دنیا
ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملہ دفاعی کارروائی تھی: میڈیا رپورٹس
واشنگٹن، امریکی فوج نے تہران کے حملے کے جواب میں جنوبی ایران کے جزیرہ قشم پر دفاعی مقصد کے تحت کارروائی کی۔ امریکی میڈیا کے متعدد اداروں نے یہ اطلاع دی ہے۔
اس سے قبل رات کے وقت جزیرہ قشم پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے پیچھے امریکی مسلح افواج کا ہاتھ تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی فوج گزشتہ چند ہفتوں سے ایران کے خلاف محدود پیمانے پر خفیہ حملے کر رہی تھی۔
نیوز نیشن کی صحافی کیلی میئر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ امریکی فوجی اڈوں پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے والے ایرانیوں کے خلاف دفاعی کارروائی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی طیارے کو ایران کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں جزیرہ قشم پر میزائل داغنے کے نظام کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی مبینہ کوشش کے ردعمل میں کی گئی۔
پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے میں کوئی جلدبازی نہیں کرنا چاہتے۔ اسی روز وائٹ ہاؤس کے پریس پول نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی کانگریسی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی کارروائیاں کی تھیں۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے دشمنی ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملے کرتے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا حکم دیا
تہران، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔ مسٹر پزشکیان نے کہا، “ہم اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے سپریم لیڈر نے حکومت کو اس معاملے میں ضروری اختیارات بھی دیے ہیں۔”
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنا شروع کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔ جنگ بندی کے باوجود یہ تنازعہ اب بھی حل نہیں ہوا ہے اور اس کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ تنازع کے بڑھنے کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے، جو دنیا بھر میں تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس وجہ سے زیادہ تر ممالک میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اسرائیل کی نو منتخب کنیسٹ کا افتتاحی اجلاس 10 نومبر کو ہوگا
تل ابیب، اسرائیل کی نو منتخب پارلیمنٹ کنیسٹ کا افتتاحی اجلاس 10 نومبر کو منعقد ہوگا، جس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور نئے اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے بعد سیاسی جماعتیں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے مذاکرات اور مشاورت میں مصروف ہیں۔
کنیسٹ کے پیر کو جاری بیان کے مطابق اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے (جی ایم ٹی کے مطابق دوپہر دو بجے) شروع ہوگا۔ صدر اسحاق ہرزوگ اور دیگر مدعو مہمان بھی اس میں شرکت کریں گے۔
گزشتہ منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 120 رکنی کنیسٹ میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 48 اور عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ انتخابی نتائج کا باضابطہ اعلان بدھ کو متوقع ہے۔
افتتاحی اجلاس میں نومنتخب اور دوبارہ منتخب ہونے والے ارکان حلفِ وفاداری اٹھائیں گے، جس کے بعد اپنے درمیان سے پارلیمنٹ کے اسپیکر کا انتخاب کریں گے۔ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے ‘چینج بلاک’ نے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کی جگہ اپنا امیدوار لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اوہانا نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسپیکر کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ وہ پارلیمانی کارروائی کی نگرانی، سرکاری تقریبات میں پارلیمنٹ کی نمائندگی اور قانون سازی کے ایجنڈے کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسپیکر کے انتخاب کے بعد آٹھ تک ڈپٹی اسپیکروں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔
دریں اثنا، نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں نے مشاورت تیز کر دی ہے۔ چینل 12 کے مطابق، یسرائیل بیتینو کے سربراہ ایوگدور لائبرمین وزارت عظمیٰ کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کریں گے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان (KAN) نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ یائر گولان کی قیادت میں ڈیموکریٹس جماعت آئزن کوٹ کی حمایت کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی قیادت میں ‘ٹُگیدر’ پارٹی نے اتوار کو آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
عرب ارکان پارلیمنٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ایک اور مدت کے لیے اقتدار میں آنے سے روکنے کی غرض سے آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کر سکتے ہیں۔
اگر تمام 19 عرب ارکان اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر آئزن کوٹ کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں 67 ارکان کی سفارشات حاصل ہو سکتی ہیں، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔ یہ سفارشات صدر ہرزوگ کے اس فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں کہ حکومت بنانے کی دعوت پہلے کس رہنما کو دی جائے، تاہم لیکوڈ کنیسٹ کی سب سے بڑی انفرادی جماعت برقرار ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ ایران پر بمباری کی تو تہران کا ردعمل کیا ہوگا
