دنیا
امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ ایران پر بمباری کی تو تہران کا ردعمل کیا ہوگا
تہران، ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ مکمل جنگ چھڑ گئی تو یہ تنازع ان کے حریفوں کی توقعات سے کہیں زیادہ طویل اور مہنگا ثابت ہوگا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے خلاف نئے ہتھیاروں اور جنگی حکمت عملیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال جون کے بعد ان ملکوں کے درمیان یہ تیسرا بڑا تصادم ہو سکتا ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اتوار کا بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”کسی نہ کسی صورت بہت جلد ختم ہو جائے گی” اور تہران کو معاہدہ کرنا چاہیے، ورنہ اسے امریکی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق سینئر کمانڈر حسین کنانی مقدم نے الجزیرہ کو بتایا کہ رواں سال کے اوائل میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایرانی مسلح افواج کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باوجود اب ان کی عملیاتی صلاحیت گزشتہ تنازعات کے مقابلے میں بہتر ہے۔ان کے مطابق، ”حملے کی صلاحیت کے اعتبار سے ہمارے اہداف کا ڈیٹا بیس نمایاں طور پر وسیع ہوا ہے، میزائلوں کی رینج، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور وارہیڈز میں بہتری آئی ہے، جبکہ ڈرونز کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ دشمن کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور مزید جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کے مطابق، ایران کے پاس بعض ایسی صلاحیتیں اور اہداف بھی ہیں جنہیں اب تک ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن دوبارہ حملے کی صورت میں انہیں سامنے لایا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف، پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کے کمانڈروں نے حال ہی میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کرکے ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جواب فوری ہوگا اور اس کا دائرہ مغربی ایشیا سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے اتوار کی شام کہا کہ فورسز کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ”سو فیصد تیار” ہیں۔ ان کے مطابق، ایران مستقبل قریب میں ”زیادہ سے زیادہ دفاعی بازدارندگی” کا ہدف حاصل کر لے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکی فوجی سازوسامان کی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران غیر متناسب جنگی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ ان کے مطابق، جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے بعد مختصر جنگ بندی کے دوران بعض ہتھیاروں کی مرمت کی گئی، نئے آلات شامل کیے گئے اور نئی جنگی حکمت عملی تیار کی گئی۔
گزشتہ ماہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے زیرِ زمین ڈرون تیار کرنے والی ایک فیکٹری کی ویڈیو نشر کی تھی۔ حکام نے ارش حملہ آور ڈرون کا جدید ماڈل بھی پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے وارہیڈ کی صلاحیت دوگنی کرکے 100 کلوگرام کر دی گئی ہے، جبکہ نشانہ لگانے کی صلاحیت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔
رائٹرز کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ایران کے دفاعی نظام سے منسلک متعدد فوجی اداروں نے پابندیوں سے بچتے ہوئے اربوں ڈالر کے فوجی سازوسامان کی درآمد کے ذریعے پاسداران انقلاب کی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنوری 2025 سے رواں سال جون تک چین، روس اور جرمنی سے میزائل اور ڈرون کی تیاری کے لیے راکٹ ایندھن، دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، ٹائٹینیم اور بھاری ٹرک درآمد کیے گئے، جنہیں میزائل لانچ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جنگ کے دوران ایران کے میزائل دفاعی نظام، ریڈار اور دیگر فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم کنانی مقدم کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ اور نئے تیار کردہ نظاموں کی درستگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے امریکی ساختہ ایف۔35 لڑاکا طیارے اور دیگر جنگی طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ایرانی صلاحیت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں کو دہرایا اور ان کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حکام کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے راستوں سے گزرنے والے بڑے تیل بردار جہازوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ستمبر میں امریکی بحریہ کے جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد سے امریکی بحری جہازوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں داخل ہونے سے گریز کیا ہے۔
