جموں و کشمیر
”اسلحہ لائسنس اسکام”: آئی اے ایس افسران کی مفادِ عامہ کی عرضی میں مداخلت کی درخواست مسترد
جموں، مبینہ اسلحہ لائسنس اسکام کے معاملے میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے دو آئی اے ایس افسران کی جانب سے دائر کردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔ ان افسران نے مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں مداخلت اور فریق بنائے جانے کی استدعا کرتے ہوئے محکمہ پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی)، حکومتِ ہند کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل ان کی جانب سے پیش کردہ نمائندگیوں پر غور کیا جائے۔
چیف جسٹس ڈاکٹر پشپیندر سنگھ بھاٹی اور جسٹس راج نیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شیخ محمد شفیع اور ایک دیگر بنام حکومتِ ہند و دیگر کے عنوان سے دائر پی آئی ایل نمبر 9/2012 کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔
دونوں آئی اے ایس افسران کی جانب سے سینئر وکیل سکل بھوشن اور ایڈوکیٹ راہل شرما پیش ہوئے، جبکہ پی آئی ایل کے درخواست گزاروں کی طرف سے ایڈوکیٹ ایس ایس احمد نے پیروی کی۔ حکومتِ ہند کی جانب سے سینئر وکیل وشال شرما اور سینٹرل گورنمنٹ اسٹینڈنگ کونسل کرن شرما، جبکہ حکومتِ جموں و کشمیر کی جانب سے سینئر وکیل مونیکا کولی اور معاون وکیل صغیرہ جعفر عدالت میں پیش ہوئیں۔
چیف جسٹس ڈاکٹر پشپیندر سنگھ بھاٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ سینئر وکیل سکل بھوشن نے عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ منظوری کو ازخود حاصل شدہ تصور کرنے کا اصول (ڈاکٹرائن آف ڈیمڈ سینکشن) اس معاملے میں لاگو نہیں کیا جا سکتا، بلکہ متعلقہ حکام اور عدالت کو ہر معاملے کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔
بنچ نے مزید کہا کہ سینئر وکیل سکل بھوشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف اتنی محدود راحت چاہتے ہیں کہ سی بی آئی کی جانب سے مقدمہ چلانے کی منظوری سے متعلق پیش کردہ تجویز پر کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مجاز اتھارٹی یا ڈی او پی ٹی ان کی نمائندگی پر غور کرے۔
سینئر وکیل کے دلائل پر غور کرنے کے بعد ڈویژن بنچ نے کہاکہ ”عدالت متعلقہ حکام کو ایسی ہدایت جاری کرنا غیر ضروری سمجھتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بھوشن نے متبادل طور پر درخواست واپس لینے اور ڈی او پی ٹی کے سامنے اپنی نمائندگی پر کارروائی جاری رکھنے کی اجازت طلب کی ہے۔”
بنچ نے مزید مشاہدہ کیاکہ ”عدالت نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سینئر وکیل کے دلائل کا خلاصہ محض یہ تھا کہ اگر عدالت ہدایت جاری نہیں کرے گی تو جواب دہندگان معاملے پر مناسب غور نہیں کریں گے۔ عدالت اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتی۔”
ان مشاہدات کے ساتھ ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ اس کی پختہ رائے میں اس درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔
چنانچہ درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔ اس موقع پر دونوں آئی اے ایس افسران کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں قانون کے تحت دستیاب مناسب قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کی آزادی دی جائے۔
اس پر ڈویژن بنچ نے کہا کہ ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے عدالت سے ایسی کسی خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
سماعت کے دوران مذکورہ پی آئی ایل کے درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ ایس ایس احمد نے عدالت کو بتایا کہ مفادِ عامہ کی عرضی میں ڈویژن بنچ کے سابقہ حکم کی تعمیل میں وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں وزارتِ داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ تفصیلی جائزے اور تحقیقاتی ایجنسی نیز حکومتِ جموں و کشمیر سے مشاورت کے بعد وزارت نے اس تجویز پر اپنی رائے اور تبصرے کو حتمی شکل دے دی ہے اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق حتمی فیصلہ کرنے کے لیے اپنی غور و خوض کے بعد مرتب کردہ رائے ڈی او پی ٹی کو بھیج دی ہے۔
ایڈوکیٹ ایس ایس احمد نے مزید کہا کہ وزارتِ داخلہ کی تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ کے پیش نظر ڈی او پی ٹی کو ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ اس معاملے میں کیے گئے حتمی فیصلے سے عدالت کو آگاہ کرے۔
