جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع کے بعد ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ، نیشنل کانفرنس نے بغاوت کی خبروں کو مسترد کردیا
سرینگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے کشمیر صوبائی صدر شوکت احمد میر نے ہفتہ کے روز حکمراں جماعت میں بغاوت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کی بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ محض ایک غیر رسمی ملاقات تھی، جو دوستانہ ماحول میں منعقد ہوئی تھی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر نے کہا کہ پارٹی قیادت یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی بغاوت نہیں ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز سرینگر میں منعقدہ اس میٹنگ میں مبارک گل سمیت کئی ارکانِ اسمبلی نے شرکت کی تھی۔ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد پارٹی میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کی خبروں کے درمیان اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔
میر نے بتایا کہ ایک رکنِ اسمبلی نے اپنے ساتھیوں کو دوپہر کے کھانے اور جموں میں دفاتر کی منتقلی سے قبل سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا تھا۔ ان کے مطابق، منتخب نمائندوں کا ایک دوسرے سے ملاقات کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”کچھ لوگوں نے اس ملاقات کو بغاوت کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ارکانِ اسمبلی نے دوستانہ ماحول میں ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی۔ کسی نے بھی تنظیم یا حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔”
میر نے مزید کہا کہ پارٹی ذرائع کے مطابق، ارکانِ اسمبلی نے اپنے بعض سینئر ساتھیوں کو نامزد کیا ہے تاکہ وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کرسکیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پارٹی میں کوئی بغاوت نہیں ہوئی ہے۔
یہ بے چینی 27 اکتوبر کو ہونے والی کابینہ توسیع کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس میں عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے چار ارکانِ اسمبلی علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی (کلو) کو وزارتی کونسل میں شامل کیا تھا۔
اس فیصلے سے کئی سینئر ارکانِ اسمبلی مایوس ہوئے۔ چھ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے والے اور سابق اسپیکر مبارک گل کے علاوہ عبدالحمید لَرمی بھی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
میر نے اعتراف کیا کہ کئی ارکانِ اسمبلی کو حکومت میں شامل کیے جانے کی امید تھی، تاہم وزیر اعلیٰ کے پاس وزارت کے عہدوں کی تعداد محدود تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمر عبداللہ نے 2024 میں بھی وزارتی کونسل کے حجم سے متعلق مقررہ حد کے باعث صرف پانچ وزراء کو شامل کیا تھا۔ میر نے امید ظاہر کی کہ اگر مرکز جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے تو کابینہ میں مزید توسیع ممکن ہوسکتی ہے۔
میر کے مطابق، پارٹی کے تقریباً 22 سے 24 ارکانِ اسمبلی ایسے ہیں جنہیں حکومت میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم قیادت کو سینئر رہنماؤں کی توقعات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہر کسی کو وزیر بننے کی امید ہوتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو مسلسل انتخابات جیتتے آئے ہیں۔ لیکن قیادت کی اپنی مجبوریاں اور حدود ہوتی ہیں، اس لیے فیصلے بھی انہی کے مطابق کرنے پڑتے ہیں۔”
میر نے تسلیم کیا کہ ایک جمہوری تنظیم میں اختلافِ رائے فطری بات ہے، لیکن ان کے مطابق ایسے اختلافات کو عوامی بیانات اور قیاس آرائیوں کے بجائے پارٹی کے اندر ہی حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے متعلق تنازعہ پر بھی وضاحت کی۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے 27 اکتوبر کو مبارک گل کو اس عہدے پر مقرر کیا تھا، تاہم جمعہ کے روز پارٹی نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے وزیر علی محمد ساگر کو جنرل سکریٹری کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
میر نے اس فیصلے کو محض انتظامی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو کرگل میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مینڈیٹ فارم جاری کرنے تھے، جہاں نیشنل کانفرنس اور اسلامک اسکول آف کرگل نے این سی کے انتخابی نشان پر تمام 17 نشستوں پر مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ان کے مطابق، نامزدگی کے دستاویزات پر جنرل سکریٹری کے دستخط ضروری ہیں اور چونکہ مبارک گل نے اس سلسلے میں مزید وقت طلب کیا تھا، اس لیے فاروق عبداللہ نے اگلے حکم تک علی محمد ساگر کو دستاویزات پر دستخط جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
میر نے کہاکہ ”یہ مکمل طور پر تنظیمی ضرورت کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ اس معاملے پر نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کوئی لڑائی۔” انہوں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ اس فیصلے سے پارٹی میں نئے اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی صدر کی حیثیت سے فاروق عبداللہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جب مناسب سمجھیں، تنظیمی عہدوں پر تقرری یا تبدیلی کرسکتے ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
دربار موو دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے
جموں، دربار موو کے دفاتر 2 نومبر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقع پر شہر کو روایتی طور پر نئے انداز میں سجایا جا رہا ہے۔ ٹریفک محکمہ نے دربار موو دفاتر کے دوبارہ کھلنے سے قبل سڑکوں پر نئے ڈیوائیڈرز لگانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ”آج دفاتر سری نگر میں بند ہوگئے ہیں اور 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔”
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے سال 2026-27 کے لیے سالانہ دربار موو کا باضابطہ حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت حکومت کا انتظامی مرکز سری نگر سے جموں منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے جون 2021 میں اس 150 سالہ قدیم روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت اس فیصلے کے لیے ڈیجیٹل ای آفس نظام کی جانب منتقلی اور سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کو وجہ بتایا گیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے 2024 کے انتخابی منشور میں اس روایت کی بحالی ایک اہم وعدہ تھا۔
