جموں و کشمیر
باغی نیشنل کانفرنس ارکانِ اسمبلی کے ساتھ جمعہ کی میٹنگ میں عمر عبداللہ نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران استعفیٰ دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں تو ان میں سے کوئی ایک وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، جبکہ وہ پارٹی چلانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ میٹنگ میں شریک دو ناراض ارکانِ اسمبلی نے یہ بات بتائی۔
یہ پیش رفت جمعہ کو منعقدہ ایک اہم میٹنگ کے دوران سامنے آئی، جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ناراض ارکانِ اسمبلی کے ایک گروپ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کے ساتھ ہی حکمراں جماعت کے اندر تقریباً دس دن سے جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگیا۔
پارٹی میں ناراضگی کی صورتحال 27 اکتوبر کو کابینہ میں ردوبدل کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ کئی ارکانِ اسمبلی نے وزراء کونسل میں شامل نہ کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور وزارتی قلمدانوں کی تقسیم میں جانبداری کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے حکومت کے کام کاج اور کابینہ میں مناسب نمائندگی نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
جمعہ کی میٹنگ میں شریک ایک رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ عمر عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت چلانے میں ناکام ہیں تو وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور کوئی دوسرا شخص حکومت کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔
رکنِ اسمبلی نے کہاکہ ”انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کام کرنے سے قاصر ہوں تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ آپ میں سے کوئی ایک حکومت سنبھال سکتا ہے اور میں پارٹی چلاؤں گا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات ارکانِ اسمبلی کی شکایات دور کرنے کے تناظر میں کہی گئی تھی اور اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وزیر اعلیٰ فوری طور پر استعفیٰ دینے والے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت کے سامنے اپنے مسائل رکھے۔ عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ دونوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے اور وزراء و منتخب نمائندوں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنایا جائے گا۔
رکنِ اسمبلی کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے ارکانِ اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقوں سے متعلق مسائل کے لیے مشیروں یا دیگر درمیانی افراد کے بجائے براہِ راست ان سے رجوع کریں۔
میٹنگ میں شریک ایک اور رکنِ اسمبلی نے کہا کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کا نیشنل کانفرنس چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شکایات پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق تھیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے انہیں قیادت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور پر عمل درآمد، ریاستی درجے کی بحالی اور آرٹیکل 370 و 35A پر پارٹی کے موقف کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ارکانِ اسمبلی نے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مہم تیز کرنے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں آرٹیکل 370 اور 35A کے حوالے سے پارٹی کا سابقہ موقف بھی شامل ہے۔
رکنِ اسمبلی نے مزید بتایا کہ فنڈس کی تقسیم پر نظر رکھنے اور تمام اسمبلی حلقوں کو منصفانہ طور پر فنڈس فراہم کرنے کے لیے تین سے چار ارکانِ اسمبلی پر مشتمل گروپوں کا ایک نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے انتخابی منشور پر عمل درآمد کی نگرانی اور تنظیمی معاملات کو حل کرنے کے لیے الگ الگ ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔
جمعہ کی یہ میٹنگ ناراض ارکانِ اسمبلی کی ایک الگ میٹنگ کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ ان ارکان نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو ایک یادداشت پیش کرکے اپنے مطالبات پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔
دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ باہر آئے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ارکانِ اسمبلی کے خدشات کو جائز قرار دیا اور یقین دلایا کہ بعض مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر معاملات کو مرحلہ وار نمٹایا جائے گا۔
انہوں نے پارٹی میں پھوٹ پڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یواین آئی ظا
جموں و کشمیر
جموں ایمس میں جدید سہولیات سے جموں و کشمیر میں خصوصی طبی خدمات کو فروغ ملے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کے روز کہا کہ بیشتر سپر اسپیشلٹی شعبے اب کام کرنے لگے ہیں اور ایم ڈی، ایم ایس، ڈی ایم اور ایم سی ایچ سمیت پوسٹ گریجویٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کورسز بھی شروع ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) اس خطے میں جدید طبی تعلیم، صحت کی خدمات اور تحقیق کے ایک بڑے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
