جموں و کشمیر
جموں میں دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے کام شروع کیا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو گارڈ آف آنر پیش
جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو سول سکریٹریٹ میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ سالانہ دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے جموں میں کام شروع کردیا ہے۔
سول سکریٹریٹ پہنچنے پر کابینہ کے ساتھیوں، جن میں حال ہی میں شامل کیے گئے وزراء بھی شامل تھے، نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر پولیس کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
انتظامی مشینری کی سرینگر سے سرمائی دارالحکومت جموں منتقلی کے ساتھ ہی 100 سے زائد سرکاری دفاتر نے یہاں دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔ یہ دفاتر 2026-27 کے آئندہ چھ ماہ کے سرمائی سیشن کے دوران جموں سے کام کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے دربار موو کے بعد محکموں کی کارکردگی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزراء کی کونسل کے ارکان اور انتظامی سکریٹریوں کے ساتھ بھی میٹنگیں کیں۔
دریں اثنا، سرکاری کام کاج دوبارہ شروع ہونے سے قبل سول سکریٹریٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔
تقریباً 150 سال پرانی دربار موو کی روایت کا آغاز ڈوگرہ دور حکومت میں ہوا تھا۔ اس روایت کے تحت حکومت کا صدر مقام موسم کے لحاظ سے سرینگر اور جموں کے درمیان منتقل کیا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے 2021 میں اس روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت انتظامیہ نے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہر سال کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔
تاہم، منتخب حکومت نے نومبر 2025 میں اس دو سالہ منتقلی کی روایت کو بحال کردیا تھا۔
ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ دربار موو کے تحت دفاتر کے دوبارہ جموں منتقل ہونے کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی گزشتہ ایک سال کی حکمرانی کا بنیادی محور عوامی ضروریات کے تئیں جواب دہ، جامع اور عوام مرکوز ترقی رہا ہے۔ اس دوران عوام سے مسلسل رابطہ قائم رکھنے اور جموں و کشمیر کے تمام علاقوں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے عزم کو ترجیح دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے وسیع دورے کیے اور دور دراز دیہات، قصبوں اور شہری مراکز تک پہنچ کر لوگوں سے براہِ راست بات چیت کی، ان کی شکایات سنیں اور ان کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کئی اہم اقدامات بھی اسی ترقی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ ”یہ تمام اقدامات مختلف علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔”
ترجمان کے مطابق، مسلسل عوامی رابطے، زمینی سطح پر دوروں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ کے ذریعے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ایک ایسے جامع، ترقی یافتہ، خوشحال اور خوشگوار جموں و کشمیر کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں ترقی ہر خطے تک پہنچے اور اس کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے کو حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سول سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر کے جموں میں دوبارہ کام شروع کرنے کے ساتھ ہی حکومت کی توجہ جموں و کشمیر میں ترقی، عوامی خدمت اور جواب دہ حکمرانی کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیریوں اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان بداعتمادی کی بنیاد نیشنل کانفرنس نے رکھی: محبوبہ مفتی
سرینگر، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو نیشنل کانفرنس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کو کشمیریوں اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان بداعتمادی کے بیج بونے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک نیشنل کانفرنس اقتدار میں رہے گی، جموں و کشمیر میں امن کا قیام مشکل رہے گا۔
پی ڈی پی کے یومِ تاسیس کے موقع پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں کے مطابق کشمیر کے معاملے پر اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”نیشنل کانفرنس نے اپنی سیاست کے ذریعے اس بداعتمادی کی بنیاد رکھی۔”
محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ آخر ہندوستان کشمیریوں پر اعتماد کیوں نہیں کرتا اور کشمیری ہندوستان پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے؟ اس ضمن میں انہوں نے خطے میں تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نے 79 سال قبل ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اس فیصلے کی حمایت شیخ عبداللہ نے بھی کی تھی، حالانکہ اس وقت ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔
انہوں نے سوال کیاکہ ”آپ نے مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کو دیکھ کر اور ان کے نظریے پر یقین کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا۔ لیکن محض دو سال کے اندر ایسا کیا ہوا کہ آپ نے رائے شماری کا مطالبہ شروع کردیا؟”
محبوبہ مفتی نے کہا کہ شیخ عبداللہ اس وقت جن سنگھ اور ہندو مہاسبھا کی مسلمانوں کے تئیں مخالفت سے واقف تھے، جب انہوں نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔
1975 کے اندرا۔شیخ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”آپ نے 22 سال تک پاکستان میں رائے شماری کا مطالبہ کیا اور پھر اچانک ایک ہی رات میں دوبارہ اقتدار کی کرسی قبول کرلی۔”
محبوبہ مفتی کے مطابق، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال نے نہ صرف نئی دہلی اور کشمیر کے تعلقات کو نقصان پہنچایا بلکہ عام کشمیریوں اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
تاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
سرینگر، سی پی آئی (ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور کولگام کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جموں و کشمیر میں سی آئی ڈی کے تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی جانچ اس کے اپنے کردار اور طرزِ عمل کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ انتہاپسندی سے متعلق سرگرمیوں میں اس کے رشتہ داروں کی مبینہ شمولیت کی بنیاد پر۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں تاریگامی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے متعدد فیصلوں میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ محض رشتہ داروں کی انتہاپسندی سے متعلق سرگرمیوں میں مبینہ شمولیت کی بنیاد پر کسی شخص کو سیکورٹی کلیئرنس سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اس کے باوجود بہت سے لوگوں کو سی آئی ڈی کلیئرنس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں دور کے رشتہ داروں کی مبینہ سرگرمیاں بھی متعلقہ افراد کے مستقبل اور ملازمت کے امکانات کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں ملزم رشتہ داروں کی موت کئی برس قبل ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے ماضی کے معاملات کا اثر نئی نسل پر پڑ رہا ہے۔
تاریگامی نے کہا کہ رشتہ داروں کے ماضی کے اعمال کی سزا نوجوان نسل کو نہیں ملنی چاہیے اور نہ ہی انہیں کسی قصور کے بغیر مواقع سے محروم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ”تصدیقی عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ افراد کی جانچ ان کے اپنے کردار اور طرزِ عمل کی بنیاد پر ہو، نہ کہ ان کے رشتہ داروں کی مبینہ سرگرمیوں کی بنیاد پر۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ”سیکورٹی سے متعلق خدشات اہم ہیں، لیکن ان کی آڑ میں بے قصور افراد کے حقوق اور مستقبل کو داؤ پر نہیں لگایا جانا چاہیے۔”
واضح رہے کہ ماضی میں بھی جموں و کشمیر کے کئی مین اسٹریم سیاسی رہنما پولیس تصدیق کے موجودہ طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اس میں تبدیلی اور نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں نماز کے دوران سنگ باری، چار افراد پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نماز کے دوران سنگ باری کے واقعے کے بعد پولیس نے چار افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس نے پیر کے روز بتایا کہ اننت ناگ کے پیہرو شیر باغ علاقے میں ایک مکان کو عبادت گاہ میں تبدیل کرکے وہاں نماز ادا کرنے کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ اس دوران بعض شرپسند عناصر نے عشاء کی نماز کے وقت سنگ باری کی، جس کے نتیجے میں معمولی نقصان پہنچا۔
پولیس کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور حالات کو قابو میں کر لیا۔
پولیس نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جبکہ چار افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریز کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو پھیلانے سے باز رہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ علاقے میں امن و قانون کی صورت حال معمول کے مطابق ہے اور مکمل طور پر قابو میں ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