تہران، ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ مکمل جنگ چھڑ گئی تو یہ تنازع ان کے حریفوں کی توقعات سے کہیں زیادہ طویل اور مہنگا ثابت ہوگا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے خلاف نئے ہتھیاروں اور جنگی حکمت عملیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال جون کے بعد ان ملکوں کے درمیان یہ تیسرا بڑا تصادم ہو سکتا ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اتوار کا بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”کسی نہ کسی صورت بہت جلد ختم ہو جائے گی” اور تہران کو معاہدہ کرنا چاہیے، ورنہ اسے امریکی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق سینئر کمانڈر حسین کنانی مقدم نے الجزیرہ کو بتایا کہ رواں سال کے اوائل میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایرانی مسلح افواج کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باوجود اب ان کی عملیاتی صلاحیت گزشتہ تنازعات کے مقابلے میں بہتر ہے۔ان کے مطابق، ”حملے کی صلاحیت کے اعتبار سے ہمارے اہداف کا ڈیٹا بیس نمایاں طور پر وسیع ہوا ہے، میزائلوں کی رینج، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور وارہیڈز میں بہتری آئی ہے، جبکہ ڈرونز کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ دشمن کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور مزید جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کے مطابق، ایران کے پاس بعض ایسی صلاحیتیں اور اہداف بھی ہیں جنہیں اب تک ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن دوبارہ حملے کی صورت میں انہیں سامنے لایا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف، پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کے کمانڈروں نے حال ہی میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کرکے ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جواب فوری ہوگا اور اس کا دائرہ مغربی ایشیا سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے اتوار کی شام کہا کہ فورسز کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ”سو فیصد تیار” ہیں۔ ان کے مطابق، ایران مستقبل قریب میں ”زیادہ سے زیادہ دفاعی بازدارندگی” کا ہدف حاصل کر لے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکی فوجی سازوسامان کی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران غیر متناسب جنگی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ ان کے مطابق، جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے بعد مختصر جنگ بندی کے دوران بعض ہتھیاروں کی مرمت کی گئی، نئے آلات شامل کیے گئے اور نئی جنگی حکمت عملی تیار کی گئی۔
گزشتہ ماہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے زیرِ زمین ڈرون تیار کرنے والی ایک فیکٹری کی ویڈیو نشر کی تھی۔ حکام نے ارش حملہ آور ڈرون کا جدید ماڈل بھی پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے وارہیڈ کی صلاحیت دوگنی کرکے 100 کلوگرام کر دی گئی ہے، جبکہ نشانہ لگانے کی صلاحیت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔
رائٹرز کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ایران کے دفاعی نظام سے منسلک متعدد فوجی اداروں نے پابندیوں سے بچتے ہوئے اربوں ڈالر کے فوجی سازوسامان کی درآمد کے ذریعے پاسداران انقلاب کی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنوری 2025 سے رواں سال جون تک چین، روس اور جرمنی سے میزائل اور ڈرون کی تیاری کے لیے راکٹ ایندھن، دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، ٹائٹینیم اور بھاری ٹرک درآمد کیے گئے، جنہیں میزائل لانچ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جنگ کے دوران ایران کے میزائل دفاعی نظام، ریڈار اور دیگر فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم کنانی مقدم کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ اور نئے تیار کردہ نظاموں کی درستگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے امریکی ساختہ ایف۔35 لڑاکا طیارے اور دیگر جنگی طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ایرانی صلاحیت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں کو دہرایا اور ان کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حکام کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے راستوں سے گزرنے والے بڑے تیل بردار جہازوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ستمبر میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد سے امریکی بحری جہازوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں داخل ہونے سے گریز کیا ہے۔
تاہم امریکہ نے ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایرانی شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان6 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ1 week agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر7 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے مہارشی والمیکی جینتی پر عوام کو مبارک باد دی
-
دنیا1 week agoاسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
