ہندوستان
پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے میں تاخیر پر کانگریس کا سوال، حد بندی بلوں کے لیے خصوصی اجلاس بلانے ک…
نئی دہلی، کانگریس نے منگل کو پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے باضابطہ اعلان میں مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر خصوصی اجلاس بلانے کا امکان کھلا رکھے ہوئے ہے، تاکہ مجوزہ حد بندی بلوں کو لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جا سکے، حالانکہ ان بلوں کے مندرجات کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد 82 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اسے باضابطہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ اس تاخیر کا تعلق وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے مجوزہ حد بندی قانون سازی کی منظوری یقینی بنانے کے لیے خصوصی اجلاس بلانے پر غور کرنے کی اطلاعات سے ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ مجوزہ بل سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ممکنہ انتخابی شکست سے بچانا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، ”ان بلوں کے مندرجات کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے، حالانکہ ان کا مقصد واضح ہے کہ 2029 میں بی جے پی کو سامنے نظر آنے والی شکست سے بچایا جائے۔”
امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے، جنہیں انہوں نے ‘خود ساختہ چانکیہ’ قرار دیا، کانگریس رہنما نے انتخابی بے ضابطگیوں پر پارلیمنٹ میں بحث کے معاملے پر حکومت کے موقف میں دوہرے معیار کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امت شاہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر بحث کے اپوزیشن کے مطالبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ عمل الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”گزشتہ سال جب پوری اپوزیشن ایس آئی آر پر بحث چاہتی تھی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔”
پارلیمنٹ میں ووٹ چوری کے الزامات پر بحث کے لیے حکومت کی آمادگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ اس طرح کی کوئی بھی پہل اس وقت تک بے معنی ہوگی، جب تک مرکز الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی جاری نظرثانی کے عمل سے متعلق اپوزیشن کے خدشات دور نہیں کرتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا، ”اگر وزیر داخلہ ووٹ چوری کے معاملے پر خصوصی اجلاس بلانے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے آلۂ کار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ یقینی بنانا چاہیے۔ انہیں ایس آئی آر بھی معطل کر دینی چاہیے۔”
مسٹر رمیش نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پیش کرنے سے پہلے حد بندی کے نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکز نے اپوزیشن کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور ان تجاویز، ان کے آئینی مضمرات اور مختلف ریاستوں کی سیاسی نمائندگی پر ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ کیوں نہیں بلائی۔
انہوں نے پوچھا، ”اور ظاہر ہے، انہیں حد بندی سے متعلق اپنی نئی تجاویز بھی اپوزیشن کے ساتھ کافی پہلے شیئر کرنی چاہئیں۔ ان تجاویز پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی ان میں ہمت کیوں نہیں ہے؟”
حد بندی کے عمل میں پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی سرحدوں کی ازسرنو تعیین اور نشستوں کی تقسیم کا تعین کیا جاتا ہے۔ ملک گیر سطح پر مجوزہ آئندہ حد بندی کے پیش نظر یہ معاملہ سیاسی طور پر انتہائی حساس بن گیا ہے۔
2026 کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری سے حلقوں کی آئندہ ازسرنو ترتیب کو جوڑنے والی آئینی دفعات کے تناظر میں اس بحث کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اپوزیشن، بالخصوص جنوبی ہندوستان کی سیاسی جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حد بندی کا عمل بنیادی طور پر آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی ہوا تو اس سے مختلف ریاستوں کے درمیان سیاسی نمائندگی کا توازن بدل سکتا ہے۔
جنوبی ریاستوں کا کہنا ہے کہ آبادی پر قابو پانے کی پالیسیوں کو کامیابی سے نافذ کرنے کی وجہ سے انہیں پارلیمانی نمائندگی کے معاملے میں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی آئینی تحفظات، اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار اور مجوزہ حلقہ بندی کی تنظیم نو کے وقت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
کانگریس کا اصرار ہے کہ حد بندی کو محض انتظامی یا تکنیکی عمل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے وفاقی نظام اور سیاسی طاقت کی تقسیم پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکز اپنی تجاویز منظر عام پر لائے اور اس عمل کو آگے بڑھانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کرے۔
