ہندوستان
گوکل ڈیری میں بھی بی جے پی عوامی مینڈیٹ کی چوری کر رہی ہے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مہایوتی حکومت پر کولہاپور کے گوکل دودھ یونین میں دودھ پیدا کرنے والوں کے عوامی مینڈیٹ کی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔
راہل گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”گوکل میں دودھ پیدا کرنے والوں نے بی جے پی کو ہرا دیا۔ تو بی جے پی نے انتخاب کے بعد ضابطے بدل دیے – چار ڈائریکٹر ٹھونس دو، 12 کو 16 بنا دو، اکثریت چرا لو۔ یہ دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹوں کی چوری ہے – مینڈیٹ میں ملاوٹ۔ بی جے پی اتنی مایوس ہو چکی ہے کہ ہر جگہ اقتدار بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا رہی ہے۔ دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹ چرانے والے یاد رکھیں – کسان بھولتا نہیں۔”
قابل ذکر ہے کہ 19 اکتوبر کو گوکل ڈیری کے 25 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات میں کانگریس کی حمایت یافتہ پینل نے 13 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ مہایوتی کو 12 نشستیں ملی تھیں۔
مہایوتی کی حمایت یافتہ ڈائریکٹروں کی اجلاس میں غیر حاضری کے باعث چیئرمین کا انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔
اس کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے 10 نومبر کو نئے سرے سے انتخاب کرانے کی ہدایت دی تھی۔
دریں اثنا، کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے الزام لگایا ہے کہ مہاراشٹر حکومت قانون سازی کے ذریعے منتخب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ساخت تبدیل کرکے دودھ پیدا کرنے والوں کے جمہوری مینڈیٹ کو پلٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پون کھیڑا نے کہا کہ منتخب بورڈ کو کام کرنے دینے کے بجائے ریاستی کابینہ نے چار سرکاری ڈائریکٹروں کو ووٹنگ کا حق دے کر نامزد کرنے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ اس سے انتخابی حساب کتاب بدل سکتا ہے اور دودھ پیدا کرنے والوں کا مینڈیٹ متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی حکومت صرف اس لیے انتخاب کے بعد ضابطے تبدیل کر سکتی ہے کہ اسے انتخابی نتیجہ پسند نہیں آیا۔ پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس نے کوآپریٹو اداروں کی خودمختاری اور جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ریلوے نے اکتوبر میں مال برداری کا نیا ریکارڈ قائم کیا
نئی دہلی، ہندوستانی ریلوے نے رواں سال اکتوبر کے دوران 14,507 لاکھ ٹن مال کی نقل و حمل کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ 64.72 کروڑ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچایا۔
ریلوے نے بدھ کو بتایا کہ اکتوبر میں 14,507 لاکھ ٹن مال کی نقل و حمل کی گئی، جو ریلوے کی جانب سے کسی ایک ماہ میں کی جانے والی اب تک کی سب سے زیادہ مال برداری ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ریلوے نے 13,393 لاکھ ٹن مال کی نقل و حمل کی تھی۔ اس طرح رواں سال اکتوبر میں گزشتہ سال کے مقابلے 8.32 فیصد زیادہ مال برداری ریکارڈ کی گئی۔
رواں سال اکتوبر کے دوران کئی اہم اشیا کی نقل و حمل میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ریلوے کے مطابق غذائی اجناس کی نقل و حمل میں 26.3 فیصد، ملکی کوئلے میں 16.0 فیصد، دیگر اشیا میں 11.0 فیصد، کلنکر میں 10.4 فیصد، ملکی کنٹینرز میں 6.3 فیصد، لوہے کے خام مال میں 5.0 فیصد، معدنی تیل میں 1.9 فیصد اور تیار شدہ فولاد میں 0.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
بجلی گھروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریلوے نے ملکی کوئلے کی ترسیل میں اضافہ کیا۔ اکتوبر کے دوران اوسطاً روزانہ 469.8 ریک کوئلہ فراہم کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں روزانہ اوسطاً 393.2 ریک کوئلہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس طرح کوئلے کی فراہمی میں 19.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
اکتوبر کی مضبوط کارکردگی مالی سال 2026-27 کے پہلے سات ماہ، یعنی اپریل سے اکتوبر، کے دوران حاصل ہونے والی مجموعی ترقی پر مبنی ہے۔ اس مدت میں ریلوے نے 97,878 لاکھ ٹن مال کی نقل و حمل کی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 93,510 لاکھ ٹن مال منتقل کیا گیا تھا۔ اس طرح مال برداری میں 4.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رواں سال اکتوبر میں مسافروں کی نقل و حمل میں بھی اضافہ ہوا۔ ریلوے نے اکتوبر کے دوران 64.72 کروڑ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچایا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 63.52 کروڑ مسافروں نے ریلوے سے سفر کیا تھا۔
اپریل سے اکتوبر کے دوران ریلوے نے 443.8 کروڑ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 431.4 کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔ غیر مضافاتی مسافر شعبے میں 4.2 فیصد اور مضافاتی مسافر شعبے میں 1.7 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
ریلوے کے مطابق مال برداری میں یہ اضافہ ریلوے کے لاجسٹکس نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کی اقتصادی ترقی کو تعاون فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ صلاحیت میں توسیع اورآپریشنل کارکردگی میں بہتری کے ذریعے ہندوستانی ریلوے اپنے نقل و حمل کے نیٹ ورک کو مسلسل مزید بہتر بنا رہی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
راہل نے مودی کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیا
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلے مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے چیلنج کو 24 گھنٹے گزر چکے ہیں، لیکن وزیر اعظم کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں، اس لیے انہیں کسی بھی پلیٹ فارم پر آمنے سامنے بیٹھ کر بحث کرنی چاہیے۔ اس مباحثے میں غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مبینہ تعلقات، مالیاتی نظام، امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے، کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر سمجھوتہ کرنے اور صنعت کار اڈانی کے معاملے سمیت کئی موضوعات پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مباحثے کے لیے وزیر اعظم اپنی پسند کے کسی بھی جج کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی جج بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مباحثے میں میڈیا اور ملک کے نوجوان بھی موجود رہیں، تاکہ تمام الزامات کی حقیقت سامنے آ سکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے خلاف تقریباً 45 ہتک عزت کے مقدمات درج ہیں، لیکن غیر ملکی تعلقات سے متعلق الزامات پر وزیر اعظم ہتک عزت کا مقدمہ کیوں درج نہیں کراتے؟ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا، ”آئیے، ڈریے مت۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔”
آخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو دیوالی کی مبارکباد بھی دی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دفاعی پیداوار میں خود انحصاری ضروری، 2029 تک تین لاکھ کروڑ روپے کا ہدف: راجناتھ سنگھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں فوجی تیاریوں کے لیے ضروری دفاعی ٹیکنالوجی اور سازوسامان کی ملک میں ہی تیاری ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو تین لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کو 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ‘دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ-2026’ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خودانحصاری کا مطلب دنیا سے دوری اختیار کرنا نہیں، بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے ہندوستان کو مزید اہل اور مضبوط بنانا ہے۔ دفاعی شعبے میں اب صرف ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے اس کی ترقی، پیداوار اور نئے تجربات میں ہندوستان کی شراکت داری بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی اصلاحات، خود کفالت، بین الاقوامی تعاون اور برآمدات ‘وکست بھارت-2047’ کے چار باہم مربوط ستون ہیں۔ ان سب پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے۔ خود کفالت کے لیے ملک میں ٹیکنالوجی تیار کرنے، پیداوار کرنے اور سازوسامان کو اس کی پوری مدتِ استعمال کے دوران برقرار رکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ دنیا میں جنگ کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب لڑائی زمین، سمندر اور فضا کے ساتھ خلائی اور سائبر شعبوں تک پہنچ گئی ہے۔ سستے ڈرون اور خودکار نظام مہنگے فوجی سازوسامان کے سامنے نئے چیلنج پیش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تیزی سے نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے، بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے اور ضرورت کے مطابق ہتھیاروں کی فراہمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار ریکارڈ تقریباً 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے رہیں۔ ہندوستانی دفاعی مصنوعات اب 80 سے زیادہ ملکوں تک پہنچ رہی ہیں۔
انہوں نے دفاعی تحقیق میں مسلح افواج کے تجربات کو اہمیت دینے کے ساتھ سائنس دانوں کو نئے تجربات اور آزادانہ تحقیق کی آزادی دینے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق تحقیق کے دوران فوج کی ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے، لیکن اسے صرف موجودہ مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ کامیاب تجربات کو تجربہ گاہوں سے نکال کر پیداوار اور فوج کے استعمال تک پہنچانا ضروری ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مستقبل میں دوسرے ملکوں کے ساتھ دفاعی تعاون مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ اختراع پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سے ہندوستانی کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی، دانشورانہ ملکیت اور عالمی سپلائی چین میں شراکت داری کے مواقع حاصل ہوں گے۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoٹرمپ: انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کو 1 ملین ڈالر کا انعام
-
ہندوستان1 week agoستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس عوامی مواخذے کا پروگرام منعقد کرے گی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈت کارکن راکیش ہندو کو سائبر دہشت گردی کے معاملے میں پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
-
ہندوستان1 week agoہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
-
ہندوستان5 days agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoروس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی بات چیت چار نومبر کے بعد پھر شروع ہوگی: اوشاکوف
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
-
ہندوستان1 week agoدہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
-
دنیا5 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
