دنیا
ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دیرینہ ساتھی اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے کانگریس میں کنٹرول کھونے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی سخت ترین داخلی پالیسیوں کے اہم معمار سمجھے جانے والے ملر کو صدر کے دفتر کے سب سے طاقتور عہدوں میں سے ایک کی ذمہ داری سونپی ہے۔
اسٹیفن ملر اس عہدے پر سوسی وائلز کی جگہ لیں گے۔ وہ ایسے وقت میں یہ ذمہ داری سنبھال رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کو ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول والی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا سامنا کرنا ہے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف کانگریس کی متعدد تحقیقات بھی متوقع ہیں۔
صدر کے وسیع تر اختیارات کے دیرینہ حامی ملر کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ٹرمپ اپنے داخلی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی اختیارات پر زیادہ انحصار کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ملر کو اپنے ‘قابل اعتماد ترین مشیروں میں سے ایک’ قرار دیا اور سوسی وائلز کے بہترین کام کی ستائش کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلی پیر سے نافذ العمل ہوگی۔
ٹرمپ نے اسی ہفتے کہا تھا کہ وہ کیپیٹل ہل میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ملر کو یہ ذمہ داری سونپنے کو زیادہ جارحانہ سیاسی حکمت عملی اور امیگریشن سمیت دیگر معاملات پر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی نئی کوشش کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اپنی سیاسی اور ابلاغی ٹیموں کی کارکردگی سے ناخوش تھے۔ اس دوران ان کی عوامی مقبولیت کی شرح بھی تقریباً ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق، ٹرمپ نے اسی ہفتے کہا تھا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی واپسی کے بعد وائٹ ہاؤس کو ‘زیادہ جارحانہ’ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تقرری کے بعد ملر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”اب ہمارا مقصد پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ اپنے صدر کی حمایت اور اس عظیم جمہوریہ کے تحفظ کے لیے اپنی پوری قوت کے ساتھ جدوجہد کرنا۔”
ملر صدر ٹرمپ کے طویل عرصے سے قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں اور ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی پہلی اور دوسری دونوں مدتِ صدارت میں ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ملر، سوسی وائلز کے ماتحت ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ٹرمپ کے داخلی ایجنڈے کے بیشتر معاملات میں ان کا خاصا اثر و رسوخ رہا ہے اور صدر بھی ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔
ملر کو خاص طور پر ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی اور ملک گیر کارروائیوں کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے روزانہ 3,000 افراد کی گرفتاری کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے نقاب پوش امریکی امیگریشن حکام نے ملک بھر میں کارروائیاں کیں، جن کے دوران ایسے افراد کو بھی بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور جو کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے۔
ملر، وفاقی بیوروکریسی کی تشکیل نو سے متعلق ٹرمپ کی مہم میں بھی گہرائی سے شامل رہے ہیں۔ اس مہم کے تحت 2025 میں ہزاروں سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔ یونیورسٹیوں، تنوع کے فروغ کے پروگراموں اور دیگر اداروں کے ساتھ انتظامیہ کے تنازعات میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر ملر بحیرہ کیریبین اور بحرالکاہل کے علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبہ میں ملوث جہازوں پر ٹرمپ کے مہلک فوجی حملوں کے پرزور حامی رہے ہیں۔ ان کارروائیوں پر قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی بھی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تہران کو کمزور کرنے اور پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بننے کی اس کی صلاحیت محدود کرنے کے اقدامات کے طور پر بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا دفاع کیا ہے۔ تاہم، ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث اس ہفتے ریپبلکن پارٹی کو انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ اس معاملے پر ملر کا موقف اب بھی وہی رہے گا یا نہیں۔
چیف آف اسٹاف کا عہدہ وائٹ ہاؤس کے سب سے بااثر عہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس عہدے پر فائز شخص صدر تک رسائی کو کنٹرول کرنے کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے عملے کا انتظام، صدر کے وقت اور مصروفیات کا تعین اور دیگر سرکاری محکموں اور قانون سازوں کے ساتھ رابطہ کاری کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتا ہے۔
سوسی وائلز نے جمعرات کی شب اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق، اب وہ ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں کام کریں گی۔ فلوریڈا کی تجربہ کار سیاسی حکمت عملی ساز وائلز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف بننے والی پہلی خاتون تھیں۔
وہ وائٹ ہاؤس کی 32ویں چیف آف اسٹاف تھیں اور انہوں نے جنوری 2025 سے نومبر 2026 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی زبردست شکست کے بعد ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے وائلز کی جگہ امیگریشن پالیسی کے اپنے اہم حکمت عملی ساز اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس کا کیف پر میزائل حملہ، رہائشی عمارتوں کو نقصان، دو افراد زخمی
