ہندوستان
ملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
نئی دہلی، محکمہ موسمیات نے ہفتہ کے روز بتایا کہ جنوب مشرقی خلیج بنگال کے اوپر بننے والا ایک نیا موسمی نظام مزید طاقتور ہو کر گہرے دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے 2 نومبر تک آندھرا پردیش کے ساحل کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش، گرج چمک کے ساتھ طوفان اور تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے صبح جاری کردہ اپنے تازہ ترین ‘آل انڈیا ویدر سمری اینڈ فورکاسٹ بلیٹن’ میں 2 اور 3 نومبر کو ساحلی آندھرا پردیش اور یانم میں بعض مقامات پر بہت شدید بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ خراب موسم کے باعث نقل و حمل کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جنوبی انڈمان سمندر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بنا کم دباؤ کا حلقہ مغرب-شمال مغرب کی جانب بڑھ گیا ہے اور جنوب مشرقی خلیج بنگال، اس سے متصل انڈمان و نکوبار جزائر اور انڈمان سمندر کے اوپر واضح کم دباؤ کے علاقے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آج صبح 5 بج کر 30 منٹ پر یہ نظام مذکورہ علاقے کے اوپر موجود تھا اور اس سے وابستہ کم دباؤ کا حلقہ سطح سمندر سے 7.6 کلومیٹر کی بلندی تک پھیلا ہوا تھا۔ محکمہ موسمیات نے کہا، ”اس کے مغرب-شمال مغرب کی جانب بڑھنے اور آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران اسی علاقے میں گہرے دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔”
اس کے بعد اس موسمی نظام کے مزید شدت اختیار کرنے اور 2 نومبر کی شام تک آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب مغربی وسطی خلیج بنگال میں پہنچنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے اپنے صبح کے بلیٹن میں یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ زیرِ تشکیل نظام پہلے ہی سمندری طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے اور نہ ہی اس نے ساحل سے ٹکرانے کے کسی مقام کی نشاندہی کی ہے۔
پیش گوئی کے مطابق، یکم اور 4 نومبر کو ساحلی آندھرا پردیش اور یانم میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ 2 اور 3 نومبر کو بارش کی شدت میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔
2 اور 3 نومبر کے دوران ساحلی آندھرا پردیش اور رائل سیما میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے، جو جھکڑوں کے ساتھ بڑھ کر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 31 اکتوبر سے 3 نومبر تک ان علاقوں میں سطح زمین کے قریب تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
اس موسمی نظام کا اثر جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے کے دوران تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک کے کچھ حصوں میں شدید بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے یکم اور 2 نومبر کو تلنگانہ، 2 اور 3 نومبر کو رائل سیما، نیز 2 اور 3 نومبر کے دوران تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کیرالہ اور ماہے میں یکم سے 3 نومبر کے درمیان بعض مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے، جبکہ یکم اور 2 نومبر اور پھر 5 نومبر کو وسیع علاقوں میں بارش ہونے کے امکانات ہیں۔
کرناٹک میں 3 سے 5 نومبر تک ساحلی اضلاع، 3 اور 4 نومبر کو شمالی اندرونی کرناٹک اور 2 سے 5 نومبر تک جنوبی اندرونی کرناٹک میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ 6 نومبر کو جنوبی اندرونی کرناٹک کے بعض الگ تھلگ مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے کچھ حصوں میں بجلی چمکنے اور تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے طوفان آ سکتے ہیں۔
یکم سے 3 نومبر کے دوران کیرالہ اور کرناٹک کے اندرونی علاقوں میں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کے ساتھ ان کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
محکمہ نے کہا کہ بننے والی موسمی صورت حال سے باغات، باغبانی کی فصلوں اور کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شدید بارش اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔
کیلے اور پپیتے کے پودوں سمیت چھوٹے درخت اکھڑ سکتے ہیں، جبکہ کمزور ڈھانچوں، جھونپڑیوں اور کچے مکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید بارش کے سبب مقامی سطح پر سیلاب، پانی جمع ہونے اور حدِ نگاہ میں کمی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے سڑک اور ریل ٹرانسپورٹ متاثر ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی صورت حال پر گہری نظر رکھیں، بجلی چمکنے کے دوران درختوں کے نیچے پناہ لینے سے گریز کریں اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے تیار رہیں۔ محکمہ نے انڈمان سمندر اور خلیج بنگال کے بعض حصوں میں کام کرنے والے ماہی گیروں کے لیے بھی وارننگ جاری کی ہے، کیونکہ موسمی نظام کے مزید مضبوط ہونے پر ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ خراب موسم رہنے کا امکان ہے۔
