ملتوی کردی، جس میں ان سے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیں گے۔
سری نگر کے عیدگاہ اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے مبارک گل نے حالیہ کابینہ میں توسیع کے دوران انہیں وزیر نہ بنائے جانے پر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی کے درمیان میڈیا سے خطاب کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
اپنا فیصلہ واضح کرتے ہوئے مبارک گل نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال، اپنے ساتھیوں سے مشاورت اور حامیوں کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پریس کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بعض کارکن گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے ان کے ساتھ وابستہ ہیں، جبکہ کچھ کارکن 1975 سے گزشتہ 51 برسوں سے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ”میں اعلان کرتا ہوں کہ آج کی پریس کانفرنس ملتوی کررہا ہوں۔ اس معاملے پر آج کچھ نہیں کہوں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہتے ہیں اور ان کی احساسات کی ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔
مبارک گل نے کہاکہ ”میں نہ کچھ کہوں گا اور نہ ہی کوئی اعلان کروں گا۔ ان شاء اللہ، مناسب وقت آنے پر چیزیں خود آگے بڑھیں گی۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ بیان ہی وہ واحد پیغام ہے جو وہ فی الحال دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ کوئی وضاحت پیش کرنی ہے اور نہ ہی مزید کچھ کہنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض ساتھیوں نے فون پر انہیں مشورے دیے ہیں اور وہ ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اسی کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”میں ایک لڑاکا ہوں اور اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان5 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
دنیا5 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
دنیا1 week agoامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کے خلاف تنبیہ