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے کہا ہے کہ روسی فوج نے شہر پر میزائل حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ صدر وولودیمیر زیلنسکی کے اس انتباہ کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روس توانائی کے مراکز، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔
کیف کے میئر وٹالی کلِچکو کے مطابق، ہفتہ کو ہونے والے حملے کے بعد میزائل کا ملبہ ایک رہائشی عمارت سے ٹکرایا، جس سے اسے نقصان پہنچا۔
کلِچکو نے ٹیلی گرام پر لکھا، “کیف کے مضافات میں دھماکے ہوئے ہیں۔ دشمن بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ ملبہ دارالحکومت کے مغربی علاقے میں واقع پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر گرا۔ ایک دوسری رہائشی عمارت کا اگلا حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔
شہر کی فوجی انتظامیہ نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں کنڈرگارٹن قائم ہے۔
حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی حکام نے شہریوں کو مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری رکھی۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مغربی اتحادیوں سے اس بارے میں ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین کی سلامتی کے لیے تعاون کس طرح فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کی دیر رات نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہی۔ اس سے قبل برسلز میں اتحادی ممالک کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے۔
برسلز مذاکرات میں جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اگلے سال کے لیے مالی وسائل اور مغربی اتحادیوں کی حمایت سے فراہم کی جانے والی سلامتی کی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان اجلاسوں میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے حکام کے علاوہ عالمی بینک اور امریکی سرمایہ کاری گروپ بلیک راک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
یہ حملے امریکہ کی قیادت میں یوکرین اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے تین روز قبل کیے گئے ہیں۔ یہ مذاکرات ابوظہبی میں شروع ہونے والے ہیں، جن کا مقصد چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس نوعیت کے آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کیرل دمترییف سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کہی۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جمعرات کو ان کی یوکرینی وفد سے ملاقات نہیں ہوئی۔
امریکی صدر اور دمترییف کی ملاقات اسی روز ہوئی جب خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے روسی اور یوکرینی نمائندوں کے ساتھ ایک سفارتی اجلاس کی میزبانی کی۔ اس کا مقصد جنوبی یوکرین کے شہر اولیشکی میں اکتوبر کے دوران ہونے والی مقامی جنگ بندی کو آگے بڑھانا تھا، جس میں میلانیا ٹرمپ نے ثالثی کی تھی۔
یہ جنگ بندی گزشتہ اتوار کو ختم ہوگئی تھی۔ اس کے ایک روز بعد روس نے زاپوریزیا علاقے کے قصبے کومیشوواخا میں امدادی سامان کی تقسیم کے ایک مرکز پر بمباری کی تھی۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے جمعہ کو بتایا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 50 ہوگئی ہے۔ اسے رواں سال شہریوں پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔
دنیا
روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرانے کے لیے امریکہ کام کر رہا ہے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ روس اور یوکرین کے ساتھ مثبت انداز میں مل کر کام کر رہا ہے اور یوکرین بحران کو حل کرنے کی سمت میں کافی پیش رفت کر رہا ہے۔
یوکرین تنازع کو حل کرنے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ”ہم روس اور یوکرین کے ساتھ مل کر اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہم کافی پیش رفت کر رہے ہیں۔” مسٹر ٹرمپ نے روس اور یوکرین سے متعلق صورتحال پر کئی ملاقاتوں اور فون کالز کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ ”روس اور یوکرین پہلی بار تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ آج میں فون پر بات کروں گا اور کل بھی کچھ لوگوں سے فون پر بات چیت ہوگی۔” انہوں نے بتایا کہ فلوریڈا میں ان کی کچھ ملاقاتیں طے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم نے مار اے لاگو میں کئی ملاقاتیں طے کی ہیں، جن میں روس اور دیگر معاملات سے وابستہ کئی لوگ شامل ہوں گے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے باعث امریکہ کو 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے باعث شیئر بازار کو ہوئے نقصان کا تخمینہ 3 لاکھ کروڑ ڈالر لگایا ہے۔
فلوریڈا کے ایک خلائی مرکز میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”کل 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ آپ جانتے ہیں کہ صرف ایک انتخاب کی وجہ سے ہمارے ملک کو 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔”
انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کی جیت سے شیئر بازار میں تیزی آتی تو انہیں اور بھی زیادہ دکھ ہوتا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ”اگر ہمیں 3 لاکھ کروڑ ڈالر کا فائدہ ہوا ہوتا تو شاید میں اور بھی زیادہ دکھی ہوتا۔”
واضح رہے کہ گزشتہ 3 نومبر کو ہوئے انتخابات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے سال امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہوجائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا7 days agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا5 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
دنیا1 week agoاسرائیلی پارلیمنٹ معلق، نیتن یاہو کمزور، نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کا کردار فیصلہ کن
-
ہندوستان1 week agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
ہندوستان5 days agoجے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
-
ہندوستان5 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
