جموں و کشمیر
2014 کے بعد کشتواڑ میں رابطہ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آئی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ 2014 کے بعد سے ضلع کشتواڑ میں رابطہ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
وزیر نے کشتواڑ میں منعقدہ عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی باشندوں اور عوامی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات کی اور ان کی شکایات، ترقیاتی ضروریات اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ مئی 2014 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی سال دسمبر میں کشتواڑ کے چوگن میدان کا دورہ کیا تھا اور عوام کو یقین دلایا تھا کہ اب تک نظرانداز رہنے والے علاقوں کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی اور ان پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
2014 سے پہلے کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کشتواڑ میں بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ ضلع تک بحفاظت پہنچ جانا بھی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ کئی علاقوں میں موبائل رابطے کی سہولت تقریباً موجود نہیں تھی، جس کے باعث متعدد آبادیاں بیرونی دنیا سے کٹی ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مچیل یاترا کے راستے پر بھی بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی تھی۔ یاتریوں کو بیت الخلا، بہتر سڑکوں اور قابل اعتماد مواصلاتی سہولتوں سمیت بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
عوامی دربار کے دوران وزیر نے لوگوں کی باتیں توجہ سے سنیں اور سڑکوں کے رابطے، عوامی بنیادی ڈھانچے، ضروری خدمات، دیہی ترقی اور مختلف سرکاری محکموں کی کارکردگی سے متعلق ان کے مسائل اور خدشات کا نوٹس لیا۔ ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے لوگوں نے اپنی شکایات اور مطالبات پیش کیے اور ان مسائل کی نشاندہی کی جن پر عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور خطے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کئی شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا، جبکہ وزیر نے متعلقہ افسران کو باقی مسائل کا جائزہ لینے اور مقررہ مدت کے اندر مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں میں دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے کام شروع کیا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو گارڈ آف آنر پیش
جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو سول سکریٹریٹ میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ سالانہ دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے جموں میں کام شروع کردیا ہے۔
سول سکریٹریٹ پہنچنے پر کابینہ کے ساتھیوں، جن میں حال ہی میں شامل کیے گئے وزراء بھی شامل تھے، نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر پولیس کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
انتظامی مشینری کی سرینگر سے سرمائی دارالحکومت جموں منتقلی کے ساتھ ہی 100 سے زائد سرکاری دفاتر نے یہاں دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔ یہ دفاتر 2026-27 کے آئندہ چھ ماہ کے سرمائی سیشن کے دوران جموں سے کام کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے دربار موو کے بعد محکموں کی کارکردگی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزراء کی کونسل کے ارکان اور انتظامی سکریٹریوں کے ساتھ بھی میٹنگیں کیں۔
دریں اثنا، سرکاری کام کاج دوبارہ شروع ہونے سے قبل سول سکریٹریٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔
تقریباً 150 سال پرانی دربار موو کی روایت کا آغاز ڈوگرہ دور حکومت میں ہوا تھا۔ اس روایت کے تحت حکومت کا صدر مقام موسم کے لحاظ سے سرینگر اور جموں کے درمیان منتقل کیا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے 2021 میں اس روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت انتظامیہ نے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہر سال کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔
تاہم، منتخب حکومت نے نومبر 2025 میں اس دو سالہ منتقلی کی روایت کو بحال کردیا تھا۔
ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ دربار موو کے تحت دفاتر کے دوبارہ جموں منتقل ہونے کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی گزشتہ ایک سال کی حکمرانی کا بنیادی محور عوامی ضروریات کے تئیں جواب دہ، جامع اور عوام مرکوز ترقی رہا ہے۔ اس دوران عوام سے مسلسل رابطہ قائم رکھنے اور جموں و کشمیر کے تمام علاقوں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے عزم کو ترجیح دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے وسیع دورے کیے اور دور دراز دیہات، قصبوں اور شہری مراکز تک پہنچ کر لوگوں سے براہِ راست بات چیت کی، ان کی شکایات سنیں اور ان کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کئی اہم اقدامات بھی اسی ترقی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ ”یہ تمام اقدامات مختلف علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔”
ترجمان کے مطابق، مسلسل عوامی رابطے، زمینی سطح پر دوروں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ کے ذریعے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ایک ایسے جامع، ترقی یافتہ، خوشحال اور خوشگوار جموں و کشمیر کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں ترقی ہر خطے تک پہنچے اور اس کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے کو حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سول سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر کے جموں میں دوبارہ کام شروع کرنے کے ساتھ ہی حکومت کی توجہ جموں و کشمیر میں ترقی، عوامی خدمت اور جواب دہ حکمرانی کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں کے آتشزدگی سے متاثرہ شیو مارکیٹ کے دکانداروں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی
جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع شیو مارکیٹ کا دورہ کیا اور حالیہ آتشزدگی کے واقعات کے بعد صورت حال کا جائزہ لیا۔ ان واقعات میں کئی دکانیں جل کر خاکستر ہوگئی تھیں، جس کے نتیجے میں املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور دکانداروں کا روزگار بھی متاثر ہوا۔
دورے اور معائنے کے دوران وزیر اعلیٰ نے متاثرہ دکانداروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور ان سے بات چیت کرکے ان کے مسائل اور مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے آتشزدگی سے ہونے والے نقصان اور تاجروں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔
جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ارون گپتا نے وزیر اعلیٰ کو آتشزدگی کے واقعات کے باعث تاجروں کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کو دکانوں، سامان اور کاروبار سے متعلق دیگر اثاثوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بتایا اور متاثرہ دکانداروں کے خدشات بھی پیش کیے۔
وزیر اعلیٰ نے متاثرہ دکانداروں کی بات تحمل سے سنی اور یقین دلایا کہ حکومت آتشزدگی کے واقعات سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے میں ان کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
دورے کے دوران نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بازآبادکاری و تعمیرِ نو علی محمد ساگر، کمشنر سکریٹری ڈی ایم آر آر آر ایم راجو اور دیگر اعلیٰ افسران بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں میں دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے کام شروع کیا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو گارڈ آف آنر پیش
جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو سول سکریٹریٹ میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ سالانہ دربار موو کے تحت سرکاری دفاتر نے جموں میں کام شروع کردیا ہے۔
سول سکریٹریٹ پہنچنے پر کابینہ کے ساتھیوں، جن میں حال ہی میں شامل کیے گئے وزراء بھی شامل تھے، نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر پولیس کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
انتظامی مشینری کی سرینگر سے سرمائی دارالحکومت جموں منتقلی کے ساتھ ہی 100 سے زائد سرکاری دفاتر نے یہاں دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔ یہ دفاتر 2026-27 کے آئندہ چھ ماہ کے سرمائی سیشن کے دوران جموں سے کام کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے دربار موو کے بعد محکموں کی کارکردگی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزراء کی کونسل کے ارکان اور انتظامی سکریٹریوں کے ساتھ بھی میٹنگیں کیں۔
دریں اثنا، سرکاری کام کاج دوبارہ شروع ہونے سے قبل سول سکریٹریٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔
تقریباً 150 سال پرانی دربار موو کی روایت کا آغاز ڈوگرہ دور حکومت میں ہوا تھا۔ اس روایت کے تحت حکومت کا صدر مقام موسم کے لحاظ سے سرینگر اور جموں کے درمیان منتقل کیا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے 2021 میں اس روایت کو ختم کردیا تھا۔ اس وقت انتظامیہ نے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہر سال کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔
تاہم، منتخب حکومت نے نومبر 2025 میں اس دو سالہ منتقلی کی روایت کو بحال کردیا تھا۔
ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ دربار موو کے تحت دفاتر کے دوبارہ جموں منتقل ہونے کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی گزشتہ ایک سال کی حکمرانی کا بنیادی محور عوامی ضروریات کے تئیں جواب دہ، جامع اور عوام مرکوز ترقی رہا ہے۔ اس دوران عوام سے مسلسل رابطہ قائم رکھنے اور جموں و کشمیر کے تمام علاقوں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے عزم کو ترجیح دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے وسیع دورے کیے اور دور دراز دیہات، قصبوں اور شہری مراکز تک پہنچ کر لوگوں سے براہِ راست بات چیت کی، ان کی شکایات سنیں اور ان کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کئی اہم اقدامات بھی اسی ترقی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ ”یہ تمام اقدامات مختلف علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔”
ترجمان کے مطابق، مسلسل عوامی رابطے، زمینی سطح پر دوروں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ کے ذریعے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ایک ایسے جامع، ترقی یافتہ، خوشحال اور خوشگوار جموں و کشمیر کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں ترقی ہر خطے تک پہنچے اور اس کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے کو حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سول سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر کے جموں میں دوبارہ کام شروع کرنے کے ساتھ ہی حکومت کی توجہ جموں و کشمیر میں ترقی، عوامی خدمت اور جواب دہ حکمرانی کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ7 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے مہارشی والمیکی جینتی پر عوام کو مبارک باد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی کے قافلے کی گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں، کانگریس رہنما بال بال بچے
