دنیا
امریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران متضاد اشارے سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف مکمل پیمانے پر دوبارہ حملوں کی تیاری کی اطلاعات ہیں تو دوسری جانب جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے مختلف منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
نیویارک ٹائمز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کے مشترکہ منصوبے تیار کیے ہیں۔ تاہم، اسی روز واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی کو جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔
ادھر جمعہ کو قطری ثالث بھی امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت مذاکرات کے لیے تہران واپس پہنچے۔ ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ اطلاع دی۔
بنیادی طور پر واشنگٹن سفارتی رابطے برقرار رکھتے ہوئے جنگ کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ نے خطے میں فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود کی تعیناتی بڑھا دی ہے، جبکہ بعض امریکی فوجیوں کو ایسے فوجی اڈوں سے منتقل کیا گیا ہے جو ایرانی جوابی کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق، جمعرات کو امریکہ کے دس فوجی مال بردار طیارے اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع اوودہ اور نیواتیم فضائی اڈوں پر اترے، جبکہ مزید طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھی بھیجے گئے۔
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی، جنہیں ان منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی، نے ان اقدامات کو ”پاگل پن” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے تباہ کن کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، اتوار کو قطری ثالثوں کے ذریعے محسن رضائی کو بھیجے گئے وینس کے خط میں براہ راست مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی، جن کی قیادت خود وینس کرتے۔ اس تجویز کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کے آغاز ہی سے زیر بحث لایا جانا تھا، تاکہ حملوں کی نئی لہر کو روکا جا سکے۔تاہم، ان رابطوں کے آئندہ پیش رفت پر اثرات کے بارے میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔
سویڈن کی لوند یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور انسانی حقوق سے وابستہ ایران امور کے محقق روزبہ پارسی نے وینس کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایران کے معاملے پر ”معقول آواز” قرار دیا۔ ان کے مطابق، وینس کے بیانات انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں کے مقابلے میں نسبتاً کم غیر یقینی اور کم اشتعال انگیز رہے ہیں۔
تاہم، انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینس کا موقف کبھی اتنا مضبوط ثابت نہیں ہوا کہ وہ ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ ان کے بقول، اگرچہ وینس کی سفارتی پیش کش انتظامیہ کے دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے، لیکن ایرانی حکام اس وقت تک اسے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے جب تک وہ خود کسی ٹھوس پیش رفت کو یقینی بنانے کی صلاحیت ثابت نہیں کرتے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
جی-20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے دوران لاوروف نے سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی: ماسکو
ماسکو، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اٹلانٹا میں جی-20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کی۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں کہا گیا، ”30 اکتوبر کو امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی-20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے دوران روسی وزیر خارجہ ایس وی لاوروف اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان ملاقات ہوئی۔”
دونوں وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، جس میں علاقائی سلامتی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
امریکہ کی میزبانی میں جی-20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ 30 اور 31 اکتوبر کو اٹلانٹا میں منعقد ہو رہی ہے۔ روسی وفد کی قیادت سرگئی لاوروف کر رہے ہیں۔
یو این آئی/اسپوتنک۔ ایم جے
دنیا
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپید نے حکومت مخالف اتحاد کی کامیابی کو ‘پوائنٹس پر جیت’ قرار دیا
یروشلم، اسرائیل میں اپوزیشن رہنما اور ‘بی یاحد’ کے دوسرے اہم رہنما یائر لاپید نے منگل کو ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو مخالف اتحاد کی کارکردگی کو ‘پوائنٹس پر جیت’ قرار دیا ہے۔ اگرچہ یہ اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہا، تاہم لاپید نے حکومت سازی کی کوششوں کے آغاز کے ساتھ اپنے حامیوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
لاپید نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”منگل کی رات 10 بجے ہم سب اسکرین پر نظریں جمائے ایک عدد کا انتظار کر رہے تھے۔ 61۔ یہ عدد سامنے نہیں آیا، نہ ہمارے لیے اور نہ ہی یقیناً ان کے لیے۔” ان کا اشارہ 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت کی جانب تھا۔
نیتن یاہو مخالف اتحاد کو مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، لیکن حکومت سازی کی راہ میں تین یہودی قیادت والی جماعتوں ‘یاشار’، ‘بی یاحد’ اور ‘اسرائیل بیتینو’ کی جانب سے عرب اکثریتی ‘جوائنٹ لسٹ’ اور ‘رعام’ کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے سے انکار بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جن میں لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ تاہم وزیر اعظم کے پاس بھی حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے۔
لاپید نے اعتراف کیا کہ نیتن یاہو کے مخالفین کو فیصلہ کن کامیابی کی امید تھی، لیکن ان کے بقول انتخابی نتائج موجودہ وزیر اعظم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔
انہوں نے لکھا، ”نیتن یاہو کو 53 نشستیں ملیں، جو ایک بڑی شکست ہے۔ اس کم تعداد میں بھی 13 نشستیں ان جماعتوں کی ہیں جو خود کو غیر صہیونی تصور کرتی ہیں۔” ان کا اشارہ انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں ‘یونائیٹڈ توراہ یہودیت’ اور ‘شاس’ کی جانب تھا، جنہوں نے بالترتیب سات اور چھ نشستیں حاصل کیں۔
لاپید نے کہا، ”اس طرح ان کے پاس صرف 40 نشستیں رہ جاتی ہیں۔ یہی ان کی اصل تعداد ہے۔ وہ کچھ بھی کرلیں، حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔”
نیتن یاہو کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے پاس سبکدوش ہونے والی کنیسٹ میں 68 نشستیں تھیں، اس لیے تازہ انتخابی نتائج ان کے اتحاد کے لیے نمایاں گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لاپید نے کہا، ”اس لیے ہم جیتے ہیں۔ یہ فیصلہ کن ناک آؤٹ نہیں تھا بلکہ پوائنٹس پر جیت تھی، لیکن پوائنٹس بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ جیت، جیت ہوتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن حکومت بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی، تاہم اس میں کامیابی یقینی نہیں ہے۔
لاپید نے عوام سے صبر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات نجی طور پر ہوتے ہیں اور انہیں سرخیوں یا سیاسی اطلاعات کی خاطر جلد بازی میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے لکھا کہ حکومت سازی کا عمل انتخابی مہم کے بالکل برعکس ہوتا ہے اور یہ ”چھوٹے کمروں میں، آہستہ آہستہ اور کیمروں سے دور” انجام پاتا ہے۔
لاپید نے تسلیم کیا کہ عوام کے لیے غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا مشکل ہے، لیکن اپوزیشن کو محتاط مذاکرات کے لیے وقت اور گنجائش درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اس خاموشی کے پیچھے کچھ ہو بھی رہا ہے یا نہیں تو جواب ہے، ہاں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات میں بیرونی مداخلت کے الزامات پر آئزن کوٹ اور عرب جماعتوں کی نیتن یاہو پر تنقید
یروشلم، اسرائیل کے اہم اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ اور عرب سیاسی جماعتوں کے قائدین نے انتخابات میں بیرونی مداخلت کے الزامات کے معاملے پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیتن یاہو کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے عرب قیادت والی جماعتوں پر انتخابات ”چرانے” کا الزام لگایا ہے، جبکہ اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت نے قطر اور ترکی سے مبینہ غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ قطر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ”مضحکہ خیز اور خطرناک” قرار دیا اور اسرائیلی سیاست دانوں پر دوحہ کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق 120 رکنی کنیسٹ میں نہ تو نیتن یاہو کے اتحاد کو اور نہ ہی وسیع تر یہودی اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہوئی۔ عرب ووٹروں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت کے باعث عرب قیادت والی دو جماعتوں، جوائنٹ لسٹ اور رام نے توقعات کے برخلاف مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ نیتن یاہو کے اتحاد کو 53، جبکہ آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔ اس طرح حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
یہ تنازع جمعرات کو اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیکود نے الزام لگایا کہ عرب جماعتوں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹروں کو رشوت دی گئی۔ اس سے قبل مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوم سولبرگ نے شن بیت سے بیرونی مداخلت کے ”سنگین شبہات” کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی۔
دونوں عرب جماعتوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ جوائنٹ لسٹ نے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ نیتن یاہو کے ناقدین کے مطابق یہ تنازع عرب جماعتوں کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور آئزن کوٹ کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنے کی راہ مشکل بنانے کی کوشش ہے۔ فی الحال عرب جماعتوں کی حمایت ہی آئزن کوٹ کے اتحاد کے لیے حکومت تشکیل دینے کا واحد واضح راستہ دکھائی دیتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مرکزی انتخابی کمیٹی کو ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ قطر نے عرب آبادی والے علاقوں میں ووٹروں کی شرکت بڑھانے کے لیے مالی مدد فراہم کی۔ تاہم قطر کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی دوٹوک تردید کی ہے۔
نیتن یاہو اور لیکوڈ نے ان الزامات کو ”سیاسی زلزلہ” اور ”جمہوریت پر حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان کی دائیں بازو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ اس کے بعد شن بیت نے وضاحت کی کہ اس کی تحقیقات میں کسی ایسی پوری برادری کو ملوث نہیں کیا گیا جس نے قانونی طور پر ووٹ دیا ہو۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل دین لیوینے نے بھی کہا کہ انتخابات کی شفافیت کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
تحقیقات کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنے والے آئزن کوٹ نے کہا کہ یہ طے کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے کہ اصل میں کیا ہوا اور آیا کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو پر ”انتخابی نتائج کو غیر معتبر قرار دینے کے لیے منظم مہم” چلانے کا الزام لگایا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
ہندوستان1 week agoسونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
-
دنیا1 week agoایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو حکومت کا تختہ الٹیں گے: نتن یاہو
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
دنیا1 week agoہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں
-
جموں و کشمیر1 week agoانتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
-
ہندوستان1 week agoاگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران کو شکست دینے کا دعویٰ، جے سی پی او اے سے نکلنے کے فیصلے کا دفاع
-
ہندوستان1 week agoمودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