جموں ایمس میں 8 نئے جدید ماڈیولر آپریشن تھیٹر (او ٹی) کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ مرکز کے جدید طبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا، ”اس کے ساتھ ہی ایمس کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس میں آپریشن تھیٹروں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں جموں ایمس کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مختلف خصوصی و سپر اسپیشلٹی طبی خدمات اور تعلیمی پروگرام شروع کرنے کے سلسلے میں حاصل کی گئی پیش رفت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ نئے افتتاح شدہ آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی سہولیات سے ادارے کی جراحی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جدید اور خصوصی نوعیت کے آپریشن کرنے میں مدد ملے گی، سرجری کے لیے انتظار کا وقت کم ہوگا اور اعلیٰ سطح کی جامع طبی خدمات کی فراہمی مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ توسیع شدہ بنیادی ڈھانچے سے پیچیدہ جراحی کے عمل کے زیادہ مواقع فراہم ہوں گے اور جموں و کشمیر سمیت پڑوسی علاقوں کے لوگوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے میں جموں ایمس کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔
وزیر نے کہا کہ اس ادارے کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل ترقی ہوئی ہے اور جدید ترین طبی آلات، جدید آپریشن تھیٹروں اور ڈیجیٹل سہولیات کی بدولت یہ ملک کے جدید ترین طبی اداروں میں شامل ہو گیا ہے۔
جموں ایمس کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک کی واحد مرکز کے زیر انتظام ریاست ہے جہاں 2 ایمس قائم ہیں۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت سے ممکن ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں ایمس کی ترقی سے جدید طبی بنیادی ڈھانچہ لوگوں کے مزید قریب پہنچ رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے خصوصی طبی خدمات تک رسائی محدود تھی۔
وزیر نے ادارے میں تدریسی عملے کی صورت حال اور سپر اسپیشلٹی خدمات و تعلیمی پروگراموں کے بڑھتے ہوئے دائرے کے پیش نظر خصوصی تربیت یافتہ انسانی وسائل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی شعبوں کے لیے ماہر تدریسی عملے کی ضرورت پوری کرنا ضروری ہوگا اور یقین دلایا کہ اس سلسلے میں پیش کی گئی تجاویز پر متعلقہ حکام مناسب غور کریں گے۔
طبی سائنس اور تحقیق کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک احتیاطی صحت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی اختراعات کے شعبوں میں عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کووڈ-19 کے لیے دنیا کی پہلی ڈی این اے ویکسین کی تیاری اور ایچ پی وی، ڈینگی، ملیریا اور تپ دق جیسی بیماریوں کے لیے ویکسین تیار کرنے کے جاری کام کو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تحقیقی صلاحیتوں کی مثال قرار دیا۔
وزیر نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جینومکس اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی سمیت جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی طبی خدمات کی فراہمی اور طبی تحقیق کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہیں۔
انہوں نے انڈیا جینوم پروجیکٹ اور 10 لاکھ جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کی قومی مہم جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جینومکس اور مالیکیولر بائیولوجی میں پیش رفت سے ذاتی ضرورت کے مطابق علاج، بیماریوں کی روک تھام اور مخصوص علاج کے نئے راستے کھلیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ احتیاطی صحت کو قومی ترجیحات میں اہم مقام حاصل رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی صحت اور ان کی پیداواری صلاحیت کو محفوظ رکھنا 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
بعد ازاں، وزیرموصوف نے جموں ایمس کے تدریسی عملے اور طلبہ کے ساتھ ایک تبادلہ خیال کی نشست بھی کی۔ اس دوران طلبہ اور اساتذہ نے بھرپور حصہ لیا اور طبی تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے۔
ڈاکٹر سنگھ نے ان کے سوالات کے جواب دیے اور طبی سائنس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مواقع اور ہندوستان کے طبی نظام کو مضبوط بنانے میں نوجوان ماہرین کے کردار کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے۔
جموں ایمس کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) سی ایس نارائنن نے نئے ماڈیولر آپریشن تھیٹر کمپلیکس کے افتتاح کو جدید طبی خدمات فراہم کرنے کے ادارے کے سفر میں ایک اور اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے جموں ایمس کی ترقی میں مسلسل تعاون اور رہنمائی کے لیے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔
جموں ایمس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر (ڈاکٹر) سنجیو سنہا نے ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل جدید بنانے اور جدید طبی سہولیات میں توسیع کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے آپریشن تھیٹر کمپلیکس سے جموں و کشمیر اور پڑوسی علاقوں کے مریضوں کو خصوصی طبی خدمات فراہم کرنے کی ادارے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
اس تقریب میں ادارے کے اعلیٰ انتظامی افسران، تدریسی عملے، ڈاکٹروں، نرسنگ افسران، طلبہ اور دیگر ملازمین نے بھی شرکت کی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ہندوستانی فضائیہ کے IL-76 طیارے کی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر عالمی ریکارڈ لینڈنگ، 13,629 فٹ کی بلندی پر اترا
سرینگر، ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے ایک اہم فضائی سنگ میل حاصل کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارے IL-76MD کو مشرقی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر کامیابی کے ساتھ اتارا ہے۔ روسی ساختہ اس طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر لینڈنگ کا یہ عالمی ریکارڈ ہے۔
ہندوستانی فضائیہ نے ہفتہ کو بتایا کہ IL-76MD طیارے نے نیوما میں کامیاب لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ یہ طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر کی گئی لینڈنگ ہے۔
اس کامیابی سے خاص طور پر لداخ کے بلند پہاڑی علاقے میں ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید تقویت ملی ہے۔ لداخ کی سرحد چین کے ساتھ ملتی ہے اور یہ ایک حساس سرحدی خطہ ہے۔
فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ ”یہ طیارے کی دیرپا صلاحیت کا ایک شاندار مظاہرہ ہے، جسے اس کے عملے کی غیر معمولی مہارت، درستگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت نے ممکن بنایا۔ یہ سنگ میل ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، نئی بلندیوں کا تعین کرتے ہوئے تاریخ رقم کی گئی ہے۔”
جنوبی لداخ میں واقع نیوما ایئر فیلڈ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس نئے ایئر فیلڈ کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی تھی اور اب یہ ہندوستانی فوج کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ بن چکا ہے۔
IL-76 طیاروں کو 1980 کی دہائی کے وسط میں ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ طیارے فضائیہ کی بھاری سامان کی نقل و حمل کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ ماضی میں ان طیاروں کے ذریعے لداخ کے اگلے مورچوں تک ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر بھاری فوجی سازوسامان پہنچایا جاتا رہا ہے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
امریکی سینیٹر کے انتخاب پر خوشی کے اظہار کے درمیان انجینئر رشید کی قید پر سیاسی رہنماؤں کی خاموشی: اے آئی پی
سرینگر، جیل میں مقید رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی قیادت والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے جمعہ کے روز ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے رشید کی مسلسل قید پر خاموشی اختیار کرنے پر سوال اٹھایا۔ پارٹی نے یہ سوال امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کے انتخاب پر سیاسی رہنماؤں کے ردعمل کے تناظر میں کیا ہے۔
اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی، کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت، سماج وادی پارٹی کے ترجمان آشوتوش ورما اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں انتخابی پیش رفت پر سیاسی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر سے منتخب ایک رکن پارلیمنٹ مسلسل جیل میں قید ہیں اور ان کے حق میں اسی طرح کی سیاسی یکجہتی دیکھنے میں نہیں آتی۔
انہوں نے سوال کیاکہ ”چاہے اویسی ہوں، راجپوت ہوں، آشوتوش ورما ہوں یا کوئی اور، ہر کوئی امریکہ میں ہندوستانی نژاد مسلم سینیٹر کے انتخاب پر تبصرہ کرنے اور خوشی منانے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ لیکن جب بارہمولہ کے عوام کے منتخب نمائندے انجینئر رشید برسوں تک تہاڑ جیل میں قید رہے، اس وقت یہ آوازیں کہاں تھیں؟ ان کی رہائی کے لیے کتنے رہنماؤں نے آواز اٹھائی یا اپنے حلقہ انتخاب کے جمہوری فیصلے کے حق میں کھڑے ہوئے؟”
ایک بیان میں انعام النبی نے کہا کہ امریکہ میں کسی ہندوستانی نژاد سیاست داں کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، تاہم انہوں نے سیاسی یکجہتی کے اس منتخب اور امتیازی رویے پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہاکہ ”جمہوریت سہولت اور پسند کے مطابق اختیار کیا جانے والا معاملہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہزاروں میل دور امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کا انتخاب سیاسی توجہ اور جشن کا مستحق ہے تو اپنے ہی ملک میں ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کی مسلسل قید پر بھی کم از کم اتنی ہی تشویش ظاہر کی جانی چاہیے۔ کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق کی اہمیت کہیں اور ہونے والی سیاسی پیش رفت سے کم نہیں ہوسکتی۔”
انہوں نے کہا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام نے جمہوری عمل کے ذریعے انجینئر رشید کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا، لیکن بیرون ملک ہونے والی پیش رفت پر جوش و خروش کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنما ان کی رہائی کے لیے اسی طرح کا عزم ظاہر کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔
انعام النبی نے مزید کہاکہ ”سیاسی رہنماؤں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ جمہوری نمائندگی کے بارے میں ان کی تشویش عالمگیر ہے یا جغرافیائی حدود، سیاسی سہولت اور انتخابی مفادات تک محدود ہے۔”
اے آئی پی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے اور انجینئر رشید کی طویل قید پر سیاسی رہنماؤں کو مستقل توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اپنی سہولت کے مطابق یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔
یواین آئی ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا5 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
ہندوستان1 week agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
ہندوستان1 week agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان5 days agoجے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
-
ہندوستان5 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoاین وی ایس-03 کی کامیاب لانچنگ سے ہندوستان کی نیویگیشن خودمختاری مضبوط ہوگی: وزیر اعظم مودی