31 اکتوبر کو مشرقی وسطی اور جنوب مشرقی خلیج بنگال نیز انڈمان سمندر کے بعض حصوں میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جو بڑھ کر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔
یکم نومبر کو مشرقی وسطی اور جنوب مشرقی خلیج بنگال کے بعض حصوں میں ہوا کی رفتار 45 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے اور جھکڑوں کے ساتھ یہ 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
2 نومبر کو مغربی وسطی خلیج بنگال کے بعض حصوں اور 3 نومبر کو آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب اور اس سے متصل علاقوں میں اسی طرح تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
محکمہ نے 4 نومبر تک آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب اور اس سے دور سمندری علاقوں میں طوفانی موسم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور جھکڑوں کے ساتھ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ماہی گیروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ وارننگ کی مدت کے دوران متاثرہ سمندری علاقوں میں نہ جائیں۔ بحیرہ عرب کے لیے ماہی گیروں کو کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات نے بتایا کہ انتہائی شدید سمندری طوفان ‘ارنب’ کے اثرات وسطی اور شمالی ہندوستان کے کچھ حصوں میں اب بھی کم دباؤ کے علاقے کی شکل میں برقرار ہیں۔
یہ نظام، جو پہلے شمالی چھتیس گڑھ اور اس سے متصل مشرقی مدھیہ پردیش، جنوب مشرقی اتر پردیش اور مغربی جھارکھنڈ کے اوپر واقع تھا، ہفتہ کی صبح 5 بج کر 30 منٹ تک جنوب مشرقی اتر پردیش اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پہنچ گیا۔ اس سے وابستہ گردابی صورتحال سطح سمندر سے 3.1 کلومیٹر کی بلندی تک پھیلی ہوئی ہے۔
محکمہ نے 31 اکتوبر اور 2 سے 3 نومبر کو چھتیس گڑھ میں وسیع سے لے کر بہت وسیع پیمانے پر بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ 2 نومبر کو بعض مقامات پر شدید بارش کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔
2 نومبر کو چھتیس گڑھ میں گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جن کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
اوڈیشہ میں 2 نومبر کو بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ 31 اکتوبر سے 3 نومبر کے درمیان گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے اور تیز ہوائیں چلنے کے امکانات ہیں۔
محکمہ موسمیات نے 4 نومبر تک مشرقی اور مغربی مدھیہ پردیش کے بعض حصوں میں کہیں کہیں بارش ہونے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ شمال مشرقی ہندوستان میں 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو اروناچل پردیش میں بعض مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔
31 اکتوبر سے 5 نومبر کے درمیان اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بعض مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔
31 اکتوبر کو انڈمان و نکوبار جزائر میں بعض مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفان اور تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
مشرقی ہندوستان میں آنے والے دنوں کے دوران مختلف اوقات میں بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اوڈیشہ کے بعض حصوں میں بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے بتایا کہ 30 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 30 منٹ سے 31 اکتوبر کی صبح 5 بج کر 30 منٹ تک مشرقی اور شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں بیشتر مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے اہم اعداد و شمار کے مطابق اوڈیشہ کے بالاسور، اتر پردیش کے گورکھپور اور ساحلی آندھرا پردیش کے تونی میں پانچ پانچ سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اتر پردیش کے بہرائچ میں چار سینٹی میٹر، جبکہ لکھنؤ، سلطان پور اور اعظم گڑھ میں دو دو سینٹی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ نے بتایا کہ گجرات کے راجکوٹ میں ملک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 37.9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہماچل پردیش کے اونا میں ہندوستان کے میدانی علاقوں کا سب سے کم درجہ حرارت 11.6 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
