ہندوستان
اگنی ویر اسکیم میں بار بار تبدیلی نوجوانوں اور قومی سلامتی سے کھلواڑ ہے: سرجے والا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے اگنی ویر اسکیم میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ملک کی خدمت کے لیے فوج میں بھرتی ہونے کے خواہش مند نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بار بار کھلواڑ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگنی ویر اسکیم میں چوتھی بار تبدیلی کرکے حکومت نے نوجوانوں کے درمیان الجھن اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا کر دی ہے، جو قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی تشویش ناک ہے۔
مسٹر سرجے والا نے کہا کہ جو حکومت فوج میں بھرتی کے معاملے میں واضح اور مستقل فیصلہ نہیں کر سکتی، اس سے قومی سلامتی یقینی بنانے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک طرف چین نے مشرقی لداخ میں ہندوستان کی تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، تو دوسری طرف آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی فوج کے ساتھ تصادم کی بات کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تینوں افواج میں ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں، جبکہ مرکزی ریزرو پولیس فورس، بارڈر سکیورٹی فورس، مرکزی صنعتی سلامتی فورس اور انڈو تبت بارڈر پولیس سمیت مرکزی مسلح پولیس فورسز میں بھی ایک لاکھ سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورت حال قومی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے 2021 سے فوج میں باقاعدہ بھرتی روک کر چار سالہ اگنی ویر بھرتی کا نظام شروع کیا۔ مخالفت بڑھنے پر 25 فیصد اگنی ویروں کو مستقل کرنے اور ریاستی حکومتوں کی بھرتیوں میں ترجیح دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اب کابینہ نے چار سالہ سروس میں دو سال کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد مستقل بھرتی پر غور کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔
مسٹر سرجے والا نے کہا کہ چار یا چھ سال کی سروس کے بعد مستقل تقرری ملے گی یا نہیں، اس غیر یقینی صورت حال میں جوانوں کو رکھنا ان کے حوصلے کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مستقبل کے بارے میں مسلسل تذبذب کا شکار رہنے والے نوجوان پوری یکسوئی اور لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کیسے کر سکیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگنی ویر کی عارضی بھرتی کا نظام ختم کرکے فوج میں باقاعدہ بھرتی بحال کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مودی حکومت کو بڑے بڑے دعووں اور خوش نما الفاظ کے بجائے نوجوانوں اور قومی سلامتی کے مفاد میں ٹھوس اور مستقل فیصلے کرنے چاہئیں۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے 22,818 کروڑ روپے کے ڈی اے بقایاجات کے معاملے میں پنجاب کے چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگائی، ادائیگی کا منصوبہ طلب
نئی دہلی/چنڈی گڑھ، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے مہنگائی بھتے (ڈی اے) اور مہنگائی راحت (ڈی آر) کے 22,818 کروڑ روپے کے بقایاجات ادا نہ کرنے کے معاملے میں ریاست کے چیف سکریٹری کے اے پی سنہا کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی پر جمعرات کو روک لگا دی۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے یکم دسمبر تک ادائیگی کا خاکہ پیش کرنے کو کہا ہے۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اے مہادیون کی بنچ نے متعلقہ دیوانی توہین عدالت کی کارروائی میں بھی کسی قسم کی تعزیری کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس سے ملازمین اور پنشنرز کی کل 32,418 کروڑ روپے کی بقایا واجبات سے متعلق تنازع کے درمیان مسٹر سنہا کو فی الحال راحت مل گئی ہے۔
عدالت نے پنجاب حکومت سے یہ بتانے کو کہا ہے کہ وہ 31 مارچ 2027 تک بقایا رقم میں سے کتنی رقم جاری کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگانے کا مطلب ادائیگی سے متعلق بنیادی تنازع کا تصفیہ کرنا نہیں ہے۔
سماعت کے دوران بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا، ”آپ کو فی الحال راحت ملی ہے۔ مثبت جواب لے کر آئیے۔ آپ کتنی رقم جاری کریں گے؟” عدالت نے چیف سیکریٹری سنہا کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہیں جمعرات کو پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔
بنچ نے کہا، ”آپ چیف سیکریٹری کو جیل بھیجنے میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں؟ ہم توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگا دیں گے۔ دیگر کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔” یہ کارروائی ہائی کورٹ کے تین اگست کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کو ریاست میں خدمات انجام دینے والے آل انڈیا سروس کے افسران پر نافذ شرحوں کے مطابق ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی بھتے اور مہنگائی راحت کی زیر التوا قسطیں جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔
واضح رہے کہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر ادائیگی کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے لیے 18 اگست کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ عدالت نے اس تاریخ کے بعد بقایا رقم پر سالانہ چھ فیصد سادہ سود بھی مقرر کیا تھا۔ اس نے حکومت کو بقایا رقم کی ادائیگی تک بڑے پیمانے پر اشتہاری مہمات سمیت غیر ضروری اخراجات کرنے سے بھی روک دیا تھا۔
حکومت مقررہ مدت کے اندر ادائیگی نہیں کر سکی، جس کے بعد ملازمین اور پنشنرز نے توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی۔ گزشتہ 12 اکتوبر کو ہائی کورٹ نے اپنے احکامات پر عمل درآمد روکنے سے متعلق ایک سرکاری مراسلے کے الزامات کی جانچ کے بعد فوجداری توہین عدالت کی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے مسٹر سنہا کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔ ادھر بقایا رقم ادا نہ کرنے پر الگ دیوانی توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری رہی۔
ہائی کورٹ نے جمعرات کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کا ایک داخلی مراسلہ، جس میں محکموں کو احکامات پر عمل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو جبکہ ریاست قانونی چارہ جوئی کر رہی ہو، بذات خود فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کو درست قرار دے سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے توہین عدالت کی کارروائی کے خلاف دلائل پیش کیے۔ اس تنازع کے مالی اثرات سنہا کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیش کی گئی اسٹیٹس رپورٹ سے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یکم جولائی 2021 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان پنجاب پر ڈی اے اور ڈی آر کی بقایا ذمہ داری 22,818 کروڑ روپے تھی۔ ملازمین اور پنشنرز کے تئیں کل بقایا واجبات 32,418 کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ مرکزی حکومت کی شرحوں کے مطابق ڈی اے کی ادائیگی سے تقریباً 4,712 کروڑ روپے کا اضافی سالانہ بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے بقایاجات کی ادائیگی میں مالی مشکلات کا حوالہ دیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران اس کے وکیل نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت سے تقریباً 13,000 کروڑ روپے کے بقایاجات ورثے میں ملے ہیں۔
ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ مالی مشکلات یا سود کی شق ادائیگی کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے کا جواز بن سکتی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ بقایاجات ادا کرنے کی ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سپریم کورٹ اس کے احکامات پر روک نہیں لگاتی یا ان میں ترمیم نہیں کرتی۔
جمعرات کا حکم فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کو ملتوی کرتا ہے اور دیوانی توہین عدالت کے معاملے میں حکام کو زبردستی کی کارروائی سے بچاتا ہے، لیکن اس کا مطلب ملازمین کے بقایا دعووں کو ختم کرنا نہیں ہے۔ دسمبر میں جب معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے آئے گا تو سپریم کورٹ پنجاب حکومت کی مجوزہ ادائیگی کی ترتیب کا جائزہ لے گی۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
اردو اکادمی، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے، اردو ڈراما مقابلہ برائے مڈل زمرہ میں طلبہ کی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ
نئی دہلی اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے ہر سال تعلیمی مقابلوں کا انعقاد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم مقام حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ، ان کے علاوہ حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز (سوال و جواب)، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ سانگ اور امنگ پینٹنگ کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ مقابلے دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں۔
اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے ان مقابلوں میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کو، خواہ انھوں نے کوئی انعام حاصل کیا ہو یا نہیں، اکادمی کا ماہنامہ رسالہ ”بچوں کا ماہنامہ امنگ” ایک سال تک مفت بھیجا جائے گا۔ یہ رسالہ ان کے گھر کے پتے پر ارسال کیا جائے گا، تاکہ بچوں میں مطالعے کا شوق پروان چڑھے اور وہ اردو زبان و ادب سے مزید قریب ہو سکیں۔
آج صبح دس بجے اردو ڈراما مقابلہ برائے مڈل زمرہ ( چھٹی تا آٹھویں جماعت) کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد ہوا جس میں 18 اسکولوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں پروفیسر محمد کاظم، شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی اور ڈاکٹر جاوید حسن، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ جج کی حیثیت سے شریک رہے۔
ڈراموں کے اختتام پر پروفیسر محمد کاظم اور ڈاکٹر جاوید حسن نے تمام ڈراموں کے موضوعات اور ان کی پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر تمام ڈرامے اچھے تھے، جب کہ بعض ڈراموں کی پیشکش نہایت عمدہ اور متاثر کن تھی۔ انھوں نے طلبہ و طالبات کی اداکاری، کرداروں کی ادائیگی اور اسٹیج پر پیشکش کے انداز کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈراموں کے موضوعات عصرِ حاضر کے اہم سماجی اور معاشرتی مسائل سے ہم آہنگ تھے۔ ان موضوعات کے انتخاب سے طلبہ کی سماجی شعور اور اپنے گرد و پیش کے حالات سے واقفیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔انھوں نے اسٹیج پر مکالموں کی ادائیگی کے مختلف طریقوں اور اس کے فنی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ہر مکالمہ اپنے اندر ایک خاص کیفیت، جذبہ اور مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اسے موقع و محل، کردار کی نفسیاتی کیفیت اور ڈرامے کی مجموعی صورتِ حال کے مطابق ادا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے آواز کے اتار چڑھاؤ، لہجے کی مناسبت، الفاظ کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات، حرکات و سکنات اور مکالموں کے درمیان مناسب وقفے کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختلف ڈراموں میں موجود باریک فنی و معنوی نکات کی نشان دہی کرتے ہوئے طلبہ کو ان کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان چھوٹی چھوٹی جزئیات پر توجہ دے کر ڈرامے کی پیشکش کو مزید مؤثر اور جاندار بنایا جا سکتا ہے۔
آخر میں انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کو اس نوعیت کے بامقصد مقابلوں کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انھیں اظہار کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی ادبی و تخلیقی استعداد کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں ایک اہم اور قابلِ قدر کارنامہ انجام دے رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
ملک کا میٹرو نیٹ ورک 2014 کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ کر 26 شہروں میں 1200 کلومیٹر تک پہنچ گیا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو 2014 کے بعد ملک میں میٹرو ریل نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو کا آپریشنل نیٹ ورک پانچ شہروں میں 248 کلومیٹر سے بڑھ کر 26 شہروں میں تقریباً 1200 کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر میٹرو خدمات سے استفادہ کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے شہری عوامی نقل و حمل میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اگر 2014 سے پہلے میٹرو نیٹ ورک کی توسیع کی رفتار برقرار رہتی تو پونے سمیت کئی شہروں کو میٹرو کی سہولت حاصل کرنے کے لیے برسوں بلکہ دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا، ”میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ہندوستان کا میٹرو نیٹ ورک 2014 سے پہلے جس رفتار سے بڑھ رہا تھا، اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا تو پونے جیسے شہروں کو میٹرو کی سہولت ملنے کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑتا؟ سال… نہیں… شاید دہائیاں، اور یہ ناقابل قبول تھا۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 میں ہندوستان کے صرف پانچ شہروں میں 248 کلومیٹر طویل میٹرو لائنیں زیرِ استعمال تھیں، جبکہ اس کے بعد نیٹ ورک کی توسیع 26 شہروں میں تقریباً 1200 کلومیٹر تک ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹرو میں روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ شہری مسافروں میں عوامی نقل و حمل کے اس ذریعے پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میٹرو نیٹ ورک کی توسیع صرف ریلوے لائنوں کی لمبائی بڑھانے یا مسافروں کی تعداد میں اضافے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد شہروں میں لوگوں کے روزمرہ معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ”اس کا مطلب ہے ٹریفک میں کم وقت صرف کرنا، خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور بہتر مواقع کا حصول۔”
ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے شہروں میں ٹریفک کے بڑھتے دباؤ، سفر میں زیادہ وقت لگنے اور قابل اعتماد عوامی نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر میٹرو ریل شہری ٹرانسپورٹ کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن کر ابھری ہے۔ دہلی ان ابتدائی شہروں میں شامل تھی جہاں وسیع میٹرو نیٹ ورک تیار کیا گیا۔ تاہم، گزشتہ ایک دہائی کے دوران میٹرو نیٹ ورک کو کئی دیگر شہروں تک بھی وسعت دی گئی ہے۔ ان میں پونے سمیت ایسے کئی شہر شامل ہیں جہاں پہلے میٹرو کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔
میٹرو نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ اسے شہری نقل و حمل کے وسیع تر نظام سے مربوط کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد مسافروں کو نجی گاڑیوں کے مقابلے میں تیز رفتار اور زیادہ قابل اعتماد سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
میٹرو میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تیزی سے شہرکاری کی جانب بڑھتی ہندوستانی آبادی کی سفری ضروریات پوری کرنے میں عوامی نقل و حمل کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
مسٹر مودی کے تبصروں کا مقصد میٹرو رابطے کی توسیع کو ان کی حکومت کے وسیع تر ترقیاتی تصور سے جوڑنا تھا۔ انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو پیداواری صلاحیت بڑھانے، مسافروں کی روزمرہ مشکلات کم کرنے اور ہندوستانی شہروں میں مجموعی معیارِ زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ قرار دیا۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
دنیا5 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان5 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
دنیا1 week agoامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کے خلاف تنبیہ