تاہم امریکہ نے ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایرانی شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کی نو منتخب کنیسٹ کا افتتاحی اجلاس 10 نومبر کو ہوگا
تل ابیب، اسرائیل کی نو منتخب پارلیمنٹ کنیسٹ کا افتتاحی اجلاس 10 نومبر کو منعقد ہوگا، جس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور نئے اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے بعد سیاسی جماعتیں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے مذاکرات اور مشاورت میں مصروف ہیں۔
کنیسٹ کے پیر کو جاری بیان کے مطابق اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے (جی ایم ٹی کے مطابق دوپہر دو بجے) شروع ہوگا۔ صدر اسحاق ہرزوگ اور دیگر مدعو مہمان بھی اس میں شرکت کریں گے۔
گزشتہ منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 120 رکنی کنیسٹ میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 48 اور عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ انتخابی نتائج کا باضابطہ اعلان بدھ کو متوقع ہے۔
افتتاحی اجلاس میں نومنتخب اور دوبارہ منتخب ہونے والے ارکان حلفِ وفاداری اٹھائیں گے، جس کے بعد اپنے درمیان سے پارلیمنٹ کے اسپیکر کا انتخاب کریں گے۔ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے ‘چینج بلاک’ نے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کی جگہ اپنا امیدوار لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اوہانا نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسپیکر کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ وہ پارلیمانی کارروائی کی نگرانی، سرکاری تقریبات میں پارلیمنٹ کی نمائندگی اور قانون سازی کے ایجنڈے کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسپیکر کے انتخاب کے بعد آٹھ تک ڈپٹی اسپیکروں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔
دریں اثنا، نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں نے مشاورت تیز کر دی ہے۔ چینل 12 کے مطابق، یسرائیل بیتینو کے سربراہ ایوگدور لائبرمین وزارت عظمیٰ کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کریں گے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان (KAN) نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ یائر گولان کی قیادت میں ڈیموکریٹس جماعت آئزن کوٹ کی حمایت کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی قیادت میں ‘ٹُگیدر’ پارٹی نے اتوار کو آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
عرب ارکان پارلیمنٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ایک اور مدت کے لیے اقتدار میں آنے سے روکنے کی غرض سے آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کر سکتے ہیں۔
اگر تمام 19 عرب ارکان اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر آئزن کوٹ کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں 67 ارکان کی سفارشات حاصل ہو سکتی ہیں، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔ یہ سفارشات صدر ہرزوگ کے اس فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں کہ حکومت بنانے کی دعوت پہلے کس رہنما کو دی جائے، تاہم لیکوڈ کنیسٹ کی سب سے بڑی انفرادی جماعت برقرار ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 2026: اہم نکات
واشنگٹن، امریکہ میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ یہ انتخابات صدر کی چار سالہ مدتِ کار کے نصف حصے میں منعقد ہوتے ہیں۔ اس بار ووٹرز ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ ان انتخابات کے نتائج سے آئندہ دو برس کے لیے کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا، اس کا فیصلہ ہوگا۔
اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پر شامل نہیں ہوگا، تاہم ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر ان کی انتظامیہ کی کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں برسرِ اقتدار صدر کی جماعت کو کانگریس میں اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے یہ انتخاب صدر کی سیاسی مقبولیت کا اہم امتحان بھی ہے۔
امریکہ میں نومبر کے پہلے منگل کو انتخابات کرانے کی روایت کا تعلق بڑی حد تک 19ویں صدی کے سماجی رواج، زرعی سرگرمیوں اور آمدورفت کی محدود سہولتوں سے ہے۔
امریکی صدر چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ اس کی مدت کے وسط میں کانگریس کے انتخابات کرائے جاتے ہیں، جنہیں وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ ان میں صدر کا نام ووٹنگ کے لیے پیش نہیں ہوتا، لیکن نتائج کو ان کی کارکردگی پر عوامی رائے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی کانگریس قانون سازی کا ادارہ ہے اور اس کے دو ایوان ہیں:
– ایوانِ نمائندگان: اس کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ ارکان دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