محکمہ نے شدید بارش کی پیش گوئی والے علاقوں کے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھیتوں سے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام کریں، کٹی ہوئی فصل کو محفوظ رکھیں اور باغبانی کی نازک فصلوں کو سہارا دیں۔ مویشی پالنے والوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید بارش کے دوران اپنے جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں رکھیں اور ان کے چارے کو نمی سے بچائیں۔
شمال مغربی ہندوستان میں محکمہ موسمیات نے 2 نومبر کو ہریانہ، چندی گڑھ اور دہلی میں بعض مقامات پر بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم سات روزہ پیش گوئی کی مدت کے دوران اس خطے کے لیے شدید بارش، گرج چمک کے طوفان یا کسی دیگر خراب موسم کی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
محکمہ کی سات روزہ بارش کی پیش گوئی کے مطابق 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو ہریانہ، چندی گڑھ اور دہلی میں موسم خشک رہے گا، جبکہ 2 نومبر کو بعض مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 3 سے 6 نومبر کے درمیان موسم دوبارہ خشک رہنے کا امکان ہے۔
اس دوران پنجاب میں 31 اکتوبر سے 6 نومبر تک، یعنی سات روزہ مدت کے دوران موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بلیٹن میں بارش یا خراب موسم کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے بتایا کہ ایک مغربی ہوائی سلسلہ، جو سطح سمندر سے 4.5 کلومیٹر کی بلندی پر شمالی ہریانہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کم دباؤ کے حلقہ کی شکل میں دیکھا گیا تھا، اب بھی برقرار ہے۔
پڑوسی ریاستوں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور لداخ میں 31 اکتوبر سے 2 نومبر کے درمیان بعض مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ 31 اکتوبر کو اتراکھنڈ میں کچھ مقامات پر گرج چمک کے ساتھ طوفان اور بجلی چمکنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، تاہم ریاست کے لیے شدید بارش کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
31 اکتوبر سے 2 نومبر کے درمیان مشرقی اتر پردیش میں بعض مقامات یا الگ تھلگ علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ 31 اکتوبر کو مغربی اتر پردیش اور مشرقی راجستھان کے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
محکمہ کی سات روزہ پیش گوئی کے مطابق شمال مغربی ہندوستان کے بیشتر حصوں میں 2 نومبر کے بعد بارش کی سرگرمیوں میں کمی آنے کا امکان ہے اور پیش گوئی کی مدت کے بقیہ دنوں میں بنیادی طور پر موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ کی تازہ ترین علاقائی وارننگ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ 6 نومبر تک پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ یا دہلی کے لیے موسم سے متعلق کوئی سنگین وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، پارٹی کی پارلیمانی جماعت کی رہنما سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی 42ویں برسی کے موقع پر ان کی سمادھی شکتی استھل پہنچ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
مسٹر کھرگے، محترمہ گاندھی اور راہل گاندھی نے صبح سابق وزیر اعظم کی سمادھی گلہائے عقیدت نذر کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وہاں موجود پارٹی کے کئی دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی اندرا گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اندرا گاندھی کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تئیں ان کی لگن، ان کی قربانی، ان سے ملنے والے سبق اور ان کی دی ہوئی اقدار ہمیشہ رہنمائی کرتی رہیں گی۔
محترمہ گاندھی نے سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم کے ساتھ بچپن کی اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ملک کے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ہندوستان کے اتحاد کا معمار اور ایک عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے یاد کیا، جن کی لگن، قربانی اور ملک کی تعمیر کے تئیں عزم نے ہندوستان کو ترقی اور خود کفالت کی راہ پر آگے بڑھنے کے لیے مسلسل تحریک دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پیغام میں مسٹر مودی نے سردار پٹیل کو ملک کا ‘مرد آہن’ اور متحدہ ہندوستان کے تصور کا علمبردار قرار دیا۔ انہوں نے ایک مضبوط، خوشحال اور باصلاحیت ملک کی تعمیر میں ان کی زندگی بھر کی خدمات کے لیے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیر اعظم نے کہا، ”متحدہ ہندوستان کے معمار اور ملک کے ‘مرد آہن’ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش پر میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مادر وطن کی خدمت میں سردار پٹیل کی قربانی اور غیر متزلزل لگن، ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر کے اجتماعی عزم کے لیے ہمیشہ تحریک کا سرچشمہ بنی رہے گی۔
