دنیا
ڈیموکریٹس نے کانگریس پر قبضہ کیسے کیا اور اس کے کیا اثرات ہوں گے
واشنگٹن، امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ پارٹی نے کئی اہم اور روایتی طور پر ریپبلکن کے مضبوط سمجھے جانے والے حلقوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔
ڈیموکریٹس نے 100 رکنی سینیٹ میں 53 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ تین دیگر نشستوں پر بھی اسے برتری حاصل ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کرلی ہے۔ یہ سابق صدر بارک اوباما کی دوسری مدتِ صدارت کے بعد پہلا موقع ہے جب برسرِ اقتدار صدر کو کانگریس کے کسی بھی ایوان میں اپنی جماعت کی اکثریت حاصل نہیں رہی۔
اگرچہ بعض حلقوں کے نتائج ابھی حتمی نہیں ہوئے اور مکمل تصویر سامنے آنے میں چند روز لگ سکتے ہیں، تاہم ڈیموکریٹس نے اس نتیجے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بڑی سیاسی شکست قرار دیا ہے۔ خود ٹرمپ بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ مخالف جماعت نے انتخابی مہم میں ان کی پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کی کئی ایسی نشستیں اپنے نام کیں جہاں اسے کئی دہائیوں سے کامیابی نہیں ملی تھی۔
جیمز ٹالاریکو، ٹیکساس: 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے ٹیکساس میں 14 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی۔ انہوں نے ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی حمایت کی تھی، جن پر ماضی میں دھوکہ دہی کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوچکی تھی اور ریاستی اسمبلی انہیں مواخذے کا سامنا بھی کراچکی تھی۔ تاہم ٹالاریکو نے انہیں بڑے فرق سے شکست دی اور بیشتر ووٹوں کی گنتی کے بعد 11 فیصد پوائنٹس سے زیادہ کی برتری حاصل کرلی۔ وہ 32 برس میں ٹیکساس سے ریاست گیر انتخاب جیتنے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔
ایڈم ہیملٹن، کنساس: ٹالاریکو نے 1994 کے بعد پہلی مرتبہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی ممکن بنائی، جبکہ ہیملٹن نے کنساس میں ریپبلکن راجر مارشل کو شکست دے کر اس سے بھی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کی۔ مارشل کو بھی ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔ کنساس میں ڈیموکریٹس نے آخری مرتبہ 1934 میں سینیٹ کی نشست جیتی تھی۔
جوش ٹورک، آئیووا: ٹرمپ نے 2014 میں آئیووا میں 14 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی، لیکن ٹورک نے اس بار سخت مقابلے والی سینیٹ کی نشست تقریباً چار فیصد پوائنٹس کے فرق سے جیت لی۔
اینی اینڈریوز، جنوبی کیرولینا: یہ بھی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں 2024 میں ٹرمپ نے واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ سینیٹ کی یہ نشست طویل عرصے تک ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم کے پاس رہی، جن کا رواں سال انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی بہن ڈارلین کو منگل کے انتخابات تک عبوری طور پر اس نشست پر مقرر کیا گیا تھا اور انہیں ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ اینڈریوز نے کم از کم چار فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
رائے کوپر، شمالی کیرولائنا: کوپر نے نہ صرف ریپبلکن کی نشست ڈیموکریٹس کے لیے حاصل کی بلکہ ریپبلکن امیدوار مائیک واٹلی کو تقریباً 20 فیصد پوائنٹس کے بڑے فرق سے شکست دی۔
ٹرائے جیکسن، مین: جیکسن نے ریپبلکن کی سابق نشست اپنے نام کرتے ہوئے سوزن کولنز کو تقریباً سات فیصد پوائنٹس سے ہرایا۔
شیروڈ براؤن، اوہائیو: براؤن نے ریپبلکن امیدوار جان ہسٹڈ کو تقریباً چار فیصد پوائنٹس کے فرق سے شکست دی۔
عبدالسیّد، مشی گن: عبدالسیّد کو ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے مقابلے میں برتری حاصل ہے اور انہوں نے اپنی کامیابی کا دعویٰ بھی کردیا ہے۔ یہ انتخابات کے سب سے سخت اور توجہ طلب مقابلوں میں سے ایک تھا۔ اگر وہ کامیاب قرار پاتے ہیں تو امریکہ کے پہلے مسلم سینیٹر ہوں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے 435 رکنی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے درکار 218 نشستوں کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔ اس کامیابی میں کئی ایسی نشستیں بھی شامل ہیں جو پہلے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے پاس تھیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عبدل السید مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب، پہلے مسلم امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل
واشنگٹن، مصری نژاد امریکی ڈیموکریٹ اور صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار عبدل السید نے بدھ کو مشی گن میں سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلم امریکی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ 1969 کے بعد سینیٹ میں خدمات انجام دینے والے پہلے ڈیموکریٹ ڈاکٹر بھی ہوں گے۔
ڈیٹرائٹ اور وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت کی سربراہی کرچکے پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر عبدال السید نے اپنی تاریخی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”مشی گن، ہم نے یہ کر دکھایا! مجھے اس عظیم ریاست کے منتخب سینیٹر کی حیثیت سے یہاں کھڑے ہونے پر فخر اور اعزاز حاصل ہے۔”
