دنیا
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی دوحہ آمد متوقع، پیش رفت کی اطلاعات
دوحہ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں مبینہ پیش رفت کے بعد امریکی وفد کی قطر کے دارالحکومت دوحہ آمد متوقع ہے، جہاں اس کی ایرانی حکام کے ساتھ براہِ راست بات چیت ہوسکتی ہے۔
قطری اخبار ‘العربی الجدید’ نے قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت اور تہران کو ممکنہ اقتصادی مراعات دینے کے معاملے پر ابتدائی مفاہمت ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چین اور روس کسی حتمی معاہدے پر عمل درآمد کے ضامن بن سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت جمعہ کو تہران میں قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ‘ایکسِیوس’ کے مطابق، ان مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت کی بحالی کی راہ ہموار کرنا تھا۔
بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک نائب سمیت ایرانی وفد مزید بات چیت کے لیے دوحہ پہنچا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اب بھی قطر کے توسط سے بالواسطہ طور پر جاری ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ ثالثی کی کوششوں سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد بھی دوحہ پہنچنے والا ہے، جہاں ایرانی مذاکرات کاروں سے براہِ راست گفتگو ہوسکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، قطری ثالث اس سفارتی عمل کے دوران وائٹ ہاؤس سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایک سفارتی ذریعے نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ‘ایکسِیوس’ کے مطابق، قطر دونوں فریقوں سے کئی روز تک ایک دوسرے کے لیے رعایتی اقدامات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر زیرِ التوا معاملات پر وسیع تر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔
تاہم مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر دونوں ملکوں کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران بات چیت شروع ہونے سے پہلے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں دے، جبکہ تہران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور تیل کی برآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قطری ثالث ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ وہ گزشتہ حملوں میں تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے۔ اس کے بدلے واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی جاسکتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کے پاس وقت ہے، امن معاہدے کے لیے جلدبازی نہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ”روایتی جنگ نہیں” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں اور پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود وقت امریکہ کے ساتھ ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران مذاکرات میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”لیکن دیکھیے، وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ اور سچ کہوں تو ہمارے پاس وقت ہے۔ یہ جنگ ہے، لیکن روایتی جنگ نہیں۔ اسے شروع ہوئے سات ماہ ہو چکے ہیں۔”
امریکی صدر نے فوجی مہم کے مالی اخراجات کی اہمیت بھی کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اس تنازع پر واشنگٹن نسبتاً بہت کم رقم خرچ کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”نسبتاً دیکھا جائے تو ہم بہت کم پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا سے متعلق پیش رفت کے ذریعے امریکہ اپنے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم حاصل کر چکا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ متعدد بار ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا ان میں شدت لانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل امریکی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ”ایک اور چھوٹی ایپک فیوری” کارروائی شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ ایپک فیوری سے مراد تہران کے خلاف امریکہ کی ابتدائی فوجی مہم ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک ”بڑے اور اچھے” معاہدے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی شامل ہیں۔
دریں اثنا، جمعہ کو امریکہ میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔ ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات، خطے کی مجموعی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات رواں ہفتے کے اوائل میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ہوئی۔ اس دوران انقرہ نے بحری سلامتی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تھے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے فوجی ٹھکانوں، میزائل مراکز اور جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا۔ ابتدائی بمباری میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر جوابی میزائل حملے کیے۔
بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت محدود کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
بیروت، اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو ہیام اور کنتارا میں مشین گن سے وسیع پیمانے پر فائرنگ کی جس سے آبادی میں خوف وہراس پھیل گیا اور کنتارا میں کچھ مکانات کو آگ لگ گئی۔ایجنسی نے یہ اطلاع دی ہے۔
ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج نے بنت جبیل کے علاقے میں طیری قصبے میں ایک دھماکہ کیا اور طولن قصبے کے قریب وادی الحجیر کو 155 ایم ایم توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔
آرکب کے علاقے میں کفر شوبہ کے ارد گرد کے علاقے، بنت جبیل میں حداسہ کے مضافات اور صور کے علاقے میں وادی زیبکن کو بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔
میفدون اور ظوطار الشرقیہ کے قصبوں کے درمیان کے علاقے کو بھی وقفے وقفے سے توپ خانے کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کفر شوبہ کے رہائشی حسن نبا کے مکان کو اس میں موجود سامان سمیت کفر شوبا-سیدانہ ہل شیبہ روڈ پر اڑا دیا۔
ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کفر شوبہ کے رہائشی حسن نبا کے مکان کو اس میں موجود سامان سمیت کفر شوبا-سیدانہ ہل شیبہ روڈ پر اڑا دیا۔ ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی کہ ایک انٹرسیپٹر میزائل طیبہ کے قصبے پر پھٹا، لیکن اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ حملے 20-21 اکتوبر کو ٹمپا، فلوریڈا میں واشنگٹن کی سرپرستی میں بیروت اور تل ابیب کے درمیان تکنیکی سطح کے فوجی مذاکرات کے بعد ہوئے۔
جبکہ مذاکرات سے کسی ٹھوس پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ تاہم، یہ اطلاع دی گئی ہے کہ فریقین نے لبنان سے اسرائیل کے انخلاء اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بیروت اور تل ابیب نے 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدہ کیا تھا، جس میں لبنانی فوج کی خطے میں تعیناتی اور اسرائیل کے مقبوضہ لبنانی علاقوں سے بتدریج انخلاء کے بدلے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا تصور کیا گیا تھا۔
معاہدہ، جس میں عمل درآمد کے لیے پائلٹ زونز کا تعین بھی شامل ہے، اب تک صرف تین قصبوں میں نافذ کیا گیا ہے۔ 50 سے زائد قصبوں پر اسرائیل کا قبضہ جاری ہے۔ معاہدے کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2 مارچ سے اب تک ان حملوں میں کم از کم 4,386 افراد ہلاک اور 12,407 زخمی ہوچکے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران متضاد اشارے سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف مکمل پیمانے پر دوبارہ حملوں کی تیاری کی اطلاعات ہیں تو دوسری جانب جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے مختلف منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
نیویارک ٹائمز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کے مشترکہ منصوبے تیار کیے ہیں۔ تاہم، اسی روز واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی کو جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔
ادھر جمعہ کو قطری ثالث بھی امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت مذاکرات کے لیے تہران واپس پہنچے۔ ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ اطلاع دی۔
بنیادی طور پر واشنگٹن سفارتی رابطے برقرار رکھتے ہوئے جنگ کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ نے خطے میں فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود کی تعیناتی بڑھا دی ہے، جبکہ بعض امریکی فوجیوں کو ایسے فوجی اڈوں سے منتقل کیا گیا ہے جو ایرانی جوابی کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق، جمعرات کو امریکہ کے دس فوجی مال بردار طیارے اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع اوودہ اور نیواتیم فضائی اڈوں پر اترے، جبکہ مزید طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھی بھیجے گئے۔
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی، جنہیں ان منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی، نے ان اقدامات کو ”پاگل پن” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے تباہ کن کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، اتوار کو قطری ثالثوں کے ذریعے محسن رضائی کو بھیجے گئے وینس کے خط میں براہ راست مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی، جن کی قیادت خود وینس کرتے۔ اس تجویز کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کے آغاز ہی سے زیر بحث لایا جانا تھا، تاکہ حملوں کی نئی لہر کو روکا جا سکے۔تاہم، ان رابطوں کے آئندہ پیش رفت پر اثرات کے بارے میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔
سویڈن کی لوند یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور انسانی حقوق سے وابستہ ایران امور کے محقق روزبہ پارسی نے وینس کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایران کے معاملے پر ”معقول آواز” قرار دیا۔ ان کے مطابق، وینس کے بیانات انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں کے مقابلے میں نسبتاً کم غیر یقینی اور کم اشتعال انگیز رہے ہیں۔
تاہم، انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینس کا موقف کبھی اتنا مضبوط ثابت نہیں ہوا کہ وہ ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ ان کے بقول، اگرچہ وینس کی سفارتی پیش کش انتظامیہ کے دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے، لیکن ایرانی حکام اس وقت تک اسے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے جب تک وہ خود کسی ٹھوس پیش رفت کو یقینی بنانے کی صلاحیت ثابت نہیں کرتے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoیمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
-
دنیا1 week agoروس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
-
ہندوستان1 week agoاگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
-
ہندوستان1 week agoمودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
-
تجزیہ4 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان1 week agoاروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
-
دنیا1 week agoسرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
-
ہندوستان1 week agoمرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
