دنیا
مالدیپ کے صدر کی برطانوی وزیر اعظم کو چاگوس جزائر پر مذاکرات کی دعوت
مالے، مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے چاگوس جزائر کی خودمختاری سے متعلق امور پر باضابطہ مذاکرات کے لیے برطانوی وزیر اعظم اینڈریو برنہم کو دعوت دی ہے۔
صدر معیزو نے منگل کو برطانوی وزیر اعظم کے نام ایک خط میں یہ دعوت دی اور چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے کے برطانیہ کے فیصلے پر مالدیپ کے تحفظات کا اظہار کیا۔
اپنے خط میں معیزو نے مالدیپ اور چاگوس جزائر کے درمیان مشترکہ تاریخ اور ثقافتی روابط کے ساتھ ساتھ خطے میں سمندری حیات کے تحفظ اور سائنسی تحقیقی مہمات کے لیے مالدیپ کی طویل عرصے سے جاری حمایت کو اجاگر کیا۔
مالدیپ کے صدر نے چاگوس سے متعلق امور پر برطانیہ کے ساتھ ’’قابلِ اعتماد اور تعمیری شراکت داری‘‘ برقرار رکھنے کے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم ساتھ ہی مالدیپ کی ریاست اور اس کے عوام کے ان مفادات کے تحفظ پر زور دیا جنہیں انہوں نے جائز قرار دیا۔
معیزو نے چاگوس جزائر کی خودمختاری سے متعلق معاملات پر مالدیپ اور برطانیہ کے درمیان بامعنی مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مالدیپ کے صدر دفتر کے ایک بیان کے مطابق، انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ رابطہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بحر ہند میں استحکام اور سلامتی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
مالدیپ نے برطانیہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز کو تسلیم نہیں کرتا۔
مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈیوڈ لیمی کے ساتھ دو تحریری اعتراضات اور ایک ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل ملک مالدیپ نے چاگوس جزائر کے حوالے سے اپنے مفادات کا دعویٰ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کے حق میں بین الاقوامی قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ کے وزیر اسٹیفن ڈاؤٹی نے اس سے قبل کہا تھا کہ چاگوس جزائر کی خودمختاری کا معاملہ برطانیہ اور ماریشس کے درمیان ہے اور اس کا مالدیپ سے کوئی تعلق نہیں۔
چاگوس جزائر، جنہیں سرکاری طور پر برٹش انڈین اوشن ٹیریٹری (BIOT) کہا جاتا ہے، بحر ہند میں واقع ہیں اور 19ویں صدی کے اوائل سے برطانیہ کے کنٹرول میں ہیں۔
گزشتہ سال برطانوی حکومت نے اس علاقے کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ جزائر کے سب سے بڑے جزیرے ڈیاگو گارشیا میں قائم مشترکہ برطانیہ-امریکا فوجی اڈے تک رسائی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مجوزہ معاہدے کے تحت برطانیہ فوجی اڈے کو لیز پر لینے کے لیے اوسطاً سالانہ 101 ملین پاؤنڈ ادا کرے گا۔
ماریشس طویل عرصے سے چاگوس جزائر کی خودمختاری کا دعویٰ کرتا رہا ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی قانونی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھاتا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمنی فورسز کی حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی، صنعا واپس لینے کا عزم
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فورسز نے حوثی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایران کے حمایت یافتہ گروپ سے دارالحکومت صنعا واپس لینا ہے۔
پیر کو تعز، البیضا اور الجوف صوبوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ الجوف کو دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کے لیے اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے اور زمینی دستوں کے درمیان ’’شدید لڑائی‘‘ جاری رہی۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے الجوف میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی پسپا کر دی ہے۔ گروپ کے مطابق الحزم شہر میں ایک جیل پر فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے اس حملے کا الزام ریاض پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جارحیت کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں پر مملکت کے جنوبی صوبوں میں حالیہ حملوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہریوں کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ریاض نے اس ’’خطرناک کشیدگی‘‘ کے جواب میں کارروائی کا بھی وعدہ کیا ہے۔
کشیدگی میں اضافے کے دوران یمن کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ حکومت نے ’’صنعا واپس لینے‘‘ کا فیصلہ کیا ہے۔
یمنی حکومت کی حامی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا کہ مہم کا مقصد ’’یمن کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا اور صنعا کو تمام یمنی باشندوں کے لیے دارالحکومت کی حیثیت سے بحال کرنا‘‘ ہے۔
انہوں نے شہریوں کو صنعا جانے والی کئی اہم شاہراہوں سے دور رہنے کی بھی تنبیہ کی۔ ان کے مطابق یہ انتباہ دارالحکومت کو مارب اور الجوف سے ملانے والے راستوں پر لاگو ہوتا ہے، جن میں نہْم، صرواح، مہلیہ اور الحزم سے گزرنے والی سڑکیں شامل ہیں۔
یہ دشمنی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سب سے سنگین کشیدگی ہے۔
یمن میں جنگ 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی۔ سفارت کاروں کو امید تھی کہ جنگ بندی ایک پائیدار سیاسی تصفیے کی بنیاد بنے گی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔
جولائی میں اس وقت لڑائی دوبارہ شروع ہوئی جب حکومتی فورسز نے صنعا میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ہوائی اڈے پر حملہ کیا اور ایران سے آنے والے ایک طیارے کو اترنے سے روک دیا۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی شروع کی اور مغربی تعز اور جنوبی حدیدہ کے راستے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا اور باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں کے لیے اس آبی راستے کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز پر آبنائے ہرمز سے آمدورفت محدود کیے جانے کے بعد سعودی تیل کی برآمدات کے لیے باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
الجزیرہ کے یمن امور کے ایڈیٹر احمد الشلافی نے کہا کہ یمنی حکومتی فورسز بظاہر حوثیوں کی ابتدائی کارروائی کا جھٹکا برداشت کر چکی ہیں اور ’’لڑائی کو کئی محاذوں تک پھیلا دیا ہے تاکہ حوثی فورسز کو مختلف علاقوں میں مصروف رکھا جا سکے اور ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو لڑائی زیادہ تر تعز کے مغرب اور حدیدہ کے جنوب تک محدود تھی، لیکن اب یہ الضالع، مارب، الجوف اور البیضا صوبوں تک پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’الجوف خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے اور یہ صوبہ صعدہ کی جانب راستہ فراہم کرتا ہے، جو حوثیوں کا اہم گڑھ ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’البیضا تزویراتی اعتبار سے اہم ہے کیونکہ یہ یمن کے وسط میں واقع ہے اور 8 گورنریٹس کو آپس میں ملاتا ہے، جن میں 4 شمال اور 4 جنوب میں ہیں۔‘‘
لڑائی کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
ریاض، سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں پر مملکت میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یمن میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں کے حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران صوبوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کب کیے گئے۔
المالکی نے حملوں کو ’’خطرناک کشیدگی‘‘ اور سعودی عرب کی خودمختاری کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان سے مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد حملوں کا مقابلہ کرنے اور خطرے کے ذرائع کے خلاف کارروائی کے لیے ’’تمام ضروری عملی اقدامات‘‘ کرے گا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے ایک الگ بیان میں کہا کہ منگل کی صبح مملکت کے جنوبی علاقوں میں ’’توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق حملوں میں ’’متعدد شہری اور رہائشی‘‘ زخمی ہوئے اور ’’کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی‘‘، جس کے باعث ’’کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں‘‘۔
حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر شمالی صوبہ الجوف کے علاقے الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کرنے اور کم از کم 7 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ گروپ نے کہا تھا کہ ’’یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
ریاض نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یمن میں 2014 سے تنازع جاری ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔
جولائی میں اس وقت دشمنیاں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں جب حوثیوں نے صنعا کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے۔
اسی ماہ کے آخر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
جمعرات کو حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی شروع کی اور مغربی تعز اور جنوبی حدیدہ سے پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور باب المندب آبنائے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔
ابتدائی طور پر لڑائی تعز کے مغرب اور حدیدہ کے جنوب تک محدود تھی، تاہم اب یہ الضالع، مارب، الجوف اور البیضا صوبوں تک پھیل گئی ہے۔ حکومت حوثی فورسز کو مختلف محاذوں پر پھیلانے اور گروپ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 24 اگست سے اب تک تقریباً 1,078 افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جمعرات سے 21,000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کا امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں پر تشویش کا اظہار
ماسکو، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے دوبارہ شروع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس “قابلِ اجتناب بحران” کے شدید جیو پولیٹیکل اور اقتصادی اثرات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
ترک نے پیر کے روز انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں سے تشویش میں مبتلا ہوں، جن سے پورا خلیجی خطہ متاثر ہو رہا ہے۔”
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جس کے جواب میں ایرانی فریق نے بھی اپنے حملے کیے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے معاندانہ کارروائیوں کے خاتمے کے مقصد سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن اس کے فوراً بعد ان کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔
گزشتہ ہفتے، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے جزیرہ خارگ کے قریب، جاسک کے ساحل پر اور خلیجِ عمان میں ایران کے تین تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ کم از کم ایک ٹینکر کو نقصان پہنچا۔ اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکہ سے منسلک تین تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور ایک امریکی ایئر کرافٹ کیریئر اور ڈسٹرائر پر حملہ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا1 week agoنیپال اور چین میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز
-
ہندوستان1 week agoہندوستان اور برازیل نے 2030 تک 30 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف مقرر کیا
