Connect with us

تجزیہ

کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا

Published

on

جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔

اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔

برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔

تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”

عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.

منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔

ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

جینت رائے چودھری

یواین آئی ایف اے

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

نیپال کا تباہ کن سیلاب: وجوہات اوراثرات

Published

on

خصوصی مضمون: ظفراقبال

نیپال اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف ہمالیہ کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں ہیں تو دوسری طرف گہری اور تنگ وادیاں، تیز بہاؤ والے دریا اور پہاڑی ڈھلوانیں، یہی جغرافیہ نیپال کو قدرتی حسن عطا کرتا ہے، لیکن اسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور زلزلوں جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

26 اگست 2026 کو نیپال کے رسووا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی کا ایک انتہائی تیز اور اچانک ریلا آیا، جس سے مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے، بازار اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تنہون سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے اور تقریباً 10 ہزار گھرانوں کو فوری امداد کی ضرورت پیش آئی۔

اس واقعے کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ روایتی مون سون سیلاب جیسا نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی غیر معمولی شدید بارش کو بنیادی سبب نہیں پایا گیا، بلکہ برفانی تودے، برف اور چٹانوں کے ملبے سے دریا کے عارضی طور پر بند ہونے اور پھر اس بندش کے اچانک ٹوٹنے کو اہم ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔

عام سیلاب میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اچانک سیلاب (Flash Flood) چند منٹ یا مختصر مدت میں انتہائی تیزی سے آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کی رفتار اور تباہ کن قوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پانی بلندی سے ڈھلوان کی طرف تیزی سے بہتا ہے اور راستے میں مٹی، پتھر، درخت، برف اور دیگر ملبہ بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔

نیپال کی جغرافیائی ساخت ایسے سیلاب کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں کے درمیان دریا انتہائی تنگ اور گہری وادیوں سے گزرتے ہیں۔ جب اچانک بڑی مقدار میں پانی ان وادیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایک قدرتی “سرنگ” کی طرح پانی کے بہاؤ کو مرتکز کرکے اس کی رفتار اور طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔

26 اگست کے واقعے کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں برفانی تودہ یا برف و چٹان کا ملبہ دریائے لہینڈے کھولا میں گرا اور اس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں پانی جمع ہوتا گیا۔ بعد ازاں جب عارضی بند ٹوٹا تو پانی، برف، چٹان اور مٹی کا ایک زبردست ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔

نیپال کے محکمہ آب و ہوا و آب پاشی سے متعلق حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی ابتدائی بنیاد پر بتایا کہ دریا سے تقریباً 20 کلومیٹر اوپر ملبے نے پانی کا راستہ روکا، جس سے ایک عارضی جھیل بن گئی اور پھر وہ اچانک ٹوٹ گئی۔ پانی میں بڑی مقدار میں ملبہ شامل ہونے کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کن طاقت کہیں زیادہ ہوگئی۔ابتدائی مرحلے میں ایک زلزلے کو بھی ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی امریکی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات نے اس مفروضے کو تبدیل کردیا۔ اضافی سیسمک ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ جس لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ دراصل گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔اس واقعے کی یہ خصوصیت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اچانک پہاڑی سیلاب لازماً شدید بارش یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا ٹوٹنا بھی ایسا سلسلہ شروع کرسکتا ہے جس کا اختتام ایک تباہ کن سیلاب پر ہوتا ہے۔

نیپال کے حالیہ سیلاب کو صرف ایک مقامی قدرتی حادثہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور بلند پہاڑوں کی چٹانوں اور برف کے درمیان استحکام متاثر ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئر کے اندر پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یہ پانی دراڑوں کے ذریعے اندر پہنچ کر برف اور چٹان کے درمیان رگڑ کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ برفانی یا چٹانی ڈھانچے جو طویل عرصے تک مستحکم رہے ہوں، اچانک حرکت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے گرم ہوتے ماحول میں گلیشیئرز کے عدم استحکام، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باہمی تعلق مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیلاب براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے لیے محرک برفانی تودہ، جھیل کا پھٹنا، شدید بارش یا دوسری جغرافیائی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی ان پہاڑی نظاموں کے بنیادی استحکام کو متاثر کرکے ایسے واقعات کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہے۔

