جموں و کشمیر
جموں میں مشتبہ منشیات فروش این سی بی کی حراست سے فرار
جموں، جموں ضلع کے نروال علاقے میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی حراست سے فرار ہونے والے ایک مشتبہ منشیات فروش کو پکڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کردی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ پلوامہ کے کاکاپورہ کا رہائشی مشتبہ منشیات فروش عاقب بشیر کو 3 ستمبر کو سامبا ضلع میں ایک مسافر بس سے ہیروئن سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی شب وہ جموں کے نروال علاقے میں این سی بی کی حراست سے فرار ہوگیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیموں نے این سی بی حکام کے ساتھ مل کر اسے تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کردی۔ حکام نے بتایا کہ ’’ملزم کو تلاش کرنے کے لیے مختلف مقامات پر ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں پولیس نے اسلحہ سمیت ’خوف گینگ‘ کے چھ ارکان کو گرفتار کرلیا
جموں، جموں پولیس نے ارنیہ علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ’خوف گینگ‘ کے چھ ارکان کو پستول اور تیز دھار ہتھیاروں سمیت گرفتار کرلیا۔
پولیس نے بتایا کہ گینگ کے چھ ارکان کو کول کلاں میں ایک شخص کو پستول اور تیز دھار ہتھیار دکھا کر مبینہ طور پر دھمکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
پولیس نے کہاکہ ’’شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کی گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔‘‘ پولیس نے مزید بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے ایک میگزین سمیت پستول، تین کارآمد کارتوس اور پانچ تیز دھار ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
تاہم، پولیس نے معاملے کی اصل حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں موسم کی پہلی برف باری
سری نگر، کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہفتہ کے روز رواں موسم کی پہلی برف باری ریکارڈ کی گئی۔ تقریباً 3,900 میٹر سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں ہلکی برف باری ہوئی، جو وادی میں موسم خزاں کی جانب بتدریج منتقلی کی علامت ہے۔
گاندربل ضلع کے سونا مرگ اور زوجیلا کے علاقوں، بشمول زوجیلا اور گمری پہاڑوں میں ہلکی برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ بارہمولہ ضلع کے گلمرگ کے اطراف کے بالائی علاقوں اور پیر پنجال سلسلۂ کوہ میں بھی تازہ برف باری ہوئی۔
سری نگر ضلع میں واقع مہادیو چوٹی ہلکی تازہ برف سے ڈھک گئی، جبکہ بانڈی پورہ ضلع کی کاؤبل گلی اور گریز کی تلائل وادی سے بھی برف باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
برف باری انتہائی بلند علاقوں تک ہی محدود رہی اور خطے کے لیے موسم کی پیش گوئی کے پیش نظر اس کی توقع کی جا رہی تھی۔
موسم کے ماہرین نے کہا کہ اتنی بلندی پر برف باری کا ہونا، خواہ مختصر وقفے کے دوران ہی کیوں نہ ہو، موسم کی تبدیلی اور خطے سے مانسون کی بتدریج واپسی کی علامت ہے۔
محکمہ موسمیات نے 13 ستمبر تک جموں و کشمیر میں موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم بعض مقامات پر مختصر وقفے کے لیے بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے 14 اور 15 ستمبر کو کہیں کہیں بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ 16 سے 18 ستمبر کے دوران موسم عموماً خشک رہنے کی توقع ہے۔ تاہم بعض مقامات پر مختصر وقفے کے لیے بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
سرینگر، وادی کشمیر میں جنگلی سوروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے سائنسدانوں نے جینیاتی تحققی کام شروع کر دیا ہے۔
شیرِ کشمیر زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کشمیر (ایس کے یو اے ایس ٹی-کے) کے وائلڈ لائف سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر خورشید احمد نے بتایا کہ جانور کا ایک نمونہ پہلے ہی جمع کر لیا گیا ہے۔ اب جموں اور ہندوستان کے اہم حصوں میں پائی جانے والی جنگلی سوروں کی آبادی کے ساتھ ان کے تعلق کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی تجزیہ کیا جائے گا۔
مسٹر خورشید نے یو این آئی کو بتایا، “ہم جینیاتی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کا تعلق اہم آبادی (جموں یا ہندوستان کے اہم حصے کی آبادی) سے ہے یا پھر ان کا تعلق کشمیر کے دوسری طرف یعنی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار کی آبادی سے ہے۔”
یہ مطالعہ کشمیر میں اس نوع کی موجودگی کو لے کر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ہو رہا ہے کیونکہ وادی کے کئی علاقوں میں کسان زراعت اور سبزیوں کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ جنگلی سور کو کشمیر کا مقامی جانور نہیں مانا جاتا ہے اور 1980 کی دہائی میں اس علاقے میں انہیں مقامی طور پر معدوم قرار دے دیا گیا تھا۔ مسٹر خورشید کے مطابق اس نوع کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں شکار کے مقصد سے کشمیر لایا گیا تھا، خاص طور پر داچی گام نیشنل پارک کے آس پاس کے جنگلات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں۔ داچی گام میں تین جنگلی سور 2013 میں دوبارہ دیکھے گئے تھے۔ اس سے پہلے 1984 میں اس نوع کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔
آبادی کے ساتھ ان کے تعلقات کی جانچ کی جائے گی اور اس کے بعد پورے کشمیر میں جنگلی سوروں کی آبادی کا جینیاتی تخمینہ لگایا جائے گا۔ اس تحقیق سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ کشمیر کے الگ الگ حصوں میں پائے جانے والے جانور ایک ہی، باہم جڑی ہوئی آبادی کا حصہ ہیں یا الگ الگ آبادی ہیں۔ اس سے جین کے بہاؤ، نقل و حرکت کے انداز اور وادی میں اس نوع کی توسیع کے بارے میں بھی معلومات مل سکتی ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر5 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
-
دنیا5 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
ہندوستان7 days agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا1 week agoاگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
-
جموں و کشمیر2 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
دنیا5 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر6 days agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا7 days agoنیپال میں سرنگوں میں پھنسے افراد نے سیلاب متاثرین کی تلاش و امداد مشکل بنا دی، 900 سے زائد ہلاک، تقریباً 5 ہزار لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoکاس گنج سڑک حادثہ میں چھ عقیدتمندوں کی موت، 20 زخمی
