جموں و کشمیر
بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر 15 لاکھ روپے سے زائد کا فراڈ، کشمیر ای او ڈبلیو نے ٹریول کنسلٹنسی کے دو مالکان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی
سرینگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے بیرونِ ملک پرکشش ملازمتیں دلانے کا جھانسہ دے کر ملازمت کے خواہش مند افراد سے 15 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ہڑپنے کے الزام میں سرینگر کی ایک ٹریول کنسلٹنسی کے دو مالکان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے۔
یہ چارج شیٹ سال 2026 میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت تعزیراتِ ہند کی دفعات 420 اور 120-بی نیز امیگریشن ایکٹ کی دفعات 10 اور 24 کے تحت سرینگر کی عدالت برائے پی ٹی اینڈ ای میں داخل کی گئی ہے۔ ملزمان کی شناخت حمداًنیہ کالونی، بمنہ کے ساجد عبداللہ اور شیش گاری محلہ، خانیار کے جہانگیر احمد ٹنکی کے طور پر کی گئی ہے۔
ای او ڈبلیو کی تحقیقات کے مطابق، ملزمان ایم/ایس الاقصیٰ گلوبل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں، جس کا دفتر بٹہ مالو کے مومن آباد، لین نمبر 4 میں واقع ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے معروف غیر ملکی کمپنیوں میں پرکشش ملازمتیں دلانے کا وعدہ کرکے لوگوں کو راغب کیا اور پیشگی ادائیگیوں کی صورت میں 15 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی۔
تاہم، ملزمان کی جانب سے وعدہ کی گئی ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ جب شکایت کنندگان نے اپنی رقم واپس طلب کی تو ملزمان کی جانب سے جاری کردہ چیک مبینہ طور پر بینک کھاتوں میں ناکافی رقم ہونے کے باعث باؤنس ہوگئے۔
تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ متعلقہ کنسلٹنسی ٹور اور ٹریول خدمات فراہم کرنے والے ایک ٹور آپریٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھی، لیکن اس کے پاس بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے بھرتی کرنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی لازمی رجسٹریشن موجود نہیں تھی۔
تفتیش کاروں نے مزید پایا کہ ملزمان نے بیرونِ ملک ملازمتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کراکے شکایت کنندگان سے لاکھوں روپے اپنے ذاتی بینک کھاتوں میں وصول کیے، لیکن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔
تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کے بعد کارروائی مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ملزم جہانگیر احمد ٹنکی کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور وہ مبینہ طور پر فرار ہے۔
چارج شیٹ اب عدالتی فیصلے اور مزید کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کردی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: وار واؤنڈڈ فاؤنڈیشن معذور فوجیوں کو خود کفیل بنانے اور معذوری کو طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم
جموں، وار واؤنڈڈ فاؤنڈیشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) جنگ کے دوران معذور ہونے والے فوجیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔ فاؤنڈیشن انہیں نقل و حرکت کے لیے ضروری آلات فراہم کرنے، خود انحصاری کو فروغ دینے اور روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔
فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر نارتھ زون، بریگیڈیئر ہرچرن سنگھ (ریٹائرڈ) نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ شمالی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں معذور فوجیوں کو اب تک 100 خصوصی طور پر تبدیل شدہ اسکوٹر اور 12 آٹو رکشے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ان اقدامات سے فوجیوں کو نقل و حرکت میں آسانی، خود مختاری اور سماج میں دوبارہ گھلنے ملنے کے مواقع حاصل ہورہے ہیں۔
میران صاحب میں منعقدہ سابق فوجیوں کی ریلی کے دوران فاؤنڈیشن نے جنگ میں معذور ہونے والے فوجیوں کو ایک خصوصی اسکوٹر اور ایک بیٹری سے چلنے والی وہیل چیئر بھی فراہم کی۔ اس اقدام کے ذریعے ان کے وقار، آرام اور خود مختار زندگی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
فاؤنڈیشن نے ایک اور اہم اقدام کے تحت ایک معذور فوجی کو پولٹری فارم قائم کرنے کے لیے مالی امداد بھی فراہم کی ہے، تاکہ وہ خود روزگار حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل بن سکے۔
بیان کے مطابق، فاؤنڈیشن صرف نقل و حرکت کے آلات اور مالی امداد کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ معذور فوجیوں کی نفسیاتی مدد، حوصلہ افزائی اور خود اعتمادی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
اس کا مقصد انہیں مشکلات پر قابو پانے، دوبارہ اعتماد حاصل کرنے اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار کے بغیر ایک فعال اور بامقصد زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
فاؤنڈیشن نے کہا کہ اپنی مسلسل فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے وہ ملک کے بہادر فوجیوں کے ساتھ خدمت اور یکجہتی کے جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد مشکلات کو مواقع میں تبدیل کرنا اور اپنے رہنما اصول ”معذوری کو صلاحیت میں تبدیل کرنا” کو عملی شکل دینا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
شہری آزادیوں کی بحالی ضروری، تشدد میں کمی کو پائیدار امن اور انصاف میں تبدیل کیا جائے: میرواعظ
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے شہری آزادیوں کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی خوش آئند ہے، لیکن پائیدار امن کے قیام کے لیے انصاف، مفاہمت اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔
جمعہ کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے جموں و کشمیر سے متعلق انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی سیاسی شکایات دور ہوگئی ہیں یا عوام کا اعتماد بحال ہوگیا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انتہاپسندی، سڑکوں پر احتجاج اور تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے، جو یقیناً قابل خیرمقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام سے زیادہ امن کی اہمیت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بے پناہ مصائب برداشت کرتے آرہے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایک اہم نکتے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تشدد میں کمی سے بنیادی سیاسی مسائل حل نہیں ہوجاتے اور نہ ہی اس سے عوام کا اعتماد خودبخود بحال ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور سلامتی کے انتظامات ضروری ہیں، لیکن صرف حفاظتی اقدامات ایسے مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرسکتے جس کے سیاسی اور انسانی پہلو بھی گہرے ہوں۔
میرواعظ نے کہا کہ کشمیر اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ فوجی موجودگی والے علاقوں میں شامل ہے۔
انہوں نے رپورٹ کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے بعد گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد تشویش ناک ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان جموں و کشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت 3,662 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اس مدت میں صرف 23 افراد کو سزا سنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار طویل مدت تک حراست میں رکھنے، قانونی کارروائی کے تقاضوں اور سخت قوانین کے وسیع پیمانے پر استعمال کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ہزاروں خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ کشمیری سیاسی قیدیوں کی مسلسل اسیری بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان میں یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، شاہد الاسلام، انجینئر رشید، آسیہ اندرابی، مسرت عالم اور دیگر کئی افراد شامل ہیں، جو برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے کئی قیدیوں کو اپنے گھروں اور اہل خانہ سے دور جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر ان قیدیوں کی رہائی، ان کے مقدمات پر نظرثانی اور عمر رسیدہ و بیمار قیدیوں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں میں انصاف اور ہمدردی کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔
حریت چیئرمین نے سیاسی اور شہری سرگرمیوں پر پابندیوں، پُرامن اظہار رائے کے مواقع محدود ہونے، آزادانہ صحافت پر قدغنوں اور عوام میں بڑھتی ہوئی بیگانگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
میرواعظ نے سوال کیا کہ اگر صورت حال میں بہتری آئی ہے، جیسا کہ تسلیم کیا جارہا ہے، تو کیا یہ پابندیاں نرم کرنے، زیر حراست افراد کے معاملات پر نظرثانی، شہری آزادیوں کی بحالی اور ایسا ماحول پیدا کرنے کا مناسب موقع نہیں ہے جہاں لوگ اپنے خیالات اور شکایات کا پُرامن انداز میں اظہار کرسکیں؟
انہوں نے کہا کہ امن کا اندازہ صرف احتجاجی مظاہروں کی عدم موجودگی سے نہیں لگایا جاسکتا۔
رپورٹ کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی، منتخب حکومت کو بامعنی اختیارات کی فراہمی، سخت انسداد دہشت گردی قوانین پر نظرثانی اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات جیسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو صرف سلامتی کے نقطہ نظر سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور دیرینہ شکایات کے ازالے کے لیے مخلصانہ مفاہمتی کوششیں ضروری ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ حکومتوں کو اپنے سلامتی سے متعلق خدشات اور ذمہ داریوں کا حق حاصل ہے، لیکن عوام کے خدشات اور خواہشات بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں امن کے کسی بھی بامعنی عمل میں جگہ ملنی چاہیے۔
گزشتہ سال کے واقعات اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا سب سے ذمہ دارانہ راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ مسائل کسی محاذ آرائی کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ اپنے عوام کے مستقبل کے بارے میں حقیقی تشویش کے پیش نظر اٹھا رہے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد اگلا قدم مفاہمت، شہری آزادیوں کی بحالی، سیاسی قیدیوں کے مقدمات پر نظرثانی اور سنجیدہ سیاسی مذاکرات ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امن کا حقیقی پیمانہ صرف یہ نہیں کہ تشدد میں کتنی کمی آئی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ عوام کا اعتماد کس حد تک بحال ہوا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کے محصولات ختم کرنے کا فیصلہ، وصولی کے مطالباتی نوٹس منسوخ
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پن بجلی منصوبوں پر عائد آبی استعمال کے محصولات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق ریاستی اسمبلی کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
جسٹس سنجے دھر اور جسٹس راج نیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعرات کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو جاری کیے گئے مطالباتی نوٹس منسوخ کردیے اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ آبی استعمال کے محصولات یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرے۔
عدالت کا یہ فیصلہ تین عرضیوں پر آیا، جو آزادانہ طور پر پن بجلی منصوبے چلانے والی کمپنیوں نے دائر کی تھیں۔ ان عرضیوں میں جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2010 اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد کے تحت عائد کیے گئے محصولات کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عرضی گزاروں میں 11 کمپنیاں شامل تھیں، جنہیں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے پن بجلی منصوبے الاٹ کیے گئے تھے۔ ان کمپنیوں نے 2010 سے آبی استعمال کے نام پر محصولات کی وصولی کے مطالبات کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ درحقیقت یہ بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والا پانی قابل استعمال نہیں ہوتا، کیونکہ اسے ٹربائنوں سے گزارنے کے بعد دوبارہ نچلی جانب دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کمپنیوں نے محصولات کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی نے پانی کے استعمال کی مقدار کے بجائے پانی کے بہاؤ کی بلندی (ہیڈ ہائٹ) کی بنیاد پر محصولات مقرر کیے ہیں۔
حکومت ہند نے بھی عرضی گزاروں کے موقف کی حمایت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ریاستی فہرست کی دفعہ 53 کے تحت ریاستوں کو بجلی کے استعمال یا اس کی فروخت پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن بجلی کی پیداوار پر ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں تھا۔
تاہم جموں و کشمیر حکومت نے متعلقہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ ریاستی فہرست کی دفعہ 17 کے تحت اسے آبی وسائل کو منظم کرنے اور ان کے استعمال پر محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا، جس میں پن بجلی منصوبے بھی شامل ہیں۔
حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے کہا کہ کسی محصول کی نوعیت کا تعین اس کے حقیقی مقصد اور اثرات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس نام کی بنیاد پر جو اسے دیا گیا ہو۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ 2 اپریل 2019 کے حکم کے ذریعے مقرر کردہ محصولات پانی کی مقدار کے بجائے اس کی بلندی سے منسلک تھے۔ پانی کی بلندی جتنی زیادہ ہوتی ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے اور اسی کے ساتھ محصولات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ محصول درحقیقت بجلی کی پیداوار سے منسلک تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ ان محصولات کے عوض حکومت کو پن بجلی منصوبوں کے آپریشن، دیکھ بھال یا انتظام کی کوئی ذمہ داری ادا نہیں کرنی پڑتی تھی۔
ایکٹ کی دفعہ 185-A کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ جمع کی گئی رقم پن بجلی منصوبے قائم کرنے، موجودہ بجلی منصوبوں کو حاصل کرنے، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کرنے اور بجلی خریدنے کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اس رقم کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کوئی خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا تھا۔
اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ اس محصول کو نہ تو ریگولیٹری فیس تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پانی کے استعمال کے عوض وصول کیا جانے والا معاوضہ۔
قانون سازی کے اختیار کے معاملے پر بنچ نے فیصلہ سنایا کہ اس وقت نافذ آئینی نظام کے تحت سابق ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ”ایسا کوئی قانون جو اپنی منظوری کے وقت آئین سے متصادم ہو، بعد میں پارلیمنٹ کی جانب سے اسے اختیار کیے جانے سے آئینی جواز حاصل نہیں کرسکتا۔”
عدالت نے حکومت کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت 2010 کے قانون کو اختیار کیے جانے سے اس کی آئینی خامی دور ہوگئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی موجودہ ریاستی قانون کو اختیار کرنے سے وہ پارلیمنٹ کا قانون نہیں بن جاتا۔
عرضیوں کو منظور کرتے ہوئے ڈویژن بنچ نے 2010 کے ایکٹ کو اس حد تک آئین کے منافی قرار دیا، جہاں تک اس کے تحت عرضی گزاروں کے پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کے محصولات عائد کیے گئے تھے۔
عدالت نے وصولی کے مطالباتی نوٹس منسوخ کردیے اور حکومت کو پابند کیا کہ وہ آبی استعمال کے محصولات یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
دنیا1 week agoایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو حکومت کا تختہ الٹیں گے: نتن یاہو
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
دنیا1 week agoہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں
-
جموں و کشمیر1 week agoانتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
-
ہندوستان1 week agoاگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
-
ہندوستان1 week agoمودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
-
دنیا1 week agoایران کی امریکہ کو فوجی کارروائی کے سنگین نتائج کی وارننگ، توانائی منڈیاں تین سال تک غیر مستحکم رہنے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران کو شکست دینے کا دعویٰ، جے سی پی او اے سے نکلنے کے فیصلے کا دفاع
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
