دنیا
امریکہ میں ہیلووین ویک اینڈ کے دوران فائرنگ کے واقعات، 201 افراد زخمی، کم از کم 76 ہلاک
واشنگٹن، امریکہ میں ہیلووین کے اختتام ہفتہ کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم 76 افراد کی موت ہو گئی۔ تجزیہ کاروں کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ سے اتوار تک ملک بھر میں فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 201 افراد زخمی ہوئے۔
مقامی پولیس حکام نے روسی خبر رساں ایجنسی ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ تہوار کے موقع پر منعقد
ہونے والی کئی تقریبات اور پارٹیوں کا اختتام بڑی تعداد میں لوگوں کے اسپتال پہنچنے پر ہوا۔ حکام کے مطابق 31 اکتوبر کو منایا جانے والا تہوار ‘ہیلووین’ اس مرتبہ ہفتہ کے روز تھا۔ ایسا اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔ اس سے قبل 2020 میں 31 اکتوبر کو ہفتہ تھا، جبکہ آئندہ یہ اتفاق 2037 میں ہوگا۔ امریکہ میں یہ تہوار بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے، جس کے دوران مختلف شہروں میں پریڈ اور خصوصی لباس کے مقابلوں سمیت کئی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ جمعہ کی صبح ریاست ٹینیسی سے شروع ہوا، جہاں ایک نوجوان ہائی اسکول میں پستول لے کر پہنچ گیا۔ اس واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تاہم نوجوان کے خلاف غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اسی طرح شکاگو کے جنوبی علاقے میں ایک بحث کے دوران 35 سالہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے۔ جائے وقوعہ کی ویڈیو میں ایک نجی مکان دکھائی دے رہا ہے، جسے ہیلووین کے موقع پر سجایا گیا تھا۔ ریاست میزوری کے ایک چھوٹے شہر میں گھر پر منعقدہ پارٹی کے دوران تنازعہ فائرنگ میں تبدیل ہوگیا، جس میں 22 سالہ شخص نے ایک 18 سالہ نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔ ان واقعات میں گھریلو تشدد کے دوران اسلحہ استعمال کیے جانے کے معاملات بھی شامل ہیں۔
ریاست کیلیفورنیا کے شہر فیئر فیلڈ میں پولیس محکمہ نے ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ ایک مقامی شاپنگ مال میں ہیلووین کے ملبوسات فروخت کرنے والی دکان کے قریب فائرنگ ہوئی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں 16 سے 43 سال کی عمر کے چھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ 31 سالہ حاملہ خاتون کی موت ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ریاست مونٹانا کے شہر یوریکا میں شیرف کے دفتر نے جمعہ کی شام فائرنگ کے ایک واقعے میں ڈپٹی شیرف کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ پولیس اہلکار ایک اطلاع پر جائے وقوعہ پر پہنچے تھے کہ اسی دوران ایک حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے میں ایک اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ ادھر ریاست الاباما کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں فائرنگ کے واقعے میں دو افراد کی موت ہونے کی اطلاع ہے۔
ریاست کنساس کے شہر وِچیتا کے پولیس محکمہ نے ‘آر آئی اے نووستی’ کو بتایا کہ ہفتہ کی صبح فائرنگ کے ایک واقعے میں چار افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ زخمیوں میں ایک شخص کے چہرے پر گولی لگی تھی۔
اتوار کی رات ریاست ڈیلاویئر میں یونیورسٹی کیمپس کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں رات کے دوران فائرنگ کے تین الگ الگ واقعات میں چار افراد کی ہلاکت اور 15 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ٹیکساس ہی کے ایک دوسرے شہر میں سالگرہ کی تقریب کے دوران فائرنگ سے سات افراد کو اسپتال میں داخل کرائے جانے کی اطلاع ہے۔
ریاست فلوریڈا کے شہر جیکسن وِل میں پولیس نے ایک پارٹی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے، جبکہ 15 سالہ لڑکی سمیت مزید نو افراد زخمی ہوئے۔ ریاست الینوائے میں بھی فائرنگ کے ایک واقعے میں 19 سالہ نوجوان کی موت اور آٹھ دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جمعہ سے اب تک امریکہ بھر میں فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 201 افراد زخمی اور 76 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
امریکہ کے پاس وقت ہے، امن معاہدے کے لیے جلدبازی نہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ”روایتی جنگ نہیں” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی ماہ سے جاری فوجی کارروائیوں اور پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود وقت امریکہ کے ساتھ ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران مذاکرات میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”لیکن دیکھیے، وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ اور سچ کہوں تو ہمارے پاس وقت ہے۔ یہ جنگ ہے، لیکن روایتی جنگ نہیں۔ اسے شروع ہوئے سات ماہ ہو چکے ہیں۔”
امریکی صدر نے فوجی مہم کے مالی اخراجات کی اہمیت بھی کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اس تنازع پر واشنگٹن نسبتاً بہت کم رقم خرچ کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”نسبتاً دیکھا جائے تو ہم بہت کم پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا سے متعلق پیش رفت کے ذریعے امریکہ اپنے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم حاصل کر چکا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ متعدد بار ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا ان میں شدت لانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل امریکی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ”ایک اور چھوٹی ایپک فیوری” کارروائی شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ ایپک فیوری سے مراد تہران کے خلاف امریکہ کی ابتدائی فوجی مہم ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک ”بڑے اور اچھے” معاہدے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی شامل ہیں۔
دریں اثنا، جمعہ کو امریکہ میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔ ملاقات میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات، خطے کی مجموعی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات رواں ہفتے کے اوائل میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ہوئی۔ اس دوران انقرہ نے بحری سلامتی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تھے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے فوجی ٹھکانوں، میزائل مراکز اور جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا۔ ابتدائی بمباری میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر جوابی میزائل حملے کیے۔
بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت محدود کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
بیروت، اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو ہیام اور کنتارا میں مشین گن سے وسیع پیمانے پر فائرنگ کی جس سے آبادی میں خوف وہراس پھیل گیا اور کنتارا میں کچھ مکانات کو آگ لگ گئی۔ایجنسی نے یہ اطلاع دی ہے۔
ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج نے بنت جبیل کے علاقے میں طیری قصبے میں ایک دھماکہ کیا اور طولن قصبے کے قریب وادی الحجیر کو 155 ایم ایم توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔
آرکب کے علاقے میں کفر شوبہ کے ارد گرد کے علاقے، بنت جبیل میں حداسہ کے مضافات اور صور کے علاقے میں وادی زیبکن کو بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔
میفدون اور ظوطار الشرقیہ کے قصبوں کے درمیان کے علاقے کو بھی وقفے وقفے سے توپ خانے کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کفر شوبہ کے رہائشی حسن نبا کے مکان کو اس میں موجود سامان سمیت کفر شوبا-سیدانہ ہل شیبہ روڈ پر اڑا دیا۔
ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کفر شوبہ کے رہائشی حسن نبا کے مکان کو اس میں موجود سامان سمیت کفر شوبا-سیدانہ ہل شیبہ روڈ پر اڑا دیا۔ ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی کہ ایک انٹرسیپٹر میزائل طیبہ کے قصبے پر پھٹا، لیکن اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ حملے 20-21 اکتوبر کو ٹمپا، فلوریڈا میں واشنگٹن کی سرپرستی میں بیروت اور تل ابیب کے درمیان تکنیکی سطح کے فوجی مذاکرات کے بعد ہوئے۔
جبکہ مذاکرات سے کسی ٹھوس پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ تاہم، یہ اطلاع دی گئی ہے کہ فریقین نے لبنان سے اسرائیل کے انخلاء اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بیروت اور تل ابیب نے 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدہ کیا تھا، جس میں لبنانی فوج کی خطے میں تعیناتی اور اسرائیل کے مقبوضہ لبنانی علاقوں سے بتدریج انخلاء کے بدلے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا تصور کیا گیا تھا۔
معاہدہ، جس میں عمل درآمد کے لیے پائلٹ زونز کا تعین بھی شامل ہے، اب تک صرف تین قصبوں میں نافذ کیا گیا ہے۔ 50 سے زائد قصبوں پر اسرائیل کا قبضہ جاری ہے۔ معاہدے کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2 مارچ سے اب تک ان حملوں میں کم از کم 4,386 افراد ہلاک اور 12,407 زخمی ہوچکے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی دوحہ آمد متوقع، پیش رفت کی اطلاعات
دوحہ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں مبینہ پیش رفت کے بعد امریکی وفد کی قطر کے دارالحکومت دوحہ آمد متوقع ہے، جہاں اس کی ایرانی حکام کے ساتھ براہِ راست بات چیت ہوسکتی ہے۔
قطری اخبار ‘العربی الجدید’ نے قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت اور تہران کو ممکنہ اقتصادی مراعات دینے کے معاملے پر ابتدائی مفاہمت ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چین اور روس کسی حتمی معاہدے پر عمل درآمد کے ضامن بن سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت جمعہ کو تہران میں قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ‘ایکسِیوس’ کے مطابق، ان مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت کی بحالی کی راہ ہموار کرنا تھا۔
بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک نائب سمیت ایرانی وفد مزید بات چیت کے لیے دوحہ پہنچا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اب بھی قطر کے توسط سے بالواسطہ طور پر جاری ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ ثالثی کی کوششوں سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد بھی دوحہ پہنچنے والا ہے، جہاں ایرانی مذاکرات کاروں سے براہِ راست گفتگو ہوسکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، قطری ثالث اس سفارتی عمل کے دوران وائٹ ہاؤس سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایک سفارتی ذریعے نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ‘ایکسِیوس’ کے مطابق، قطر دونوں فریقوں سے کئی روز تک ایک دوسرے کے لیے رعایتی اقدامات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر زیرِ التوا معاملات پر وسیع تر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔
تاہم مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر دونوں ملکوں کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران بات چیت شروع ہونے سے پہلے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں دے، جبکہ تہران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور تیل کی برآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قطری ثالث ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ وہ گزشتہ حملوں میں تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے۔ اس کے بدلے واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی جاسکتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا6 days agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoراجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
-
ہندوستان5 days agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
تجزیہ6 days agoراولاکوٹ: خوف، دباؤ اور بے یقینی میں سانس لیتا شہر
-
دنیا1 week agoعلاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
-
ہندوستان7 days agoدفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی حملوں میں سات سالہ بچی سمیت کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک
-
دنیا7 days agoنیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر6 days agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
دنیا1 week agoفرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
-
دنیا1 week agoامریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
