دنیا
ایران جنگ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ بنی: جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی تنازع ”ہماری شکست کی وجہ بنا”۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ وینس کے اس بیان سے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور ایران جنگ کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔
وینس نے انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے سیاسی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اور اس کی پالیسیوں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا کہ ان کی پارٹی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ”قانون سازی کی خاردار باڑ میں الجھا دے گی”، جس سے ان کے ایجنڈے کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
ایوان نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کے آئندہ چیئرمین رابرٹ گارسیا نے تحقیقات کے لیے کئی معاملات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ٹرمپ خاندان سے وابستہ کاروبار، امیگریشن قوانین کا نفاذ، وائٹ ہاؤس میں مجوزہ بال روم کی تعمیر کے لیے کارپوریٹ عطیات اور جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کو سنبھالنے کا معاملہ شامل ہے۔
سی بی ایس نیوز کے تخمینوں کے مطابق 435 رکنی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 251 سے 268 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سینیٹ میں وہ کم از کم 54 نشستیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح آئندہ سال نئی کانگریس کے اجلاس کے آغاز پر پارٹی کو دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔
ڈیموکریٹس نے ملک بھر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ٹیکساس، کنساس، جنوبی کیرولینا، اوہائیو، آئیووا، شمالی کیرولینا اور مین میں ریپبلکن پارٹی کی سینیٹ نشستیں چھین لی ہیں۔ ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولینا میں کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔
یہ نتائج صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہیں۔ ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کی سیاسی سمت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
انتخابی نتائج کے اثرات پارٹی کی قیادت پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے عملے کو بتایا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی کے پارلیمانی رہنما کی حیثیت سے مزید مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے۔ اس فیصلے سے ایوان میں پارٹی کی قیادت کے لیے مقابلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم بعد میں صدر نے کہا کہ وہ انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور نہیں کررہے۔
جاری ْ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرضوں پر اتفاق
ریاض، شام کے صدر احمد الشرع اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دفاعی تعاون کے معاہدے سمیت متعدد سمجھوتوں پر دستخط کی نگرانی کی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے شام کے توانائی، رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کے قرضے فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدے بدھ کو صدر احمد الشرع کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ریاض کے دوسرے دورے کے موقع پر طے پائے۔
شام کی وزارت خارجہ نے دونوں ملکوں کی وزارت دفاع کے درمیان ہونے والے تعاون کے معاہدے کو ان سمجھوتوں میں ”سب سے اہم” قرار دیا، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مجوزہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔،۔۔۔۔
الشیبانی نے ہفتے کو بحرین میں سلامتی سے متعلق کانفرنس ‘منامہ ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”مکہ اتحاد میں شام کی شمولیت کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے فی الحال بات چیت جاری ہے۔”
سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک بار پھر شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں دفاعی اور جارحانہ دونوں طرح کی مدد کے لیے امریکہ، یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعاون طلب کیا ہے۔
حوثی گروپ نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز کے ساتھ ملک پر کنٹرول کی لڑائی کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر احمد الشرع اور شہزادہ محمد بن سلمان نے موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان کے مطابق بات چیت میں فوجی کشیدگی کے علاقائی سلامتی پر اثرات، بین الاقوامی بحری جہاز رانی کا تحفظ، توانائی کی قابل اعتماد فراہمی اور عالمی معیشت کے استحکام جیسے امور شامل تھے۔
دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی اپیل بھی کی۔
شام کے سیاسی امور کے محقق احمد قاسم نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصے میں احمد الشرع کا دوسری بار سعودی عرب کا دورہ خطے اور شام کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کو مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اس کی سرزمین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دراندازی روکنے کے لیے ایک مضبوط ”بازدار قوت” کی ضرورت ہے۔
صدر احمد الشرع کے دورے کے دوران سعودی فنڈ برائے ترقی نے بھی شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں کے تحت 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرضے رعایتی شرائط پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان قرضوں میں تباہ شدہ طبی مراکز کی تعمیر نو اور انہیں جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 10 کروڑ ڈالر، متاثرہ رہائشی عمارتوں کی مرمت کے لیے 6 کروڑ ڈالر، شہری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، حلب کے تھرمل پاور پلانٹ کی بحالی کے لیے 9 کروڑ ڈالر اور دمشق و ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کی ترقی کے لیے 3 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔
کروڑ ڈالر اور دمشق و ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کی ترقی کے لیے 3 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔
دونوں حکومتوں نے صنعتی تعاون سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جبکہ زراعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں مزید دو مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق کیا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور احمد الشرع کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سعودی عرب شام کی نئی حکومت کا اہم حامی رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی اس سے قبل 6 اکتوبر کو ریاض میں ملاقات ہوئی تھی۔ شامی ایوان صدر کے مطابق اس ملاقات میں شام کی تعمیر نو کے منصوبوں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولتوں کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
یمن میں حکومتی فوج کی کارروائی کو ایک ماہ مکمل، جنگ طویل محاذ آرائی میں تبدیل
صنعاء، یمن میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حکومتی افواج کی جانب سے شروع کی گئی بڑی فوجی کارروائی کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔ اس دوران حوثیوں کو بھاری جانی و عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم وہ حکومتی افواج اور سعودی عرب کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تنازع اب طویل جنگی محاذ آرائی کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور فی الحال کسی بھی فریق کے پیچھے ہٹنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
5 اکتوبر کو جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثی جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں پر بڑے فوجی حملے کا اعلان کیا تو صنعاء کے رہائشی محمد احمد نے بدترین صورت حال کے خدشے کے پیش نظر تیاری شروع کردی تھی۔
حوثیوں نے 2014 کے اواخر میں خانہ جنگی کے ابتدائی مرحلے میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا اور تب سے شہر ان کے کنٹرول میں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں وقتاً فوقتاً شدت اور کمی آتی رہی ہے۔
گزشتہ ماہ ‘ڈان آف یمن’ نامی فوجی آپریشن کے اعلان کے ساتھ ہی سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے ملک کے تمام حوثی زیر قبضہ علاقوں، بشمول صنعاء، کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
صنعاء کے 40 سالہ رہائشی احمد نے کہا، ”میرے خاندان اور مجھ پر تشویش اور غیر یقینی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔” تاہم ان کی پریشانی اس بات کو لے کر نہیں تھی کہ جنگ میں کون کامیاب ہوگا، بلکہ انہیں خدشہ تھا کہ گنجان آبادی والے شہر کے قریب یا اندر لڑائی شروع ہونے کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔
آپریشن شروع ہونے کے ایک ماہ بعد احمد کی تشویش میں کمی آئی ہے، کیونکہ فضائی حملوں کے وقفے وقفے سے جاری رہنے کے باوجود صنعاء میں مجموعی طور پر صورت حال پرسکون ہے۔
دوسری جانب حوثی، جنہیں ‘انصار اللہ’ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی یمن کے تعز اور لحج سمیت بعض دیگر صوبوں میں اپنی علاقائی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں لڑائی بدستور جاری ہے۔
اگرچہ احمد جیسے شہریوں کا کہنا ہے کہ ‘ڈان آف یمن’ آپریشن کے ابتدائی دنوں کی شدت اب کم ہوگئی ہے، لیکن ماہرین اور محققین کے نزدیک یہ کارروائی جنگ کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہے، جس میں طویل عرصے تک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی غالب آتی دکھائی دے رہی ہے۔
حوثیوں کی جنگی حکمت عملی کے بنیادی ستونوں پر حملے
سعودی ادارے ‘دائمومہ سینٹر فار اسٹڈیز’ کے سربراہ ترکی الغوبلان نے الجزیرہ کو بتایا کہ حوثی گزشتہ برسوں میں حملوں کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے، پیچیدہ جغرافیائی حالات، خفیہ رسد اور نقل و حمل کے نیٹ ورکس اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرکے اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ان کے مطابق ‘ڈان آف یمن’ آپریشن نے حوثیوں کی اس حکمت عملی کے تین بنیادی ستونوں کو متاثر کیا ہے۔
ان میں پہلا ستون ایندھن اور رسد کا نظام ہے، جو حوثیوں کی جنگی گاڑیوں کو متحرک رکھنے، گولہ بارود پہنچانے اور کمک فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسرا ستون باب المندب کے اطراف سمندری علاقے اور یمن کا مغربی ساحل ہے، جہاں سے متبادل بیرونی رسدی راستے گزرتے ہیں۔ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور سعودی عرب کی تیل برآمدات اور چین سمیت ایشیائی معیشتوں کی یورپ کو تجارتی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کو امید، امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت سے یوکرین کو مزید مدد ملے گی
کیف، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی سے کیف کو مزید امریکی امداد ملے گی۔ دوسری جانب یورپی حکام نے بھی نئی امریکی کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے خونریز ترین تنازع کو ختم کرانے کے لیے روس پر دباؤ میں اضافہ کرے۔
زیلنسکی کا یہ بیان بدھ کو امریکی ووٹروں کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان، دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔
جرمنی کے نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی یوکرین کے مفاد میں ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ”میں ریپبلکنز کا بھی شکر گزار ہوں، لیکن ڈیموکریٹس یوکرین کی حمایت اور اسے امداد فراہم کرنے کے معاملے پر واضح موقف رکھتے ہیں۔ وہ امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں۔ اس لیے امید ہے کہ طاقت کا توازن قائم ہوگا اور ہمیں مزید حمایت حاصل ہوگی۔”
زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مزید امداد روسی صدر ولادیمیر پوتن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے زیڈ ڈی ایف سے کہا، ”اگر کانگریس اب مضبوط مالی تعاون یا فوجی امداد فراہم کرنے کی بات کرتی ہے، جیسا کہ یورپ آج کر رہا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کر رہا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی اور اس کا پوتن پر اثر پڑے گا۔”
زیلنسکی فروری 2025 میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سے ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب پر واشنگٹن کی امداد کے تئیں ”ناشکری” کا الزام عائد کیا تھا۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں روس کے حق میں قرار دیا جا رہا ہے۔ ان میں روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
گزشتہ ماہ انہوں نے روس پر ان پابندیوں کے نفاذ کو روک دیا تھا جن کی کانگریس نے یوکرین کی حمایت سے متعلق قانون سازی کے تحت بھاری اکثریت سے منظوری دی تھی۔
یوکرین نے واشنگٹن پر انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے امید ظاہر کی کہ نئی امریکی کانگریس ”یوکرین کی حمایت جاری رکھے گی اور روس پر دباؤ بھی بڑھائے گی۔”
انہوں نے کہا، ”یورپ اور امریکہ مل کر کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔” کالاس نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ دباؤ ماسکو کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کر سکے گا۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
دنیا5 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان5 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoاسرائیل میں چار دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ووٹنگ، نیتن یاہو کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
