ہندوستان
اگلے دس برسوں میں ہندوستان 500 گیگاواٹ نئی غیررکازی بجلی پیداوار کی صلاحیت کا اضافہ کرے گا: مودی
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ حکومت نے اگلے 10 سے 11 برسوں میں ملک میں 500 گیگاواٹ نئی غیر رکازی بجلی پیداوار کی صلاحیت شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مسٹر مودی نے آج یہاں بھارت منڈپم میں بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب تک تقریباً 300 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت میں غیررکازی ذرائع کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2030 تک 500 گیگاواٹ غیررکازی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا عزم کیا ہے اور ملک اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے لے کر مغربی ایشیا کے بحران تک دنیا نے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان نے ان مشکلات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا اور اقتصادی ترقی کی رفتار بلند رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران صاف توانائی میں سرمایہ کاری اور اس سے متعلق نظام کی ترقی کے باعث ہندوستان بیرونی بحرانوں سے زیادہ شدید طور پر متاثر ہونے سے محفوظ رہا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی کا تحفظ براہ راست اقتصادی تحفظ سے جڑا ہوا ہے اور اس کا مستقبل صاف توانائی میں پوشیدہ ہے۔ رکازی ایندھن کے ذخائر محدود ہیں اور چند مخصوص خطوں تک مرتکز ہیں، جبکہ شمسی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے امکانات وسیع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2030 تک اپنی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت کا نصف غیررکازی ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف 2025 میں ہی پورا کر لیا، یعنی مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے۔ شمسی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ فروری 2024 میں شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم کے تحت ایک کروڑ گھروں کی چھتوں پر شمسی پینل لگانے کا ہدف ہے۔ اب تک 65 لاکھ سے زیادہ گھر اس اسکیم سے منسلک ہو چکے ہیں۔ ہر چھ دن میں ایک لاکھ نئے گھر اس اسکیم میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق، ان گھروں کے بجلی بلوں میں تقریباً 76 فیصد تک کمی آئی ہے۔ لاکھوں خاندانوں کے بجلی بل صفر ہو گئے ہیں اور کئی خاندان اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم دیگر ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ملکوں کی توانائی سلامتی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی 44 ہزار سے زیادہ سرکاری عمارتیں شمسی توانائی سے منسلک ہو چکی ہیں، جس سے ہر سال تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ کُسم اسکیم کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی سے آبپاشی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ شمسی پمپ کا فائدہ اٹھانے والے ہر کسان کو سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے تالابوں اور جھیلوں کے اوپر شمسی پینل لگانے والی پی ایم سوریہ سروور اسکیم کا بھی ذکر کیا۔ اس سے آبی وسائل کا بہتر استعمال ہو رہا ہے اور زمین پر ہونے والا خرچ بھی بچ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت اس دہائی کے اختتام تک 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کا ہدف ہے۔ نقل و حمل کے شعبے میں بھی اس کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ چند ماہ قبل ملک کی پہلی گرین ہائیڈروجن ٹرین شروع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو پیداواری علاقوں سے ضرورت والے خطوں تک پہنچانے کے لیے گرین انرجی کوریڈور بنائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی بجلی کی لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے پانچ علاقائی بجلی گرڈ کو پہلے ہی ایک نیٹ ورک سے جوڑا جا چکا ہے۔ اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ شمسی توانائی کے آلات کی گھریلو پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک دہائی پہلے شمسی ماڈیول تیار کرنے کی صلاحیت تقریباً دو گیگاواٹ تھی، جو اب بڑھ کر 200 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ شمسی سیل تیار کرنے کی صلاحیت بھی تقریباً 40 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ دیگر آلات کی پیداوار بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسے آتم نربھر بھارت اور میک اِن انڈیا مہم کی کامیابی کا ثبوت قرار دیا۔
وزیر اعظم نے سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور سڑکوں کی روشنی کے نظام کو جلد از جلد شمسی توانائی سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں اور مقامی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت کی تجویز پیش کی، تاکہ بہتر کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور دوسرے ان سے سیکھ سکیں۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ شمسی پمپ سے آگے بڑھ کر خالی زمین اور کھیتوں کی منڈیر پر شمسی پینل لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کو اناج پیدا کرنے والے کے ساتھ ساتھ توانائی پیدا کرنے والا بھی بننا چاہیے۔
