ہندوستان
بحریہ کے لیے 53,866 کروڑ روپے کی لاگت سے آٹھ نئے جنگی جہاز تیار کیے جائیں گے، راجناتھ نے اسے خود انحصاری کی سمت بڑا قدم…
نئی دہلی، وزارت دفاع نے ہندوستانی بحریہ کے لیے اگلی نسل کے آٹھ کارویٹ جنگی جہاز تیار کرنے کے سلسلے میں گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای) اور گوا شپ یارڈ لمیٹڈ (جی ایس ایل) کے ساتھ 53,866.50 کروڑ روپے کے معاہدے کیے ہیں۔
وزارت دفاع نے پیر کے روز یہاں بتایا کہ ان معاہدوں پر کرتویہ بھون-2 میں دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اسے ملک کے مقامی جہاز سازی کے شعبے کے لیے بڑی خوشخبری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
معاہدے کے تحت جی آر ایس ای پانچ جنگی جہاز تیار کرے گا، جبکہ جی ایس ایل کو تین جنگی جہاز بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ہندوستانی بحریہ خود ان جنگی جہازوں کا ڈیزائن تیار کرے گی، جبکہ مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب کیے گئے دفاعی سرکاری شعبے کے ادارے ان کی تعمیر کریں گے۔
ان نئے جنگی جہازوں میں جدید میزائلوں، ہتھیاروں اور سینسر نظام سمیت جدید ترین صلاحیتیں موجود ہوں گی۔ ان کی مدد سے بحریہ فضا، سمندر کی سطح اور زیر سمندر علاقوں میں کارروائیاں انجام دے سکے گی۔ ان جنگی جہازوں کی شمولیت سے سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت، دشمن کے جہازوں اور آبدوزوں کے خلاف کارروائی، ساحلی تحفظ، ساحلی سمندری آپریشنز اور سمندری نگرانی کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
معاہدوں پر دستخط کے بعد مسٹر سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہندوستان کے مقامی جہاز سازی کے شعبے کے لیے یہ بہت اچھی خبر ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے اگلی نسل کے کارویٹ منصوبے سے ملک کے جہاز سازی کے شعبے کو اہم فروغ ملے گا۔ اس سے دفاعی سرکاری اداروں، نجی شپ یارڈز اور ہندوستانی صنعتی شراکت داروں، جن میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں بھی شامل ہیں، کے درمیان تعاون مضبوط ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ ان جہازوں کی تعمیر سے آئندہ دس برسوں کے دوران شپ یارڈز میں تقریباً 72 لاکھ افرادی دن کے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ معاون صنعتوں اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں میں 460 لاکھ افرادی یوم کا روزگار پیدا ہوگا۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں تیار کردہ سامان اور آلات، مقامی ٹیکنالوجی اور ہندوستانی ہنرمندی و مہارت کے استعمال کو فروغ دے کر یہ منصوبہ دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری حاصل کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘میک اِن انڈیا’ کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔
وزارت دفاع کے مطابق اس منصوبے سے ملک کی مقامی جہاز سازی کی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس کے تحت دفاعی سرکاری اداروں، نجی شپ یارڈز اور ہندوستانی صنعتی شراکت داروں، بشمول چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوگا۔
منصوبے میں ہندوستان میں تیار کردہ اشیا اور آلات، مقامی ٹیکنالوجی اور ہندوستانی ہنرمندی و مہارت کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ منصوبہ دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی سمت ایک اہم قدم ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے ‘میک اِن انڈیا’ کے عزم کو مزید مضبوط بنائے گا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے پیر کی صبح راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
محترمہ گاندھی نے لالو یادو کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر میسا بھارتی اور خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
میسا بھارتی نے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر کو بتایا کہ ان کے والد کی صحت میں بہتری آرہی ہے اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی حالت مستحکم ہے۔ لالو یادو کے اہل خانہ نے محترمہ گاندھی کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لالو یادو نے کہا کہ محترمہ سونیا گاندھی ان کی رہائش گاہ پر پہنچیں اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ماضی کی یادیں بھی تازہ ہوئیں۔
لالو یادو نے ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران نوجوانوں، کسانوں، جوانوں اور عام لوگوں کے مفاد میں شفاف اور عوامی فلاح و بہبود کی متعدد اسکیمیں نافذ کی گئی تھیں۔
انہوں نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا)، حقِ تعلیم (آر ٹی ای) اور حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) جیسے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ملک کے عوام کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں بہار کی ترقی کے لیے ایک لاکھ 45 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فراہم کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کھرگے کا بی جے پی پر اتراکھنڈ کے عوام کو دھوکہ دینے کا الزام، کہا: لوگ تبدیلی چاہتے ہیں
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے پیر کے روز اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اقتدار میں دس سال گزارنے کے باوجود اس نے ریاست کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے ریاست میں امن و قانون کی صورت حال خراب ہونے، خواتین کے تحفظ سے متعلق بڑھتی تشویش اور جواب دہی یقینی بنانے میں مسلسل ناکامی کا بھی الزام عائد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں کھرگے نے کہا کہ پہاڑی ریاست کے عوام بی جے پی کی ‘ڈبل انجن’ حکومت سے تیزی سے مایوس ہو رہے ہیں اور اب وہ حکومت سے جواب اور حکمرانی میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اتراکھنڈ میں بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کے دس سال ریاست کے عوام کی امیدوں اور امنگوں سے دھوکہ کرنے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ امن و قانون کی صورت حال کی خرابی، خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا تکبر اور جواب دہی سے مسلسل گریز نے حکومت پر عوام کے اعتماد کو کمزور کردیا ہے۔