نیپال کی ایک بڑی کمزوری اس کی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ہے۔ ملک کے شمال میں بلند ہمالیہ، درمیان میں پہاڑی علاقے اور جنوب میں نسبتاً ہموار ترائی کا خطہ ہے۔ بہت سے دریا بلند پہاڑوں سے نکل کر انتہائی تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں۔اس صورتحال میں اگر اوپر کہیں پانی کا اچانک ذخیرہ بن جائے اور پھر وہ ٹوٹ جائے تو نیچے آباد علاقوں تک پانی پہنچنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی سیلابی انتباہی نظام ایسے واقعات میں ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔عام طور پر سیلاب کی نگرانی بارش اور دریا کی سطح کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آسمان صاف ہو، بارش نہ ہورہی ہو اور اچانک کسی گلیشیئر یا ملبے کی رکاوٹ ٹوٹ جائے تو بارش پر مبنی نظام خطرے کی پیشگی اطلاع نہیں دے پاتا۔ حالیہ نیپالی سیلاب نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔اچانک سیلاب کا سب سے نمایاں اثر بنیادی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے میں سڑکیں، پل، گھر، بازار، سرحدی تنصیبات اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

نیپال کے لیے پن بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے پہاڑی دریا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور متعدد منصوبے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہی منصوبے اچانک آنے والے برفانی سیلاب، ملبے اور چٹانوں کے بہاؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔ 2025 میں بھی اسی دریائی نظام میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو متاثر کیا تھا۔

قدرتی آفت کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ پانی کے ساتھ آنے والا ملبہ مکانات کو تباہ کرتا، گاڑیوں کو بہا لے جاتا اور سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے۔سیلاب کے بعد خطرات ختم نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہیضہ، اسہال اور دیگر آبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تباہ شدہ صحت مراکز کے باعث زخمیوں اور بیماروں کو علاج کی سہولت ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ پانی و خوراک، متعدی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔

نیپال کی معیشت میں سیاحت، تجارت، زراعت، پن بجلی اور سرحدی تجارت اہم شعبے ہیں۔ جب سڑکیں اور پل تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اشیا کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک جاتی ہیں۔سرحدی راستوں کی بندش کا اثر دونوں جانب پڑتا ہے۔ سیاح، زائرین، تاجر اور مقامی مزدور راستوں کے بند ہونے سے پھنس سکتے ہیں۔ پن بجلی منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی پیداوار اور قومی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں ایک مختصر دورانیے کا سیلاب طویل مدت تک اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے۔ نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں اور گنگا کے وسیع دریائی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ بھوٹے کوشی، ترشولی اور ناراینی سمیت دریائی نظاموں میں اچانک بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا اخراج ہندوستان کے بہار، اتر پردیش اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد ہندوستان کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی انتباہ جاری کیے گئے۔یہ صورتحال ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد پار آبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر اور دریائی پانی سیاسی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں موسمیاتی، سیٹلائٹ اور دریائی معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔

سب سے اہم ضرورت جدید ابتدائی انتباہی نظام کی ہے۔ صرف بارش اور دریا کی سطح کی نگرانی کافی نہیں۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ممکنہ برفانی تودوں کی بھی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں، ڈرونز، سیسمک آلات، ریموٹ سینسنگ اور خودکار پانی ماپنے والے آلات کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں برفانی جھیل کے پھٹنے یا گلیشیائی انہدام کا امکان زیادہ ہے۔دوسری طرف ہمالیائی علاقوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی بھی نئے سرے سے کرنا ہوگی۔

دریاؤں کے قدرتی راستوں، سیلابی میدانوں اور انتہائی خطرناک وادیوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل کی تباہ کاریوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ سیلابی خطرے کے نقشے تیار کرکے نئی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔

نیپال کا حالیہ اچانک سیلاب اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ محض مون سون کی بارش سے پیدا ہونے والا روایتی سیلاب نہیں تھا بلکہ برفانی انہدام، ملبے کے بہاؤ، عارضی دریائی بندش اور اچانک پانی کے اخراج جیسے عوامل نے اسے انتہائی تباہ کن بنا دیا۔اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمالیہ کو صرف سیلاب کے نہیں بلکہ “اچانک اور غیر متوقع” سیلابوں کے خطرے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتی انسانی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر نئے خطرات پیدا کررہی ہیں۔

نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی نگرانی، مؤثر ابتدائی انتباہ، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کو بھی مشترکہ ہمالیائی خطرات کے لیے باقاعدہ معلوماتی اور امدادی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اگر پیشگی انتباہ، سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی جائے تو قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہونے کے باوجود ان سے ہونے والی انسانی اور معاشی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تازہ ترین

یوم آزادی اور مسلمان

Published

on

یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔

مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔

تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔

سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔

سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔

یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

 آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

محمد حفیظ الدین

سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی

hafiznoori1987@gmail.com

Continue Reading

تجزیہ

سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی

Published

on

جینت رائے چودھری

نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔

تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”

تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔

یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔

تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔

ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔

بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔

پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔

پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔

پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔

جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”

نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔

یو این آئی ایف اے

Continue Reading
Advertisement
جموں و کشمیر11 hours ago

راجوری میں 20000 روپے کی رشوت کے معاملے میں ٹریژری کلرک گرفتار

پاکستان13 hours ago

یمن تنازع سعودی عرب تک پھیلا تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا: خواجہ آصف

دنیا13 hours ago

بنگلہ دیش میں خسرہ سے اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی، متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ

دنیا13 hours ago

عالمی بحرانوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا آغاز، ’اعتماد بحال کرنے‘ کا عزم

دنیا13 hours ago

مغربی ایشیا میں کشیدگی سے عالمی توانائی منڈی متاثر، برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا

ہندوستان13 hours ago

تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک، تلنگانہ میں ریل سیکشن پر پٹریوں کی تعداد بڑھانے کے پروجیکٹس کو کابینہ کمیٹی کی منظوری

تجزیہ15 hours ago

کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا

ہندوستان15 hours ago

سری لنکا،ہندوستان کے سکیورٹی مفادات کے خلاف سرگرمیوں کے لیے اپنی زمین استعمال نہیں ہونے دے گا : دسانایکے

جموں و کشمیر15 hours ago

لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے

جموں و کشمیر16 hours ago

جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیا

دنیا18 hours ago

امریکہ لاطینی امریکہ میں اقتصادی اور سلامتی کے تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے: روبیو

دنیا18 hours ago

جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان

جموں و کشمیر19 hours ago

وندے ماترم تنازع نے جموں و کشمیر میں انڈیا اتحاد کے اختلافات کو بے نقاب کر دیا

دنیا21 hours ago

یو اے ای نے نیپال کے لئے مزید 38 ٹن انسانی امداد روانہ کی

ہندوستان21 hours ago

پنجاب کانگریس کے بعد راہل نے بھی گلزار سنگھ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا

دنیا21 hours ago

ٹرمپ نے سیکسنی-انہالٹ کے انتخابات میں اے ایف ڈی کی جیت کی وجہ جرمنی کی امیگریشن پالیسی کو قرار دیا

دنیا21 hours ago

امریکہ نے ایران کے پانچ تیل کے ٹینکر تباہ کر دیے: سینٹ کام

دنیا21 hours ago

ای یو نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی، لڑائی روکنے کی اپیل

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن 21 سے 30 ستمبر تک ہوگا

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز 30 روز میں وظیفہ بڑھانے کی حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے پر راضی

دنیا1 day ago

آبنائے ہرمز میں تعطل سے جہاز رانی متاثر، تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی

دنیا2 days ago

قطر اور چین کے درمیان علاقائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر تبادلہ خیال

دنیا2 days ago

ایران نے قاسم بصیر میزائل کی رونمائی کردی، فعال بازداریت کی جانب پیش قدمی کا اشارہ

فن و ادب2 days ago

جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب

کھیل2 days ago

ایشیائی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ: ہندوستان نے جنوبی کوریا کو 7-3 سے شکست دی

جموں و کشمیر2 days ago

دراندازی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف چوکس رہیں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ کے سرحدی باشندوں کو آگاہ کیا

جموں و کشمیر2 days ago

سماجی اور سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کی پالیسی پر مرکز ثانیِ نظر کرے: میرواعظ عمر فاروق

دنیا2 days ago

یمنی فورسز کی حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی، صنعا واپس لینے کا عزم

دنیا2 days ago

مالدیپ کے صدر کی برطانوی وزیر اعظم کو چاگوس جزائر پر مذاکرات کی دعوت

ہندوستان2 days ago

وزیراعظم مودی کا وڈودرا میں اپوزیشن پر’ناراض پھوپھا‘ کا دوبارہ طنز، کہا ‘جھوٹ کی گونج’ کو سچائی سے شکست ملے گی

دنیا2 days ago

حوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی

ہندوستان2 days ago

دہلی میں منی پور کے موسیقار کی موت کے بعد راہل گاندھی نے شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا

ہندوستان2 days ago

وزیراعظم مودی نے بھوپین ہزاریکا کے صد سالہ یوم پیدائش پر انہیں یاد کیا، آسام اور شمال مشرق کی آواز کی ستائش کی

دنیا2 days ago

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کا امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں پر تشویش کا اظہار

دنیا2 days ago

میکخواں کا 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پورے یورپ میں سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ

دنیا2 days ago

روس کی مدد سے نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانا چاہتا ہے ایران: روساٹوم

دنیا2 days ago

مشرقِ وسطیٰ کے ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی تیاری کر رہے ہیں: قطری وزارتِ خارجہ

دنیا2 days ago

بنگلہ دیش میں ڈینگی وبا میں اضافہ، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بلند ترین سطح پر

دنیا2 days ago

خلیج فارس میں فوجی موجودگی پر ایران کی جنوبی کوریا کووارننگ

ہندوستان2 days ago

عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات اہم : جے شنکر

ہندوستان2 days ago

ستیہ نکیتن عمارت حادثہ: مہلوکین کی تعداد 7 ہوئی، ایم سی ڈی کے 5 افسران معطل، مالک حراست میں

ہندوستان3 days ago

بی جے پی حکومت میں حادثات کے بعد بھی طے نہیں ہوتی جوابدہی: راہل

جموں و کشمیر3 days ago

میڈیکل انٹرنز نے بھوک ہڑتال شروع کردی، عمر عبداللہ نے مسئلے کے جلد حل پر زور دیا

دنیا3 days ago

پنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے

دنیا3 days ago

ایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر پولیس نے بین ریاستی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، کٹھوعہ میں افیون سمیت 4 گرفتار

جموں و کشمیر3 days ago

جموں یونیورسٹی کا مقصد جدت طرازی کے ساتھ تعلیمی معیار کو فروغ دینا ہے: وی سی امیش رائے

دنیا3 days ago

اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل

دنیا3 days ago

غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید

دنیا3 days ago

ایران کا امریکہ پر آبنائے ہرمز میں کارگو ٹرانزٹ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان5 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

ہندوستان4 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین6 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر7 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین7 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر5 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ9 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

پاکستان4 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تازہ ترین7 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل7 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین7 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین7 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

دنیا6 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

دنیا7 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

ہندوستان7 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین7 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

تازہ ترین7 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین7 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین10 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تجزیہ10 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین8 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر7 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر7 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین7 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

کھیل5 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

جموں و کشمیر5 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر5 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر6 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر7 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین7 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین7 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending