جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سینئر صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی ہے۔ دونوں نے ہفتہ کو اس کا اعلان کیا۔
عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ندھی رازدان کے ساتھ اپنی چار تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ ”کل ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔” انہوں نے اپنی پوسٹ میں ندھی رازدان کو بھی ٹیگ کیا۔
ندھی رازدان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا، ”ہوگیا بھائی۔”
دونوں کی شادی جمعہ کو نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران انجام پائی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد گواہ کے طور پر موجود تھے۔
یہ دونوں کی دوسری شادی ہے۔ عمر عبداللہ کی عمر 56 سال اور ندھی رازدان کی 49 سال ہے۔
یہ شادی جولائی 2026 میں سپریم کورٹ کی جانب سے عمر عبداللہ اور ان کی پہلی اہلیہ پائل عبداللہ کی شادی ختم کیے جانے کے تقریباً تین ماہ بعد ہوئی ہے۔ عدالت نے دونوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد یہ فیصلہ سنایا تھا۔
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی 1994 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ظاہر اور ضمیر ہیں۔
عمر عبداللہ نے 2011 میں علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ طلاق کا مقدمہ کئی برس تک عدالت میں زیر التوا رہا، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے رواں سال ان کی شادی ختم کرنے کا فیصلہ سنایا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
پاکستان سے متعلق بیان پر ایل جی سنہا کی فاروق عبداللہ پر تنقید، کہا: جموں و کشمیر میں تنازعات کے سوداگروں کی کوئی جگہ نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو پاکستان سے متعلق حالیہ بیان پر نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر جموں و کشمیر کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاروق عبداللہ کا نام لیے بغیر سنہا نے کہا کہ کچھ لوگ جموں و کشمیر میں موجودہ استحکام، امن اور ترقی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ملک کے بارے میں مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔
سری نگر میں جموں و کشمیر کے یومِ تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہاکہ ”ہندوستان کے بارے میں بات کرنے کے بجائے وہ ایک ایسے ملک کا ذکر کرتے ہیں جہاں لوگوں کو آٹے کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی جو عظمت قائم ہوئی ہے، اسے تسلیم کرنے کے بجائے وہ مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔”
ان کا یہ بیان فاروق عبداللہ کے اس حالیہ بیان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پڑوسی ملک کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر زندہ رکھ کر کشمیری عوام کا تحفظ کر رہا ہے۔ بی جے پی نے فاروق عبداللہ کے اس بیان کو ملک سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس بیان کی جانب بظاہر اشارہ کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس بات کو سمجھیں، کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے۔ جموں و کشمیر میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں اور یہی وہ عناصر ہیں جو اس خطے کو دوبارہ علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً وادی کشمیر کے لوگوں نے اب ایسے عناصر کو پہچان لیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”مجھے خوشی ہے کہ جموں و کشمیر کے عام لوگوں، خاص طور پر وادی کشمیر کے عوام نے اب ایسے لوگوں کے چہروں کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری اور نوجوان اب ان لوگوں سے سوال کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہوں نے خطے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
دربار موو دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے
جموں، دربار موو کے دفاتر 2 نومبر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقع پر شہر کو روایتی طور پر نئے انداز میں سجایا جا رہا ہے۔ ٹریفک محکمہ نے دربار موو دفاتر کے دوبارہ کھلنے سے قبل سڑکوں پر نئے ڈیوائیڈرز لگانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ”آج دفاتر سری نگر میں بند ہوگئے ہیں اور 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔”
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے سال 2026-27 کے لیے سالانہ دربار موو کا باضابطہ حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت حکومت کا انتظامی مرکز سری نگر سے جموں منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے جون 2021 میں اس 150 سالہ قدیم روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت اس فیصلے کے لیے ڈیجیٹل ای آفس نظام کی جانب منتقلی اور سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کو وجہ بتایا گیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے 2024 کے انتخابی منشور میں اس روایت کی بحالی ایک اہم وعدہ تھا۔
دریں اثنا، سال میں دو مرتبہ ہونے والی اس منتقلی سے قبل سرکاری بنگلوں، عمارتوں اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے۔
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) تیجندر سنگھ نے بھی سرمائی دارالحکومت میں سالانہ دربار موو کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
یہ اجلاس حکومت کے دفاتر کی موسمی منتقلی سے قبل تیاریوں کا جائزہ لینے اور مربوط حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے مقصد سے طلب کیا گیا تھا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ دربار موو دفاتر دوبارہ کھلنے سے قبل حفاظتی وجوہات کی بنا پر سول سکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک بھی بند کردی جائے گی۔
حکومت کا صدر مقام سردیوں میں سری نگر سے جموں اور گرمیوں میں جموں سے سری نگر منتقل کرنے کی یہ روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی، تاکہ دونوں دارالحکومتوں کے انتہائی موسمی حالات سے بچا جا سکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع کے بعد ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ، نیشنل کانفرنس نے بغاوت کی خبروں کو مسترد کردیا
سرینگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے کشمیر صوبائی صدر شوکت احمد میر نے ہفتہ کے روز حکمراں جماعت میں بغاوت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کی بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ محض ایک غیر رسمی ملاقات تھی، جو دوستانہ ماحول میں منعقد ہوئی تھی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر نے کہا کہ پارٹی قیادت یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی بغاوت نہیں ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز سرینگر میں منعقدہ اس میٹنگ میں مبارک گل سمیت کئی ارکانِ اسمبلی نے شرکت کی تھی۔ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد پارٹی میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کی خبروں کے درمیان اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔
میر نے بتایا کہ ایک رکنِ اسمبلی نے اپنے ساتھیوں کو دوپہر کے کھانے اور جموں میں دفاتر کی منتقلی سے قبل سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا تھا۔ ان کے مطابق، منتخب نمائندوں کا ایک دوسرے سے ملاقات کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”کچھ لوگوں نے اس ملاقات کو بغاوت کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ارکانِ اسمبلی نے دوستانہ ماحول میں ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی۔ کسی نے بھی تنظیم یا حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔”
میر نے مزید کہا کہ پارٹی ذرائع کے مطابق، ارکانِ اسمبلی نے اپنے بعض سینئر ساتھیوں کو نامزد کیا ہے تاکہ وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کرسکیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پارٹی میں کوئی بغاوت نہیں ہوئی ہے۔
یہ بے چینی 27 اکتوبر کو ہونے والی کابینہ توسیع کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس میں عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے چار ارکانِ اسمبلی علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی (کلو) کو وزارتی کونسل میں شامل کیا تھا۔
اس فیصلے سے کئی سینئر ارکانِ اسمبلی مایوس ہوئے۔ چھ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے والے اور سابق اسپیکر مبارک گل کے علاوہ عبدالحمید لَرمی بھی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
میر نے اعتراف کیا کہ کئی ارکانِ اسمبلی کو حکومت میں شامل کیے جانے کی امید تھی، تاہم وزیر اعلیٰ کے پاس وزارت کے عہدوں کی تعداد محدود تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمر عبداللہ نے 2024 میں بھی وزارتی کونسل کے حجم سے متعلق مقررہ حد کے باعث صرف پانچ وزراء کو شامل کیا تھا۔ میر نے امید ظاہر کی کہ اگر مرکز جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے تو کابینہ میں مزید توسیع ممکن ہوسکتی ہے۔
میر کے مطابق، پارٹی کے تقریباً 22 سے 24 ارکانِ اسمبلی ایسے ہیں جنہیں حکومت میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم قیادت کو سینئر رہنماؤں کی توقعات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہر کسی کو وزیر بننے کی امید ہوتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو مسلسل انتخابات جیتتے آئے ہیں۔ لیکن قیادت کی اپنی مجبوریاں اور حدود ہوتی ہیں، اس لیے فیصلے بھی انہی کے مطابق کرنے پڑتے ہیں۔”
میر نے تسلیم کیا کہ ایک جمہوری تنظیم میں اختلافِ رائے فطری بات ہے، لیکن ان کے مطابق ایسے اختلافات کو عوامی بیانات اور قیاس آرائیوں کے بجائے پارٹی کے اندر ہی حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے متعلق تنازعہ پر بھی وضاحت کی۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے 27 اکتوبر کو مبارک گل کو اس عہدے پر مقرر کیا تھا، تاہم جمعہ کے روز پارٹی نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے وزیر علی محمد ساگر کو جنرل سکریٹری کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
میر نے اس فیصلے کو محض انتظامی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو کرگل میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مینڈیٹ فارم جاری کرنے تھے، جہاں نیشنل کانفرنس اور اسلامک اسکول آف کرگل نے این سی کے انتخابی نشان پر تمام 17 نشستوں پر مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ان کے مطابق، نامزدگی کے دستاویزات پر جنرل سکریٹری کے دستخط ضروری ہیں اور چونکہ مبارک گل نے اس سلسلے میں مزید وقت طلب کیا تھا، اس لیے فاروق عبداللہ نے اگلے حکم تک علی محمد ساگر کو دستاویزات پر دستخط جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
میر نے کہاکہ ”یہ مکمل طور پر تنظیمی ضرورت کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ اس معاملے پر نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کوئی لڑائی۔” انہوں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ اس فیصلے سے پارٹی میں نئے اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی صدر کی حیثیت سے فاروق عبداللہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جب مناسب سمجھیں، تنظیمی عہدوں پر تقرری یا تبدیلی کرسکتے ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
ہندوستان1 week agoمرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
-
ہندوستان1 week agoاروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
-
دنیا4 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
-
تجزیہ5 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
دنیا1 week agoالحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
-
دنیا5 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
