دنیا
حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کرنے کی رپورٹ سعودی عرب نے مسترد کردی
ریاض، سعودی عرب نے امریکی اخبار ‘دی وال اسٹریٹ جرنل’ (ڈبلیو ایس جے) کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی تحریک نے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر معاوضے اور ملک کی حکمراں اتھارٹی کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اخبار نے جمعرات کو بات چیت سے واقف نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ریاض نے تنازع کے خاتمے کی شرائط پر غور کرنے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک سے رابطہ کیا تھا۔ ان مذاکرات میں سرحدی جھڑپوں، بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں اور میزائل حملوں کے خطرات جیسے معاملات شامل تھے۔
لیک ہونے والی تفصیلات کے مطابق حوثیوں نے مبینہ طور پر سخت شرائط پیش کرتے ہوئے 51 ارب ڈالر معاوضے کے ساتھ یمن کی حکمراں اتھارٹی کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم، سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری اور سفیر رائد کریملی نے اس رپورٹ کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے ان دعوؤں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ”میں دی وال اسٹریٹ جرنل میں اس ملیشیا کے مطالبات کے حوالے سے شائع ہونے والے دعوؤں کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔”
کریملی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی، ملک میں قحط کی صورت حال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا اور یمن کو ایسے تنازعات میں دھکیل دیا جو اس کے مفادات کے خلاف تھے۔
انہوں نے حوثی گروپ پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے، شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حملے کرنے اور امن کی کوششوں کو مسترد کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے مزید کہا، ”ہم اخبار کے مصنفین کو یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یمن کی ایک تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔”
ڈبلیو ایس جے کی رپورٹ اور سعودی عرب کی تردید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری وسیع تر تنازع کے درمیان سعودی عرب اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
علاقائی جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے خطے کے مختلف مقامات پر حملے کیے۔
یمن میں بھی جولائی میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جب حوثیوں نے سعودی عرب کے یمنی فضائی حدود پر کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی طیارے کو ملک میں اترنے کی اجازت دی تھی۔
اس کے جواب میں سعودی قیادت والے اتحاد کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے صنعا ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے نتیجے میں حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے یمن کی طویل خانہ جنگی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بھی متاثر ہوئی۔
اس کے بعد سے حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور اس کی سرزمین کے علاوہ بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عوامی لیگ کو سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: بنگلہ دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کی جانب سے دسمبر 2026 تک ہندوستان میں جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کے عزم کا اعادہ کیے جانے کے درمیان، ملک کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ عوام ممنوعہ عوامی لیگ کو دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
احمد نے عوامی لیگ کو ”آمرانہ، فاشسٹ اور قاتل” جماعت قرار دیتے ہوئے کہا، ”جس جماعت نے لوگوں کو قتل کیا، نسل کشی کی، ظلم و ستم اور تشدد کا ارتکاب کیا اور اب تک نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی اپنے اعمال پر ندامت کا اظہار کیا ہے، اسے اس ملک میں سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
وہ چٹگاؤں کے فتح چھڑی میں واقع بابونگر مدرسے میں منعقدہ دو روزہ 104ویں سالانہ مذہبی اجتماع کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
شیخ حسینہ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش واپسی پر انہیں گرفتاری، قید یا تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی ہے۔
انہوں نے کہا، ”اگر میری قسمت میں موت لکھی ہے تو میں اپنے ہی ملک کی سرزمین پر، اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کروں گی۔ اس لیے میں بنگلہ دیش واپس آؤں گی۔ میرا فیصلہ نہیں بدلا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے لوگوں کو دور سے مصائب میں مبتلا دیکھتے ہوئے نہیں گزار سکتیں۔
اس سوال پر کہ کیا انہیں توقع ہے کہ ہندوستان یا امریکہ ڈھاکہ پر ان کی سلامتی کی ضمانت دینے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، حسینہ نے کسی بیرونی سفارتی مدد کی ضرورت سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ”میں تمام ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کو اہمیت دیتی ہوں، لیکن مجھے اپنے وطن واپس آنے کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی سرپرستی یا منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔”
وزیر داخلہ احمد نے اس موقع پر حفاظتِ اسلام بنگلہ دیش کی بھی تعریف کی، جس نے ان کے بقول سابق عوامی لیگ حکومت کے فاشسٹ، اسلام مخالف اور غیر قانونی اقتدار کے خلاف احتجاج جاری رکھا، حالانکہ یہ تنظیم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حفاظتِ اسلام کے امیر مولانا محب اللہ بابونگری نے فاشزم کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات سے قبل اور وسیع تر تحریک کے دوران مظاہروں کی قیادت کی تھی۔
وزیر داخلہ نے کہا، ”بنگلہ دیش کو آزادی حاصل کرنے میں 23 سال لگے، جبکہ ملک کو ایک فاشسٹ اور علما مخالف حکومت کے چنگل سے آزاد کرانے میں مزید 16 سے 17 سال صرف ہوئے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس جدوجہد کے دوران علما اور طلبہ نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، لیکن ہلاک ہونے والوں میں سے بہت سے افراد کی شناخت اب تک نہیں ہوسکی ہے یا ان کی تدفین کے مقامات کا پتہ نہیں ہے۔
احمد نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی اور اگست کی عوامی تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عوامی لیگ کے گزشتہ 16 سے 17 سالہ دور حکومت میں تقریباً 3,000 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ”میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میری بقا کا فیصلہ کیا تھا۔ میں آج آپ لوگوں کی دعاؤں اور اللہ کے فضل و کرم سے زندہ ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 7,000 افراد کو مختلف طریقوں سے قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ لاکھوں افراد حملوں اور سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات کے ذریعے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک ایک بار پھر ان قوتوں کی واپسی چاہتا ہے جو ان مظالم کی ذمہ دار تھیں؟