دریں اثنا، سال میں دو مرتبہ ہونے والی اس منتقلی سے قبل سرکاری بنگلوں، عمارتوں اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے۔
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) تیجندر سنگھ نے بھی سرمائی دارالحکومت میں سالانہ دربار موو کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
یہ اجلاس حکومت کے دفاتر کی موسمی منتقلی سے قبل تیاریوں کا جائزہ لینے اور مربوط حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے مقصد سے طلب کیا گیا تھا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ دربار موو دفاتر دوبارہ کھلنے سے قبل حفاظتی وجوہات کی بنا پر سول سکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک بھی بند کردی جائے گی۔
حکومت کا صدر مقام سردیوں میں سری نگر سے جموں اور گرمیوں میں جموں سے سری نگر منتقل کرنے کی یہ روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی، تاکہ دونوں دارالحکومتوں کے انتہائی موسمی حالات سے بچا جا سکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر 15 لاکھ روپے سے زائد کا فراڈ، کشمیر ای او ڈبلیو نے ٹریول کنسلٹنسی کے دو مالکان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی
سرینگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے بیرونِ ملک پرکشش ملازمتیں دلانے کا جھانسہ دے کر ملازمت کے خواہش مند افراد سے 15 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ہڑپنے کے الزام میں سرینگر کی ایک ٹریول کنسلٹنسی کے دو مالکان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے۔
یہ چارج شیٹ سال 2026 میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت تعزیراتِ ہند کی دفعات 420 اور 120-بی نیز امیگریشن ایکٹ کی دفعات 10 اور 24 کے تحت سرینگر کی عدالت برائے پی ٹی اینڈ ای میں داخل کی گئی ہے۔ ملزمان کی شناخت حمداًنیہ کالونی، بمنہ کے ساجد عبداللہ اور شیش گاری محلہ، خانیار کے جہانگیر احمد ٹنکی کے طور پر کی گئی ہے۔
ای او ڈبلیو کی تحقیقات کے مطابق، ملزمان ایم/ایس الاقصیٰ گلوبل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں، جس کا دفتر بٹہ مالو کے مومن آباد، لین نمبر 4 میں واقع ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے معروف غیر ملکی کمپنیوں میں پرکشش ملازمتیں دلانے کا وعدہ کرکے لوگوں کو راغب کیا اور پیشگی ادائیگیوں کی صورت میں 15 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی۔
تاہم، ملزمان کی جانب سے وعدہ کی گئی ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ جب شکایت کنندگان نے اپنی رقم واپس طلب کی تو ملزمان کی جانب سے جاری کردہ چیک مبینہ طور پر بینک کھاتوں میں ناکافی رقم ہونے کے باعث باؤنس ہوگئے۔
تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ متعلقہ کنسلٹنسی ٹور اور ٹریول خدمات فراہم کرنے والے ایک ٹور آپریٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھی، لیکن اس کے پاس بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے بھرتی کرنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی لازمی رجسٹریشن موجود نہیں تھی۔
تفتیش کاروں نے مزید پایا کہ ملزمان نے بیرونِ ملک ملازمتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کراکے شکایت کنندگان سے لاکھوں روپے اپنے ذاتی بینک کھاتوں میں وصول کیے، لیکن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔
تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کے بعد کارروائی مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ملزم جہانگیر احمد ٹنکی کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور وہ مبینہ طور پر فرار ہے۔
چارج شیٹ اب عدالتی فیصلے اور مزید کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کردی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: وار واؤنڈڈ فاؤنڈیشن معذور فوجیوں کو خود کفیل بنانے اور معذوری کو طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم
جموں، وار واؤنڈڈ فاؤنڈیشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) جنگ کے دوران معذور ہونے والے فوجیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔ فاؤنڈیشن انہیں نقل و حرکت کے لیے ضروری آلات فراہم کرنے، خود انحصاری کو فروغ دینے اور روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔
فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر نارتھ زون، بریگیڈیئر ہرچرن سنگھ (ریٹائرڈ) نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ شمالی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں معذور فوجیوں کو اب تک 100 خصوصی طور پر تبدیل شدہ اسکوٹر اور 12 آٹو رکشے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ان اقدامات سے فوجیوں کو نقل و حرکت میں آسانی، خود مختاری اور سماج میں دوبارہ گھلنے ملنے کے مواقع حاصل ہورہے ہیں۔
میران صاحب میں منعقدہ سابق فوجیوں کی ریلی کے دوران فاؤنڈیشن نے جنگ میں معذور ہونے والے فوجیوں کو ایک خصوصی اسکوٹر اور ایک بیٹری سے چلنے والی وہیل چیئر بھی فراہم کی۔ اس اقدام کے ذریعے ان کے وقار، آرام اور خود مختار زندگی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
فاؤنڈیشن نے ایک اور اہم اقدام کے تحت ایک معذور فوجی کو پولٹری فارم قائم کرنے کے لیے مالی امداد بھی فراہم کی ہے، تاکہ وہ خود روزگار حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل بن سکے۔
بیان کے مطابق، فاؤنڈیشن صرف نقل و حرکت کے آلات اور مالی امداد کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ معذور فوجیوں کی نفسیاتی مدد، حوصلہ افزائی اور خود اعتمادی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
اس کا مقصد انہیں مشکلات پر قابو پانے، دوبارہ اعتماد حاصل کرنے اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار کے بغیر ایک فعال اور بامقصد زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
فاؤنڈیشن نے کہا کہ اپنی مسلسل فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے وہ ملک کے بہادر فوجیوں کے ساتھ خدمت اور یکجہتی کے جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد مشکلات کو مواقع میں تبدیل کرنا اور اپنے رہنما اصول ”معذوری کو صلاحیت میں تبدیل کرنا” کو عملی شکل دینا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
ہندوستان1 week agoاگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
-
جموں و کشمیر1 week agoانتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
-
ہندوستان1 week agoمودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان1 week agoاروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
-
تجزیہ4 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