مسٹر مودی نے اسٹارٹ اپس، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، محققین اور صنعت کاروں سے ایسے شمسی توانائی کے ماڈل تیار کرنے کی اپیل کی، جن کے ذریعے ہر موسم میں اور چوبیس گھنٹے خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے گھروں میں شمسی بجلی سے کھانا پکانے، درآمد شدہ گیس پر انحصار کم کرنے اور الیکٹرک اسکوٹر، موٹر سائیکل اور کار کو گھریلو شمسی بجلی سے چارج کرنے کا نظام تیار کرنے پر زور دیا۔ اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہر سال ہزاروں روپے بچانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ڈیری کے شعبے، مویشیوں کے چارے، فصلوں کی کٹائی اور کٹائی کے بعد کے کاموں کے لیے بھی شمسی آلات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان اہداف کو پورا کرنے کے لیے ملک میں بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت اور ضروری آلات کی پیداوار بڑھانا ہوگی۔ انہوں نے محققین اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ دیسی ٹیکنالوجی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نئے حل تیار کریں۔ ان کے مطابق صاف توانائی کے شعبے میں آلات کی تیاری، تنصیب، مرمت اور نقل و حمل جیسے کاموں سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں شمسی توانائی کی توسیع سے نئی صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کو مزید فروغ ملے گا۔
سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ ، بازار کا وسیع حجم اور پالیسیوں کا استحکام سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ سال 2024 کی سرمایہ کاری کانفرنس کے بعد صرف دو برسوں میں تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس دہائی کے اختتام تک اس شعبے میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔
وزیر اعظم نے انٹرنیشنل سولر الائنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی کوشش ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے درکار مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارت ہر ضرورت مند ملک تک پہنچے۔ اسی سمت میں افریقہ کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی افریقہ سولر سہولت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی دہائی موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ صاف، سرسبز اور محفوظ مستقبل کے لیے ہر ملک اور خطے کو اس تبدیلی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
راہل کا الزام، مودی غیر ملکی مدد سے وزیر اعظم بنے، کھلے مباحثے کا چیلنج دیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر غیر ملکی مدد سے اقتدار میں آنے اور عہدے پر برقرار رہنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں غیر ملکی حمایت اور ملک کی اقتصادی صورتحال پر کھلے مباحثے کا چیلنج دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، ”مودی جی، اس ملک سے جھوٹ بولنا بند کیجیے۔ آپ غیر ملکی مدد سے وزیر اعظم بنے اور غیر ملکی مدد سے ہی وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کا اقتصادی نظام پوری طرح غیر ملکیوں کے کنٹرول اور حمایت میں ہے اور غیر ملکی سوشل میڈیا بھی مکمل طور پر مسٹر مودی کی حمایت کرتا ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسٹر مودی کے ساتھ کسی بھی پلیٹ فارم پر اور کسی بھی وقت اس معاملے پر بحث کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، ”میں آپ کو اس معاملے پر کھلے مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں۔ کوئی بھی پلیٹ فارم، کسی بھی وقت۔ اگر ہمت ہے تو آئیے۔ آپ نہیں آئیں گے، کیونکہ میں آپ کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں، آپ اس سے ڈرتے ہیں۔”
اس کے ساتھ ہی مسٹر گاندھی نے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا تراشہ بھی پوسٹ کیا ہے، جس میں مسٹر مودی کا یہ بیان درج ہے کہ ”رکاوٹیں پیدا کرنے والی طاقتیں ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، افواہیں پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔”
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
مودی پونے میں 21,800 کروڑ روپے کے میٹرو منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی منگل کو پونے میں تقریباً 21,800 کروڑ روپے کے میٹرو منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے پیر کو بتایا کہ مسٹر مودی دوپہر میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پونے میٹرو کی پنک لائن کا افتتاح کریں گے اور میٹرو کے دوسرے مرحلے کی چار نئی لائنوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس موقع پر وہ اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔
وزیر اعظم 8,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کی گئی پونے میٹرو لائن-3 یعنی پنک لائن کا افتتاح کریں گے۔ تقریباً 23 کلومیٹر طویل یہ لائن مان سے ڈسٹرکٹ کورٹ میٹرو اسٹیشن تک جائے گی۔ اس کے شروع ہونے سے ہنجے واڑی آئی ٹی ہب اور شیواجی نگر کے درمیان میٹرو سروس دستیاب ہو جائے گی۔ اس سے آئی ٹی شعبے میں کام کرنے والے افراد سمیت ہزاروں مسافروں کو آمد و رفت میں سہولت ملے گی۔ یہ لائن موجودہ میٹرو نیٹ ورک سے بھی منسلک ہوگی۔
اس لائن کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا مکمل آپریشن خواتین ٹرین آپریٹرز کے ذریعے کیا جائے گا۔ اسے خواتین کو بااختیار بنانے اور عوامی نقل و حمل میں ان کی شمولیت بڑھانے کی سمت ایک اہم پہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، منصوبہ ہے کہ لائن کی تقریباً 30 فیصد بجلی کی ضرورت شمسی توانائی سے پوری کی جائے گی۔
