جموں و کشمیر
ہندوستانی فضائیہ کے IL-76 طیارے کی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر عالمی ریکارڈ لینڈنگ، 13,629 فٹ کی بلندی پر اترا
سرینگر، ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے ایک اہم فضائی سنگ میل حاصل کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارے IL-76MD کو مشرقی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر کامیابی کے ساتھ اتارا ہے۔ روسی ساختہ اس طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر لینڈنگ کا یہ عالمی ریکارڈ ہے۔
ہندوستانی فضائیہ نے ہفتہ کو بتایا کہ IL-76MD طیارے نے نیوما میں کامیاب لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ یہ طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر کی گئی لینڈنگ ہے۔
اس کامیابی سے خاص طور پر لداخ کے بلند پہاڑی علاقے میں ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید تقویت ملی ہے۔ لداخ کی سرحد چین کے ساتھ ملتی ہے اور یہ ایک حساس سرحدی خطہ ہے۔
فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ ”یہ طیارے کی دیرپا صلاحیت کا ایک شاندار مظاہرہ ہے، جسے اس کے عملے کی غیر معمولی مہارت، درستگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت نے ممکن بنایا۔ یہ سنگ میل ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، نئی بلندیوں کا تعین کرتے ہوئے تاریخ رقم کی گئی ہے۔”
جنوبی لداخ میں واقع نیوما ایئر فیلڈ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس نئے ایئر فیلڈ کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی تھی اور اب یہ ہندوستانی فوج کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ بن چکا ہے۔
IL-76 طیاروں کو 1980 کی دہائی کے وسط میں ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ طیارے فضائیہ کی بھاری سامان کی نقل و حمل کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ ماضی میں ان طیاروں کے ذریعے لداخ کے اگلے مورچوں تک ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر بھاری فوجی سازوسامان پہنچایا جاتا رہا ہے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
باغی نیشنل کانفرنس ارکانِ اسمبلی کے ساتھ جمعہ کی میٹنگ میں عمر عبداللہ نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران استعفیٰ دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں تو ان میں سے کوئی ایک وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، جبکہ وہ پارٹی چلانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ میٹنگ میں شریک دو ناراض ارکانِ اسمبلی نے یہ بات بتائی۔
یہ پیش رفت جمعہ کو منعقدہ ایک اہم میٹنگ کے دوران سامنے آئی، جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ناراض ارکانِ اسمبلی کے ایک گروپ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کے ساتھ ہی حکمراں جماعت کے اندر تقریباً دس دن سے جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگیا۔
پارٹی میں ناراضگی کی صورتحال 27 اکتوبر کو کابینہ میں ردوبدل کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ کئی ارکانِ اسمبلی نے وزراء کونسل میں شامل نہ کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور وزارتی قلمدانوں کی تقسیم میں جانبداری کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے حکومت کے کام کاج اور کابینہ میں مناسب نمائندگی نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
جمعہ کی میٹنگ میں شریک ایک رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ عمر عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت چلانے میں ناکام ہیں تو وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور کوئی دوسرا شخص حکومت کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔
رکنِ اسمبلی نے کہاکہ ”انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کام کرنے سے قاصر ہوں تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ آپ میں سے کوئی ایک حکومت سنبھال سکتا ہے اور میں پارٹی چلاؤں گا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات ارکانِ اسمبلی کی شکایات دور کرنے کے تناظر میں کہی گئی تھی اور اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وزیر اعلیٰ فوری طور پر استعفیٰ دینے والے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت کے سامنے اپنے مسائل رکھے۔ عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ دونوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے اور وزراء و منتخب نمائندوں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنایا جائے گا۔
رکنِ اسمبلی کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے ارکانِ اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقوں سے متعلق مسائل کے لیے مشیروں یا دیگر درمیانی افراد کے بجائے براہِ راست ان سے رجوع کریں۔
میٹنگ میں شریک ایک اور رکنِ اسمبلی نے کہا کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کا نیشنل کانفرنس چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شکایات پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق تھیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے انہیں قیادت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور پر عمل درآمد، ریاستی درجے کی بحالی اور آرٹیکل 370 و 35A پر پارٹی کے موقف کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ارکانِ اسمبلی نے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مہم تیز کرنے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں آرٹیکل 370 اور 35A کے حوالے سے پارٹی کا سابقہ موقف بھی شامل ہے۔
رکنِ اسمبلی نے مزید بتایا کہ فنڈس کی تقسیم پر نظر رکھنے اور تمام اسمبلی حلقوں کو منصفانہ طور پر فنڈس فراہم کرنے کے لیے تین سے چار ارکانِ اسمبلی پر مشتمل گروپوں کا ایک نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے انتخابی منشور پر عمل درآمد کی نگرانی اور تنظیمی معاملات کو حل کرنے کے لیے الگ الگ ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔
جمعہ کی یہ میٹنگ ناراض ارکانِ اسمبلی کی ایک الگ میٹنگ کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ ان ارکان نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو ایک یادداشت پیش کرکے اپنے مطالبات پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔
دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ باہر آئے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ارکانِ اسمبلی کے خدشات کو جائز قرار دیا اور یقین دلایا کہ بعض مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر معاملات کو مرحلہ وار نمٹایا جائے گا۔
انہوں نے پارٹی میں پھوٹ پڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یواین آئی ظا
جموں و کشمیر
امریکی سینیٹر کے انتخاب پر خوشی کے اظہار کے درمیان انجینئر رشید کی قید پر سیاسی رہنماؤں کی خاموشی: اے آئی پی
سرینگر، جیل میں مقید رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی قیادت والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے جمعہ کے روز ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے رشید کی مسلسل قید پر خاموشی اختیار کرنے پر سوال اٹھایا۔ پارٹی نے یہ سوال امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کے انتخاب پر سیاسی رہنماؤں کے ردعمل کے تناظر میں کیا ہے۔
اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی، کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت، سماج وادی پارٹی کے ترجمان آشوتوش ورما اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں انتخابی پیش رفت پر سیاسی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر سے منتخب ایک رکن پارلیمنٹ مسلسل جیل میں قید ہیں اور ان کے حق میں اسی طرح کی سیاسی یکجہتی دیکھنے میں نہیں آتی۔
انہوں نے سوال کیاکہ ”چاہے اویسی ہوں، راجپوت ہوں، آشوتوش ورما ہوں یا کوئی اور، ہر کوئی امریکہ میں ہندوستانی نژاد مسلم سینیٹر کے انتخاب پر تبصرہ کرنے اور خوشی منانے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ لیکن جب بارہمولہ کے عوام کے منتخب نمائندے انجینئر رشید برسوں تک تہاڑ جیل میں قید رہے، اس وقت یہ آوازیں کہاں تھیں؟ ان کی رہائی کے لیے کتنے رہنماؤں نے آواز اٹھائی یا اپنے حلقہ انتخاب کے جمہوری فیصلے کے حق میں کھڑے ہوئے؟”
ایک بیان میں انعام النبی نے کہا کہ امریکہ میں کسی ہندوستانی نژاد سیاست داں کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، تاہم انہوں نے سیاسی یکجہتی کے اس منتخب اور امتیازی رویے پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہاکہ ”جمہوریت سہولت اور پسند کے مطابق اختیار کیا جانے والا معاملہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہزاروں میل دور امریکہ میں ہندوستانی نژاد سینیٹر کا انتخاب سیاسی توجہ اور جشن کا مستحق ہے تو اپنے ہی ملک میں ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کی مسلسل قید پر بھی کم از کم اتنی ہی تشویش ظاہر کی جانی چاہیے۔ کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق کی اہمیت کہیں اور ہونے والی سیاسی پیش رفت سے کم نہیں ہوسکتی۔”
انہوں نے کہا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام نے جمہوری عمل کے ذریعے انجینئر رشید کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا، لیکن بیرون ملک ہونے والی پیش رفت پر جوش و خروش کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنما ان کی رہائی کے لیے اسی طرح کا عزم ظاہر کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔
انعام النبی نے مزید کہاکہ ”سیاسی رہنماؤں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ جمہوری نمائندگی کے بارے میں ان کی تشویش عالمگیر ہے یا جغرافیائی حدود، سیاسی سہولت اور انتخابی مفادات تک محدود ہے۔”
اے آئی پی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے اور انجینئر رشید کی طویل قید پر سیاسی رہنماؤں کو مستقل توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اپنی سہولت کے مطابق یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔
یواین آئی ظ ا
جموں و کشمیر
بانڈی پورہ پولیس نے علیحدگی پسندوں سے منسلک ماڈیول کے معاملے میں مزید دو افراد کو گرفتار کرلیا، گرفتار شدگان کی تعداد آٹھ ہوگئی
بانڈی پورہ، جموں و کشمیر پولیس نے جمعہ کے روز ممنوعہ تنظیم اتحاد المسلمین کے مبینہ جیل سے منسلک دہشت گرد ماڈیول کے معاملے میں مزید دو افراد کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد اس کیس میں گرفتار ہونے والوں کی مجموعی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
گرفتار شدگان کی شناخت بارہمولہ کے چکلو علاقے کے رہنے والے ارشاد احمد بھٹ اور سوپور کے واٹلب کے رہائشی شوکت احمد ریشی کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ گرفتاریاں ایف آئی آر نمبر 168/2026 کے سلسلے میں عمل میں آئیں، جو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات 10 اور 13 کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مبینہ ماڈیول کی تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد ملزمین کے ملوث ہونے کی نوعیت اور حد کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ روابط اور ساتھیوں کی شناخت کرنا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
اس سے قبل 24 اکتوبر کو بانڈی پورہ پولیس نے اس ماڈیول کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں چار خواتین بھی شامل تھیں۔
پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ خفیہ نیٹ ورک ممنوعہ تنظیم اتحاد المسلمین سے منسلک تھا اور پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر کی ہدایات پر علیحدگی پسند نظریات اور پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے سرگرم تھا۔ پولیس کے مطابق، خواتین کو مبینہ طور پر بھرتی کرنے اور ان کی ذہن سازی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
تفتیش کار اس نیٹ ورک کے ممکنہ مالی روابط اور اس کی سرگرمیوں کے وسیع دائرے کا پتا لگانے کے لیے جیل کے اندر سے مبینہ رابطہ کاری، خفیہ ملاقاتوں اور مالی لین دین کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا5 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
ہندوستان1 week agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان5 days agoجے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
ہندوستان5 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
-
ہندوستان1 week agoاین وی ایس-03 کی کامیاب لانچنگ سے ہندوستان کی نیویگیشن خودمختاری مضبوط ہوگی: وزیر اعظم مودی
