دنیا
یورپی یونین نے مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیوں کے واقعات کے درمیان کسی تعلق سے انکار کیا
بروسلز، یورپی یونین نے براعظم میں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے حالیہ واقعات کے درمیان کسی باہمی تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم، رواں ہفتے یورپی یونین کے مختلف ممالک میں 20 سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور کئی ملکوں نے متاثرہ طیاروں کی حفاظت کے لیے جنگی طیارے روانہ کیے۔
حکام اور فضائی کمپنیوں کے مطابق جمعرات کو کم از کم 14 یورپی پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ یہ رواں ہفتے اس نوعیت کے واقعات کا تیسرا دن تھا۔ اٹلی، فرانس اور بلغاریہ کے فوجی طیاروں نے متاثرہ پروازوں کو حفاظتی حصار فراہم کیا، جبکہ کئی طیاروں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ تمام طیاروں نے بحفاظت لینڈنگ کی اور کسی میں بھی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر اپوسٹولوس تزیتزیکوستاس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والی کوئی بھی دھمکی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا رپورٹ ہونے والے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ان دھمکیوں کا خاص طور پر کم خرچ فضائی کمپنیوں اور بلغاریہ، جمہوریہ چیک اور اٹلی آنے جانے والی پروازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فضائی کمپنی ریان ایئر سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہے، جس کی رواں ہفتے کم از کم سات پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان کے مطابق میڈرڈ، کوپن ہیگن اور لندن کے اسٹینسٹیڈ ہوائی اڈے سے صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی تین پروازوں کو بم کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان میں سے دو طیاروں نے صوفیہ میں لینڈنگ کی، جبکہ لندن اسٹینسٹیڈ سے آنے والی پرواز کا رخ دارالحکومت کے مشرق میں واقع پلوودیف ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔ بلغاریہ کی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے تینوں طیاروں کو حفاظتی حصار فراہم کیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ان مشنوں کا مقصد متاثرہ طیاروں کی نگرانی، شناخت اور انہیں بحفاظت منزل تک پہنچانا تھا۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تینوں طیاروں کی تلاشی لی گئی، تاہم کسی میں بھی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
ادھر اطالوی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے نے ہیلسنکی سے روم جانے والی فن ایئر کی پرواز کو حفاظتی حصار فراہم کیا، جہاں بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے طیارے کی تلاشی لی۔ فن ایئر کی ترجمان اسٹینا تونانین نے بتایا کہ کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے فن ایئر کا ایک واضح طریقۂ کار ہے اور کمپنی ہمیشہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ہیلسنکی سے ویانا جانے والی ایک اور پرواز اے وائی 1471 کو بھی جھوٹی دھمکی دی گئی، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر ریپبلکن پارٹی کا دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن، وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران جنگ، کانگریس کے ساتھ بگڑتے تعلقات اور مواخذے کے امکانات نے ان کے عہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کو ٹرمپ کے ایک مشیر نے بتایا کہ ہیگسیتھ کی پوزیشن ”یقینی طور پر کمزور ہوچکی ہے”، تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ صدر انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ مشیر نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔
ایوان نمائندگان آئندہ ہفتے ہی ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرسکتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم غیر قانونی طور پر جاری رکھی۔ اس سلسلے میں کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے مواخذے کی تحریک پیش کی ہے، جو اسرائیل اور بیرون ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے نمایاں ناقد ہیں۔
ایران جنگ مواخذے کی کوششوں اور ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست دونوں کا مرکزی موضوع بن گئی ہے۔ جنگ کی مخالفت اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے ووٹروں میں ناراضگی پیدا کی ہے۔
ذرائع کے مطابق 28 فروری کو ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کا حکم دیے جانے سے قبل ہیگسیتھ فوجی کارروائی کے سب سے مضبوط حامیوں میں شامل تھے اور انہوں نے تنازع جلد ختم ہونے کے حوالے سے انتظامیہ کے اندر انتہائی پرامید اندازے پیش کیے تھے۔تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اگست تک تہران پر دباؤ بڑھانے کے متبادل طریقوں کی تلاش شروع کردی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکام انتظامیہ کے مقاصد کے حصول کی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق فوج کے اندر اس بحث نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ہیگسیتھ کو کب احساس ہوا کہ ابتدائی حکمت عملی سے وہ نتائج حاصل ہونا مشکل ہیں جن کی انہوں نے توقع کی تھی۔
ٹرمپ نے بدھ کو عوامی طور پر اپنے وزیر دفاع کی حمایت کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ہیگسیتھ ”بہت اچھا کام کر رہے ہیں”۔ تاہم صدر ماضی میں بھی کابینہ کے ان ارکان کی حمایت کرچکے ہیں جنہیں تنقید کا سامنا تھا، لیکن بعد میں انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔
ہیگسیتھ کی پوزیشن کو کمزور کرنے والے چار اہم عوامل ہیں۔
ڈیموکریٹس اس سے قبل بھی ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کرچکے ہیں اور جنوری میں ایوان نمائندگان میں اپنی نئی اکثریت کے بعد وہ ان کوششوں کو مزید تیز کرسکتے ہیں۔ مواخذے کی طویل کارروائی سے ان کی وزارت کے دوران کارکردگی اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے پر بھی نئے سرے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے ‘ایگزیوس’ کو بتایا کہ اگر ایران جنگ نہ ہوتی تو ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی کہیں بہتر ہوتی۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وینس کی جنگ ختم کرنے کی اپیل کے باوجود ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں: قالیباف
تہران، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد تنازع ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک سخت بیان میں وینس کے اس اعتراف کو نشانہ بنایا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
قالیباف نے سوال اٹھایا کہ نائب صدر اپنی اس رائے سے براہ راست ٹرمپ کو آگاہ کیوں نہیں کرتے۔
قالیباف نے لکھا، ”ہارنے والے جواری کی کیفیت ہے، جو میز سے اٹھنے کو تیار نہیں۔ ادھر امریکہ اسرائیل کو اولین ترجیح دینے کے راستے پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور ان کا سربراہ جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔ طویل تقریر کی ضرورت نہیں، یہ بات اپنے سربراہ سے کیوں نہیں کہتے؟”
ان کا یہ بیان وینس کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات نے ان بعض ووٹروں کو ناراض کیا ہے، جنہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔
ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے وینس نے ووٹروں کی جانب سے ڈیموکریٹس کی حمایت کی چار بڑی وجوہات بیان کیں۔ ان میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنا، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے بحران پر قابو پانا، ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کی بحالی اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات پر نظرثانی شامل ہیں۔
وینس نے لکھا، ”ہمارے ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئے۔ مذکورہ چار وجوہات ہی ہیں جن کی بنا پر ان میں سے بہت سے لوگوں نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔”
انہوں نے جنگ کے سیاسی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا، ”ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے۔ صدر نے خود گزشتہ رات یہ بات کہی تھی۔”
وینس کے اس تجزیے کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ تنازع نے ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، تاہم انہوں نے فوجی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ”یہ بات بڑی حد تک درست ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اگر مجھے دوبارہ یہ فیصلہ کرنا پڑے تو میں پھر بھی یہی کروں گا۔”
وینس کے بیان سے ایران کے خلاف انتظامیہ کی فوجی کارروائی اور اسرائیل کے ساتھ اس کی قریبی وابستگی کے اندرون ملک سیاسی اثرات کا اعتراف ظاہر ہوتا ہے۔
منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی، جس کے نتیجے میں ٹرمپ کی صدارت کے باقی دو برسوں کے لیے کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ختم ہوگیا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
شام اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرضوں پر اتفاق
ریاض، شام کے صدر احمد الشرع اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دفاعی تعاون کے معاہدے سمیت متعدد سمجھوتوں پر دستخط کی نگرانی کی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے شام کے توانائی، رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کے قرضے فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدے بدھ کو صدر احمد الشرع کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ریاض کے دوسرے دورے کے موقع پر طے پائے۔
شام کی وزارت خارجہ نے دونوں ملکوں کی وزارت دفاع کے درمیان ہونے والے تعاون کے معاہدے کو ان سمجھوتوں میں ”سب سے اہم” قرار دیا، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مجوزہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔،۔۔۔۔
الشیبانی نے ہفتے کو بحرین میں سلامتی سے متعلق کانفرنس ‘منامہ ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”مکہ اتحاد میں شام کی شمولیت کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے فی الحال بات چیت جاری ہے۔”
سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک بار پھر شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں دفاعی اور جارحانہ دونوں طرح کی مدد کے لیے امریکہ، یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعاون طلب کیا ہے۔
حوثی گروپ نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز کے ساتھ ملک پر کنٹرول کی لڑائی کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر احمد الشرع اور شہزادہ محمد بن سلمان نے موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان کے مطابق بات چیت میں فوجی کشیدگی کے علاقائی سلامتی پر اثرات، بین الاقوامی بحری جہاز رانی کا تحفظ، توانائی کی قابل اعتماد فراہمی اور عالمی معیشت کے استحکام جیسے امور شامل تھے۔
دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی اپیل بھی کی۔
شام کے سیاسی امور کے محقق احمد قاسم نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصے میں احمد الشرع کا دوسری بار سعودی عرب کا دورہ خطے اور شام کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کو مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اس کی سرزمین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دراندازی روکنے کے لیے ایک مضبوط ”بازدار قوت” کی ضرورت ہے۔
صدر احمد الشرع کے دورے کے دوران سعودی فنڈ برائے ترقی نے بھی شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں کے تحت 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرضے رعایتی شرائط پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان قرضوں میں تباہ شدہ طبی مراکز کی تعمیر نو اور انہیں جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 10 کروڑ ڈالر، متاثرہ رہائشی عمارتوں کی مرمت کے لیے 6 کروڑ ڈالر، شہری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، حلب کے تھرمل پاور پلانٹ کی بحالی کے لیے 9 کروڑ ڈالر اور دمشق و ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کی ترقی کے لیے 3 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔
کروڑ ڈالر اور دمشق و ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کی ترقی کے لیے 3 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔
دونوں حکومتوں نے صنعتی تعاون سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جبکہ زراعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں مزید دو مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق کیا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور احمد الشرع کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سعودی عرب شام کی نئی حکومت کا اہم حامی رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی اس سے قبل 6 اکتوبر کو ریاض میں ملاقات ہوئی تھی۔ شامی ایوان صدر کے مطابق اس ملاقات میں شام کی تعمیر نو کے منصوبوں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولتوں کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان5 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
دنیا5 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان1 week agoووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع، چار نئے وزراء شامل
