ہندوستان
کھرگے کا مودی حکومت پر معاشی پریشانیوں میں اضافے کا الزام، کہا ‘اچھے دن’ اب بھی دور
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے جمعہ کے روز نریندر مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، قرضوں کے بوجھ میں اضافے اور بچت میں کمی کے ذریعے عام گھرانوں کو مزید معاشی پریشانیوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جو حکومت لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھیننے کی کوشش کر رہی ہے، وہ اب روزمرہ کی زندگی کو تیزی سے مہنگا بنا کر ان کے باعزت زندگی گزارنے کے حق کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
تہواروں کے موسم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ مہنگائی عام خاندانوں کی کمائی کا ایک ایک پیسہ نگل رہی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بنیادی اخراجات پورے کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کئی معاشی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ معیشت میں ترقی کے حکومتی دعوؤں کے باوجود گھرانوں کی مالی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
مسٹر کھرگے کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، غذائی مہنگائی 2.13 فیصد سے بڑھ کر 7.74 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ گھرانوں کے قرضوں میں 36.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ پہلے کے مقابلے تین گنا رفتار سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گھرانوں کی مالی بچت میں چار فیصد کی کمی آئی ہے، جبکہ خردہ مہنگائی 5.54 فیصد اور تھوک مہنگائی 11.39 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا، ”اعداد و شمار سچائی بیان کرتے ہیں۔” انہوں نے دلیل دی کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہواروں کے موسم میں ملک بھر میں خوشیاں منائے جانے کے باوجود عام شہریوں پر مالی بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بی جے پی کی جانب سے 2014 سے پہلے مہنگائی کے خلاف چلائی گئی مہم پر طنز کرتے ہوئے کانگریس صدر نے اس کے مشہور نعرے ”بہت ہوئی مہنگائی کی مار” کا ذکر کیا۔ اس نعرے کے ذریعے اس وقت کی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو انتخابی مہم کا ایک بڑا موضوع بنایا گیا تھا۔
انہوں نے بی جے پی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ سیاسی تقریروں اور احتجاج کا سہارا لینے کے بجائے مہنگائی کے خلاف اپنی ہی مہم کے اشتہارات دوبارہ دیکھے۔ انہوں نے کہا، ”اگر بی جے پی اور مودی جی کو اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی بے مقصد تقریروں اور احتجاج سے کبھی فرصت ملے تو انہیں 2014 سے پہلے کا بی جے پی کا وہ اشتہار ایک بار پھر دیکھنا چاہیے، جس میں کہا گیا تھا کہ ‘بہت ہوئی مہنگائی کی مار’۔”
تقریباً 12 سال سے اقتدار میں رہنے کے بعد حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ عوام ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وعدہ کیے گئے ‘اچھے دن’ کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن انہیں اب تک وہ معاشی راحت نہیں ملی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، ”عوام نے ‘اچھے دن’ کی امید میں اپنے 12 سال گنوا دیے ہیں۔”
مسٹر کھرگے کا یہ حملہ مہنگائی، گھرانوں کی مالی سلامتی میں کمی اور جمہوری حقوق کے مبینہ زوال کے معاملے پر مودی حکومت کے خلاف کانگریس کی جاری مہم کے دوران سامنے آیا ہے۔ پارٹی بارہا بی جے پی پر الزام لگاتی رہی ہے کہ اس نے قیمتوں پر قابو پانے اور عام شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے 2014 سے پہلے کیے گئے وعدوں کو فراموش کر دیا ہے۔
گھرانوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور قرضوں کے بوجھ کو بچت میں کمی کے ساتھ جوڑتے ہوئے مسٹر کھرگے نے خاندانوں کو درپیش معاشی دباؤ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گھریلو بجٹ کے بگڑتے ہوئے حالات سے پریشان لوگوں کو تہواروں کے موسم میں بھی کوئی خاص راحت نہیں ملی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام لیلا میدان کی ریلی میں عوام کا غصہ نظر آئے گا: راہل گاندھی
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کی یکم نومبر کو یہاں ہونے والی عظیم الشان ریلی سے قبل اتحاد کے رہنماؤں نے جمعہ کو کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور عوام کے حق رائے دہی کے تحفظ کی لڑائی مل کر لڑیں گے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مبینہ عوامی مواخذے کی مہم شروع ہونے سے پہلے آج یہاں انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی میں لوگوں کی شرکت اور انہیں دہلی آنے سے روکنے کی کوششوں سے ملک کی صورت حال کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاکھوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور ان کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ یہ سب صنعت کار گوتم اڈانی، مکیش امبانی، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ الگ احتجاجی مظاہرے نہیں ہیں، بلکہ ایک مشترکہ تحریک ہے، جس میں پوری اپوزیشن متحد ہو کر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین، ہندوستان کے تصور اور ہر ہندوستانی کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے سبھی کو متحد ہونا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، تلنگانہ اور پنجاب سے ریلی میں شرکت کے لیے دہلی آنے والے پارٹی کارکنوں اور عام لوگوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ اس لڑائی میں سبھی ایک ساتھ ہیں اور وہ مل کر کامیابی حاصل کریں گے۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ یہ ایک اہم لڑائی ہے اور اس میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت پارٹی کے تمام اہم رہنما حصہ لیں گے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کا معاملہ: کانگریس نے بینک بنائے، مودی حکومت بینک فروخت کر رہی ہے: راہل
نئی دہلی، کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کے روز آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ نجکاری پر مرکز کی نریندر مودی حکومت پر سخت حملہ کیا اور الزام لگایا کہ حکومت ملک کی ترقی کے لیے قائم کیے گئے سرکاری شعبے کے اداروں کو فروخت کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کانگریس اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے درمیان فرق کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کانگریس نے ملک میں صنعتوں اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ادارے قائم کیے، وہیں موجودہ حکومت انہیں فروخت کرنے میں مصروف ہے۔
سرکاری حصص کی فروخت کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا، ”کانگریس کے دور میں آئی ڈی بی آئی قائم کیا گیا تھا، تاکہ ملک کی صنعتوں کو ترقی دی جا سکے۔ مودی کے دور میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے کی گئی۔”
حکومت کی نجکاری مہم پر براہ راست طنز کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے کہا، ”کانگریس کے دور میں بینک قائم کیے جاتے تھے، جبکہ مسٹر مودی کے دور میں انہیں فروخت کیا جاتا ہے۔”
حکمت عملی کے تحت حصص کی فروخت کے باعث غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہے بینک ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان کی جدوجہد کی حمایت کی اور کہا، ”میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے ساتھ کھڑا ہوں۔”
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
چھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
رائے پور، چھتیس گڑھ میں خلیج بنگال سے اٹھنے والے سمندری طوفان ‘ارنَب’ کا اثر اب آہستہ آہستہ کم ہونے کا امکان ہے۔ طوفان کا باقی ماندہ حصہ کمزور ہوکر کم دباؤ کے علاقے میں تبدیل ہوچکا ہے اور شمال ۔مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات سے جمعہ کو موصولہ اطلاع کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے مزید کمزور ہوکر شمالی چھتیس گڑھ کے اوپر کم دباؤ کے علاقے کی شکل میں برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس کے اثر سے ریاست میں بارش کی سرگرمیوں میں بتدریج کمی آئے گی۔ تاہم رائے گڑھ سمیت کئی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
سمندری طوفان کے اثر سے سرگوجا اور رائے پور ڈویژن کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی رات بھر تیز بارش ہوئی۔ رائے گڑھ میں بھی رات سے مسلسل بارش ہورہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے شمالی چھتیس گڑھ میں ایک دو مقامات پر موسلادھار بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس دوران گرج چمک کے ساتھ آسمانی بجلی گرنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کا نظام کمزور پڑنے کے ساتھ ہی ریاست میں بارش کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ تاہم آئندہ 2 نومبر تک بعض مقامات پر بادل چھائے رہنے کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔
مسلسل بارش اور آسمان پر بادل چھائے رہنے کے باعث ریاست کے درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ کئی شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 6 سے 8 ڈگری سیلسیس تک کم ہوگیا ہے۔ اس کے باعث دن کے وقت بھی لوگوں کو سردی کا احساس ہونے لگا ہے۔
دارالحکومت رائے پور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا، جو معمول سے 6.9 ڈگری کم ہے۔ وہیں پینڈرا روڈ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 8.4 ڈگری کم رہا۔ موسم میں اس تبدیلی کے باعث ریاست کے بیشتر علاقوں میں دن کے درجہ حرارت میں کمی دیکھی جارہی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
-
دنیا1 week agoیوکرین مذاکرات میں پیش رفت کے درمیان ٹرمپ کا روس پر پابندیوں سے گریز
-
ہندوستان1 week agoسونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی ”پارٹ ٹائم لیڈر، فل ٹائم سیاح” ہیں: شیوراج سنگھ چوہان
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
-
دنیا1 week agoایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار
-
ہندوستان1 week agoدسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