– سینیٹ: اس کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ سینیٹرز کی مدتِ کار چھ سال ہوتی ہے۔
کئی ریاستوں میں ووٹرز گورنروں، ریاستی قانون ساز اداروں اور مقامی عہدیداروں کا انتخاب بھی کریں گے۔
کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن میں گورنروں کے انتخابات پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اس کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی اس کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 53 نشستیں ہیں۔
اگر حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی دونوں میں سے کسی ایک ایوان کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے یا اسے سست کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی اخراجات پر اثرانداز ہونے، صدر کی انتظامیہ کے خلاف سماعتیں اور تحقیقات کرانے اور مواخذے کی بحث دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
نتائج کچھ بھی ہوں، ٹرمپ صدر برقرار رہیں گے اور انہیں قانون سازی پر ویٹو کا اختیار بھی حاصل رہے گا، لیکن کانگریس میں دونوں جماعتوں کی تقسیم ان کے داخلی پالیسی منصوبوں کو محدود کر سکتی ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا ْ
دنیا
اسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
یروشلم، اسرائیل کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نوم سولبرگ نے کہا ہے کہ ملک کے عام انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے، چاہے بیرونی مداخلت سے متعلق الزامات درست ہی کیوں نہ ثابت ہوجائیں۔
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ نوم سولبرگ نے اتوار کو اسرائیلی داخلی خفیہ ایجنسی شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ”ہمارا موقف ہے کہ اگر یہ شبہات درست بھی ثابت ہوجاتے ہیں تو اس سے انتخابی عمل کی شفافیت یا مجموعی انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے، بغیر کوئی ثبوت پیش کیے، الزام لگایا تھا کہ عرب قیادت والی جماعتوں نے، جنہوں نے منگل کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی، ووٹ ”چوری” کیے اور اس مقصد کے لیے قطر سے مالی امداد حاصل کی۔ قطر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن اطلاعات پر مبنی مہم قرار دیا ہے۔
ادھر اتوار کو اسرائیلی پولیس نے انتخابات سے قبل گرفتار کیے گئے تین سیاسی کارکنوں میں سے دو کو رہا کردیا۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس نقد رقم سے بھرے لفافے تھے، جنہیں مبینہ طور پر ووٹروں کو رشوت دینے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ ایک کارکن کو بعض غیر واضح شرائط کے ساتھ رہا کیا گیا، جبکہ دوسرے کو گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین کا تعلق عرب قیادت والی جماعت رعام (Ra’am) سے تھا، جس نے انتخابات میں آٹھ نشستیں حاصل کی ہیں۔ جماعت کے سربراہ منصور عباس نے گرفتاریوں کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے اتوار کو نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کی ساکھ کو مشکوک بنانے کے لیے ”منظم اور منصوبہ بند مہم” چلانے کا الزام لگایا۔
آئزن کوٹ اس سے قبل عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں، تاہم حالیہ انتخابات میں پیدا ہونے والی سیاسی تعطل کی صورت حال میں ان جماعتوں کی حمایت انہیں حکومت سازی میں مدد دے سکتی ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزن کوٹ کی قیادت والے حزب اختلاف کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ اس طرح اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں کوئی بھی اتحاد تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
اسرائیل کی تین عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اگر یہ جماعتیں آئزن کوٹ کے ساتھ اتحاد کرلیتی ہیں تو پارلیمنٹ میں انہیں 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے اور حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت مل جائے گی۔ تاہم اسرائیل میں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا تصور اب بھی بہت سے حلقوں کے لیے سیاسی طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق رواں ہفتے متوقع ہے۔ اس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نئے حکومت کی تشکیل کے لیے کسی امیدوار کو نامزد کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ7 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان1 week agoمودی نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لولا کو مبارک باد دی، ہندوستان-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
-
ہندوستان5 days agoکھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 1,856.67 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
