جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کے محصولات ختم کرنے کا فیصلہ، وصولی کے مطالباتی نوٹس منسوخ
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پن بجلی منصوبوں پر عائد آبی استعمال کے محصولات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق ریاستی اسمبلی کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
جسٹس سنجے دھر اور جسٹس راج نیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعرات کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو جاری کیے گئے مطالباتی نوٹس منسوخ کردیے اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ آبی استعمال کے محصولات یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرے۔
عدالت کا یہ فیصلہ تین عرضیوں پر آیا، جو آزادانہ طور پر پن بجلی منصوبے چلانے والی کمپنیوں نے دائر کی تھیں۔ ان عرضیوں میں جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2010 اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد کے تحت عائد کیے گئے محصولات کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عرضی گزاروں میں 11 کمپنیاں شامل تھیں، جنہیں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے پن بجلی منصوبے الاٹ کیے گئے تھے۔ ان کمپنیوں نے 2010 سے آبی استعمال کے نام پر محصولات کی وصولی کے مطالبات کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ درحقیقت یہ بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی قابل استعمال نہیں ہوتا، کیونکہ اسے ٹربائنوں سے گزارنے کے بعد دوبارہ نچلی جانب دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کمپنیوں نے محصولات کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی نے پانی کے استعمال کی مقدار کے بجائے پانی کے بہاؤ کی بلندی (ہیڈ ہائٹ) کی بنیاد پر محصولات مقرر کیے ہیں۔
حکومت ہند نے بھی عرضی گزاروں کے موقف کی حمایت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ریاستی فہرست کی دفعہ 53 کے تحت ریاستوں کو بجلی کے استعمال یا اس کی فروخت پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن بجلی کی پیداوار پر ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں تھا۔
تاہم جموں و کشمیر حکومت نے متعلقہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ ریاستی فہرست کی دفعہ 17 کے تحت اسے آبی وسائل کو منظم کرنے اور ان کے استعمال پر محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا، جس میں پن بجلی منصوبے بھی شامل ہیں۔
حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے کہا کہ کسی محصول کی نوعیت کا تعین اس کے حقیقی مقصد اور اثرات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس نام کی بنیاد پر جو اسے دیا گیا ہو۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ 2 اپریل 2019 کے حکم کے ذریعے مقرر کردہ محصولات پانی کی مقدار کے بجائے اس کی بلندی سے منسلک تھے۔ پانی کی بلندی جتنی زیادہ ہوتی ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے اور اسی کے ساتھ محصولات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ محصول درحقیقت بجلی کی پیداوار سے منسلک تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ان محصولات کے عوض حکومت کو پن بجلی منصوبوں کے آپریشن، دیکھ بھال یا انتظام کی کوئی ذمہ داری ادا نہیں کرنی پڑتی تھی۔
ایکٹ کی دفعہ 185-A کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ جمع کی گئی رقم پن بجلی منصوبے قائم کرنے، موجودہ بجلی منصوبوں کو حاصل کرنے، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کرنے اور بجلی خریدنے کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اس رقم کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کوئی خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا تھا۔
اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ اس محصول کو نہ تو ریگولیٹری فیس تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پانی کے استعمال کے عوض وصول کیا جانے والا معاوضہ۔
قانون سازی کے اختیار کے معاملے پر بنچ نے فیصلہ سنایا کہ اس وقت نافذ آئینی نظام کے تحت سابق ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ”ایسا کوئی قانون جو اپنی منظوری کے وقت آئین سے متصادم ہو، بعد میں پارلیمنٹ کی جانب سے اسے اختیار کیے جانے سے آئینی جواز حاصل نہیں کرسکتا۔”
عدالت نے حکومت کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت 2010 کے قانون کو اختیار کیے جانے سے اس کی آئینی خامی دور ہوگئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی موجودہ ریاستی قانون کو اختیار کرنے سے وہ پارلیمنٹ کا قانون نہیں بن جاتا۔
عرضیوں کو منظور کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے 2010 کے ایکٹ کو اس حد تک آئین کے منافی قرار دیا، جہاں تک اس کے تحت عرضی گزاروں کے پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کے محصولات عائد کیے گئے تھے۔
عدالت نے وصولی کے مطالباتی نوٹس منسوخ کردیے اور حکومت کو پابند کیا کہ وہ آبی استعمال کے محصولات یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی کہانی اب ماضی کے چیلنجوں تک محدود نہیں: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کی کہانی اب ماضی کے چیلنجوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں موجودہ کوششوں اور مستقبل کے امکانات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ یہاں کے نوجوان کھیل، تعلیم، اختراع اور کاروبار کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
”پیڈل تھرو پیراڈائز” سائیکلنگ مقابلے کے فاتحین کو مبارک باد دیتے ہوئے مسٹر سنہا نے شرکاء کے جوش و جذبے اور عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی امید اور ان کے متحرک جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر پولیس کی تعریف کی کہ اس نے سلامتی اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر عوامی رابطے کے بامعنی اقدامات کے ذریعے اپنا رول ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”پیڈل تھرو پیراڈائز” جیسے پروگرام نظم و ضبط کو ترغیب اور فرض کو سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ کر شہریوں کے ساتھ اعتماد کے رشتے مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”پیڈل تھرو پیراڈائز جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جموں و کشمیر پولیس نے سلامتی کو ہمدردی، نظم و ضبط کو ترغیب اور فرض کو سماجی وابستگی کے ساتھ جوڑا ہے، تاکہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کے ساتھ دلوں کے رشتے قائم کیے جا سکیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ فاتحین کی کامیابیاں جموں و کشمیر کی بدلتی ہوئی تصویر کی علامت ہیں اور انہوں نے جامع ترقی اور قومی پیش رفت میں حصہ لینے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کے شہری کارروائی پروگراموں نے نوجوانوں کی شمولیت، ہنر مندی کے فروغ اور کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جس سے معاشرے میں اعتماد اور تعمیری شرکت کو فروغ ملا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”جموں و کشمیر کی کہانی اب ماضی کے چیلنجوں تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ یہ حال کی کوششوں اور مستقبل کے امکانات کی کہانی بھی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر امکانات کی سرزمین کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں نوجوان کھیل، تعلیم، اختراع اور کاروبار کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خطے کی حقیقی ترقی اسی وقت یقینی ہوتی ہے، جب وہاں کے نوجوانوں کو مواقع میسر ہوں، انہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہو اور ان کے دلوں میں اتحاد کا مضبوط جذبہ موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ ”میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ کسی بھی خطے کی حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے، جب اس کے نوجوانوں کی آنکھوں میں یقین، ہاتھوں میں مواقع اور دلوں میں اتحاد کا جذبہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ پیڈل تھرو پیراڈائز جیسے مقابلے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو اپنے ہنر، محنت اور عزم کے ذریعے ملک کی ترقی میں نمایاں رول ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ”پیڈل تھرو پیراڈائز” اور ”جشنِ ڈل” جیسے اقدامات محض کھیلوں کے مقابلے نہیں ہیں، بلکہ یہ شرکاء میں نظم و ضبط، ثابت قدمی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی ترقی کے لیے مثبت خیالات، علم اور اختراع کو اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی طاقت ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور نوجوان نسل کو کھیلوں اور سماجی پروگراموں میں سرگرمی سے حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی تعمیر کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو نشے کی لت سے متاثرہ افراد کی ہمدردی اور توجہ کے ساتھ مدد کرنی چاہیے اور ان کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تمام متعلقہ فریقوں سے امن، ترقی اور صحت مند، خوش حال اور محفوظ جموں و کشمیر کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کھیلوں کے ذریعے مثبت تبدیلی کے جذبے کو آگے بڑھانے پر تمام شرکاء کو مبارک باد بھی دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں کرائم برانچ نے ملازمت کے فراڈ معاملے میں 2 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
جموں، جموں کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو) نے ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے گروہ میں مبینہ طور پر ملوث 2 افراد کے خلاف جموں کی سب جج عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، اننت ناگ، کشمیر کے پیرزادہ عبدل اور مینڈھر، پونچھ، جموں کے منیر حسین کے خلاف جموں کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں متعلقہ دفعات کے تحت درج ایک معاملے میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔
یہ معاملہ عدالت کی ہدایت پر منیر حسین کی جانب سے پیرزادہ عبد الحمید کے خلاف ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کی شکایت کے بعد درج کیا گیا تھا۔
انسپکٹر مینو شرما کی قیادت میں کی گئی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ شکایت کنندہ کے طور پر سامنے آئے منیر حسین نے مبینہ طور پر پیرزادہ عبد الحمید کے ساتھ مل کر متاثرین کو جھانسہ دینے، ان سے رقم وصول کرنے اور بعد میں ذمہ داری سے بچنے کے لیے جھوٹی شکایت درج کرانے کا کام کیا۔ بیان کے مطابق، دونوں ملزمان نے سرکاری ملازمتیں دلانے کا وعدہ کرکے بے روزگار نوجوانوں سے تقریباً 25 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی سازش کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات اور دستاویزی شواہد سے ان کی مبینہ شمولیت ثابت ہوئی، جس کے بعد پیرزادہ عبد الحمید اور منیر حسین کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے جموں کی سب جج عدالت میں چارج شیٹ پیش کی گئی۔
جموں کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے عام لوگوں کو اقتصادی دھوکہ دہی سے ہوشیار رہنے اور اس طرح کے کسی بھی واقعے کی اطلاع جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اقتصادی جرائم شاخ کو دینے کا مشورہ دیا ہے۔
اقتصادی دھوکہ دہی کے متاثرین اپنی شکایات آن لائن بھی درج کرا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کانگریس کے سیاسی نعرے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے: جموں و کشمیر بی جے پی صدر
جموں، جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ست شرما نے جمعرات کو کانگریس پارٹی کے سیاسی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعت ملک کو درپیش مسائل کا تعمیری حل پیش کرنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں بار بار نئے نعرے اور مہمات شروع کرتی ہے۔
بی جے پی کے جموں بارڈر ضلع کی جانب سے منعقدہ ”جمہوریت بچاؤ، انتشار ختم کرو” کے عنوان سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ جمہوری اداروں کی حفاظت اور انتخابی عمل کے تقدس کو برقرار رکھنا تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس سیمینار میں دانشوروں، ممتاز شہریوں، معاشرے کے مختلف طبقات کے نمائندوں اور پارٹی کارکنوں نے شرکت کی۔ اس دوران جمہوری اداروں کے تحفظ اور عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ان کے ساتھ ایم ایل اے راجیو بھگت ، سابق ایم ایل اے اشونی شرما اور جموں بارڈر ضلع کے صدر رنکو چودھری نے اجتماع سے خطاب کیا ۔
ست شرما نے کہاکہ ”کانگریس پارٹی اب بھی اپنے ایک ہی خاندان کے گرد گھوم رہی ہے اور ایک کے بعد ایک سیاسی مہم کے ذریعے سب سے زیادہ مراعات یافتہ شخص کو دوبارہ پیش کرنے کی بار بار کوشش کر رہی ہے۔ کبھی وہ یاترا نکالتی ہے، کبھی کوئی نیا نعرہ دیتی ہے، لیکن عوام میں حقیقی مقبولیت حاصل کرنے سے پہلے ہی اس کی مہمات دم توڑ دیتی ہیں۔”
انہوں نے دانشوروں، پیشہ ور افراد، سماجی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور ہندوستان کے آئینی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنائیں۔
راجیو بھگت نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹر سب سے بالاتر ہوتا ہے اور قابل اعتماد ثبوت کے بغیر انتخابی عمل پر الزامات لگانے سے ووٹروں کی دانش مندی مجروح ہوتی ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بیدار رہیں اور نچلی سطح پر جمہوری شعور کو مضبوط بنانے میں سرگرمی سے حصہ لیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا
-
دنیا1 week agoیوکرین مذاکرات میں پیش رفت کے درمیان ٹرمپ کا روس پر پابندیوں سے گریز
-
ہندوستان1 week agoسونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی ”پارٹ ٹائم لیڈر، فل ٹائم سیاح” ہیں: شیوراج سنگھ چوہان
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
دنیا1 week agoایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoدسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ
