جموں و کشمیر
جموں ایمس میں جدید سہولیات سے جموں و کشمیر میں خصوصی طبی خدمات کو فروغ ملے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کے روز کہا کہ بیشتر سپر اسپیشلٹی شعبے اب کام کرنے لگے ہیں اور ایم ڈی، ایم ایس، ڈی ایم اور ایم سی ایچ سمیت پوسٹ گریجویٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کورسز بھی شروع ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) اس خطے میں جدید طبی تعلیم، صحت کی خدمات اور تحقیق کے ایک بڑے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
جموں ایمس میں 8 نئے جدید ماڈیولر آپریشن تھیٹر (او ٹی) کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ مرکز کے جدید طبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا، ”اس کے ساتھ ہی ایمس کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس میں آپریشن تھیٹروں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے۔”
ڈاکٹر سنگھ نے ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں جموں ایمس کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مختلف خصوصی و سپر اسپیشلٹی طبی خدمات اور تعلیمی پروگرام شروع کرنے کے سلسلے میں حاصل کی گئی پیش رفت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ نئے افتتاح شدہ آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی سہولیات سے ادارے کی جراحی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جدید اور خصوصی نوعیت کے آپریشن کرنے میں مدد ملے گی، سرجری کے لیے انتظار کا وقت کم ہوگا اور اعلیٰ سطح کی جامع طبی خدمات کی فراہمی مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ توسیع شدہ بنیادی ڈھانچے سے پیچیدہ جراحی کے عمل کے زیادہ مواقع فراہم ہوں گے اور جموں و کشمیر سمیت پڑوسی علاقوں کے لوگوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے میں جموں ایمس کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔
وزیر نے کہا کہ اس ادارے کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل ترقی ہوئی ہے اور جدید ترین طبی آلات، جدید آپریشن تھیٹروں اور ڈیجیٹل سہولیات کی بدولت یہ ملک کے جدید ترین طبی اداروں میں شامل ہو گیا ہے۔
جموں ایمس کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک کی واحد مرکز کے زیر انتظام ریاست ہے جہاں 2 ایمس قائم ہیں۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت سے ممکن ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں ایمس کی ترقی سے جدید طبی بنیادی ڈھانچہ لوگوں کے مزید قریب پہنچ رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے خصوصی طبی خدمات تک رسائی محدود تھی۔
وزیر نے ادارے میں تدریسی عملے کی صورت حال اور سپر اسپیشلٹی خدمات و تعلیمی پروگراموں کے بڑھتے ہوئے دائرے کے پیش نظر خصوصی تربیت یافتہ انسانی وسائل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی شعبوں کے لیے ماہر تدریسی عملے کی ضرورت پوری کرنا ضروری ہوگا اور یقین دلایا کہ اس سلسلے میں پیش کی گئی تجاویز پر متعلقہ حکام مناسب غور کریں گے۔
طبی سائنس اور تحقیق کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک احتیاطی صحت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی اختراعات کے شعبوں میں عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کووڈ-19 کے لیے دنیا کی پہلی ڈی این اے ویکسین کی تیاری اور ایچ پی وی، ڈینگی، ملیریا اور تپ دق جیسی بیماریوں کے لیے ویکسین تیار کرنے کے جاری کام کو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تحقیقی صلاحیتوں کی مثال قرار دیا۔
وزیر نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جینومکس اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی سمیت جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی طبی خدمات کی فراہمی اور طبی تحقیق کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہیں۔
انہوں نے انڈیا جینوم پروجیکٹ اور 10 لاکھ جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کی قومی مہم جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جینومکس اور مالیکیولر بائیولوجی میں پیش رفت سے ذاتی ضرورت کے مطابق علاج، بیماریوں کی روک تھام اور مخصوص علاج کے نئے راستے کھلیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ احتیاطی صحت کو قومی ترجیحات میں اہم مقام حاصل رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی صحت اور ان کی پیداواری صلاحیت کو محفوظ رکھنا 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
بعد ازاں، وزیرموصوف نے جموں ایمس کے تدریسی عملے اور طلبہ کے ساتھ ایک تبادلہ خیال کی نشست بھی کی۔ اس دوران طلبہ اور اساتذہ نے بھرپور حصہ لیا اور طبی تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے۔
ڈاکٹر سنگھ نے ان کے سوالات کے جواب دیے اور طبی سائنس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مواقع اور ہندوستان کے طبی نظام کو مضبوط بنانے میں نوجوان ماہرین کے کردار کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے۔
جموں ایمس کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) سی ایس نارائنن نے نئے ماڈیولر آپریشن تھیٹر کمپلیکس کے افتتاح کو جدید طبی خدمات فراہم کرنے کے ادارے کے سفر میں ایک اور اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے جموں ایمس کی ترقی میں مسلسل تعاون اور رہنمائی کے لیے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔
جموں ایمس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر (ڈاکٹر) سنجیو سنہا نے ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل جدید بنانے اور جدید طبی سہولیات میں توسیع کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے آپریشن تھیٹر کمپلیکس سے جموں و کشمیر اور پڑوسی علاقوں کے مریضوں کو خصوصی طبی خدمات فراہم کرنے کی ادارے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
اس تقریب میں ادارے کے اعلیٰ انتظامی افسران، تدریسی عملے، ڈاکٹروں، نرسنگ افسران، طلبہ اور دیگر ملازمین نے بھی شرکت کی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
وانگچک کی صدر مرمو سے مداخلت کی اپیل، لداخ میں ایل جی کی قیادت میں ان کے خلاف منفی مہم چلانے کا الزام
سرینگر، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے لداخ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی قیادت میں ان کے خلاف منظم انداز میں منفی مہم چلائی جارہی ہے اور ان سے وابستہ اداروں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔
صدر جمہوریہ کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں، جو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، وانگچک نے دعویٰ کیا کہ ان کے وکلا کی جانب سے کیے گئے ایک اسٹنگ آپریشن میں ایل جی کے دفتر اور سوشل میڈیا کے دو ایسے صفحات کے درمیان مبینہ روابط کا انکشاف ہوا ہے، جنہیں ان کے خلاف مہم چلانے اور انتظامیہ کی تشہیر کے لیے بنایا گیا تھا۔
وانگچک کے مطابق، فیس بک اور انسٹاگرام پر یہ دونوں صفحات 14 اکتوبر کو سامنے آئے تھے، یعنی اس کے ایک دن بعد جب انہوں نے انتظامیہ کی بعض سرگرمیوں پر عوامی سطح پر تنقید کی تھی اور ماحولیاتی خدشات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دونوں صفحات ایک ہی تخلیقی ایجنسی نے تیار کیے تھے۔
اس کے بعد ان کے وکلا نے مبینہ اسٹنگ آپریشن کے ذریعے ایجنسی سے رابطہ کیا۔ وانگچک کے دعوے کے مطابق، ایجنسی کے مالک نے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ دونوں صفحات اسی ایجنسی کے ہیں اور اس نے ایل جی ٹیم کے ساتھ اپنے روابط کا بھی ذکر کیا۔
وانگچک نے ریکارڈ شدہ گفتگو کے بعض منتخب حصے جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کارروائی سے ایل جی انتظامیہ سے وابستہ افراد کے ان کے خلاف رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ماحولیاتی کارکن نے کہا کہ یہ مبینہ مہم لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ کے 10 اکتوبر کو ایک تقریب میں دیے گئے بیان کے بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے لداخ میں ماحولیاتی تحفظ اور تعلیم کے شعبوں میں وانگچک کی خدمات پر سوال اٹھائے تھے۔ وانگچک نے کہا کہ انہوں نے اس کے جواب میں بعض ترقیاتی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کو اجاگر کیا تھا، جن میں مبینہ طور پر پتھر ڈال کر دریائے سندھ کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی شامل تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدا میں انہوں نے یہ مواد انٹلی جنس بیورو کے سربراہ کے ساتھ شیئر کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ اس معاملے میں مداخلت کی جائے گی، لیکن چند بار رابطے کے بعد انہیں کوئی مزید جواب نہیں ملا۔ وانگچک نے کہا کہ ملک کی شبیہ پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر وہ ریکارڈ شدہ گفتگو کو عوامی سطح پر لانے سے گریز کررہے تھے، لیکن اب انہوں نے یہ معاملہ ملک کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر جمہوریہ سے اپیل کرتے ہوئے وانگچک نے الزام لگایا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران لداخ میں جمہوری آزادیوں کا دائرہ محدود ہوا ہے اور سوشل میڈیا پر عام تبادلۂ خیال بھی پولیس کی نگرانی، ایف آئی آر درج ہونے اور گرفتاریوں کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے انتظامیہ پر ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا جو ان کے بقول مقامی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اراضی، صنعت، بجلی اور سیاحت سے متعلق پالیسیوں کا حوالہ دیا۔
وانگچک نے تعلیمی اداروں کے تئیں انتظامیہ کے رویے پر بھی سوال اٹھائے، خصوصاً اپنے ادارے ‘ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹوز، لداخ’ (ایچ آئی اے ایل) کے حوالے سے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف ادارے کے لیے پابندیاں سخت کی جارہی ہیں تو دوسری جانب دیہات میں شراب کی دکانوں کے لیے ضابطوں میں نرمی کی جارہی ہے۔
ان کی یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب لداخ انتظامیہ نے حال ہی میں ایچ آئی اے ایل کو ہدایت دی تھی کہ لیہ میں واقع ‘ڈیزرٹ فلاور اسکول’ میں کلاسوں اور دیگر سرگرمیوں کا آغاز اس وقت تک معطل رکھا جائے، جب تک اراضی سے متعلق ہائی کورٹ میں زیر التوا تنازع کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
اس سلسلے میں وانگچک کی اہلیہ اور ایچ آئی اے ایل کی بانی و چیف ایگزیکٹیو آفیسر گیتانجلی جے انگمو کو ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران اسکول کی سرگرمیاں شروع کرنے سے عدالتی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔
وانگچک نے الزام لگایا کہ ان کے ادارے کو اراضی کی لیز کے معاملے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ لیز پالیسی کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کے باعث انتظامیہ نے خود پہلے اس لیز کی مدت میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک کنڈرگارٹن اسکول سے ایسی منظوریوں اور این او سی کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے، جن کی متعلقہ سرکاری ضابطوں کے تحت ضرورت نہیں ہے۔
لداخ اور دیگر سرحدی علاقوں کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وانگچک نے صدر دروپدی مرمو سے مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ ان علاقوں کے باشندوں کو ان جمہوری حقوق اور آزادیوں سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔
انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش سمیت سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے مساوی حقوق، آزادی اور انصاف کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
ان الزامات پر لداخ انتظامیہ کا ردعمل فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
باغی نیشنل کانفرنس ارکانِ اسمبلی کے ساتھ جمعہ کی میٹنگ میں عمر عبداللہ نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران استعفیٰ دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں تو ان میں سے کوئی ایک وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، جبکہ وہ پارٹی چلانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ میٹنگ میں شریک دو ناراض ارکانِ اسمبلی نے یہ بات بتائی۔
یہ پیش رفت جمعہ کو منعقدہ ایک اہم میٹنگ کے دوران سامنے آئی، جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ناراض ارکانِ اسمبلی کے ایک گروپ نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کے ساتھ ہی حکمراں جماعت کے اندر تقریباً دس دن سے جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگیا۔
پارٹی میں ناراضگی کی صورتحال 27 اکتوبر کو کابینہ میں ردوبدل کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ کئی ارکانِ اسمبلی نے وزراء کونسل میں شامل نہ کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور وزارتی قلمدانوں کی تقسیم میں جانبداری کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے حکومت کے کام کاج اور کابینہ میں مناسب نمائندگی نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
جمعہ کی میٹنگ میں شریک ایک رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ عمر عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت چلانے میں ناکام ہیں تو وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور کوئی دوسرا شخص حکومت کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔
رکنِ اسمبلی نے کہاکہ ”انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کام کرنے سے قاصر ہوں تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ آپ میں سے کوئی ایک حکومت سنبھال سکتا ہے اور میں پارٹی چلاؤں گا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات ارکانِ اسمبلی کی شکایات دور کرنے کے تناظر میں کہی گئی تھی اور اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وزیر اعلیٰ فوری طور پر استعفیٰ دینے والے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت کے سامنے اپنے مسائل رکھے۔ عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ دونوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے اور وزراء و منتخب نمائندوں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنایا جائے گا۔
رکنِ اسمبلی کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے ارکانِ اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقوں سے متعلق مسائل کے لیے مشیروں یا دیگر درمیانی افراد کے بجائے براہِ راست ان سے رجوع کریں۔
میٹنگ میں شریک ایک اور رکنِ اسمبلی نے کہا کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کا نیشنل کانفرنس چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شکایات پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق تھیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے انہیں قیادت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور پر عمل درآمد، ریاستی درجے کی بحالی اور آرٹیکل 370 و 35A پر پارٹی کے موقف کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ارکانِ اسمبلی نے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مہم تیز کرنے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں آرٹیکل 370 اور 35A کے حوالے سے پارٹی کا سابقہ موقف بھی شامل ہے۔
رکنِ اسمبلی نے مزید بتایا کہ فنڈس کی تقسیم پر نظر رکھنے اور تمام اسمبلی حلقوں کو منصفانہ طور پر فنڈس فراہم کرنے کے لیے تین سے چار ارکانِ اسمبلی پر مشتمل گروپوں کا ایک نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے انتخابی منشور پر عمل درآمد کی نگرانی اور تنظیمی معاملات کو حل کرنے کے لیے الگ الگ ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔
جمعہ کی یہ میٹنگ ناراض ارکانِ اسمبلی کی ایک الگ میٹنگ کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ ان ارکان نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو ایک یادداشت پیش کرکے اپنے مطالبات پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔
دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ناراض ارکانِ اسمبلی کے ساتھ باہر آئے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ارکانِ اسمبلی کے خدشات کو جائز قرار دیا اور یقین دلایا کہ بعض مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر معاملات کو مرحلہ وار نمٹایا جائے گا۔
انہوں نے پارٹی میں پھوٹ پڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یواین آئی ظا
جموں و کشمیر
ہندوستانی فضائیہ کے IL-76 طیارے کی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر عالمی ریکارڈ لینڈنگ، 13,629 فٹ کی بلندی پر اترا
سرینگر، ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے ایک اہم فضائی سنگ میل حاصل کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارے IL-76MD کو مشرقی لداخ کے نیوما ایئر فیلڈ پر کامیابی کے ساتھ اتارا ہے۔ روسی ساختہ اس طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر لینڈنگ کا یہ عالمی ریکارڈ ہے۔
ہندوستانی فضائیہ نے ہفتہ کو بتایا کہ IL-76MD طیارے نے نیوما میں کامیاب لینڈنگ کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ یہ طیارے کی دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ بلندی پر کی گئی لینڈنگ ہے۔
اس کامیابی سے خاص طور پر لداخ کے بلند پہاڑی علاقے میں ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید تقویت ملی ہے۔ لداخ کی سرحد چین کے ساتھ ملتی ہے اور یہ ایک حساس سرحدی خطہ ہے۔
فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ ”یہ طیارے کی دیرپا صلاحیت کا ایک شاندار مظاہرہ ہے، جسے اس کے عملے کی غیر معمولی مہارت، درستگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت نے ممکن بنایا۔ یہ سنگ میل ہندوستان کی اسٹریٹجک فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، نئی بلندیوں کا تعین کرتے ہوئے تاریخ رقم کی گئی ہے۔”
جنوبی لداخ میں واقع نیوما ایئر فیلڈ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس نئے ایئر فیلڈ کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی تھی اور اب یہ ہندوستانی فوج کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ بن چکا ہے۔
IL-76 طیاروں کو 1980 کی دہائی کے وسط میں ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ طیارے فضائیہ کی بھاری سامان کی نقل و حمل کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ ماضی میں ان طیاروں کے ذریعے لداخ کے اگلے مورچوں تک ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر بھاری فوجی سازوسامان پہنچایا جاتا رہا ہے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، متحد اور خود کفیل ہندوستان کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی فوج نے مذاکرات جاری ہونے کے وقت جنوبی لبنان میں مکانات کو مسمار کیا اور قصبوں پر بمباری کی
-
دنیا5 days agoاسرائیلی حکام کا انتخابی نتائج برقرار رکھنے کا اعلان، نیتن یاہو نے انتخابات کو ‘چوری’ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoملک کے کئی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان: محکمہ موسمیات
-
ہندوستان1 week agoکھرگے، سونیا اور راہل نے اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان5 days agoجے رام رمیش نے پی ایم 2.5 کو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، فضائی آلودگی کے معیارات میں فوری ترمیم کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoامریکہ کی جانب سے کسی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی :ایرانی فوج
-
ہندوستان1 week agoچھتیس گڑھ میں سمندری طوفان ‘ارنَب’ پڑا کمزور ، بارش میں کمی کے آثار
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، ادھر وینس نے رابطے کی پیش قدمی کی؛ جنگ یا معاہدہ
-
جموں و کشمیر5 days agoتاریگامی کا سی آئی ڈی تصدیقی عمل پر نظرثانی کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoاین وی ایس-03 کی کامیاب لانچنگ سے ہندوستان کی نیویگیشن خودمختاری مضبوط ہوگی: وزیر اعظم مودی
-
ہندوستان5 days agoسونیا گاندھی نے لالو پرساد یادو سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی
