دنیا
پوتن نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری رضائی سے ملاقات کی
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ماسکو میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
مسٹر پیسکوف نے کہا کہ ”صدر ولادیمیر پوتن نے کریملن میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی، جو اس وقت ماسکو میں ہیں۔”
آئی آر آئی بی نے بتایا کہ مسٹر رضائی نے مسٹر پوتن کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پہنچایا، تاہم اس پیغام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
گزشتہ 2 نومبر کو میڈیا نے بتایا تھا کہ مسٹر پوتن اور مسٹر رضائی نے فون پر مغربی ایشیا کی صورت حال اور دیگر امور پر بات چیت کی تھی۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ٹرمپ نے یورپ کو شامل کرتے ہوئے بڑے امن معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر امن معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین تنازع سے آگے بڑھ کر پورے یورپ کو بھی اس میں شامل کر سکتا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”ایک معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑا معاہدہ ہوگا اور اس میں صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ چیزیں شامل ہوں گی۔ میں یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پورا یورپ شامل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا اور شاندار معاہدہ ہوگا اور ہر کوئی اس سے خوش ہوگا۔”
روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی بات چیت 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ہونے والی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فریق کی جانب سے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔
امریکی ایلچی کشنر نے اگلے ہفتے ابوظہبی میں ہونے والی سہ فریقی بات چیت سے پہلے امریکہ کی امن حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسے عملی اور باہمی رضامندی سے طے کیے گئے اقدامات کی سمت میں کام کرے گا، جن سے مستقبل میں تنازع کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
امریکی منصوبے کے اہم نکات میں یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتیں اور یورپ کے لیے وسیع تر حفاظتی نظام تیار کرنا شامل ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
یورپی یونین نے مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیوں کے واقعات کے درمیان کسی تعلق سے انکار کیا
بروسلز، یورپی یونین نے براعظم میں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے حالیہ واقعات کے درمیان کسی باہمی تعلق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم، رواں ہفتے یورپی یونین کے مختلف ممالک میں 20 سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور کئی ملکوں نے متاثرہ طیاروں کی حفاظت کے لیے جنگی طیارے روانہ کیے۔
حکام اور فضائی کمپنیوں کے مطابق جمعرات کو کم از کم 14 یورپی پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ یہ رواں ہفتے اس نوعیت کے واقعات کا تیسرا دن تھا۔ اٹلی، فرانس اور بلغاریہ کے فوجی طیاروں نے متاثرہ پروازوں کو حفاظتی حصار فراہم کیا، جبکہ کئی طیاروں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ تمام طیاروں نے بحفاظت لینڈنگ کی اور کسی میں بھی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر اپوسٹولوس تزیتزیکوستاس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والی کوئی بھی دھمکی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا رپورٹ ہونے والے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ان دھمکیوں کا خاص طور پر کم خرچ فضائی کمپنیوں اور بلغاریہ، جمہوریہ چیک اور اٹلی آنے جانے والی پروازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فضائی کمپنی ریان ایئر سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہے، جس کی رواں ہفتے کم از کم سات پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان کے مطابق میڈرڈ، کوپن ہیگن اور لندن کے اسٹینسٹیڈ ہوائی اڈے سے صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی تین پروازوں کو بم کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان میں سے دو طیاروں نے صوفیہ میں لینڈنگ کی، جبکہ لندن اسٹینسٹیڈ سے آنے والی پرواز کا رخ دارالحکومت کے مشرق میں واقع پلوودیف ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔ بلغاریہ کی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے تینوں طیاروں کو حفاظتی حصار فراہم کیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ان مشنوں کا مقصد متاثرہ طیاروں کی نگرانی، شناخت اور انہیں بحفاظت منزل تک پہنچانا تھا۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تینوں طیاروں کی تلاشی لی گئی، تاہم کسی میں بھی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
ادھر اطالوی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے نے ہیلسنکی سے روم جانے والی فن ایئر کی پرواز کو حفاظتی حصار فراہم کیا، جہاں بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے طیارے کی تلاشی لی۔ فن ایئر کی ترجمان اسٹینا تونانین نے بتایا کہ کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے فن ایئر کا ایک واضح طریقۂ کار ہے اور کمپنی ہمیشہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ہیلسنکی سے ویانا جانے والی ایک اور پرواز اے وائی 1471 کو بھی جھوٹی دھمکی دی گئی، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر ریپبلکن پارٹی کا دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن، وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران جنگ، کانگریس کے ساتھ بگڑتے تعلقات اور مواخذے کے امکانات نے ان کے عہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کو ٹرمپ کے ایک مشیر نے بتایا کہ ہیگسیتھ کی پوزیشن ”یقینی طور پر کمزور ہوچکی ہے”، تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ صدر انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ مشیر نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔
ایوان نمائندگان آئندہ ہفتے ہی ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرسکتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم غیر قانونی طور پر جاری رکھی۔ اس سلسلے میں کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے مواخذے کی تحریک پیش کی ہے، جو اسرائیل اور بیرون ملک امریکی فوجی مداخلتوں کے نمایاں ناقد ہیں۔
ایران جنگ مواخذے کی کوششوں اور ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست دونوں کا مرکزی موضوع بن گئی ہے۔ جنگ کی مخالفت اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے ووٹروں میں ناراضگی پیدا کی ہے۔
ذرائع کے مطابق 28 فروری کو ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کا حکم دیے جانے سے قبل ہیگسیتھ فوجی کارروائی کے سب سے مضبوط حامیوں میں شامل تھے اور انہوں نے تنازع جلد ختم ہونے کے حوالے سے انتظامیہ کے اندر انتہائی پرامید اندازے پیش کیے تھے۔تاہم اطلاعات کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اگست تک تہران پر دباؤ بڑھانے کے متبادل طریقوں کی تلاش شروع کردی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکام انتظامیہ کے مقاصد کے حصول کی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق فوج کے اندر اس بحث نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ہیگسیتھ کو کب احساس ہوا کہ ابتدائی حکمت عملی سے وہ نتائج حاصل ہونا مشکل ہیں جن کی انہوں نے توقع کی تھی۔
ٹرمپ نے بدھ کو عوامی طور پر اپنے وزیر دفاع کی حمایت کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ہیگسیتھ ”بہت اچھا کام کر رہے ہیں”۔ تاہم صدر ماضی میں بھی کابینہ کے ان ارکان کی حمایت کرچکے ہیں جنہیں تنقید کا سامنا تھا، لیکن بعد میں انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔
ہیگسیتھ کی پوزیشن کو کمزور کرنے والے چار اہم عوامل ہیں۔
ڈیموکریٹس اس سے قبل بھی ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کرچکے ہیں اور جنوری میں ایوان نمائندگان میں اپنی نئی اکثریت کے بعد وہ ان کوششوں کو مزید تیز کرسکتے ہیں۔ مواخذے کی طویل کارروائی سے ان کی وزارت کے دوران کارکردگی اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے پر بھی نئے سرے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے ‘ایگزیوس’ کو بتایا کہ اگر ایران جنگ نہ ہوتی تو ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی کہیں بہتر ہوتی۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان6 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
دنیا1 week agoایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات بڑھ کر 47.1 ارب ڈالر ہو گئے: سینٹ کام کا تخمینہ
-
دنیا6 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان1 week agoووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
دنیا1 week agoجرمنی میں ایک گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، کم از کم چار افراد زخمی