سردار پٹیل کی پیدائش 31 اکتوبر 1875 کو ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان کی جنگ آزادی کے اہم رہنماؤں میں سے ایک تھے اور انہوں نے آزادی کے بعد ملک کے سیاسی اتحاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آزاد ہندوستان کے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے 560 سے زیادہ رجواڑہ ریاستوں کو ہندوستانی وفاق میں شامل کرنے کی قیادت کی۔ یہ ایک تاریخی کارنامہ تھا، جس نے ہندوستان کے علاقائی اور سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھی۔
ہندوستان کے ‘مرد آہن’ کے نام سے مشہور سردار پٹیل نے قومی اتحاد کے لیے جو خدمات انجام دیں، ان کی انتظامی دور اندیشی اور نئے آزاد ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان کے عزم نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں انہیں ایک مستقل مقام عطا کیا۔ ملک کی تاریخ کے ایک نازک دور میں رجواڑہ ریاستوں کو متحد کرنے کی ان کی کوششیں ہندوستانی وفاق کو یکجا کرنے میں خاص طور پر اہم ثابت ہوئیں۔
31 اکتوبر کو ان کا یوم پیدائش ‘قومی یوم اتحاد’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن سردار پٹیل کی سالگرہ منانے اور ہندوستان کے اتحاد، سالمیت اور قومی تعمیر میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے۔
یہ موقع متحدہ ہندوستان کے ان کے وژن اور ملک کے قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کی اہمیت کی بھی یاد دلاتا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
این وی ایس-03 کی کامیاب لانچنگ سے ہندوستان کی نیویگیشن خودمختاری مضبوط ہوگی: وزیر اعظم مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے سائنس دانوں اور انجینئروں کو اگلی نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف18 راکٹ کی کامیاب لانچنگ پر مبارک باد دی۔ انہوں نے اس مشن کو ہندوستان کے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ‘ناوِک’ کو مضبوط بنانے اور اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں مسٹر مودی نے کہا کہ اس مشن کی کامیابی ہندوستان کے خلائی سائنس دانوں کی لگن اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا، ”این وی ایس-03 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف18 کی کامیاب لانچنگ پر اسرو کے ہمارے سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارک باد۔”
وزیر اعظم نے کہا، ”یہ مشن ہمارے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ناوِک کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ جدید صلاحیتوں سے لیس این وی ایس-03 اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خود انحصاری کی ہماری کوششوں کو آگے بڑھائے گا اور ایسی نیویگیشن خدمات کی فراہمی میں مدد کرے گا جن سے ہمارے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے خلائی سائنس دانوں کی لگن اور جدت طرازی مسلسل ملک کا سر فخر سے بلند کر رہی ہے۔
یہ لانچنگ جمعہ کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز کے دوسرے لانچ پیڈ سے کی گئی۔ جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی-ایف18) نے 2,232 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ جیو سنکرونس ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) میں پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے خلائی پروگرام نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کی۔
یہ مشن جی ایس ایل وی کی 20ویں پرواز اور 2026 میں اسرو کی تیسری خلائی لانچنگ تھی۔ تقریباً 50 میٹر بلند تین مرحلوں والے اس لانچ وہیکل نے تقریباً 18 منٹ میں اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے نیویگیشن سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔
این وی ایس-03 اسرو کے اگلی نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹ سلسلے کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسے ہندوستانی علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام (آئی آر این ایس ایس) کی خدمات کو جاری رکھنے، ان کی درستگی بڑھانے اور اعتبار کو بہتر بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام عام طور پر ناوِک یعنی نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن کے نام سے مشہور ہے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoانتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
-
ہندوستان1 week agoمودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
-
ہندوستان1 week agoاگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
-
ہندوستان1 week agoاروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
-
دنیا7 days agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
دنیا4 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
دنیا1 week agoالحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