ان کے دلائل پر غور کرنے کے بعد ڈویژن بنچ نے حکومتِ ہند کی جانب سے پیش ہونے والے ڈپٹی سالیسٹر جنرل آف انڈیا وشال شرما کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کے وقتاً فوقتاً جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد سے متعلق ایک جامع رپورٹ پیش کریں۔
ڈویژن بنچ نے رجسٹری کو یہ بھی ہدایت دی کہ مذکورہ مفادِ عامہ کی عرضی کو مزید سماعت کے لیے 23 دسمبر 2026 کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
امریکی سینیٹر کے انتخاب پر خوشی کے اظہار کے درمیان انجینئر رشید کی قید پر سیاسی رہنماؤں کی خاموشی: اے آئی پی
سرینگر، جیل میں مقید رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی قیادت والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے جمعہ کے روز ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے رشید کی مسلسل قید پر خاموشی اختیار کرنے پر سوال اٹھایا۔ پارٹی نے یہ سوال امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کے انتخاب پر سیاسی رہنماؤں کے ردعمل کے تناظر میں کیا ہے۔
اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی، کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت، سماج وادی پارٹی کے ترجمان آشوتوش ورما اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں انتخابی پیش رفت پر سیاسی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر سے منتخب ایک رکن پارلیمنٹ مسلسل جیل میں قید ہیں اور ان کے حق میں اسی طرح کی سیاسی یکجہتی دیکھنے میں نہیں آتی۔
انہوں نے سوال کیاکہ ”چاہے اویسی ہوں، راجپوت ہوں، آشوتوش ورما ہوں یا کوئی اور، ہر کوئی امریکہ میں ہندوستانی نژاد مسلم سینیٹر کے انتخاب پر تبصرہ کرنے اور خوشی منانے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ لیکن جب بارہمولہ کے عوام کے منتخب نمائندے انجینئر رشید برسوں تک تہاڑ جیل میں قید رہے، اس وقت یہ آوازیں کہاں تھیں؟ ان کی رہائی کے لیے کتنے رہنماؤں نے آواز اٹھائی یا اپنے حلقہ انتخاب کے جمہوری فیصلے کے حق میں کھڑے ہوئے؟”
ایک بیان میں انعام النبی نے کہا کہ امریکہ میں کسی ہندوستانی نژاد سیاست داں کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، تاہم انہوں نے سیاسی یکجہتی کے اس منتخب اور امتیازی رویے پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہاکہ ”جمہوریت سہولت اور پسند کے مطابق اختیار کیا جانے والا معاملہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہزاروں میل دور امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کا انتخاب سیاسی توجہ اور جشن کا مستحق ہے تو اپنے ہی ملک میں ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کی مسلسل قید پر بھی کم از کم اتنی ہی تشویش ظاہر کی جانی چاہیے۔ کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق کی اہمیت کہیں اور ہونے والی سیاسی پیش رفت سے کم نہیں ہوسکتی۔”
انہوں نے کہا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام نے جمہوری عمل کے ذریعے انجینئر رشید کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا، لیکن بیرون ملک ہونے والی پیش رفت پر جوش و خروش کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنما ان کی رہائی کے لیے اسی طرح کا عزم ظاہر کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔
انعام النبی نے مزید کہاکہ ”سیاسی رہنماؤں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ جمہوری نمائندگی کے بارے میں ان کی تشویش عالمگیر ہے یا جغرافیائی حدود، سیاسی سہولت اور انتخابی مفادات تک محدود ہے۔”
اے آئی پی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے اور انجینئر رشید کی طویل قید پر سیاسی رہنماؤں کو مستقل توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اپنی سہولت کے مطابق یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔
یواین آئی ظ ا
جموں و کشمیر
بانڈی پورہ پولیس نے علیحدگی پسندوں سے منسلک ماڈیول کے معاملے میں مزید دو افراد کو گرفتار کرلیا، گرفتار شدگان کی تعداد آٹھ ہوگئی
بانڈی پورہ، جموں و کشمیر پولیس نے جمعہ کے روز ممنوعہ تنظیم اتحاد المسلمین کے مبینہ جیل سے منسلک دہشت گرد ماڈیول کے معاملے میں مزید دو افراد کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد اس کیس میں گرفتار ہونے والوں کی مجموعی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
گرفتار شدگان کی شناخت بارہمولہ کے چکلو علاقے کے رہنے والے ارشاد احمد بھٹ اور سوپور کے واٹلب کے رہائشی شوکت احمد ریشی کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ گرفتاریاں ایف آئی آر نمبر 168/2026 کے سلسلے میں عمل میں آئیں، جو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات 10 اور 13 کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مبینہ ماڈیول کی تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد ملزمین کے ملوث ہونے کی نوعیت اور حد کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ روابط اور ساتھیوں کی شناخت کرنا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
اس سے قبل 24 اکتوبر کو بانڈی پورہ پولیس نے اس ماڈیول کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں چار خواتین بھی شامل تھیں۔
پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ خفیہ نیٹ ورک ممنوعہ تنظیم اتحاد المسلمین سے منسلک تھا اور پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر کی ہدایات پر علیحدگی پسند نظریات اور پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے سرگرم تھا۔ پولیس کے مطابق، خواتین کو مبینہ طور پر بھرتی کرنے اور ان کی ذہن سازی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
تفتیش کار اس نیٹ ورک کے ممکنہ مالی روابط اور اس کی سرگرمیوں کے وسیع دائرے کا پتا لگانے کے لیے جیل کے اندر سے مبینہ رابطہ کاری، خفیہ ملاقاتوں اور مالی لین دین کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ڈل جھیل کا مشہور تیرتا ڈاک خانہ صبح 9 سے رات 9 بجے تک کھلا رہے گا
سرینگر، سرینگر کی مشہور ڈل جھیل پر واقع تیرتا ڈاک خانہ اب روزانہ 12 گھنٹے کھلا رہے گا۔ محکمہ ڈاک نے اس کے اوقاتِ کار میں توسیع کرتے ہوئے صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ڈاک خانہ نہرو پارک کے قریب ایک ہاؤس بوٹ میں قائم ہے۔
یہ فیصلہ لال چوک ہیڈ پوسٹ آفس کے اوقاتِ کار میں حال ہی میں کی گئی توسیع کے بعد عوام کی جانب سے ملنے والے حوصلہ افزا ردعمل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ لال چوک ہیڈ پوسٹ آفس بھی اب صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھلا رہتا ہے۔
انڈیا پوسٹ کے زیر انتظام تیرتا ڈاک خانہ مقامی باشندوں اور سیاحوں کو معمول کی ڈاک خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاحوں کو ڈل جھیل پر ایک ہاؤس بوٹ سے ڈاک خانے کی سہولت حاصل کرنے کا منفرد تجربہ بھی فراہم کرتا ہے۔
جموں، کشمیر اور لداخ کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ساگر ہنومان سنگھ (آئی پی او ایس) نے ڈائریکٹر پوسٹل سروسز پرتیک اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پوسٹ آفسز، سرینگر پوسٹل ڈویژن، آدم محی الدین کے ہمراہ تیرتے ڈاک خانے کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران افسران نے صارفین اور سیاحوں سے بات چیت کرکے ان کی ضروریات کا جائزہ لیا۔ نہرو پارک میں سیاحوں اور دیگر افراد کی بڑی تعداد میں آمد اور دفتری اوقات کے بعد بھی ڈاک خدمات کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ نے ڈاک خانے کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ساگر ہنومان سنگھ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سیاحوں، مقامی باشندوں اور دیگر زائرین کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔
ڈائریکٹر پوسٹل سروسز پرتیک نے کہا کہ تیرتا ڈاک خانہ نہ صرف ایک اہم ڈاک سہولت ہے بلکہ سیاحوں کے لیے ایک بڑی کشش بھی رکھتا ہے۔
آدم محی الدین نے کہا کہ لال چوک ہیڈ پوسٹ آفس کے اوقات میں توسیع کے بعد ملنے والے حوصلہ افزا ردعمل نے محکمہ کو ڈاک خدمات تک عوام کی رسائی مزید بہتر بنانے کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطے کے مزید ڈاک خانوں کے اوقاتِ کار میں توسیع کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان6 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
دنیا6 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا4 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
-
دنیا1 week agoپوتن نے مصر کے صدر السیسی سے ملاقات کی
-
ہندوستان6 days agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
ہندوستان6 days agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان4 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