وزیر اعظم پونے میٹرو کے دوسرے مرحلے کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس پر تقریباً 13,500 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس مرحلے میں لائن 2اے، 2بی، 4 اور 4اے شامل ہیں۔ ان نئی لائنوں سے شہر کے اہم رہائشی، تجارتی اور آئی ٹی علاقوں تک میٹرو کی رسائی بڑھے گی۔
دوسرے مرحلے میں لائن 2اے وناز سے چاندنی چوک تک اور لائن 2بی رام واڑی سے وٹھل واڑی تک جائے گی۔ ان دونوں لائنوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 12.75 کلومیٹر ہوگی۔ وہیں، تقریباً 25.52 کلومیٹر طویل لائن-4 کھراڑی کو کھڑک واسلا سے جوڑے گی۔ لائن-4اے کی لمبائی 6.12 کلومیٹر ہوگی اور یہ نال اسٹاپ سے مانک باغ تک جائے گی۔
نئی میٹرو لائنوں سے کھراڑی، مگراپٹہ، ہڑپسر، سوارگیٹ، مانک باغ، ناندیڑ سٹی، پونے کینٹونمنٹ اور وارجے جیسے اہم علاقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ رام واڑی سے وٹھل واڑی تک میٹرو کی توسیع سے کھراڑی اور واگھولی کے رہائشی، تجارتی اور آئی ٹی علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا۔
نئی میٹرو لائنوں کو موجودہ پونے میٹرو نیٹ ورک اور دوسرے شہروں کے لیے چلنے والی بس خدمات سے بھی منسلک کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سوارگیٹ، نال اسٹاپ اور کھراڑی بائی پاس پر انٹرچینج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان منصوبوں سے شہر میں عوامی نقل و حمل کا نظام مضبوط ہوگا اور مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں بہتر سہولت ملے گی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
تیرہ کروڑ ووٹوں کی چوری کا اپوزیشن کا دعویٰ بے بنیاد، ایس آئی آر پر راہل گاندھی غلط فہمی پھیلا رہے ہیں: سمبت پاترا
وارانسی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے پیر کے روز کاشی میں اپوزیشن اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے ملک میں غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے 13 کروڑ ووٹوں کی چوری کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہوتی تو ملک کی سڑکوں پر احتجاج ہو رہے ہوتے۔
سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر پاترا نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل ابھی جاری ہے اور مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آپ کے دور میں ایس آئی آر ہوا تو ٹھیک تھا، اب ہو رہا ہے تو غلط کیسے ہوگیا؟ یہ ووٹر لسٹ کو درست کرنے کا عمل ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے 4 زمروں کے لوگوں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ ان میں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہری ووٹنگ کرنے والے ووٹر شامل ہیں۔ تقریباً 3 کروڑ ووٹر غیر حاضر زمرے میں ہیں۔ بوتھ سطح کا افسر (بی ایل او) ان کے گھر 3 بار جاتا ہے۔ تینوں مرتبہ غیر حاضر پائے جانے پر ان کا نام اس زمرے میں درج کیا جاتا ہے۔ ایسے ووٹر فارم-6 بھر کر اپنا نام دوبارہ شامل کروا سکتے ہیں۔
مسٹر پاترا نے کہا کہ تقریباً 6 کروڑ ووٹر منتقل شدہ زمرے میں ہیں۔ انہیں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ مقررہ فارم بھرنے پر ان کا نام بھی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو فوت شدہ قرار دیا گیا ہے۔ کئی مرتبہ اہل خانہ کسی شخص کی موت کے بعد ووٹر لسٹ سے اس کا نام ہٹوانے کی اطلاع نہیں دیتے، اس لیے ووٹر لسٹ کو درست کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوہری ووٹنگ کرنے والے ووٹروں کی تعداد بھی تقریباً 1 کروڑ ہے۔ ایسے ووٹروں کا نام صرف ایک ہی جگہ رکھا جائے گا۔ ان تمام زمروں کے اعداد و شمار کو جوڑ کر 13 کروڑ ووٹوں کی چوری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جب کہ یہ پوری طرح گمراہ کن ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ کیا فوت شدہ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہنے دینا مناسب ہے؟ انہوں نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے بعد بی جے پی کی جیت کے الزامات پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جن 20 اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ نام کاٹے گئے، ان میں سے زیادہ تر پر ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔
مسٹر پاترا نے کہا کہ یہ پورا عمل الیکشن کمیشن کے افسران کے دائرہ اختیار میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے بھی اس عمل کو مناسب قرار دیا ہے۔
انہوں نے فارم-6 کے حوالے سے راہل گاندھی کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارم-6 میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلانیہ شامل کیا گیا ہے، جس میں ووٹروں سے یہ معلومات مانگی جاتی ہیں کہ سال 2002، 2003 یا 2004 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کہاں درج تھا۔
مسٹر پاترا نے کہا کہ نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ کیے جانے کا الزام بھی گمراہ کن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 18 سے 28 سال کی عمر کے 2.37 کروڑ نوجوانوں کے نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کام چوری کی عادت ہے، اسی لیے وہ ووٹ چوری کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ7 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
ہندوستان1 week agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
ہندوستان5 days agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان5 days agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے مہارشی والمیکی جینتی پر عوام کو مبارک باد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
