دنیا
حوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
ریاض، سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں پر مملکت میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یمن میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں کے حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران صوبوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کب کیے گئے۔
المالکی نے حملوں کو ’’خطرناک کشیدگی‘‘ اور سعودی عرب کی خودمختاری کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان سے مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد حملوں کا مقابلہ کرنے اور خطرے کے ذرائع کے خلاف کارروائی کے لیے ’’تمام ضروری عملی اقدامات‘‘ کرے گا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے ایک الگ بیان میں کہا کہ منگل کی صبح مملکت کے جنوبی علاقوں میں ’’توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق حملوں میں ’’متعدد شہری اور رہائشی‘‘ زخمی ہوئے اور ’’کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی‘‘، جس کے باعث ’’کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں‘‘۔
حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر شمالی صوبہ الجوف کے علاقے الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کرنے اور کم از کم 7 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ گروپ نے کہا تھا کہ ’’یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
ریاض نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یمن میں 2014 سے تنازع جاری ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔
جولائی میں اس وقت دشمنیاں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں جب حوثیوں نے صنعا کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے۔
اسی ماہ کے آخر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
جمعرات کو حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی شروع کی اور مغربی تعز اور جنوبی حدیدہ سے پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور باب المندب آبنائے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔
ابتدائی طور پر لڑائی تعز کے مغرب اور حدیدہ کے جنوب تک محدود تھی، تاہم اب یہ الضالع، مارب، الجوف اور البیضا صوبوں تک پھیل گئی ہے۔ حکومت حوثی فورسز کو مختلف محاذوں پر پھیلانے اور گروپ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 24 اگست سے اب تک تقریباً 1,078 افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جمعرات سے 21,000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کا امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں پر تشویش کا اظہار
ماسکو، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے دوبارہ شروع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس “قابلِ اجتناب بحران” کے شدید جیو پولیٹیکل اور اقتصادی اثرات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
ترک نے پیر کے روز انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں سے تشویش میں مبتلا ہوں، جن سے پورا خلیجی خطہ متاثر ہو رہا ہے۔”
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جس کے جواب میں ایرانی فریق نے بھی اپنے حملے کیے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے معاندانہ کارروائیوں کے خاتمے کے مقصد سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن اس کے فوراً بعد ان کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔
گزشتہ ہفتے، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے جزیرہ خارگ کے قریب، جاسک کے ساحل پر اور خلیجِ عمان میں ایران کے تین تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ کم از کم ایک ٹینکر کو نقصان پہنچا۔ اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکہ سے منسلک تین تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور ایک امریکی ایئر کرافٹ کیریئر اور ڈسٹرائر پر حملہ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
میکخواں کا 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پورے یورپ میں سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ
ماسکو، فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر روک لگانے کے لیے پورے یورپ میں نافذ ہونے والا قانون بنانے کو کہا ہے۔
‘ایجنس فرانس پریس’ نے ایک فرانسیسی لیڈر کے خط کے حوالے سے یہ معلومات دی۔ رپورٹ کے مطابق، مسٹر میکخواں نے خاص طور پر ‘یورپی یونین کے تمام بچوں کے تحفظ’ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کام میں یورپی کمیشن کے شعبوں کی ‘مہارت اور فعال شرکت’ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
خبروں کے مطابق، میکخواں نے خط میں کہا ہے، “اس صورتحال میں فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔”
اگست کے وسط میں، فرانس کی آئینی کونسل نے فیصلہ سنایا تھا کہ بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر میخواں کی مجوزہ پابندی یورپی یونین کے قوانین کے مطابق نہیں ہے۔ اس کے باوجود، مسٹر میکخواں 2027 کی بہار تک اس قانون کو نافذ کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔
یواین آئی/ اسپوتنک۔الف الف
دنیا
روس کی مدد سے نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانا چاہتا ہے ایران: روساٹوم
ماسکو، روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی روساٹوم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) الیکسی لیخاچیو نے بتایا کہ ایران روس کی مدد سے نیا ایٹمی توانائی پلانٹ بنانا چاہتا ہے۔
جب ایران میں نیا ایٹمی توانائی پلانٹ بنانے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا، تو لیخاچیو نے کہا، “ان کی یقیناً ایسی خواہش ہے۔” ایران میں ابھی صرف ایک ایٹمی توانائی پلانٹ چل رہا ہے – بشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ۔ اس کا پہلا یونٹ ستمبر 2011 میں نیشنل گرڈ سے جوڑا گیا تھا۔ روساٹوم کا منصوبہ بشہر این پی پی میں مزید دو یونٹ بنانے کا بھی ہے۔
ایران اور روس نے ستمبر 2025 کے آخر میں جنوبی صوبے ہرمزگان میں ایران کے نئے ہرمز این پی پی کے لیے 25 ارب ڈالر کی لاگت سے چار پاور یونٹس بنانے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ماسکو اور تہران نے ایران میں چھوٹے نیوکلیئر پاور پلانٹس بنانے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
جموں و کشمیر3 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoنیپال میں سرنگوں میں پھنسے افراد نے سیلاب متاثرین کی تلاش و امداد مشکل بنا دی، 900 سے زائد ہلاک، تقریباً 5 ہزار لاپتہ