مصری تارکین وطن کے گھرانے میں پیدا ہونے والے السید نے اس سے قبل کبھی کوئی انتخاب نہیں لڑا تھا۔
2018 میں مشی گن کے ڈیموکریٹک گورنر کے امیدواروں کے پرائمری انتخاب میں انہیں دوہرے ہندسے کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔ ان کی موجودہ کامیابی امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ مشی گن میں ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ریاست میں معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔
السید کو انتخاب سے چند گھنٹے قبل ایک سیاسی دھچکا بھی لگا، جب ڈیموکریٹک پرائمری میں ان سے شکست کھانے والی کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنماؤں نے سخت تنقید کی، جس کے بعد اسٹیونز کے متعدد عملے نے استعفیٰ دے دیا۔
اسٹیونز نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے السید پر نفرت انگیز سیاست اور بائیں بازو کے سیاسی اسٹریمر حسن پیکر سے قربت کا الزام لگایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وہ خود راجرز کو ٹرمپ کے خطرناک ایجنڈے کی حمایت کرنے والا امیدوار قرار دے چکی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق السید نے اسٹیونز کی حمایت کو مسترد کردیا اور اس اعلان کے محض چار گھنٹوں کے اندر اپنی انتخابی مہم کے لیے 12 لاکھ ڈالر جمع کرلیے۔
ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولیات اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات کو بنیادی موضوع بنایا گیا۔
اس دوران انہیں اپنے مسلم مذہبی تشخص اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کے حوالے سے بھی سیاسی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ریپبلکن امیدوار راجرز نے انتخابی مہم کے دوران السید کو انتہا پسند ثابت کرنے کی کوشش کی۔ راجرز 2024 کے سینیٹ انتخاب میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار ایلیسا سلاٹکن سے معمولی فرق سے ہار گئے تھے، حالانکہ اس صدارتی انتخاب میں مشی گن میں ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے۔
السید کو اخوان المسلمون سے مبینہ تعلقات کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے مشی گن کا دورہ کیا اور ریپبلکن امیدوار کی حمایت مضبوط بنانے کی کوشش کی۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بارہا السید کے مسلم تشخص کو نشانہ بنایا اور انہیں ”تشدد پسند دہشت گرد” قرار دینے کے ساتھ ان کے درمیانی نام محمد سے مخاطب کیا۔ تاہم راجرز نے ٹرمپ کے اس بیان کی تائید کرنے سے گریز کیا۔
ٹرمپ کے تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے السید نے کہا، ”مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ وہ میرا نام کیسے لیتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں میرا پورا نام یاد ہے یا نہیں، اس سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نومبر کے بعد وہ مجھے صرف سینیٹر کہہ کر مخاطب کرسکتے ہیں۔ آپ کے لیے میں سینیٹر محمد ہوں گا، دوست۔”
حسن پیکر سے تعلقات پر ہونے والی تنقید کے بعد السید نے اپنی انتخابی مہم کو ان سے الگ رکھنے کی بھی کوشش کی۔
دریں اثنا، سابق امریکی صدر بارک اوباما، سابق نائب صدر کملا ہیرس اور ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی دیگر اہم رہنماؤں نے السید کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی عوام نے واضح پیغام دے دیا، ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابیوں پر اوباما کا خیرمقدم
واشنگٹن، امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے بدھ کو کہا کہ وسط مدتی انتخابات میں امریکی عوام نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست اور ملک کو درپیش مسائل کے ٹھوس حل پیش کرنے والے رہنما چاہتے ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر زور دیا کہ وہ اپنی انتخابی کامیابیوں کو عوام کو متحد کرنے اور عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھائیں۔
اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان میں ایسے حلقے بھی شامل ہیں جہاں ماضی میں ڈیموکریٹس کی جیت کو مشکل تصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے امیدواروں کے علاوہ انتخابی عملے اور رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس ابھی دو سال باقی ہیں، اس لیے ڈیموکریٹس کو اب اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی ہوگی، جہاں ممکن ہو تبدیلیاں لانی ہوں گی، مزید نقصان کو روکنا ہوگا اور مستقبل کی تیاری کرنی ہوگی۔
دریں اثنا، ڈیموکریٹک رکنِ ایوانِ نمائندگان رو کھنہ نے پارٹی کی کامیابیوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے تنوع اور شمولیت کا جشن منایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تین سیاہ فام گورنروں، ٹیکساس کی پہلی لاطینی گورنر، پہلے مسلم امریکی سینیٹر اور پہلے کھلے عام ہم جنس پرست سینیٹر کی کامیابی اس تبدیلی کی علامت ہے۔
ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ٹیکساس کی پہلی لاطینی گورنر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی کے ساتھ ریاست میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ریپبلکن گورنروں کا اقتدار ختم ہوگیا۔
مشی گن میں عبدالسلام السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ نیو ہیمپشائر میں سابق ریپبلکن سینیٹر جان سنونو کو شکست دینے والے ڈیموکریٹ کرس پاپاس سینیٹ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست رکن بن گئے۔
رو کھنہ نے فلوریڈا میں ریپبلکن بائرن ڈونلڈز، جارجیا میں ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمز اور وسکونسن میں ڈیموکریٹ ڈیوڈ کراؤلی کی گورنر کے عہدے پر کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ ڈونلڈز فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر، جبکہ باٹمز ملک کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ میری لینڈ کے گورنر ویس مور نے بھی دوبارہ کامیابی حاصل کی۔
جینا ہینوجوسا نے کامیابی کے بعد تمام ٹیکساس باشندوں کی نمائندگی کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت امیر اور بااثر افراد کے لیے الگ اصول نہیں بنائے گی اور اپنی جماعت کے کسی فرد کی غلطی کو بھی نظرانداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد ان کے لیے ایک بڑی ذمہ داری ہے، جسے وہ ہر روز پورا کرنے کی کوشش کریں گی۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی دوبارہ انتخاب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے ہی دن سے کام پر واپس آجائیں گی۔ امریکی نیوز کے تخمینوں کے مطابق انہوں نے ریپبلکن امیدوار بروس بلیکمین کو شکست دی، جبکہ ڈیموکریٹ ویزر نے کولوراڈو میں گورنر کا انتخاب جیت لیا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ قیادت نے بھی ایوان میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود پارٹی نے سینیٹ کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا، ”امریکی عوام کے لیے راحت آنے والی ہے۔”
ڈیموکریٹس نے روایتی طور پر ریپبلکن اثرورسوخ والی ریاستوں میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو نے سینیٹ کے انتخاب میں ریپبلکن کین پیکسٹن کو شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں 1988 کے بعد پہلی بار کسی ڈیموکریٹ نے سینیٹ کی نشست جیتی۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ہرا کر 94 سال بعد ریاست سے ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہونے کی راہ ہموار کی۔ آئیووا میں جوش ٹوریک نے ریپبلکن ایشلے ہنسن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی، جبکہ روب سینڈ گورنر منتخب ہوئے۔
ادھر اوہائیو کے ساتویں کانگریشنل ضلع سے ریپبلکن رکنِ ایوانِ نمائندگان میکس ملر کو ڈیموکریٹ برائن پوئنڈیکسٹر کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ملر پر اپنی سابق اہلیہ اور کم عمر بیٹی کے ساتھ گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی انہوں نے تردید کی تھی۔ ان الزامات کے بعد ریپبلکن پارٹی کے زیر اثر اس حلقے میں مقابلہ سخت ہوگیا تھا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد اسرائیلی سیاست دانوں نے زور دیا کہ نیتن یاہو بطور وزیرِاعظم اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے
تل ابیب، اسرائیلی اپوزیشن کے سیاست دانوں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد، جن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی، اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو مزید اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو نیتن یاہو اور اسرائیل کی حمایت کے تناظر میں دیکھتے ہوئے، اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت انتخابی شکست کی ایک وجہ بن گئی ہے۔
اپوزیشن جماعت ”یَش عتید” کے رہنما اور سابق اسرائیلی وزیرِاعظم یائیر لاپید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی انتخابی نتائج کے بعد کہا:”نیتن یاہو کے ساتھ قومی اتحاد کی حکومت بنانے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔'”
لاپید نے مزید کہا:”اسرائیل انہیں وزیرِاعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ ہماری سلامتی، جمہوریت کو خطرے میں ڈالے گا اور بین الاقوامی سطح پر ہمیں تباہ کر دے گا۔”
دوسری جانب ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گولان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:”امریکہ میں سامنے آنے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، دونوں کی نظر میں کس قدر نقصان دہ شخصیت بن چکے ہیں۔”
گولان نے کہا کہ ان کے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور انہیں ایک متبادل حکومت تشکیل دینی چاہیے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ1 week agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
دنیا1 week agoاسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
دنیا1 week agoامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وینزویلا کی اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے سیاسی تبدیلی مسلط کرنے کے خلاف تنبیہ