مسٹر رمیش کے تازہ بیان نے یوں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تین اہم اور متنازع مسائل کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے: انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری، الیکشن کمیشن کی جواب دہی اور انتخابی حلقوں کی مجوزہ حد بندی۔
کانگریس اس بحث میں شفافیت اور مشاورت کو مرکزی اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ خصوصی اجلاس بلانے کے لیے حکومت کی بظاہر آمادگی پارلیمانی بحث کے تئیں حقیقی عزم کا نتیجہ ہے یا 2029 کے عام انتخابات سے پہلے سیاسی مفادات کے پیش نظر کیا جا رہا اقدام ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ایپل کا سہ ماہی ریونیو 114 ارب ڈالر پر، ہندستان میں بھی ریکارڈ فروخت
نئی دہلی، امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے گزشتہ 26 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 114 ارب ڈالر سے زائد کا ریونیو حاصل کیا اور اس دوران ہندستان سمیت کئی بازاروں میں اس کی ریکارڈ فروخت درج کی گئی۔
امریکہ کے کیلیفورنیا کے شہر کیوپرٹینو میں کمپنی نے پیر کے روز 26 ستمبر کو ختم ہونے والی چوتھی سہ ماہی اور پورے سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا۔ کمپنی نے بتایا کہ سہ ماہی میں کل ریونیو، آئی فون سے حاصل ہونے والی آمدنی اور فی حصص آمدنی کے نئے ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سروسز سے حاصل ہونے والا ریونیو بھی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہا۔ کمپنی کا سہ ماہی ریونیو 114.5 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ فی حصص آمدنی 2.10 ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد کا اضافہ ہوا۔
کمپنی نے فی حصص 0.27 ڈالر کے ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا ہے۔ مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر ڈیویڈنڈ کی شکل میں تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کی ادائیگی 16 نومبر کو کی جائے گی، جس کے لیے 12 نومبر 2026 کی شیئر ہولڈنگ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نتائج کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنس نے بتایا کہ کمپنی نے امریکہ، یورپ، چین اور باقی ایشیا پیسیفک کے خطوں میں ستمبر سہ ماہی کے ریکارڈز قائم کیے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ابھرتے ہوئے دونوں طرح کے بازاروں میں ستمبر سہ ماہی کا ریونیو نئی ریکارڈ سطح پر رہا۔ اس کے ساتھ ہی ہندستان میں بھی اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چوتھی سہ ماہی میں آئی فون سے 57.6 ارب ڈالر کی کمائی ہوئی ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے اور یہ کمپنی کی کل آمدنی کا 50 فیصد ہے۔ امریکہ اور چین میں دو ہندسوں کی عمدہ نمو رہی، جس کی وجہ سے ریونیو ریکارڈ سطح پر پہنچا۔
امریکہ، چین اور ہندستان میں پرانے فونز سے نئے فونز پر منتقل ہونے والے صارفین کے معاملے میں بھی کمپنی نے ستمبر سہ ماہی کا ریکارڈ بنایا۔ اپگریڈرز کے اعتبار سے بھی یہ کمپنی کے لیے اب تک کا بہترین مالیاتی سال رہا۔
مسٹر ٹرنس نے کہا کہ کمپنی اس سال کا اختتام اپنے اب تک کے انتہائی شاندار لائن اپ کے ساتھ کر رہی ہے۔ اس میں ‘آئی فون ڈیو’ بھی شامل ہے، جو اصل آئی فون کے بعد سب سے بڑی تبدیلی لانے والا آئی فون ہے۔
اس کے ساتھ ہی آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی اس لائن اپ کا حصہ ہیں۔ پہلی بار میک (ڈیسک ٹاپ) میں ‘ٹچ’ کی سہولت شامل کی گئی ہے۔
ایپل کے چیف فنانشل آفیسر کیون پاریکھ نے کہا کہ پورے سال کے دوران کمپنی کا کل ریونیو 479 ارب ڈالر رہا، جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔ فی حصص آمدنی میں بھی دوہرے ہندسوں کی نمو درج کی گئی۔
میک کی فروخت سے کمپنی کی کمائی 10.8 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں مک بک نیو اور مک بک پرو کا سب سے زیادہ حصہ رہا۔
سروسز سے حاصل ہونے والا ریونیو 31.6 ارب ڈالر کی ہمہ وقت بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس میں سال بہ سال 10 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مسٹر پاریکھ نے بتایا کہ لاطینی امریکہ اور ہندستان جیسے کئی ابھرتے ہوئے بازاروں میں سروسز سے حاصل ہونے والے ریونیو کا نیا ریکارڈ بنا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ڈوبھال کی ویتنامی رہنماؤں سے سلامتی اور خفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون پر بات چیت
نئی دہلی، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے ہندوستان اور ویتنام کے درمیان سلامتی اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ویتنامی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔
وزارت خارجہ نے منگل کو بتایا کہ مسٹر ڈوبھال پیر سے ویتنام کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے ویتنام کے وزیر سلامتی اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن جنرل لُوونگ تام کوانگ سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے امن و قانون، سائبر سلامتی، سمندری سلامتی اور اقتصادی سلامتی کے شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی ان شعبوں میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
مسٹر ڈوبھال نے ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور صدر تو لام سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے انہیں نیک خواہشات پیش کیں۔ اس کے علاوہ مسٹر ڈوبھال نے ویتنام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع جنرل فان وان جیانگ اور وزیر خارجہ لے ہوئی چُنگ سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنما ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہیں۔
قومی سلامتی کے مشیر نے ہنوئی میں واقع تاریخی کوان سُو پگوڈا کا بھی دورہ کیا۔ یہ ویتنام کی قومی بدھسٹ ایسوسی ایشن کا صدر دفتر ہے۔
ہندوستان اور ویتنام کے درمیان 2027 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے 55 سال مکمل ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہندوستان۔ویتنام اعلیٰ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
اگلے دس برسوں میں ہندوستان 500 گیگاواٹ نئی غیررکازی بجلی پیداوار کی صلاحیت کا اضافہ کرے گا: مودی
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ حکومت نے اگلے 10 سے 11 برسوں میں ملک میں 500 گیگاواٹ نئی غیر رکازی بجلی پیداوار کی صلاحیت شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مسٹر مودی نے آج یہاں بھارت منڈپم میں بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب تک تقریباً 300 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت میں غیررکازی ذرائع کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2030 تک 500 گیگاواٹ غیررکازی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا عزم کیا ہے اور ملک اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے لے کر مغربی ایشیا کے بحران تک دنیا نے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان نے ان مشکلات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا اور اقتصادی ترقی کی رفتار بلند رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران صاف توانائی میں سرمایہ کاری اور اس سے متعلق نظام کی ترقی کے باعث ہندوستان بیرونی بحرانوں سے زیادہ شدید طور پر متاثر ہونے سے محفوظ رہا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی کا تحفظ براہ راست اقتصادی تحفظ سے جڑا ہوا ہے اور اس کا مستقبل صاف توانائی میں پوشیدہ ہے۔ رکازی ایندھن کے ذخائر محدود ہیں اور چند مخصوص خطوں تک مرتکز ہیں، جبکہ شمسی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے امکانات وسیع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2030 تک اپنی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت کا نصف غیررکازی ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف 2025 میں ہی پورا کر لیا، یعنی مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے۔ شمسی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ فروری 2024 میں شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم کے تحت ایک کروڑ گھروں کی چھتوں پر شمسی پینل لگانے کا ہدف ہے۔ اب تک 65 لاکھ سے زیادہ گھر اس اسکیم سے منسلک ہو چکے ہیں۔ ہر چھ دن میں ایک لاکھ نئے گھر اس اسکیم میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق، ان گھروں کے بجلی بلوں میں تقریباً 76 فیصد تک کمی آئی ہے۔ لاکھوں خاندانوں کے بجلی بل صفر ہو گئے ہیں اور کئی خاندان اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم دیگر ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ملکوں کی توانائی سلامتی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی 44 ہزار سے زیادہ سرکاری عمارتیں شمسی توانائی سے منسلک ہو چکی ہیں، جس سے ہر سال تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ کُسم اسکیم کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی سے آبپاشی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ شمسی پمپ کا فائدہ اٹھانے والے ہر کسان کو سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے تالابوں اور جھیلوں کے اوپر شمسی پینل لگانے والی پی ایم سوریہ سروور اسکیم کا بھی ذکر کیا۔ اس سے آبی وسائل کا بہتر استعمال ہو رہا ہے اور زمین پر ہونے والا خرچ بھی بچ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت اس دہائی کے اختتام تک 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کا ہدف ہے۔ نقل و حمل کے شعبے میں بھی اس کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ چند ماہ قبل ملک کی پہلی گرین ہائیڈروجن ٹرین شروع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو پیداواری علاقوں سے ضرورت والے خطوں تک پہنچانے کے لیے گرین انرجی کوریڈور بنائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی بجلی کی لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے پانچ علاقائی بجلی گرڈ کو پہلے ہی ایک نیٹ ورک سے جوڑا جا چکا ہے۔ اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ شمسی توانائی کے آلات کی گھریلو پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک دہائی پہلے شمسی ماڈیول تیار کرنے کی صلاحیت تقریباً دو گیگاواٹ تھی، جو اب بڑھ کر 200 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ شمسی سیل تیار کرنے کی صلاحیت بھی تقریباً 40 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ دیگر آلات کی پیداوار بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسے آتم نربھر بھارت اور میک اِن انڈیا مہم کی کامیابی کا ثبوت قرار دیا۔
وزیر اعظم نے سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور سڑکوں کی روشنی کے نظام کو جلد از جلد شمسی توانائی سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں اور مقامی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت کی تجویز پیش کی، تاکہ بہتر کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور دوسرے ان سے سیکھ سکیں۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ شمسی پمپ سے آگے بڑھ کر خالی زمین اور کھیتوں کی منڈیر پر شمسی پینل لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کو اناج پیدا کرنے والے کے ساتھ ساتھ توانائی پیدا کرنے والا بھی بننا چاہیے۔
مسٹر مودی نے اسٹارٹ اپس، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، محققین اور صنعت کاروں سے ایسے شمسی توانائی کے ماڈل تیار کرنے کی اپیل کی، جن کے ذریعے ہر موسم میں اور چوبیس گھنٹے خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے گھروں میں شمسی بجلی سے کھانا پکانے، درآمد شدہ گیس پر انحصار کم کرنے اور الیکٹرک اسکوٹر، موٹر سائیکل اور کار کو گھریلو شمسی بجلی سے چارج کرنے کا نظام تیار کرنے پر زور دیا۔ اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہر سال ہزاروں روپے بچانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ڈیری کے شعبے، مویشیوں کے چارے، فصلوں کی کٹائی اور کٹائی کے بعد کے کاموں کے لیے بھی شمسی آلات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان اہداف کو پورا کرنے کے لیے ملک میں بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت اور ضروری آلات کی پیداوار بڑھانا ہوگی۔ انہوں نے محققین اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ دیسی ٹیکنالوجی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نئے حل تیار کریں۔ ان کے مطابق صاف توانائی کے شعبے میں آلات کی تیاری، تنصیب، مرمت اور نقل و حمل جیسے کاموں سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں شمسی توانائی کی توسیع سے نئی صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کو مزید فروغ ملے گا۔
سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ ، بازار کا وسیع حجم اور پالیسیوں کا استحکام سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ سال 2024 کی سرمایہ کاری کانفرنس کے بعد صرف دو برسوں میں تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس دہائی کے اختتام تک اس شعبے میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔
وزیر اعظم نے انٹرنیشنل سولر الائنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی کوشش ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے درکار مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارت ہر ضرورت مند ملک تک پہنچے۔ اسی سمت میں افریقہ کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی افریقہ سولر سہولت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی دہائی موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ صاف، سرسبز اور محفوظ مستقبل کے لیے ہر ملک اور خطے کو اس تبدیلی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا7 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
تجزیہ1 week agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان6 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر7 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے مہارشی والمیکی جینتی پر عوام کو مبارک باد دی
-
دنیا1 week agoاسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
