ہندوستان
وزیراعظم نے ملک کے عوام کو دھن تیرس کی مبارک باد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ملک کے عوام کو دھن تیرس کی دلی مبارک باد دی۔ انہوں نے بھگوان دھنونتری کا آشیرواد لیتے ہوئے ہر گھر میں خوشی، امن، خوشحالی اور اچھی صحت کی پرارتھنا کی۔
وزیر اعظم مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں امید ظاہر کی کہ بھگوان دھنونتری کی کرپا سے سب کی زندگی میں خوشی، امن اور اچھی صحت برقرار رہے۔ انہوں نے یہ بھی پراتھنا کی کہ ہر خاندان میں جوش و خروش اور خوشی کا چراغ ہمیشہ روشن رہے۔
مسٹر مودی نے کہاکہ ”میرے تمام ہم وطنوں کو دھن تیرس کی دلی مبارک باد۔ بھگوان دھنونتری کی کرپا سے سب کی زندگی میں خوشی، امن اور بہترین صحت کی روشنی ہمیشہ قائم رہے۔ ہر خاندان میں جوش و خروش اور خوشی کا چراغ ہمیشہ روشن رہے۔”
انہوں نے تہوار کی مبارک باد کے ساتھ بھگوان دھنونتری سے منسوب ایک سنسکرت پراتھنا بھی شیئر کی۔ ہندو روایت میں بھگوان دھنونتری کو دیویا ویدیا اور آیوروید اور طب کا دیوتا مانا جاتا ہے۔ ‘نمامی دھنونتریم آدی دیوم’ سے شروع ہونے والی اس پراتھنا میں بھگوان دھنونتری کو دیوتاؤں اور اسوروں کے ذریعے پوجے جانے والے اولین دیوتا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں انہیں بیماری، بڑھاپے اور موت کے خوف سے نجات دلانے والے علاج کا الوہی سرچشمہ بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ دھن تیرس، جسے دھن تریودشی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 5 روزہ دیوالی کے تہوار کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ تہوار ہندو کیلنڈر کے کارتک مہینے کے کرشن پکش کی تریودشی تِتھی کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار روایتی طور پر دولت، خوشحالی اور خوش بختی سے وابستہ ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
سرکاری اسکیموں کے فوائد کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنا جمہوریت اور غریبوں کے حقوق پر حملہ: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکیموں کے فوائد کو آدھار کارڈ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کی تیاری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے مرکزی وزیر للن سنگھ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت ووٹر لسٹ کے ذریعے غریبوں کے حقوق کو کنٹرول کرنے اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر کروڑوں لوگوں کے نام کاٹے جا رہے ہیں اور اگر اسے نہیں روکا گیا تو مستقبل میں مزید لوگوں کے نام ہٹا دیے جائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنیادی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔
مسٹر گاندھی نے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت اور ووٹ چوری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ووٹر لسٹ تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں بی جے پی کی اکثریت یقینی ہو اور مستقبل میں اسی فہرست کی بنیاد پر سرکاری اسکیموں کے فوائد بھی طے کیے جائیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج پنچایتی راج کی اسکیموں کے فوائد کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے کی بات ہو رہی ہے، کل راشن، پنشن، منریگا، رہائش، وظائف اور ریزرویشن جیسی سہولتوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ووٹ دینا شہریوں کا آئینی حق ہے، کوئی شرط نہیں۔ کسی غریب کی پنشن اس کے ووٹر کارڈ کی محتاج نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ صرف ووٹ چوری نہیں، بلکہ لوگوں کے حقوق کی چوری ہے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات جیتنے کی سیاست نہیں، بلکہ انتخابات میں دھاندلی کرکے اقتدار میں برقرار رہنے کا مستقل انتظام ہے۔ کانگریس اس طرح کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
این بی سی سی کا دوسری سہ ماہی کا منافع 34 فیصد بڑھ کر 210 کروڑ روپے ہوا
نئی دہلی، سرکاری شعبے کی تعمیراتی کمپنی این بی سی سی کو رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی بنیاد پر 210 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔
این بی سی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرس نے فی شیئر 25 پیسے کے عبوری منافع کا اعلان کیا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے کمپنی کی جانب سے دیا جانے والا یہ دوسرا منافع ہے۔ اس کے لیے 11 نومبر کی شیئر ہولڈنگ کو بنیاد بنایا جائے گا۔
سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آپریٹنگ آمدنی مجموعی بنیاد پر 17 فیصد بڑھ کر 3396 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
کمپنی نے بتایا کہ سہ ماہی کے دوران اس نے کئی اہم منصوبوں کے لیے آرڈر حاصل کیے۔ اسے ریزرو بینک آف انڈیا سے امراوتی میں اس کے دفتری اور رہائشی احاطوں کے لیے تقریباً 780 کروڑ روپے کا پراجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنسی کا کام اور انڈو تبت بارڈر پولیس سے لداخ میں سرحد پر واقع 28 چوکیوں پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے تقریباً 235 کروڑ روپے کا ورک آرڈر ملا ہے۔
کمپنی نے سیشلز کی حکومت کے ساتھ 1008 رہائشی یونٹوں پر مشتمل ایل اورور رہائشی منصوبے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ اس نے آسٹریلیا میں اپنے برانچ آفس کا بھی اندراج کرایا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
سپریم کورٹ نے 22,818 کروڑ روپے کے ڈی اے بقایاجات کے معاملے میں پنجاب کے چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگائی، ادائیگی کا منصوبہ طلب
نئی دہلی/چنڈی گڑھ، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے مہنگائی بھتے (ڈی اے) اور مہنگائی راحت (ڈی آر) کے 22,818 کروڑ روپے کے بقایاجات ادا نہ کرنے کے معاملے میں ریاست کے چیف سکریٹری کے اے پی سنہا کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی پر جمعرات کو روک لگا دی۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے یکم دسمبر تک ادائیگی کا خاکہ پیش کرنے کو کہا ہے۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اے مہادیون کی بنچ نے متعلقہ دیوانی توہین عدالت کی کارروائی میں بھی کسی قسم کی تعزیری کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس سے ملازمین اور پنشنرز کی کل 32,418 کروڑ روپے کی بقایا واجبات سے متعلق تنازع کے درمیان مسٹر سنہا کو فی الحال راحت مل گئی ہے۔
عدالت نے پنجاب حکومت سے یہ بتانے کو کہا ہے کہ وہ 31 مارچ 2027 تک بقایا رقم میں سے کتنی رقم جاری کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگانے کا مطلب ادائیگی سے متعلق بنیادی تنازع کا تصفیہ کرنا نہیں ہے۔
سماعت کے دوران بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا، ”آپ کو فی الحال راحت ملی ہے۔ مثبت جواب لے کر آئیے۔ آپ کتنی رقم جاری کریں گے؟” عدالت نے چیف سیکریٹری سنہا کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہیں جمعرات کو پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔
بنچ نے کہا، ”آپ چیف سیکریٹری کو جیل بھیجنے میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں؟ ہم توہین عدالت کی کارروائی پر روک لگا دیں گے۔ دیگر کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔” یہ کارروائی ہائی کورٹ کے تین اگست کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کو ریاست میں خدمات انجام دینے والے آل انڈیا سروس کے افسران پر نافذ شرحوں کے مطابق ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی بھتے اور مہنگائی راحت کی زیر التوا قسطیں جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔
واضح رہے کہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر ادائیگی کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے لیے 18 اگست کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ عدالت نے اس تاریخ کے بعد بقایا رقم پر سالانہ چھ فیصد سادہ سود بھی مقرر کیا تھا۔ اس نے حکومت کو بقایا رقم کی ادائیگی تک بڑے پیمانے پر اشتہاری مہمات سمیت غیر ضروری اخراجات کرنے سے بھی روک دیا تھا۔
حکومت مقررہ مدت کے اندر ادائیگی نہیں کر سکی، جس کے بعد ملازمین اور پنشنرز نے توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی۔ گزشتہ 12 اکتوبر کو ہائی کورٹ نے اپنے احکامات پر عمل درآمد روکنے سے متعلق ایک سرکاری مراسلے کے الزامات کی جانچ کے بعد فوجداری توہین عدالت کی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے مسٹر سنہا کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔ ادھر بقایا رقم ادا نہ کرنے پر الگ دیوانی توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری رہی۔
ہائی کورٹ نے جمعرات کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کا ایک داخلی مراسلہ، جس میں محکموں کو احکامات پر عمل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو جبکہ ریاست قانونی چارہ جوئی کر رہی ہو، بذات خود فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کو درست قرار دے سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے توہین عدالت کی کارروائی کے خلاف دلائل پیش کیے۔ اس تنازع کے مالی اثرات سنہا کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیش کی گئی اسٹیٹس رپورٹ سے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یکم جولائی 2021 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان پنجاب پر ڈی اے اور ڈی آر کی بقایا ذمہ داری 22,818 کروڑ روپے تھی۔ ملازمین اور پنشنرز کے تئیں کل بقایا واجبات 32,418 کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ مرکزی حکومت کی شرحوں کے مطابق ڈی اے کی ادائیگی سے تقریباً 4,712 کروڑ روپے کا اضافی سالانہ بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے بقایاجات کی ادائیگی میں مالی مشکلات کا حوالہ دیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران اس کے وکیل نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت سے تقریباً 13,000 کروڑ روپے کے بقایاجات ورثے میں ملے ہیں۔
ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ مالی مشکلات یا سود کی شق ادائیگی کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے کا جواز بن سکتی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ بقایاجات ادا کرنے کی ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سپریم کورٹ اس کے احکامات پر روک نہیں لگاتی یا ان میں ترمیم نہیں کرتی۔
جمعرات کا حکم فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کو ملتوی کرتا ہے اور دیوانی توہین عدالت کے معاملے میں حکام کو زبردستی کی کارروائی سے بچاتا ہے، لیکن اس کا مطلب ملازمین کے بقایا دعووں کو ختم کرنا نہیں ہے۔ دسمبر میں جب معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے آئے گا تو سپریم کورٹ پنجاب حکومت کی مجوزہ ادائیگی کی ترتیب کا جائزہ لے گی۔
یواین آئی۔ایف اے
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
ہندوستان6 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان1 week agoووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: کھرگے
-
دنیا6 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
ہندوستان1 week agoکھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 1,856.67 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
