دنیا
روس کا کیف پر میزائل حملہ، رہائشی عمارتوں کو نقصان، دو افراد زخمی
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے کہا ہے کہ روسی فوج نے شہر پر میزائل حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ صدر وولودیمیر زیلنسکی کے اس انتباہ کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روس توانائی کے مراکز، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔
کیف کے میئر وٹالی کلِچکو کے مطابق، ہفتہ کو ہونے والے حملے کے بعد میزائل کا ملبہ ایک رہائشی عمارت سے ٹکرایا، جس سے اسے نقصان پہنچا۔
کلِچکو نے ٹیلی گرام پر لکھا، “کیف کے مضافات میں دھماکے ہوئے ہیں۔ دشمن بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ ملبہ دارالحکومت کے مغربی علاقے میں واقع پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر گرا۔ ایک دوسری رہائشی عمارت کا اگلا حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔
شہر کی فوجی انتظامیہ نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں کنڈرگارٹن قائم ہے۔
حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی حکام نے شہریوں کو مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری رکھی۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مغربی اتحادیوں سے اس بارے میں ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین کی سلامتی کے لیے تعاون کس طرح فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کی دیر رات نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہی۔ اس سے قبل برسلز میں اتحادی ممالک کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے۔
برسلز مذاکرات میں جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اگلے سال کے لیے مالی وسائل اور مغربی اتحادیوں کی حمایت سے فراہم کی جانے والی سلامتی کی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان اجلاسوں میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے حکام کے علاوہ عالمی بینک اور امریکی سرمایہ کاری گروپ بلیک راک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
یہ حملے امریکہ کی قیادت میں یوکرین اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے تین روز قبل کیے گئے ہیں۔ یہ مذاکرات ابوظہبی میں شروع ہونے والے ہیں، جن کا مقصد چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس نوعیت کے آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کیرل دمترییف سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کہی۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جمعرات کو ان کی یوکرینی وفد سے ملاقات نہیں ہوئی۔
امریکی صدر اور دمترییف کی ملاقات اسی روز ہوئی جب خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے روسی اور یوکرینی نمائندوں کے ساتھ ایک سفارتی اجلاس کی میزبانی کی۔ اس کا مقصد جنوبی یوکرین کے شہر اولیشکی میں اکتوبر کے دوران ہونے والی مقامی جنگ بندی کو آگے بڑھانا تھا، جس میں میلانیا ٹرمپ نے ثالثی کی تھی۔
یہ جنگ بندی گزشتہ اتوار کو ختم ہوگئی تھی۔ اس کے ایک روز بعد روس نے زاپوریزیا علاقے کے قصبے کومیشوواخا میں امدادی سامان کی تقسیم کے ایک مرکز پر بمباری کی تھی۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے جمعہ کو بتایا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 50 ہوگئی ہے۔ اسے رواں سال شہریوں پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔
دنیا
روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرانے کے لیے امریکہ کام کر رہا ہے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ روس اور یوکرین کے ساتھ مثبت انداز میں مل کر کام کر رہا ہے اور یوکرین بحران کو حل کرنے کی سمت میں کافی پیش رفت کر رہا ہے۔
یوکرین تنازع کو حل کرنے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ”ہم روس اور یوکرین کے ساتھ مل کر اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہم کافی پیش رفت کر رہے ہیں۔” مسٹر ٹرمپ نے روس اور یوکرین سے متعلق صورتحال پر کئی ملاقاتوں اور فون کالز کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ ”روس اور یوکرین پہلی بار تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ آج میں فون پر بات کروں گا اور کل بھی کچھ لوگوں سے فون پر بات چیت ہوگی۔” انہوں نے بتایا کہ فلوریڈا میں ان کی کچھ ملاقاتیں طے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم نے مار اے لاگو میں کئی ملاقاتیں طے کی ہیں، جن میں روس اور دیگر معاملات سے وابستہ کئی لوگ شامل ہوں گے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے باعث امریکہ کو 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے باعث شیئر بازار کو ہوئے نقصان کا تخمینہ 3 لاکھ کروڑ ڈالر لگایا ہے۔
فلوریڈا کے ایک خلائی مرکز میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”کل 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ آپ جانتے ہیں کہ صرف ایک انتخاب کی وجہ سے ہمارے ملک کو 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔”
انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کی جیت سے شیئر بازار میں تیزی آتی تو انہیں اور بھی زیادہ دکھ ہوتا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”اگر ہمیں 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا فائدہ ہوا ہوتا تو شاید میں اور بھی زیادہ دکھی ہوتا۔”
واضح رہے کہ گزشتہ 3 نومبر کو ہوئے انتخابات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے سال امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہوجائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
عوامی لیگ کو سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: بنگلہ دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کی جانب سے دسمبر 2026 تک ہندوستان میں جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کے عزم کا اعادہ کیے جانے کے درمیان، ملک کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ عوام ممنوعہ عوامی لیگ کو دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
احمد نے عوامی لیگ کو ”آمرانہ، فاشسٹ اور قاتل” جماعت قرار دیتے ہوئے کہا، ”جس جماعت نے لوگوں کو قتل کیا، نسل کشی کی، ظلم و ستم اور تشدد کا ارتکاب کیا اور اب تک نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی اپنے اعمال پر ندامت کا اظہار کیا ہے، اسے اس ملک میں سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
وہ چٹگاؤں کے فتح چھڑی میں واقع بابونگر مدرسے میں منعقدہ دو روزہ 104ویں سالانہ مذہبی اجتماع کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
شیخ حسینہ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش واپسی پر انہیں گرفتاری، قید یا تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی ہے۔
انہوں نے کہا، ”اگر میری قسمت میں موت لکھی ہے تو میں اپنے ہی ملک کی سرزمین پر، اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کروں گی۔ اس لیے میں بنگلہ دیش واپس آؤں گی۔ میرا فیصلہ نہیں بدلا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے لوگوں کو دور سے مصائب میں مبتلا دیکھتے ہوئے نہیں گزار سکتیں۔
اس سوال پر کہ کیا انہیں توقع ہے کہ ہندوستان یا امریکہ ڈھاکہ پر ان کی سلامتی کی ضمانت دینے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، حسینہ نے کسی بیرونی سفارتی مدد کی ضرورت سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ”میں تمام ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کو اہمیت دیتی ہوں، لیکن مجھے اپنے وطن واپس آنے کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی سرپرستی یا منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔”
وزیر داخلہ احمد نے اس موقع پر حفاظتِ اسلام بنگلہ دیش کی بھی تعریف کی، جس نے ان کے بقول سابق عوامی لیگ حکومت کے فاشسٹ، اسلام مخالف اور غیر قانونی اقتدار کے خلاف احتجاج جاری رکھا، حالانکہ یہ تنظیم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حفاظتِ اسلام کے امیر مولانا محب اللہ بابونگری نے فاشزم کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات سے قبل اور وسیع تر تحریک کے دوران مظاہروں کی قیادت کی تھی۔
وزیر داخلہ نے کہا، ”بنگلہ دیش کو آزادی حاصل کرنے میں 23 سال لگے، جبکہ ملک کو ایک فاشسٹ اور علما مخالف حکومت کے چنگل سے آزاد کرانے میں مزید 16 سے 17 سال صرف ہوئے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس جدوجہد کے دوران علما اور طلبہ نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، لیکن ہلاک ہونے والوں میں سے بہت سے افراد کی شناخت اب تک نہیں ہوسکی ہے یا ان کی تدفین کے مقامات کا پتہ نہیں ہے۔
احمد نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی اور اگست کی عوامی تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عوامی لیگ کے گزشتہ 16 سے 17 سالہ دور حکومت میں تقریباً 3,000 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ”میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میری بقا کا فیصلہ کیا تھا۔ میں آج آپ لوگوں کی دعاؤں اور اللہ کے فضل و کرم سے زندہ ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 7,000 افراد کو مختلف طریقوں سے قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ لاکھوں افراد حملوں اور سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات کے ذریعے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک ایک بار پھر ان قوتوں کی واپسی چاہتا ہے جو ان مظالم کی ذمہ دار تھیں؟
احمد نے یہ الزام بھی لگایا کہ گارمنٹ سیکٹر میں حالیہ بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث بعض گروہوں کے روابط سابق عوامی لیگ حکومت سے تھے۔
انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں پر انتخابی مقاصد کے لیے اسلام کے استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے انتخابی منشور میں اسلامی اصولوں سے متعلق کوئی بامعنی عہد شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”کچھ جماعتیں خود کو اسلامی جماعتیں قرار دیتی ہیں، لیکن ان کے انتخابی منشور سے ‘اقیموا الدین’ کی اصطلاح حذف کردی گئی ہے۔ وہ عوامی سطح پر کچھ اور کہتی ہیں، لیکن ان کی دستاویزات میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا7 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا5 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان7 days agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
-
ہندوستان7 days agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان5 days agoجے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
ہندوستان5 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