احمد نے یہ الزام بھی لگایا کہ گارمنٹ سیکٹر میں حالیہ بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث بعض گروہوں کے روابط سابق عوامی لیگ حکومت سے تھے۔
انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں پر انتخابی مقاصد کے لیے اسلام کے استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے انتخابی منشور میں اسلامی اصولوں سے متعلق کوئی بامعنی عہد شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”کچھ جماعتیں خود کو اسلامی جماعتیں قرار دیتی ہیں، لیکن ان کے انتخابی منشور سے ‘اقیموا الدین’ کی اصطلاح حذف کردی گئی ہے۔ وہ عوامی سطح پر کچھ اور کہتی ہیں، لیکن ان کی دستاویزات میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے جوہری معاملے پر امریکہ کو قطر کے ذریعے تجاویز بھیج دیں
تہران، ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جوہری معاملے سے متعلق تجاویز قطر کے ذریعے امریکہ کو بھیج دی گئی ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات ایران کی جانب سے پیش کردہ ساتوں شرائط پوری ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثوں نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس دوران خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جبکہ ایران نے بھی نئی جنگ کی صورت میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ تہران نے امریکہ کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں اور ان پر عمل درآمد تک نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات ہوں گے۔
ایران کے مطالبات میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سمیت دیگر امور شامل ہیں، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں کا معاملہ بھی زیر بحث آنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین اور عراق سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے تھے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران کو تباہ کرنے کے حق میں نہیں ٹرمپ، تہران اور واشنگٹن جوہری تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں
نئی دہلی، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کو ”تباہ کرنا نہیں چاہتے”، تاہم انہوں نے مزید حملوں کا حکم دینے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ جلد ہی سامنے آجائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو یہ بیان امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے دو دن بعد دیا۔ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اس انتخابی نقصان کی ایک وجہ ایران کے خلاف غیر مقبول جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو بھی قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کو ایک ”تاریخی” مہم قرار دے کر اس کا دفاع کیا تھا، تاہم انتخابات کے بعد انہیں سخت تنقید اور سوالات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے البتہ عوامی طور پر ان کی حمایت کی ہے۔
دھمکی آمیز بیانات کے ساتھ ہی سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو پانچ عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ان میں دو ایرانی اور ایک امریکی عہدیدار بھی شامل ہیں، تہران قطر کی قیادت میں ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی انکشاف کیا کہ واشنگٹن قطر کے ذریعے تہران کی بھیجی گئی جوہری تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق بات چیت اسی صورت میں ہوگی جب امریکہ ایران کے اگست میں پیش کردہ سات مطالبات پر غور کرے گا۔
ان مطالبات میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، پابندیوں کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، خطے سے امریکی فوجیوں کا انخلا، ایران اور اس کے اتحادیوں بشمول حزب اللہ کے خلاف جنگ کا مستقل خاتمہ اور ایران کو دوبارہ دھمکی نہ دینے کی ضمانت شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جمعرات کو جب ٹرمپ سے ایرانی مذاکرات کاروں کی جانب سے تجاویز کا جائزہ لینے سے متعلق اطلاعات پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ”وہ ہماری منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہیں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران میں اپنی مرضی کی ہر چیز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے میں 25 سال لگیں گے۔انہوں نے کہا، ”اب ہم فیصلہ کریں گے کہ آیا ہمیں مزید آگے بڑھ کر اس بات کی تصدیق کرنی ہے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا، ”اگر ممکن ہوا تو میں باقی ملک کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا، لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے۔ آپ کو جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔”
ادھر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے جمعرات کو ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کے ایک بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جامع معاہدہ طے کرانے اور علاقائی بحران ختم کرنے کے لیے دوحہ کی ثالثی کی کوششوں پر گفتگو کی۔ قطری امیر نے کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی آزادی برقرار رکھنے اور توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعرات کو اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید سے علاقائی صورت حال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ عراقچی کے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس میں ایرانی قیادت، بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس شدید حملے میں ایران کے متعدد اعلیٰ سیاسی اور فوجی رہنما ہلاک ہوگئے تھے۔
اس حملے کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور عرب ممالک پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کردی، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
اپریل میں غیر یقینی جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی اپنی ناکہ بندی کردی، جس کے بعد ایران پر اسرائیلی فضائی حملے بڑی حد تک رک گئے۔ تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آج اسلامی جمہوریہ کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
ہندوستان6 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا6 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا4 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
-
ہندوستان6 days agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
دنیا1 week agoپوتن نے مصر کے صدر السیسی سے ملاقات کی
-
ہندوستان6 days agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
جموں و کشمیر1 week agoکانگریس کے سیاسی نعرے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے: جموں و کشمیر بی جے پی صدر
-
دنیا3 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