کھرگے نے کہا کہ کانگریس اتراکھنڈ کے عوام کے حقوق اور مفادات کی آواز بلند کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ریاستی حکومت کے خلاف سڑکوں سے لے کر اسمبلی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عام شہریوں کو درپیش مسائل اٹھاتی رہے گی اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو جواب دہ بنائے گی۔
انہوں نے کہا، ”اتراکھنڈ کے عوام اب جواب چاہتے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے اور اچھی حکمرانی و عوامی فلاح و بہبود پر مبنی متبادل فراہم کرنے کے کانگریس کے عزم کا اظہار کیا۔
کھرگے نے کہا، ”ہمارا عزم عوام کا اعتماد جیتنا اور دیو بھومی اتراکھنڈ کو ایک محفوظ، حساس اور جواب دہ حکومت دینا ہے، جو ہر چیز سے بڑھ کر عوامی مفاد کو ترجیح دے۔”
کانگریس صدر کا یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی 2027 کے اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے اور 2022 میں دوبارہ اقتدار میں آنے والی بی جے پی کو حکومت سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست میں اپنی تنظیمی موجودگی مضبوط بنانے میں مصروف کانگریس، حکمراں جماعت کے خلاف عوامی شکایات کو ایک وسیع سیاسی چیلنج میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کھرگے کے بیان سے ان مسائل کا بھی اشارہ ملتا ہے جو کانگریس کی انتخابی مہم میں اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ان میں امن و قانون، خواتین کا تحفظ، جواب دہی اور حکمرانی میں مبینہ تکبر جیسے معاملات شامل ہیں، جنہیں پارٹی ریاست میں بی جے پی کی مسلسل حکمرانی کو چیلنج کرنے کے لیے نمایاں طور پر اٹھا سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کو فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ زہریلے پی ایم 2.5 کی سطح دہلی اور شمالی ہندوستان کے کئی دیگر علاقوں میں لوگوں کا دم گھونٹ رہی ہے۔ انہوں نے ملک میں فضائی معیار کے موجودہ معیارات پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ فضائی معیار میں مسلسل گراوٹ ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خاص طور پر باریک ذرات کی آلودگی کے لیے مقررہ حدوں پر نظرثانی اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا، ”پی ایم 2.5 خاص طور پر ملک کی راجدھانی اور شمالی ہندوستان کے دیگر علاقوں کا دم گھونٹ رہا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کے موجودہ قومی فضائی کوالٹی کے معیارات، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ حدوں کے مقابلے میں کافی نرم ہیں۔
اس فرق کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ ہندوستان میں پی ایم 2.5 کی 24 گھنٹے کی اوسط قابل قبول حد 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد صرف 15 مائیکروگرام ہے۔ سالانہ اوسط کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہے، کیونکہ ہندوستان میں اس کی قابل قبول حد 40 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے صرف پانچ مائیکروگرام کی سفارش کی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ہندوستان میں مقررہ حدیں روزانہ کی بنیاد پر عالمی صحت کے رہنما اصولوں سے چار گنا اور سالانہ بنیاد پر آٹھ گنا زیادہ ہیں۔
قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے تحت حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ پی ایم 10 آلودگی میں کمی پر توجہ دینے کی وجہ سے پی ایم 2.5 کے صحت پر مرتب ہونے والے زیادہ سنگین اثرات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم جسامت کے ذرات خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ یہ پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
سال 2019 میں شروع کیا گیا قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) ملک کے 130 شہروں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کا مقصد پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 دونوں کی مقدار میں کمی لانا ہے۔ تاہم، شہروں کے لیے مقرر کردہ اہداف میں پی ایم 10 کی سطح کم کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا یہ پروگرام باریک ذرات سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی مؤثر ہے یا نہیں۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”پی ایم 2.5 کے معیارات پر فوری نظرثانی اور ان پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔” انہوں نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سائنسی بنیادوں اور صحت عامہ کو مرکز میں رکھنے والے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر سیاسی طنز کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کو ‘پی ایم 3.0 حکومت’ بھی قرار دیا اور اشارہ دیا کہ حکومت کو بڑھتے ہوئے فضائی آلودگی کے بحران پر کہیں زیادہ توجہ دینی چاہیے، بجائے اس کے کہ صحت عامہ کے اس سنگین خطرے کو نظر انداز کیا جائے۔
مسٹر رمیش کا یہ بیان دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں فضائی معیار کی بار بار بگڑتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، خاص طور پر سردیوں کے آغاز کے ساتھ آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، صنعتی آلودگی، تعمیراتی سرگرمیوں سے اڑنے والی گردوغبار، فصلوں کی باقیات جلانے اور موسم کی ناموافق صورتحال کے باعث آلودہ ذرات زمین کے قریب فضا میں جمع ہوجاتے ہیں، جس سے صحت عامہ کا بحران مزید سنگین ہوجاتا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان7 days agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا7 days agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
دنیا1 week agoایرانی صدر پزشکیان 27 اکتوبر کو ماسکو میں پوتن سے ملاقات کریں گے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
